اقبال:غلام ہندوستان کا آزاد شاعراوراس کی عصری معنویت

Share
اقبال
علامہ اقبال

نعیم جاوید ۔ دمام

اقبال:غلام ہندوستان کا آزاد شاعراوراس کی عصری معنویت
اقبال کی عصر شناس فکر نے نہ صرف عالمی دانشوری کو اپنے مطالعۂ کاموضوع بنا یا بلکہ اسکو نئی منزلوں کا شعور بھی دیا۔پیچ در پیچ فلسفے کی گتھیوں کو اپنے دانشِ نورانی سے سلجھاتے ہوئے اپنی منفرد دانشورانہ سعئ و کاوش سے خدا فراموش نظریوں کو اپنے پیغامِ سعادت سے متعارف کروایا۔فکرِ اقبال کی قوی و جری آواز نہ صرف اُردو اور فارسی کی لسانی آبادیوں سے دادِ تحسین وصول کی بلکہ اسکی گونج پورےعالمی ادب میں سنائی دی۔ ادب کے بڑے بڑے جغادریوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ مروجہ موضوعات ‘ فرسودہ حکایات اور پامال روشوں سے ہٹ کر بھی ایک ایسے نظامِ فکرو فن کا امکان ہے جس کے نغمے انسانیت کے غم کا مداواٹہریں۔جس کے آہنگ پررچی ہوئی زندگی میں سوز و گداز پیدا ہو۔زمانے کی بے ہنگم تمدنی رفتار پر قابو پاسکیں اور انجام کار ایک ایسےجہانِ نو کی تعمیرکرسکیں جو ایک ایسے نظریایۂ حیات پر مبنی ہو جواصلاً تخلیق کائینات کی غایت بھی ہواورانبیا ؑ کی ’’دعوتِ خیر‘‘ اسکی روح میں شامل ہو۔

اقبال کے اس دلکش نصب العین نے جلد ہی اس کو آمادہ کردیا کہ وہ تمام صنم کدے ویران کردیے جائیں جہاں قومیتوں کے لات ومناۃکی پرستش ہورہی ہو‘جہاں ادب کے خمار خانے میں ہوس کی نغمۂ سرائی ہورہی ہو۔جہاں رنگا رنگ جنس فروش ادب کی کمین گاہیں اسی بتکدے کی سرنگوں سے ہو کر نکلتی ہوں۔ بلکہ فکر و فن کا دیومالائی رقبہ اُن نئی نئی اکائیوں سے وسیع ترہوگیا تھاجہاں خدافراموش نظریوں کے ایسے ایسے مٹھ آباد ہو گئے تھے کہ سادہ ذہنوں کو پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ پرستش کی غایت کیا ہے۔جن میں چند گمراہ کن ہیجانی ادبی معبدو ں کے مہنت اشتراکیت کی نغمۂ سرائی کررہے تھے۔(جبکہ دیوار برلن کے گرتے ہی تائب ڈاکوں کی طرح اسی سماج میں جی رہے ہیں‘کبھی انھوں نے اجنبی زمینوں کے نظریات کی لیے مظلوموں سے خراج دانش اکھٹی کی تھی اور اسی بھول بھلیوں میں ادب اور قاری کو چھوڑ کر خود فرار ہوگئے۔اُردوکے متوازن قاریوں نے جتنا کچھ ان نظریات سے سمیٹنا تھا سمیٹ کر باقی حصے کو چھوڑ دیاورنہ حریت فکراباحیت کی سوغات لاچکی تھی اور تیرہ تارمادیت سے انسانی منزلیں خالی ہورہی تھیں)۔ایسے میں اقبالؔ نے اپنی ولولہ انگیز شعری قوت سے ان شیوالوں کی خبر لی۔جناب نعیم ؔ صدیقی مرحوم نے اپنی کتاب ’’اقبالؔ کا شعلۂ نوا‘‘ میں رقم طراز ہیں:’’اقبال نے شاعری کی سلطنت کے خدا ناشناس سنتریوں کی چاروں طرف سے باندھی ہوئی مخالف مذہب زنجیر کو توڑ ڈالا اور وہ نمازوں اور روزوں اوردرد و سلام اور قرآن و سنت اور فقہ و شریعت کے تمام دفتروں کو اٹھائے ہوئے فن کے جزیرے میں داخل ہوگئے‘‘۔
فکر اقبال ؔ کے تعین میں اگر انکی فارسی کلام‘انگریزی خطبے ‘ اُردو شاعری ‘خطوط اور تقاریر کے مجموعوں کو سامنے رکھا جائےتو ہمیں اس دانائے راز کو سمجھنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے۔ ورنہ ہماری سہولت پسندی جزوی مطالعۂ کا لالچ دے کر ایک ایسے اقبال کو متعارف کروائیگی جسکی تردید میں خود اقبال نے اپنی تخلیق میں دائمی نقوش چھوڑے ہیں۔کہیں اقبال کے انگریزی مضامین ‘یاداشتیں اورخطبے عالمی تناظر میں اسلام کو واحد حل کے طور پر پیش کرنے کی سنجیدہ آرزو ہے۔ اسی پیغام کی دل ربائی نے انھیں آمادہ کیا کہ مغربی فلسفے کے صحرا میں آبلہ پائی کی جائے تاکہ سرابوں کے فریب میں بھٹکتی انسانیت کی آسودگی کا سامان کرسکیں۔ یقیناًاقبال کا یہ علمی کارنامہ اس بات کا متقاضی کہ اس کے مخاطب اورمدعا کو سمجھاجائے۔Reconstruction of Islam & religious thought کا مطالعۂ اسلام کے داعی کو ایک نئے مخاطب سے متعارف کرواتا ہے۔ جسکی تہذیب دیگر‘جس کی محرومیاں مختلیف ‘جس کے تصورِ دین کی سرحدیں محدود اور جس نے مادے کی جستجو میں ربّ کائینات نگارندۂ اعصارو آنات کا عرفان کھو چکا۔ ۔۔لیکن حیرت ہوتی ہے کہ اقبال کا یہ انگریزی نثری سرمایۂ مشرق کے نگار خانے میں وہ آبرومندانہ مقام حاصل نہ کرسکا جس کا وہ متقاضی تھا۔ کیونکہ مشرق میں دین کی تفہیم وترسیل ایک مخصوص نہج پر رواج پاچکی ہے۔ مغر ب کے دانشورانہ مصلحتوں سے سے قطع نظر ہمارے معاشرے کی مغرب زدہ ذہنیت نے اس نقشِ اولین کو نئی منزلوں سے روشناس بھی نہیں کرواسکی۔اور نہ اپنی محرومیوں کا مداوا ڈھونڈا۔
جس طرح اُردو اور فارسی شاعری نے اقبال کو شاعرِ اسلام کے منصب پر فائزکیا ٹھیک اسی طرح انگریزی خطبات نے اقبال کو خطیبِ اسلام اور داعی اسلام کے طور پر دنیا میں متعارف کروایا۔اس مرحلے پر اقبال پرالزامات اپنی حدوں سے تجاوز کرجاتے ہیں۔ الزامات کے اعداد و شمار سے قطع نظر اس الزام پر حیر ت ہوتی ہے جس میں اقبال کی اُردو اور فارسی شاعری کو جذباتیت سے بھر پور شاعری کا مرقعہ کہا جاتا ہے۔لیکن وہی لوگ انگریزی مضامین پرغیرمعمولی سنجیدہ علمی سرگرمی علی الرغم مجرمانہ خاموشی اختیار کرلیتے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اقبال کےعلاوہ کسی اور شخصیت کا پتہ نہیں چلتا کہ اتنے منصوبہ بند طریقہ سے مقصد اور نصب العین کی آرزو لے کر نہ صرف زبانیں بدل بدل کر بات کی ہو بلکہ اسلوب کو بھی حیرت انگیز طور پرمختلیف کیا ہو۔ اسقدرکثیرالجہات اورمختلیف العباد نابغۂ روزگار اپنے پیغام کی ترسیل میں غیر معمولی طور پر کامیاب رہا ہو۔قرنوں قرنون جس کی مثال نہیں ملتی۔فکرِ اقبال پرایک اورنشان زدہ سوال یہ ہے کہ کوئی لاحۂ عمل ان کی متاعِ شعروسخن سے بر آمد نہیں ہوتا۔اس پر حیر ت سے اکتساب کرنے والوں کی سعئی ناتمام پردل ڈوب جاتا ہے۔ کیا ’اسرار و رموز ‘کے ابیات روشن سے فرد وجماعت کے حق واختیار ‘ خودی کے استحکام کے پیچیدہ موضوعات کی گتھیاں نہیں سلجھتیں۔ ’اسرارِ خودی ‘ کے ابواب میں سیرتِ احمدؐ مرسل کی لازوال شخصیت کی محبت کے عنوانات پر کس قدرواضح نصب العین مرتب ہوتا ہے۔خصوصاً ’جاوید نامہ‘ کا آخری باب ’نژاد نوسے خطاب‘ میں علامہ اقبال اپنا دل کھول کر اپنے افکار کی گہر باری کرتے ہیں۔ اس مقام پر اپنے وہ خواب بانٹتے ہیں جو زبانِ رسالت ؐ کے بقول ’’میری اُمت میں خواب دیکھنے والے پیدا ہوں گے ‘‘۔ہاں ! یہ وہی خواب ہوں گے جوانسانیت کی سربلندی کی آرزو میں دیکھے یا دکھائے جائیں گے۔ اقبال اپنی جاگتی آنکھوں کے خوابوں کی تعبیر کو اپنی فکروفن کی دولتِ بیش بہا دے کر آبیاری کرتے ہیں۔ آہِ سحر گاہی کی گرہ کشا لذت سے روشناس کرواتے ہیں۔ غنا و فقر کا نصاب مرتب کرتے ہیں۔ غیر تِ قومی کا بھولا ہوا سبق یاد دلاتے ہیں۔ دانشِ فرنگ کے محتاط اکتساب کی دعوت دیتے ہیں تاکہ وسعتِ نظری مشرق والوں کے مزاج کاحصہ بن جائے۔ بقول اقبال ؂
کھلے ہوئے ہیں غَربیوں کے میخانے علومِ تازہ کی سرمستیاں گناہ نہیں
مغربی فلسفے کی دہشت امت کے دل سے مٹاتے ہیں ؂
افرنگ زخود بے خبرت کرد و گرنہ ائے بندۂ مومن تو بشیری و نذیری
جنگاہِ حیات میں کسی کتمانِ حق کے بغیروہ ایسی رجزخوانی کرتے ہیں کہ مقاصد کی عظمت شعر کے نازک آبگینوں میں ڈھل کردہ نشّہ دینی پلادیتی ہے کہ قلوب سے احساس کم تری زائل ہوجاتی ہے۔اقبال کا قاری زمانے کے حوصلہ شکن حالات میں اپنے جواں عزائم کا اعلان کرتا ہے۔ عصرِ حاضر میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ٹیڑھے پرو پگنڈے کے آگے اقبال کا قاری ڈٹ جاتا ہے۔
اقبال ؔ ہمارا سب سے بڑا مفکر محسن ہے جس نے ابلیس کے منصوبے کا بلا کم و کاست نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ساتھ ساتھ اس کے چیلوں کے آدم فریب نظام کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھیکنے کا سامان فراہم کیا ہے۔ خدا فراموش نظام کی دل فریبیوں کو اپنی عمیق نگاہوں سے دیکھااور اپنی زبان کے اعلیٰ پیرائے میں ہمارے سامنے رکھا۔فکرکی طاقت کے ساتھ ساتھ یقین کی قوت کو اپنا شریکِ ہنربھی کیا۔اس نے اپنی فکری سفر کی گذر گاہ میں اپنے اسلاف کی عظیم الشان علمی خدمات کو نہ صرف آنکھوں سے لگایا بلکہ بڑے فخر کے ساتھ پوری دنیا کے آگے بڑے وثوق سے واضح کیا مثلاً امام غزالیؒ کے بارے میں کہا ’’ڈیکارٹ کی مشہور کتاب Method کا امام غزالیؒ کی احیاالعلوم سے مقابلہ کریں اور یوروپ والوں کو دکھائیں کہ ڈیکارٹ اپنے اس Method کے لیے جس نے یورپ میں نئے علوم کی بنیاد رکھی کہاں تک مسلمانوں کا ممنونِ احسان ہے‘‘۔
ع۔ فرنگ سے بہت آگے ہے منزلِ مومن قدم اُٹھا یہ مقام ‘ انتہائے راہ نہیں
دراصل اقبال غلام ہندوستان کے آزاد شاعر تھے۔دورِغلامی میں اقبال کا پیامِ حریت نہ صرف جمود شکن تھا بلکہ ہارے ہوئے دلوں کو ولولے بانٹتا رہا۔ نصف صدی سے زیادہ ہمارا زادِ راہ اقبال کا پیغام رہا۔ہمارے علاقے قیدِ فرنگ سے جغرافیائی سطحوں پرآزادی حاصل کئے لیکن نظریاتی سطح پر ہم اب بھی اپنی گردنوں میں غلامی کی خوش رنگ قلادہ ڈالے جی رہے ہیں۔ ایسے میں اقبال ؔ کی معنویت اور بڑھ جاتی ہے ؛ اس کے پیغام کو از سرنوتازہ کیا جائے۔ یقیناًزبان وادب ‘فکروفلسفہ کی سطح وہ نہیں جوعوام الناس کی پسندیدہ موضوعات کی سطح ہوتی ہے۔ مطالعۂ اقبال کے وسیع موضوعات دانش وروں کا وسیلۂ اظہار ہیں۔ان کے ذوق انتخاب کا مرکزی محورہیں کیونکہ اقبالؔ کا کلام اپنے دامن میں اقدار کا حسن وجمال‘ زبان و بیان کا کلاسیکی تسلسل و ارتقأ ‘ فکر و فن کا اچھوتا نظام ‘ حکمت کے لازوال موتیوں کی لڑیاں لئے بدلتے عصرمیں اپنی معنویت پر اصرار کررہا ہے۔میرے موضوع کا ایک جزعصر بھی ہے۔ عصر کے تعین میں کسی الجھاؤ کے بغیر اقبال کے ایک شعر کو ہی معیار بنائیں تو وقت کی چھوٹی بڑی اکائیاں ایک رواں دواں اور متحرک سیماب کی صورت ہماری آنکھوں کے آگے رکھ دیتی ہیں۔جو جز و کل میں بڑی آسانی سے کٹ بھی اور جڑ بھی سکتا ہے ؂
زمانہ ایک حیات ایک کائینات بھی ایک دلیل کم نظری قصۂ جدید و قدیم
عصر کے تعین میں یقیناًاقبال ؔ کی اُمیدوں کا مرکزوہ تاریخی گروہ تھا جو بغیر تعطل کے زمانے میں ہدایتوں کا امین رہا۔جس کا دامن آسمانی صحائف کی پاکیزہ ہدایتوں سے مالامال رہا۔جس پر انتظار کے کربناک سن و سال نہیں گزرے۔ جس نے تخلیقِ کائینات کی غایت ‘ہبوط آدم ‘اور ہدایتوں کا تسلسل کے نتیجے میں زمانے اور حیات کی تقسیم نہیں کی۔ اس کے عروج وزوال اورایام اللہ کے الٹ پھیرپر ہدایت الٰہی کی اساس پر جمع ہوناسیکھا۔اس کی سرشت میں یہ صداقت جاں گزیں رہی کہ قوموں کا انتشار اور پراگندگی سے صرف انبیائی ہدایات بچاتی رہیں۔ اس لئے زمانے کا کوئی نام ہو عصر کی حسابیاتی تقسیم چاہے کسی مقیاس کی گرفت میں رہے لیکن ہرعصر میں عظمتِ آدم اور خلافتِ آد م‘نیابتِ الٰہی کی ذمہ داریاں یکساں رہینگی۔اس لئے آفاقی سچائیاں اذکارِ رفتہ نہیں ہوتیں۔
فکرِ اقبال کے سلسلے میں بڑے وثوق کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان کا یہ پیغام اسلامی اخلاقیات کا نمائندہ ہے اوراسلام قیامت تک کا واحد حل ہے۔جہاں جہاں انسانی شعورکوعروج کی طلب ہوگی‘عظمتوں اورعزیمتوں کے سفر کی دھن ہوگی اسے کلامِ اقبال کے نغموں کی ضرورت ہوگی۔ خود اقبال نے اپنی شعر گوئی کے بارے میں بڑی صداقت سے کہا تھا ؂
نغمہ کجا و من کجا ‘ سازِ سخن بہانہ ایست سوئے قطار می کشم ناقۂ بے زمام را
بلکہ ایک منزل پر اقبال چونک پڑتے ہیں کہ یاروں نے اُسے صرف وادئ خیال میں بے سمت دوڑنے والے شاعروں کی قماش کا شاعرسمجھ کراس کے پیغام کو ثانوی حیثیت دینے کی مذموم کوشش بھی کی ہے اور کررہے ہیں۔ اس لئے کہا ؂
’’مُرا یاراں غزل خوانِ شمردند‘‘ ۔۔اور کبھی کہا ’’میری تمام سر گذشت کھوئے ہوئے کی جستجو ‘‘۔
رہی بات اقبال کے ابتدائی دور کی شاعری اوراس کی اہمیت ومعنویت کی ۔ جس سے اس کے عظیم ارتقائی سفر کے راہ میں نشانات منزل کے علاوہ اورکیاثبوت بہم ہوتا ہے۔جہاں خود اقبال کے موضوعات دیگرتھے۔ویسے بھی مومن حکمتوں کی تلاش کا عادی ہوتا ہے۔ چاہے وہ کسی رنگ میں ہو۔ حتی کہ فاروقِ اعظمؓ نے اسلام کے عروج کی گھڑیوں میں ایام جاہلیت کی شاعری کا انتخاب نصاب کے لئے تجویز کیا تھا۔ اس واقعے کی روشنی میں ہمیں وہ زاویۂ نگاہ مل جاتا ہے کہ اقبال کی ابتدائی شاعری میں بھی اسلامی نشاۃ ثانیہ پوشیدہ تڑپ کو تلاش کرسکتے ہیں اوروہ واضح نظرآتی ہے۔ اہل فن جانتے ہیں کہ اقبال نے اس شاعری میں بھی کتنی پامال علامتوں سے کام لیا اور شہکار شعر کہے ہیں۔ شمع و پروانہ ‘ گل و بلبل کے سہارے بھی اسلامی عظمت کی بات کہی ہے۔
اقبال ؔ کے حسبِ ذیل شعر کی تہہ سے ابھرنے والے سوال کو کیا کہیے ؂
صاحبِ قرآن و بے ذوقِ طلب العجب ثم العجب ثم العجب
ہم جن ادبی فصاوں میں سانس لیتے ہیں اس میں کیا کچھ فکری وادبی شعبدہ بازی نہیں ہوتی۔ لیکن ادب کا ہرسنجیدہ طالب علم جانتا ہے کہ ادبی شعبدہ بازی چاہے کتنی حیرت فروش کیوں نہ ہو آخرش وہ انسانیت کی پسندیدہ روش تو نہیں ہوگی جس پر ساری انسانیت چل پڑے۔پیامِ اقبال کوتاویل کی دھاندلی سےغیر اسلامی ثابت کرنے والے پوری زورآوری کے باوجود بے نیل و مرام لوٹے۔اقبال کے افکار کا نور پھیلتا رہا۔ان کی صدائے درد اُمت کے دل کی دھڑکن بنتی رہی۔ان کی حدی خوانی پر درماندہ کارواں سعادت کی راہوں پر چلتا رہا۔ حریتِ فکر اور عظمتِ آدم کے انقلابی پیغام پر لاتعداد لوگ لبیک کہہ چکے ہیں۔ اپنے تہذیبی سرمائے کے تحفظ میں حساس گروہوں نے اپنی زندگی کا رخ متعین کیا۔ اور یہی تسلسل اپنی پوری مثبت معنویت کے ساتھ جاری و ساری رہے گا کیونکہ پیامِ اقبال کی جڑیں عظیم صداقتوں سے ملی ہوئی ہیں۔ ان کی آواز آسمانی آوازکی صدائے بازگشت ہے ؂
نکلی تو لبِ اقبال سے ہے کیا جانیے کس کی ہے یہ صدا
پیغامِ سکوں پہنچا بھی گئی دل محفل کو تڑپا بھی گئی۔

نعیم جاوید۔دمام
نعیم جاوید

Nayeem Jaweed
DAMAM , Saudi Arabia
Mob:00966503629674

Share
Share
Share