کالم : بزمِ درویش – حقیقی سکون :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Share

کالم : بزمِ درویش – حقیقی سکون

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:
ویب سائٹ: www.noorekhuda.org

میرے سامنے 25 سالہ نوجوان امیر زادہ بیٹھا تھا جو پریشانی میں با ر بار اپنے ہاتھ مل رہا تھا۔ اسکے چہرے پر اضطراب بے چینی ناشکری کے تاثرات ہر گزرتے لمحے کے ساتھ گہرے ہوتے جارہے تھے، وہ بار بار کہ رہا تھا سر میری خواہش کب پوری ہو گی میرے مسائل کب حل ہونگے میری ٹینشن کب دور ہو گی۔ میں کب اپنی زندگی کب اپنی مرضی کے مطابق گزار سکوں گا، کب میرے خواب اور خواہش حقیقت کا روپ دھاریں گے، چیزیں اور لوگوں کے روئیے میری مرضی کے مطابق کیوں نہیں، مجھے سکون کیوں نہیں ہے، میں بے چین بے قرار اور مضطرب کیوں ہوں۔

سر میں جو بھی کام کرتا ہوں وہ پورا اور میری مرضی کے مطابق کیوں نہیں ہو تا، کیا میں اسی طرح مرجاں گا کیا میں ناکام انسان ہی رہونگا کیا میرے خواب اِس طرح ادھورے اور نامکمل رہیں نگے، سر مجھے ایسا وظیفہ یا عبادت بتائیں جس کے کرنے سے میری زندگی میری مرضی کے مطابق ہو جائے، مجھے سکون مل جائے، میرے ادھورے خواب اور منصوبے جلدی مکمل ہو جائیں وہ بولے جارہا تھا اوراسکو کھل کر بولنے کا موقع دے رہا تھا تاکہ اِس کے اندر کی بھڑاس اچھی طرح نکل جائے، بہت سارے لوگ اپنے دل کی باتیں اور اندر کا ڈپریشن کسی کو بتا کر پرسکون ہوجاتے ہیں اِس لیے میں اس کے خوب بولنے کا موقع دے رہاتھا۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ یہ بھی انہی نوجوان امیرزادوں میں سے ایک تھا جن کو روٹی پانی نوکری کاروبار گھر کا مسئلہ نہیں تھے، یہ بھی خواہ مخواہ ڈپریشن میں تھا، اللہ تعالی نے اِس کو زندگی کی تمام آسائشیں دے رکھیں، یہ شکر کی بجائے ناشکری کر رہا تھا اور بلاوجہ خداتعالی کی ناشکری کر رہا تھا۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ فطری طور پر ہر انسان کی یہ شدید اور پہلی خواہش ہوتی ہے وہ زندگی کو بھر پور طریقے سے کامیابی کے ساتھ گزارے یہ سارے کاروبار اور ساری تگ و دو اِسی لیے ہے کہ زندگی کے ہر لمحے سے خوشی کامیابی اور مسرت کشید کی جائے کہ خوف و افلاس اور اندیشہ مرض نہ ہو نہ دل بے چین ہو اور نہ روح کی بے قراری ہو، روحانی جسمانی مالی آسودگی اور کامل اطمینان اور سرشاری ہو، اِس مقصد کے لیے کچھ لوگ تو حکومت کے طالب ہوتے ہیں ان کے بقول ایوان اقتدار گہوارہ سکون اور گوشہ عافیت ہے، زیادہ تر لوگ کامیابی کی چابی دولت کو سمجھتے ہیں ان کے نزدیک دولت دنیا کے ہر مسئلے کا حل ہے، ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو طاقت کو ہر کامیابی کی کلید گردانتے ہیں، لہذا وہ طاقتور بننے کے لیے تمام جائز نا جائز ذرائع استعمال کرتے ہیں اِن کے نزدیک کمزوری ہی ہر خوف اور اندیشے کو جنم دیتی ہے اِس مادیت پرست معاشرے میں کچھ لوگ بھرپور اور کامیاب زندگی گزارنے کے لیے کسی طاقتور سیاستدان، صاحب اقتدار اور وڈیرے کی غلامی یا دوستی کو کامیاب گرو سمجھتے ہیں، لہذا یہ ساری عمر کسی بڑے اور طاقتور کی خشامد اور غلامی کرتے ہیں کہ بوقت ضرورت یہ ان کی مدد لے کر زندگی کے مسائل حل کر سکیں۔ اِسی بے جان معاشرے میں کچھ جرائم پیشہ ڈاکووں، بدمعاشوں کی غلامی کرتے ہیں، کچھ دولت مند اِن جرائم پیشہ لوگوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اِن کو پیسے دیتے ہیں تا کہ کسی مشکل کے وقت یہ رسوائے زمانہ جرائم پیشہ لوگوں کی مدد سے یہ زندگی کے مسائل حل کر سکیں۔اِس میں کوئی شک نہیں کہ دکھ اور سکھ مصیبت اور راحت طربت اور امارت بیماری اور صحت جوانی اور بڑھاپا یہ ساری کیفیات انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں، گردش لیل و نہار سے فرار ممکن نہیں وقت کی ایک ہلکی سی جنبش سے دن پھرتے دیر نہیں لگتی۔ جو آج خوش ہے وہ کل دکھی بھی ہو سکتا ہے، خوشی غمی میں بھی بدل سکتی ہے، خوشحالی بد حالی کا روپ بھی دھارسکتی ہے اور شاندار طاقتور صحت مند جسم کو بیماری کا گھن بھی لگ سکتا ہے، یہ سرد گرم اونچ نیچ امیری غریبی صحت بیماری جوانی بڑھاپا سرشاری بیماری عروج و زوال طاقت کمزوری ہی وہ لمحات ہو تے ہیں، جب کسی بھی انسان کا امتحان ہوتا ہے کسی بھی انسان کاپتہ مشکل میں چلتا ہے کہ وہ بندہ خدا ہے یا بندہ نفس ساری عمر خدا کی ہزاروں نعمتوں کو انجوائے کر نیوالا معمولی سی بیماری یا تنگدستی میں صبر و شکر کرتا ہے یا جزع فزاع؟ساری عمر دولت کے انباروں میں کھیلنے والا مالی تنگی میں سراپا وقار رہتا ہے یا ضبط کے سارے بندھن توڑ کر سراپا احتجاج اور رونا پیٹنا شروع کر دیتا ہے یا دنیاوی جھوٹے خداوں کی چوکھٹ پر سجدے کرتا ہے اگر اللہ تعالی کی انعامات کی برسات ہورہی ہو تو خدا پرستی اور اگر وقت کی ہلکی سی کروٹ سے حالات خراب ہو جائیں تو میرا نماز اور عبادت کو دل نہیں کرتا، یہ ہے خدا کی عبادت اور عشق، ہائے کاش ہم مشکل میں بھی خدا کا دامن نہ چھوڑدیں، اسلام نے اللہ کے ذکر کو اطمینان قلب قرار دیا ہے، خوف خدا اور آخرت کو سکون کا ضامن کیا ہے۔حضرت ابوہرہ فرماتے ہیں، ایک بار آقائے دو جہان نے ارشاد فرمایا کون ہے جو مجھ سے یہ احکام لے جائے اور اِن پر عمل کرے یا اس شخص کو سکھائے جو انہیں اختیار کرے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ میں ہوں آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے پانچ باتیں بتلائیں، فرمایا (1) ان چیزوں سے اپنے آپ کو بچاو جنہیں خدا نے حرام قرار دیا اور اگر توان سے بچے گا تو تیرا شمار بہترین بندوں میں ہوگا۔ (2) جو چیز خدا نے تیری قسمت میں لکھ دی ہے اس پر راضی اور شاکر رہ اگر تو ایسا کرے گا تو تیرا شمار دنیا کے غنی ترین لوگوں میں ہوگا۔ (3) تو اپنے ہمسائے سے اچھا سلوک کر اگر تو ایسا کرے گا تو مومن کامل ہوگا۔ (4) جو چیز تو اپنے لیے پسند کرتا ہے دوسروں کے لیے بھی وہی پسند کر اگر ایسا کرے گا تو کامل مسلمان ہو گا۔ (5) اور زیادہ نہ ہنس اِس لیے کہ زیادہ ہنسنا دل کو مردہ بنا دیتا ہے۔محترم قارئین یہ پانچ باتیں زندگی کے وہ اصول اور انمول تحفہ ہیں، اچھا انسان، غنی، مومن، مسلمان اور زندہ دل بننے کے لیے خدائے بزرگ و برتر کی عبادت، قناعت، حسن معاشرت، مساوات اور متانت یہ باتیں اور سنہری اصول سرتاج الانبیا مالکِ دو جہان نے یہاں فرمائے، آپؓ کی زبان اقدس سے نکلنے والا ہر لفظ ہیرے جواہرات سے بڑھ کر ہے، سکون اور اطمینان قلب کے لیے ہمیں سیرت رسول اور رب ذالجلال کی اطاعت کرنا ہوگی تب ہی ہم حقیقی سکون اور اطمینان پا سکیں گے۔

—–

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Share
Share
Share