کیا مسلم اکثریتی جزیرہ ” لکشدیپ “ نشانہ پر ہے؟ :- ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی

Share

کیا مسلم اکثریتی خوبصورت جزیرہ ” لکشدیپ “ نشانہ پر ہے؟

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی
(www.najeebqasmi.com)

لکشدیپ بحیرہ عرب (Indian Ocean) میں واقع 36 جزیروں کا مجموعہ ہے، جو قدرتی مناظر پر مشتمل بہت ہی خوبصورت علاقہ ہے۔ یہ ہندوستانی مرکزی حکومت کے زیر انتظام 8 یونین علاقوں میں سب سے چھوٹا علاقہ ہے۔ یہ جزیرے صوبہ کیرلا کے ساحل مالابار سے 200۔300 کیلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہیں۔ کیرلا ہائی کورٹ کے تحت آنے والے اس علاقہ میں ایک ضلع اور 10 سب ڈویزن ہیں۔

1/ نومبر 1956 کو اِن جزیروں کو کیرلا کے ضلع مالابار سے الگ کرکے یونین علاقہ بنایا گیا تھا۔ ان میں سے تقریباً 10 جزیرے آبادی والے ہیں جبکہ باقی جزیرے غیر آباد ہیں۔ جن کا کل رقبہ 32 مربع کیلومیٹر ہے۔ کواراتی اس کا دارالحکومت ہے۔ لکشدیب کی آبادی تقریباً 65 ہزار ہے۔ اِن میں تقریباً 94 فیصد آبادی مسلم ہے۔ یہاں کے لوگ صوبہ کیرلا کے لوگوں سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔ ہندوستان کے جنوبی صوبوں (کیرلا، کرناٹک اور تمل ناڈو) کی طرح یہاں کی اہم پیداوار ناریل ہے۔ مچھلی پالن خاص کر ٹونا مچھلی کا یہاں بہت بڑا کاروبار ہوتا ہے۔ یہاں کے لوگ ملیالم، جزری اور محل زبانیں بولتے ہیں۔ کیرلا کی طرح یہاں بھی عمومی طور پر ملیالم زبان ہی سرکاری دفاتر میں استعمال ہوتی ہے۔ کیرلا کے مالابار کی طرح 7 ویں صدی سے ہی یہ جزیرے اسلام کے زیر اثر رہے ہیں۔ مشہور مسلم سياح ابن بطوطہ نے لکشدیپ کا ذکر کیا ہے۔ 1787 میں اِن جزیروں پر ٹیپو سلطان کی حکومت قائم ہوئی۔ اور تیسری جنگ میسور کے بعد یہ علاقے برطانیہ کے قبضہ میں آگئے۔

یکم نومبر 1956 میں یونین علاقہ بنائے جانے سے یہاں ایک ایڈمنسٹریٹر (Administrator) کا صدر جمہوریہ ہند کی جانب سے تقرر کیا جاتا ہے۔ وہی علاقہ کا ہیڈ ہوتا ہے۔ لکشدیپ کے تمام جزیروں سے ایک ممبر آف پارلیمنٹ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ یہ ST کے لئے محفوظ سیٹ ہے۔ 1957 اور 1962 میں یہاں انتخاب نہیں ہوا تھا بلکہ صدر جمہوریہ کی جانب سے ممبر آف پارلیمنٹ کا تعیین کیا گیا تھا۔ 1967 میں پہلے الیکشن سے لے کر 2004 تک پی ایم سعید صاحب ہی لکشدیپ کے ممبر آف پارلیمنٹ رہے۔ 2014 اور 2019 کے انتخابات میں محمد فیضال پی پی صاحب منتخب ہوکر ایم پی بنے۔

35 ویں ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے 5 دسمبر 2020 کو گجرات سے تعلق رکھنے والے پرفل پٹیل نے عہدہ کی ذمہ داری سنبھالی۔ اب تک اس عہدہ پر آئی اے ایس افسران کی تقرری کی جاتی تھی مگر پہلی بار کسی IAS افسر کے بجائے ایک سیاسی شخص کو یہ ذمہ داری سوپنی گئی۔ پرفل پٹیل گجرات کی نریندرمودی کی حکومت میں وزیر داخلہ بھی رہ چکے ہیں۔ پرفل پٹیل کی تقرری سے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ کسی ایجنڈہ کے تحت انہیں یہ ذمہ داری دی گئی ہے۔ اُن کے حالیہ چند فیصلوں کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے لکشدیپ سے واپس بلائے جانے کی آوازیں بلند ہونے لگی ہیں۔ چنانچہ لکشدیپ کے ایم پی اور کیرلا سے تعلق رکھنے والے اُن کے ساتھیوں نے صدر جمہوریہ ہند کے نام خط تحریر کرکے انہیں لکشدیپ سے واپس بلائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آزادی کے بعد ہندوستان کے دستور میں یہ تحریر کیا گیا کہ پورے ہندوستان میں شراب نوشی پر پابندی لگانے کی کوشش کی جائے۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ ملک کی آزادی کے 74 سال گزرنے کے باوجود شراب نوشی پر مکمل طور پر پابندی آج تک نہیں لگائی جاسکی۔ ہاں بعض صوبوں میں آج بھی پابندی ہے، جن میں گجرات کے علاوہ لکشدیپ بھی ہے۔ گجرات میں شراب نوشی پر پابندی کے باوجود گجرات سے لکشدیپ جانے والے پرفل پٹیل نے لکشدیپ میں شراب نوشی پر پابندی ہٹانے پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ ہندوستانی قوانین کی روح کا تقاضا ہے کہ شراب نوشی اور اس کے کاروبار پر پابندی لگائی جائے۔ اور ہندوستان میں موجود مذاہب کی تعلیمات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ شراب نوشی پر پابندی عائد کی جائے۔ لکشدیپ میں 74 سال سے شراب پر پابندی نافذ ہے، اس پابندی کو ختم کرنے کی ملک میں کورونا وبائی مرض کے پھیلاؤ کے وقت کیا ضرورت پیش آگئی؟
ہندوستان کے بعض صوبوں میں قانوناً گائے کے گوشت کے خرید وفروخت کرنے اور کھانے پر کوئی پابندی نہیں ہے، ان صوبوں میں سے کیرلا اور لکشدیپ بھی ہیں جہاں ہندو مسلم سب گائے کا گوشت کھاتے ہیں۔ لکشدیپ میں عمومی طور پر لوگ کیرلا نسل کے ہی آباد ہیں۔ مگر پرفل پٹیل نے لکشدیپ میں بیف کی خرید وفروخت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لکشدیپ میں بیف کی خریدوفروخت پر پابندی کیسے قبول کی جاسکتی ہے؟ جبکہ وہاں کی آبادی ہمیشہ سے بیف کھاتی چلی آرہی ہے۔ آسام میں بھی، جہاں حال ہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئی ہے، بیف کے گوشت کھانے پر کسی طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ ہندوستان کی تمام شمالی مشرقی ریاستوں (اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ اور تریپورہ) کے علاوہ، گووا، بنگال، لکشدیپ اور کیرلا میں قانوناً گائے کے گوشت خریدوفروخت کرنے اور کھانے کی مکمل اجازت ہے۔

پرفل پٹیل لکشدیپ میں غنڈہ ایکٹ بھی نافذ کرنا چاہتے ہیں حالانکہ یہاں جرائم کی شرح بہت ہی کم ہے۔ لکشدیپ کے لوگوں کو خدشہ ہے کہ اس قانون کے ناجائز استعمال سے ہزاروں افراد کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا۔ مسلمانوں کی آبادی 94 فیصد جبکہ غیر مسلموں کی آبادی بہت کم ہونے کے باوجود یہاں پر کسی طرح کے دنگے فساد نہیں ہوتے ہیں۔ تمام لوگ خوشی خوشی زندگی بسر کررہے ہیں۔

ڈیویلپمنٹ اتھارٹی میں ترمیم کرکے زمین مالکان کے مفادات کو نظر انداز کرکے اِس محکمہ کو لوگوں کی زمین حاصل کرنے کا حق دیا جارہا ہے، جس سے لوگوں میں بے چینی ہے۔ لکشدیپ میں شرح پیدائش بہت کم ہونے کی باوجود پنچائتی الیکشن میں دو بچوں کے قانون کو نافذ کرنے کی تیاری کی جارہی ہے کہ جس شخص کے دو سے زیادہ بچے ہوں گے وہ امیدوار نہیں بن سکتا ہے۔

اس وقت ملک کورونا وبائی مرض سے جھوج رہا ہے، لاکھوں افراد اس مرض سے متاثر ہورہے ہیں اور ہزاروں افراد روزانہ مر رہے ہیں۔ شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں میں وسعت کے باوجود آسانی سے جگہ نہیں مل رہی ہے۔ حکومتی رپورٹ کے مطابق ملک میں اب تک 16 کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے اور تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد مرچکے ہیں۔ زمینی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ مرض بڑے شہروں کے بعد چھوٹے شہروں اور قصبوں کے علاوہ دیہاتوں میں بھی پھیل گیا ہے۔ وہاں کے ہسپتالوں میں عام لوگوں کے لئے طبی سہولیات دستیاب نہیں ہیں۔ کورونا وبائی مرض سے بچنے کے لئے موجودہ وقت کے اعتبار سے سب سے زیادہ مؤثر دوا یعنی ویکسین ملک کی آبادی کے حساب سے بہت کم تعداد میں تیار ہورہی ہے۔ اس لئے ویکسین کے مراکز بند کئے جارہے ہیں۔ موجودہ رفتار میں 2021 کے آخر تک بھی ہندوستان کے 130 کروڑ آبادی کو ویکسین نہیں لگ سکتی ہے۔ پورے ملک میں لاک ڈاؤن یا کرفیو نافذ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے اقتصادی حالات بد سے بدتر ہوگئے ہیں۔ تعلیمی اداروں کے مسلسل دوسرے سال بند رہنے کی وجہ سے بچوں کا جو تعلیمی نقصان ہورہا ہے اس کی تلافی آسان نہیں ہے۔
ملک کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر ضرورت ہے کہ صلاحیتیں اس بات پر لگائی جائیں کہ اس آفت سے ملک کو کیسے بچایا جائے اور اس کی وجہ سے اقتصادی اور تعلیمی جو نقصانات ہوئے ہیں ان کی تلافی کیسے کی جائے، نہ کہ ایک چھوٹے سے خوبصورت جزیرہ کی فضا کو نفرت آمیز بنانے میں مصروف ہوجائیں، جس کی آبادی صرف 65 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی
Share
Share
Share