چراغِ تہہ داماں

Share

iaqbal mateen tafheem

چراغِ تہہِ داماں۔تفہیم و تعبیر۔ ایک تجزیاتی مطالعہ
مرتب: طارق سعید
مبصر : ڈاکٹرمحمدعبدالعزیزسہیل
مکان نمبر:4-2-75مجید منزللطیف بازار، نظام آباد 503001(اے پی )
فون نمبر:9299655396  :
ای میل

اردو میں کسی معروف شاعر یا ادیب پر لکھی گئی تنقیدی کتابوں کو یکجا کرکے کتابی شکل دینے کی رویت بھی اب عام ہونے لگی ہے۔ اور اس کوشش کا یہی مقصد ہوتا ہے کہ کسی بڑے تخلیق کار
کے فن یا کسی مشہور فن پارے پر کی گئی منتخب تحریروں کو یکجا کرتے ہوئے قارئین کے لئے ایک ہی کتاب میں متضاد آراء کو پیش کردیا جائے تاکہ قاری اس تخلیق کار یا فن پارے کے بارے میں تنقید کے کئی زاویوں سے آگاہ ہوسکےاور خود مرتب یا قاری ان تحریروں کے ذریعے اس فنکار یا فن پارے کے بارے میں اپنی کوئی رائے قائم کر لے اور اس میں مزید اضافے کے امکانات تلاش کرے۔ ایسی ہی ایک کوشش طارق سعید نے کی ہے اور انہوں نے ’’چراغِ تہہِ داماں۔ تفہیم و تعبیر‘‘ کے نام سے ایک کتاب مرتب کی ہے ۔جس میں بر صغیر کے نامور افسانہ نگار اقبال متین کے ایک شاہکار ناولٹ ’’ چراغ تہہ داماں‘‘ پر اردو ناول کے اہم نقادوں اور اردوادب کے نامور ناقدین کے تنقیدی مضامین شامل ہیں۔ اور ان مضامین کے مطالعے سے قاری کو اقبال متین کے اس متنازعہ سمجھے جانے والے ناولٹ پر اردو تنقید کے مختلف اسالیب کی روشنی میں سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ۔اقبال متین اردو کے صف اول کے افسانہ نگار کے طور پرادب کی دنیا میں جانے جاتے ہیں۔لیکن وہ ایک اچھے شاعر،خاکہ نگاراورناول نگار بھی ہیں۔ اوروہ پچھلی نصف صدی سے زائد عرصہ سے اردو ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔ ناول کے فن کے ٹہراؤ کے زمانے میں انہوں نے ’’چراغِ تہہِ داماں‘‘ جیسا ناول لکھا جو 1976ء میں شائع ہوا ۔ اور اردو کے ادبی حلقوں میں اپنے منفرد اور متنازعہ موضوع کے سبب مشہور ہوگیا۔
’’چراغِ تہہِ داماں‘‘کی اردو ادب میں ایک علحدہ پہچان ہے اقبال متین کا یہ ناول اردو ادب میں متنازعہ سمجھا گیا ہے اس کی وجہہ ناول کی کہانی ہے جسے بیشتر ناقدین فحش و عریاں تصور کرتے ہیں لیکن ناول کے فنی تقاضوں کے اعتبار سے اس کا مطالعہ کرنے والے ناقدین کا گروہ اس ناول کا حمایتی بھی ہے جس نے بہ طور فن اس ناول کا مطالعہ پیش کیا ہے اور اس کاتجزیہ نفسیاتی ‘سماجی اور اقتصادی انداز میں بھی کیا ہے۔ جواس ناول کو اردو ادب میں ایک سنگ میل کا درجہ دیتا ہے۔ ’’ چراغِ تہہِ داماں‘‘ کا موضوع بہت ہی نازک اور اچھوتا ہے اس ناول میں ایک ایسی کہانی کو پیش کیا گیا ہے جس میں حالات کا شکار ایک ماں اپنے شوہر کے دھوکے کا شکار ہوجاتی ہے لیکن اپنے بچے کی بہتر پرورش کی آرزو رکھتی ہے۔ لیکن وہ بچے کی خاطر جسم فروشی کے پیشے میں رہنے کے لئے مجبور ہے۔ اسی زندگی میں اسے سماج کا ایک مکروہ چہرہ نظر آتا ہے جب ایک عورت کے لئے دو خریدار آجاتے ہیں اور بعد قرعہ دوسرے شخص کو عورت کی قربت نہیں ملتی تو اپنی جنسی بھوک مٹانے کے لئے وہ کوشلیا نامی طوائف کے بیٹے شانوجہ سے ہم جنس پرستی کا فعل انجام دیتا ہے۔ اور اس کے بعد شانوجہ نامی مردو عورت بن کر طوائف کی زندگی بسر کرتا ہے۔ اور اپنے ظالم مفرور باپ کا بدلہ سماج کے مردوں سے لیتا ہے اور ان سے دولت بٹور کر عیش کرتا ہے۔ جب کہ اس کی ماں اسے بہتر انسان بنانے کے لئے طوائف کے پیشے کو مجبوری کے طور پر اختیار کرتی ہے۔ اس ناول میں اقبال متین نے سب سے پہلے اردو ناولوں میں مردو طوائف کو پیش کیا ۔ اقبال متین کا ناول جب پیش ہوا تو اس پر ہر طرح کی تنقید ہوئی جس کا انتخاب اس کتاب میں پیش ہے۔اس ناول سے متعلق عابد سہیل نے کیا خوب کہاہے۔’’اقبال متین چراغِ تہہِ داماں میں ایک ایسے موضوع کو چھوا ہے جس کو ہاتھ لگاتے ہی خیال کی انگلیاں جل اٹھتی ہیں‘‘۔ لیکن اقبال متین نے اس ناول کے عنوان چراغ تہہ داماں کے ذریعہ کیچڑ سے کنول نکالنے اور اندھیرے سے روشنی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔اس ناول کے مطالعہ سے قبل قاری کو ناول کے فحش ہونے کا احساس ہوتا ہے لیکن جب قاری ناول کامطالعہ کر گزرتا ہے تو وہ اقبال متین کے فن کا قائل ہوجاتاہے اور وہ اس فیصلے پر پہنچ جاتا ہے کہ کیا حقیقت ہے اور کیا فسانہ۔
اس طرح کی ایک کوشش ڈاکٹرطارق سعید نے اودھ اکیڈمی فیض آباد سے کی ہے انہوں نے ’’چراغِ تہہِ داماں‘‘ کی تفہیم و تعبیر کو ایک مجلہ کی شکل میں کے۔ایس۔ساکیت کالج فیض آباد سے ریسرچ جنرل سریز کے سلسلہ کے طور پر پیش کیا ہے جس کی پہلی کڑی یہ کتاب ہے۔
اس کتاب کا پیش لفظ ڈاکٹرطارق سعید نے حرف آغاز کے عنوان سے لکھا ہے جس میں انہوں نے اس ناول کی تفہیم وتعبیر کے مقصد کوایک مجلہ کی شکل میں شائع کرنے کے مقصد سے متعلق لکھا ہے۔
’’ایک منتخب کتاب پر ادب کے اسکالرس کی بیش قیمت آراکبیر و صغیر اور مقتدرہ ادب بغیر کسی تحفظ و تعصب کے ریسرچ،Dissertation،اور آرٹیکل کو یکجا کر کے سپرد تاریخ کرنا اس تحقیقی مجلہ کا بنیادی مقصد ہے اسے اتفاق کہیے یا شومی قسمت کہ’’چراغِ تہہِ داماں‘‘ سے یہ کتابی سلسلہ شروع کیا جارہا ہے۔یہ شہکار تخلیق اقبال متین کے جاوداں قلم کی رہین منت ہے۔‘‘(ص4)
اس تحقیقی مجلہ میں اردو کی کہکشاں کے ممتاز ستاروں کی تفیہمی و تجزیاتی دریافت پر مشتمل تعبیر کو یکجا کیا گیا ہے اس تفہیمی وتعبیری مجلہ میں 12گراں قدر تنقیدی مضامین شا مل ہیں جو ’’کہ چراغِ تہہِ داماں‘‘کا مکمل احاطہ کرتے ہیں۔جن ناقدین کے مضامین شامل ہے ان میں پروفیسر یو سف سرمست،ڈاکٹر افصح ظفر،پروفیسرمہدی جعفر،ڈاکٹر علی احمد فاطمی،روف خیر،ڈاکٹر احمد صغیر،محمد مستمر،ڈاکٹر اشہد کریم الفت،ڈاکٹرمحمد ممنون عالم،صائمہ اقبال،ڈاکٹر طارق سعید۔
اس کتاب میں سب سے سے پہلا ،مضمون’’ چراغِ تہہِ داماں‘‘ کے عنوان پر پروفیسر یوسف سر مست کا شامل ہے۔انہوں نے اپنے اس مضمون میں اقبال متین کی افسانہ نگاری پر بھر پور روشنی ڈالی ہے اور انکو ہند و پاک کے صف اول کا افسانہ نگار قراردیا ہے اور ناول کے موضوع سے متعلق لکھا ہے۔
’’چراغِ تہہِ داماں‘‘ کی کہانی با لکلیہ اپنے نام کے مطابق اس دامن کی کہانی ہے جو ’’چراغ‘‘کو روشن و محفو ظ رکھنے کیلئے زمانے کی سردو گرم ہواؤ کا مقابلہ کررہا تھا لیکن حادثہ کا یک ایسا جھونکا آتا ہے جو دامن سے گزرتا ہو اچراغ تک پہنچ ہی جاتا ہے اور چراغ کو تہہ داماں کرنے کی ساری کوشش رائیگاں جاتی ہے۔‘‘ص(07)
پروفیسر یو سف سرمست نے اس ناول کی کہانی پر سیر حاصل بحث کی ہے اور اس ناول کو اردو ناول نگاری میں ممتاز قراردیا ہے۔
اس کتا ب کا دوسرا مضمون’’اقبال متین اجمالی تفصیل کا ناول نگار ‘‘ جوکہ ڈاکٹر افصح ظفر کا شامل ہے ڈاکٹر افصح ظفر اپنے اس مضمون میں ناول نگاری اور اقبال متین کی ناول نگاری پر اجمالی جائزہ پیش کیا ہے اور’’چراغِ تہہِ داماں‘‘ سے متعلق لکھا ہے۔
’’وہ اس کہانی میں ایک سیکس ورکر کو برتنے اور پرکھنے کی کوشش میں پوری شاعرانہ تخلیقی قوت کے ساتھ ماورائی جنسیاتی تعلقات میں جاکر ان کرداروں کی اس بنیادی سچائی سے آشنائی کرتے ہیں بعض انسانی زندگہ کو بنیادی طور پرشکمی،گرسنگی کے بطن میں داخل ہو کر دیکھنا چاہتے ہیں اور جس کی بنا پر وہ اس ناول میں سیکس کو تلذذ اور عیاشی سے ہٹ کر بھوک کی جبلت میں ڈال دیتے ہیں۔‘‘ (ص18)
تیسرا مضمون ’’چراغِ تہہِ داماں کی شعلہ سامانی‘‘ کے عنوان پر پرفیسر مہدی جعفر کا شامل ہے۔ پروفیسر مہدی جعفر نے اس ناول کا خوب جائزہ لیا ہے اور ایک طویل مضمون لکھا ہے ۔ جس میں وہ کبھی ناول کی کہانی کا جائزہ لیتے نظر آتے ہیں تو کبھی ناول نگار کا اور آخر اسکی انفرادیت کے قائل ہو جاتے ہیں اور اس ناول کو اردو کے دیگر ناول امراو جان ادا،آگ کا دریا،گردش رنگ چمن۔ایسی بلندی ایسی پستی،خدا کی بستی سے ہٹ کر بتاتے ہیں بلکہ اس ناول کو بصارت سے زیادہ بصیرت کا طلبگار قرار دیتے ہوئے لکھا ہے۔
’’معلوم ہوتا ہے مصنف نے بہت سونچ سمجھ کر آخر کار ایک ذہنی جست لگائی تو جگنو کی طرح یہ عنوان اس کے ہاتھ آیا۔کوئی بھی اس میں پیوست شعریت کو محسو س کرسکتا ہے۔لو دیتا ہو اچراغ۔ جو سایہ دامن میں سوزاں ہے۔زیر دامن جنسی نفسیاتی اور حسیاتی شدت کا ترجمان ہے اس کی طرف انگشت نما ہے ہم پورے ناول میں ایک طرح کی شعری کیفیت محسوس کرسکتے ہیں۔‘‘(ص22,23)
اس تصنیف میں ایک اور اہم مضمون ’’چراغِ تہہِ داماں‘جنسیت،جذباتیت و جرات کا شہکار‘ ‘ کے عنوان پر ڈاکٹر علی احمد فاطمی کا بھی شامل ہے انہوں نے اپنے اس مضمون میں ناول کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور اقبال متین اور انکے اس ناول کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا تذکرہ کیا ہے اور لکھا ہے۔
’’ اس ناول سے متعلق بزرگ نقادوں کے سامنے بات کرتے تو وہ ادھر اُدھرکی بات چھیڑ دیتے۔ شاید اس لئے اس ناول پر کم باتیں ہو سکی ہیں اور اس کے ساتھ انصاف نہیں ہوسکا ہے اب جبکہ تخیلق اور تنقید نے بہت ساری سرحدیں پار کرلی ہیں اور تنقید تخلیق کے باطن میں داخل ہوکر نہاں خانوں کو طشت از بام کررہی ہے اور بڑی حد تک بے حجاب ہوچکی ہے بین المتونیت اور معنی کی کثرت کا دورچل پڑا ہے تو ضرورت اس بات کی ہے کہ اس اہم غیر معمولی ناول پر از سر نو گفتگو کی جائے اور اس کو اس کا اصل مقام دیا جائے۔‘‘(ص47,48)
بہر حال اقبال متین کے فن پر بات کرنے سے قبل افسانہ اور ناول نگاری پر گہرے مطالعہ کی ضرورت پیش آئیگی کیوں کے ان کے فن پر بات کرنے سے ایسا محسوس ہوتا ہیکہ سورج کو روشنی دکھانے جیسی بات ہوگی۔اقبال متین نے اس ناول کا موضوع جس میں ناول نگار کو بھٹکنے اور بہکنے کی پوری پوری گنجائش تھی بہت ہی سنبھل سنبھل کر اپنے توازن کو برقرار رکھا ہے ۔
چراغ تہہ داماں ایک اناکی کا شکار سماج میں بگڑے کرداروں کی نفسیاتی مطالعے کا ناول ہے۔چنانچہ ناول کے متنازعہ کردار شانوجہ کی کردار نگاری پر ڈاکٹر محمد ممنون عالم نے مضمون لکھا۔ ڈاکٹر اشہد کریم الفتؔ نے ناول کے کرداروں کا تعارف اور تجزیہ پیش کیا۔چراغ تہہ داماں کا نفسیاتی و جنسیاتی تجزیہ کے عنوان سے محمد مستمر کا مضمون بھی کتاب میں شامل ہے۔۔ کتاب کے مرتب طارق سعید نے اپنے مضمون میں ہندوستان کے موجودہ حالات اور مغرب کی نقالی کا نقصان اٹھانے والے معاشرے کی روشنی میں اس ناول کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ اور ادب سے ذیادہ زندگی کے حقائق کی روشنی میں اس ناول کی معنویت اجاگر کی۔
ان مضامین کے علاوہ دیگر مضامین بھی کافی اہمیت کے حامل ہیں اور تحقیق و تنقید کے اصولوں کو پیش نظر رکھ کر لکھے گئے ہیں اور یہ تصنیف دیگر نقادوں کو بھی دعوت دیتی ہے کہ وہ اس پر اپنا تنقیدی نقطہ نظر پیش کریں۔ ’’چراغ تہہ داماں تفہیم و تعبیر‘‘ تصنیف اقبال متین کے اس ناول پر مزید مکالمے کے دعوت دیتی ہے۔ اس کتاب میں شامل تنقیدی مضامین سے یہ سوال بھی پیدا ہوتے ہیں کہ کیا یہ ناول مغرب اور مشرق کے کلچر کے ملاپ کا عکاس ہے کیونکہ اس میں ایک ہندوستانی طوائف کی شاہکار تصویر ہے جو عورت بھی ہے اور ماں بھی لیکن اس میں شانوجہ کی شکل میں ایک مرد طوائف کی مرقع کشی ہے جس کا تصور ہندوستانی سماج میں عام نہیں ہے لیکن جیسا طارق سعید نے ہندوستان کے موجودہ حالات کی طرف اشارہ کیا جس میں ہم جنس پرستی کو قانونی جواز دینے کی کوشش کی گئی ہے جب کہ مغرب میں یہ تصور عام ہے۔ لیکن اس ناول سے یہ مکالمہ بھی ہوسکتاہے کہ اقبال متین نے منٹو کی طرح سماج کی ایک کڑوی حقیقیت کی تصویر کشی تو کردی کہ ہمارے سماج میں یہ مذہب اور سماج کے قوانین رکھنے کے باجود یہ ہورہا ہے۔ لیکن کیا ادیب کی یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ شانوجہ جیسے کردار کی تخلیق کرتے ہوئے سماجی برائی کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ اس ناول پر یہ مکالمہ بھی ہوسکتا ہے کہ شانوجہ جیسے کردار کی تخلیق کے پس پردہ کہیں وہ جینیاتی عوامل تو نہیں جو خون کے اثرات دکھاتے ہیں اور اس جیسے کردار وجود میں آتے ہیں۔ اس ناول کا وسیع پیمانے پر سماجی‘ تہذیبی ‘نفسیاتی اور اقتصادی مطالعہ ضروری ہے تاکہ ادب کی نئی جہتوں کا پتہ چل سکے۔یہ تصنیف جو کہ مجلہ کی شکل میں اودھ اکادمی فیض آباد نے پیش کیا ہے وہ قابل مبارکباد ہیکہ ایک نئی نوعیت کا کتابی سلسلہ انہوں نے شروع کیا ہے امید کہ ا سطرح کے مزید تحقیقی جرنل دیگر موضوعات کا بھی احاطہ کریں گے اور وقت کی کمی کے شکار قاری کو اصل تصنیف کے بجائے صرف تنقیدی مضامین پڑھ کر ہی تخلیق سے آگاہی ہوسکے۔میں طارق سعید کی اس کامیاب کوشش پر انکو اورساکیت کالج فیض آباد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کے اس تصنیف کو اردو دنیا میں مثبت انداز سے قبول کیا جائے گا۔
150صفحات پر مشتمل مجلد،خوبصورت ٹائٹل اورعمدہ کمپوزنگ پر مشتمل اس کتاب کی قیمت 200روپیئے رکھی گئی ہے جو کہ اس کتاب کے ناشر ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس نئی دہلی سے حاصل کی جاسکتی ہے۔

3 copy (1)
maazeez.sohelgmailID

 

Share
Share
Share