موٹھ کی مسجد ، دہلی – – – ڈاکٹرعزیزاحمد عرسی

Share

Moth-Ki-Masjid-v16

موٹھ کی مسجد ، دہلی
(Moth ki Masjid , Delhi)

ڈاکٹرعزیز احمد عرسی ورنگل
09866971375

موٹھ کی مسجد کو 1505 عیسوی میں سکندر لودھی کے دور حکومت میں اس کے وزیر اعظم نے تعمیر کروایا تھا، اس کا نام وزیر ؔ میاں بھویاؔ تھا۔لفظ موٹھ دراصل ایک دال کا نام ہے جس کو ہندی اردو میں’’ مسور کی دال‘‘ کہا جاتا ہے اس کو عربی، فارسی میں’’ عدس‘‘ کہتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ سکندر لودھی اس علاقے کا دورہ کر رہاتھا کہ اچانک ایک چڑیا نے ’’ مسور ‘‘ کا دانہ بادشاہ کے اوپر گرایا جس پر اس کے و زیر اعظم نے اس دانے کو خدمت خلق میں خرچ کرنے کی ترغیب دی اور اس دانے کو کھیت میں بونے کا انتظام کروایا،کئی فصلوں کی پیداوار کو جب بیچا گیا تو اس قدر روپیہ جمع ہوگیا کہ اس رقم سے اس مسجد کی تعمیر کا انتظام ممکن ہوا۔اس سلسلے میں ایک اور کہانی بھی مشہور ہے کہ سکندر لودھی ؔ نے جب بطور تحفہ اپنے وزیر کو ’’موٹھ‘‘ کا دانہ تحفتاً دیا تو اس دانے کو وزیر نے کام میں لایا کئی فصلیں پیدا کیں اور اس مسجد کو تعمیر کروایا ، جب بادشاہ سکندر لودھی نے اس مسجد کا دورہ کیا تو وزیر نے یہ بات بتائی تب سے اس کا نام ’’ موٹھ کی مسجد‘‘ مشہور ہوگیا۔

بہر حال اس مسجد کی تعمیر کے پیچھے کہانی کچھ بھی رہا کرے لیکن اس مسجد کی اہمیت کی اہم وجہہ اس کا تعمیری انداز ہے جو اپنے اندر ایک ندرت رکھتا ہے اس مسجد پر اپنے دور کا خوبصورت اور خوشنما گنبد موجود ہے جو نیم دائروی شکل کا ہے اس کی کھڑکیوں میں جالی کا نازک کام موجود ہے ، اسی گنبد نے اس مسجد تعمیری خوبی کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔مسجد کے داخلے کی گیٹ کئی رنگوں کے سنگ رملی سے بنائے گئے ہیں، ان دروازوں (Gate) میں سرخ، نیلا ، کالا، سفید رنگ غالب ہے۔ یہ گیٹ ہند اسلامی طرز تعمیر کی بہترین مثال ہیں اس کی بیرونی گیٹ اسلامی اور اندرونی گیٹ ہندو طرز تعمیر کے مطابق بنائی گئی ہے،مسجد کے کونوں پر دو منزلہ خوبصورت ، دیدہ زیب اور اپنی طرز کے نئے ٹاورس ہیں جن پر چھتریاں بنی ہوئی ہیں اور یہی وہ چھتریاں ہیں جو بعد میں مغل طرز تعمیر کا اہم حصہ بنیں۔ اس طرح اس مسجد کی دیدہ زیبی کے لئے بنائی گئی ’’چھتریاں‘‘ Cenotophs اپنی طرز کی جدید تعمیری ساختیں ہیں جو اس مسجد سے قبل ہندوستان کی کسی تعمیر میں نہیں دکھائی دیتیں، لیکن بعد کی تقریباً مغل تعمیرات میں دکھائی دیتی ہیں۔مسجد کے اصل ہال میں داخلے کے پانچ دروازے ہیں۔درمیانی کمان زیادہ دیدہ زیب ہے،ہر دو کمانوں کی درمیانی دیوار پر عمودی طاقچے بنا کر خوبصورتی پیدا کی گئی ہے۔ مسجد کے اندر درمیانی گنبد کے نیچے محراب واقع ہے جس کو سنگ مرمر سے بنایا گیا ہے محراب پر قرآنی آیات کندہ ہیں، مسجد میں تین گنبدان ہیں ، مسجد کو کوئی مینار نہیں ہے ،اس کے باوجود یہ مسجد اپنی خوبصورتی میں طاق ہے ،مسجد سنگ سرخ سے بنائی گئی ہے جس میں بہترین اور خوشنما نقوش ابھارے گئے ہیں،یہی نقوش اس مسجد کی آرائش ہیں ورنہ اس سے ہٹ کر مسجد میں آرائش کا کوئی دوسرا سامان نہیں ہے، لیکن تعمیری جدت طرازی کی وجہہ سے یہ مسجد ہندوستان میں اپنی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے۔

Share
Share
Share