صدیوں سے سوئے ہوئے انسان کی کہانی(افسانچہ) – – ابنِ عاصی

Share

ابنِ عاصی

صدیوں سے سوئے ہوئے انسان کی کہانی(افسانچہ)

مصنف:ابنِ عاصی

وہ صدیوں سے سویا ہوا تھا
لوگ دنیا میں آتے رہے،جیتے رہے اور مرتے رہے لیکن نہ تو اس کی زندگی کی سانس کی ڈور ٹوٹی اور نہ ہی بستر چھوٹا،وہ نسلوں کی نسلیں ختم ہونے کے باوجود بھی زندہ رہا،ہاں اس کی آنکھ کھلی کسی نے نہ دیکھی ،وہ دنیا کے لیے ایک حیرت انگیز معمہ بن کے آج بھی سب کے سامنے پڑا ہوا تھا۔
اک دیکھنے والے نے اس کی زندہ لاش کو حقارت سے دیکھا اور اس کی دیکھ بھال پر مامور شخص سے کہا۔۔
میں سمجھتا ہوں کہ دنیا میں آج تک پیدا ہونے والے اربوں انسانوں میں یہ ،واحد بے کار انسان، ہے لیکن پھر بھی ڈھٹائی کی حد دیکھو کہ مر کر بھی زندہ ہے ۔۔۔۔؟

ایک اور نے کہا : یہ زندہ ہے؟زندہ ہوکر بھی مرا ہوا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
تیسرے نے کہا :یہ زندہ ہے اور مر بھی گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔
چوتھے نے کہا : یہ زندہ ہے نہ مرا ہوا ہے ۔۔۔
صدیوں سے سوئے ہوئے انسان کی دیکھ بھال پر مامور شخص نے اس کی بات سن کر ایک زوردار قہقہہ لگایا اور پھر نہایت سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔۔۔
حیرت ہے کہ تم اس کو ،بے کار انسان، قرار دے رہے ہو۔۔؟جب کہ میرا خیال ہے کہ تمہیں اس کی بجائے ان اربوں انسانوں کو بے کار قرار دینا چاہیے جو کہ صدیاں بیت جانے کے باوجود بھی اس،بے کار انسان، کو ،کارآمد، نہیں بنا سکے۔۔۔۔۔۔۔!!!!
محمد نوید اقبال انجم
قلمی نام: ابن عاصی
السعید منزل نقدپورہ جھنگ شہر
موبائل نمبر: 0333-6741972
رہائش: 047-7622145,7624492
ای میل ایڈریس:

Share
Share
Share