کچھ ادبی لطائف

Share

 ادبی لطائف

ادبی لطائف

ابھی میں پیدا نہیں ہوا
ریل کے سفر میں سب سے اوپر والی برتھ پر مجاز، درمیان میں جوش ملیح آ بادی اور نچلی برتھ پر فراق گورکھپوری
سفر کر رہے تھے۔
معاً جوش نے فراق سے پوچھا: رگھو پتی اس وقت تمہاری عمر کیا ہوگی؟
فراق نے جواب دیا : ’یہی کوئی دس برس
جوش خاموش ہو گئے تو فراق نے  جوش سے پوچھا: ’شبیر حسن تمہاری عمر کیا ہوگی؟
جوش نے بر جستہ جواب دیا
یہی کوئی پانچ چھ سال۔
اس پر اوپر کی برتھ پر لیٹے ہوئے مجاز نے اپنا منھ چادر میں چھپاتے ہوئے کہا
بزرگو اب مجھ سے عمر مت پوچھنا کیونکہ میں تو ابھی پیدا ہی نہیں ہوا۔

انگریزی کاچھوٹاسا قصبہ
شملہ میں ایک کانفرنس ہو رہی تھی جس میں مولانا محمد علی جوہر بھی شریک تھے۔ گفتگو اردو زبان ہی میں ہو رہی تھی بات مین کچھ الجھاؤ پیدا ہو گیا تو جوش خطابت میں مولانا نے انگریزی میں بولنا شروع کر دیا اور سب کو لا جواب کر دیا۔ مجلس میں ایک ہندو رانی بھی تھی۔ اس نے جب ایک مولانا کو اتنی شستہ انگریزی بولتے سنا تو ششدر رہ گئی اور پوچھا:
’’مولانا آپ نے اتنی اچھی انگریزی کہاں سیکھی؟‘‘
مولانا نے جواب دیا ۔
’’میں نے انگریزی ایک بہت ہی چھوٹے سے قصبے میں سیکھی ہے۔‘‘
انہوں نے حیرانی سے پوچھا ۔۔۔کہاں
تو مولانا شگفتگی سے بولے: ’’آ کسفورڈ میں۔‘‘
جس پر سب کھلکھلا کر ہنس پڑے۔

ایک لفظ ایک پونڈ
برنارڈ شا ایک عظیم مصنف تھے لیکن خود پرست بھی تھے۔
اکثر کہتے تھے کہ میرے ہر لفظ کی قیمت ایک پونڈ ہے۔ اس زمانے میں ایک پونڈ کی بڑی وقعت تھی۔
ایک صاحب نے از راہ مذاق انہیں ایک پونڈ بھیجا اور لکھا کہ برائے مہربانی اپنا ایک لفظ بھیج دیجئے۔
جواب میں برنارڈ شا نے صرف ایک لفظ لکھا :”شکریہ
——
ادبی لطائف ۔ مرتبہ:طارق غازی اور سلمان غازی

Share
Share
Share