افسانہ : ٹھنڈے چولہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محمد نواز

Share

 ٹھنڈے چولہے ۔ نواز

افسانہ : ٹھنڈے چولہے

محمد نواز
مکان نمبر P /236 محلہ فتح پور
کمالیہ ‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ ۔ پاکستان
ای میل :

فیکٹری کے مغربی سمت میں مزدورں کیلئے بنایا جانے والا کیفے ٹیریا جی ٹی روڑ کنارے بنے چھپر ہوٹل کا منظر پیش کرتا تھا ۔ ٹوٹی کرسیاں جن کے سامنے پرانے لکڑی کے میز دھرے تھے،کہیں چار پائیاں رکھیں تھیں۔ تمام مزدور دوپہر کے وقت یہاں کھانے،چائے پینے کے ساتھ ساتھ آرام کیلئے بھی آ بیٹھتے ۔یہ کیفے ٹیریا تمام فیکٹری ورکز کیلئے ایک قسم کا گپ شپ کارنر بھی تھا ۔جو بھی آتا اپنے ذوق اور اپنی پسند کے مطابق گفتگو فرماتا ،سگریٹ چائے پیتا اور ڈیوٹی پر چلا جاتا ۔سلیم ایک چار پائی پر آلتی پاتی مارے بیٹھا تھا اس کے سامنے رنگ دار کپڑے کا وہ رومال پڑا تھا جس میں وہ گھر سے روٹی باندھ لاتا۔کیفے ٹیریا سے سالن لے کر پیٹ کی آگ بجھا لیتا ۔ایک آدمی ہانپتا ہوا آیا اور کہنے لگا ’’ یونین کے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں ۔کل سے فیکٹری میں ہڑتال ہو گی۔ہڑتال کا سنتے ہی سلیم کے ہاتھ سے نوالہ گر گیا ۔

فیکٹری کے مین کیٹ کے باہر بازو اور ماتھے پر سیاہ پٹیاں باندھے ہاتھوں میں سیاہ جھنڈیاں پکڑے فیکٹری ورکرز اپنے مطالبات منوانے کیلئے ہڑتال پر تھے ۔ فیکٹری بند پڑی تھی ۔فیکٹری ورکز کا مطالبہ تھا کہ ان کی یومیہ اجرت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ ان کو وہ تمام سہولیات دی جائیں جن کا ورکرز حق رکھتے ہیں ۔ بیماری کی صورت میں میڈیکل فنڈ،بچوں کی تعلیم کے اخراجات، اولڈ ایج بینیفٹ وغیرہ وغیرہ
’’ یہ فیکٹری مالکان ہم ورکرزکا حق مارتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارا استحصال کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیں ہمارے کام کی پوری اجرت بھی نہیں دیتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ گونمنٹ نے سالانہ بجٹ میں مزدور کی جو اجرت مقرر کی ہے اس سے بھی ہمیں کہیں کم دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ کوئی میڈیکل فنڈ یہاں دیا جاتا ہے اور نہ بچوں کی تعلیم کے اخراجات کیلئے مدد ، صرف تنخواہ ، ایک ماہ کی تنخواہ زر ضمانت کے طور پر اپنے پاس رکھتے ہیں کہ کہیں کوئی ورکر چھوڑ کر دوسری فیکٹری میں نہ چلا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ استحصال نہیں ہم ورکز کا تو اور کیا ہے ؟ اسے حق تلفی نہیں کہتے تو اور کیا کہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔؟
خود تو امیر سے امیر تر ہوتے جا رہے ہیں اور ہم ونہیں کے ونہیں کھڑے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوستو ہمیں ان سے اپنا حق لینا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔ اور حق ملا نہیں کرتا بلکہ چھینا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ورکر بڑے جوشیلے انداز میں تقریر کرنے لگا ۔اس کی تقریر سن کر سب ورکرز میں جوش بھر جاتا اور وہ زور زور سے فیکٹری مالکان کے خلاف اور اپنے مطالبات کے حق میں نعرے لگانے لگتے ۔ ورکرز کا خیال تھا کہ فیکٹری مالکان ان کی ہڑتال کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں گے اور ان کے سارے مطالبات مان لیئے جائیں گے ۔لیکن ہوا اس کے برعکس فیکٹری کا کوئی بھی مالک ان سے مذاکرات کرنے نہ آیا۔
’’ سلیم ، اگر مالک نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو کیا ہو گا ہمارے ساتھ ‘‘ ایک فیکٹری ورکر نے سلیم سے پوچھا ۔ سلیم گردن جھکائے خیالات میں غرق بیٹھا تھا’’ وہ فیکٹری کے مالک ہیں انور ،مانیں نہ مانیں ، ان کی مرضی ۔اس ہڑتال سے مالکان کوجو نقصان ہو گا اس کو تو وہ کسی نہ کسی طرح سے پورا کر لیں گے لیکن جو نقصان ہم غریب ورکرز کا ہو رہا ہے وہ کبھی بھی پورا نہیں ہو گا ‘‘ ’’ سلیم تم ٹھیک کہہ رہے ہو ہم ورکرز کا اس ہڑتال سے بہت نقصان ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج میری گھر والی نے مجھے آتے ہوئے بتایا کہ کھانے کو راشن نہیں اور جو جمع پونجھی تھی وہ بھی ختم ہو گئی ہے ۔سلیم بھائی ،میری تشویش تب سے دو چند ہو گئی ہے کہ کل گھر میں راشن کہاں سے لے کر جاؤں گا ‘‘ ’’ اس سے ملتی جلتی کیفیت میرے گھر کی بھی ہے انور تمھارے گھر مین راشن ختم ہو گیا ہے اور میرے گھر میں آج کل میں ختم ہو جائے گا ،پھر کہاں سے آئے گا اس کا اللہ مالک ۔
سلیم کو اس فیکٹری میں کام کرتے پندرہ سال ہو گئے تھے ۔سلیم زیادہ پڑھا لکھا نہ تھا ۔ایک جاننے والے والے نے سلیم کو فیکٹری میں کام لے کر دیا تھا ۔تب سے اب تک وہ اسی فیکٹری میں ورکر کے طور پر کام کر رہا تھا ۔اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے فیکٹری کو پھلتے پھولتے دیکھا تھا ۔
ہڑتال نے طول پکڑا اور ورکرز کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑھنے لگے ۔یونین کے عہدیدار کسی صورت ہڑتال ختم کرنے پر راضی نہ ہوئے۔روز فیکٹری کے مین گیٹ پر فیکٹری مالکان کے خلاف تقریریں ہوتیں ۔اپنا حق ہر صورت میں لینے کے دعوے کیئے جاتے ۔اب حق تلفی نہیں ہونے دیں گے کے نعرے لگتے ۔
نہ یونین والوں نے ہتھیار ڈالے اور نہ فیکٹری مالکان نے مطالبات تسلیم کیئے۔نتیجتاً شر پسندی نے جنم لیا ،فیکٹری کو آگ لگا دی گئی پولیس اور فائر برگیڈ کی گاڑیاں چیختی چنگاڑتی فیکٹری آن پہنچیں ،فائر برگیڈ آگ بجھانے میں مصروف جبکہ پولیس پکڑ دھکڑ کرنے لگی ۔یونین والوں کے ساتھ سلیم بھی پکڑا گیا ۔
حوالات کے بارے میں پہلے صرف سنا ہی تھا آج خود اسی حوالات کاباسی تھا ۔سلیم کایک محلے دار،جو کسی جرم میں پکڑا گیا تھا تین دن حوالات میں گزار کر آیا تو حوالات کی روداد سلیم نے اس کی زبانی سنی تھی۔پولیس نے مار مار کر اس کا برا حال کر دیا تھا۔وہ کئی دنوں تک ٹھیک طرح سے بیٹھ بھی نہ سکا اور نہ ہی لیٹ سکا تھا ۔سلیم کی آنکھوں میں اس محلے دار کی کیفیت ابھرنے لگی،دل میں ایک انجانا سا خوف سانپ کی مانند کنڈلی مارے آن بیٹھا۔ من میں بیٹھا یہ سانپ اسے مسلسل ڈسے جا رہا تھا زہر اس کے سارے وجود میں سراہیت کرنے لگا۔اسے یوں لگا جیسے اگلے ہی لمحے اس کی جان نکلنے والی ہے۔مرنے کا خوف اس کے رگ و پے میں اترچکا تھا کسی بھی لمحے اس کی جان جسم سے ہوا ہو جانے والی تھی اچانک اس کا خیال بیوی بچوں کی طرف چلا گیا ،میرے بعد گھروالوں کا کیا ہوگا۔ان کا کون سہارا بنے گا ۔کون میرے بچوں کی دیکھ بھال کرے گا ۔انہوں نے کچھ کھایا بھی ہو گا کہ نہیں ،پھر یہ سوچ کر اس کی تشویش کم ہو گئی کہ ابھی گھر میں دو دن کا راشن موجود تھا وہی کھا لیا ہو گا ۔مگر ایک اور تشویش جو فی الحال اسے لاحق تھی وہ اس حوالات میں اس کا ٹھہرنا تھا اسے کتنے دن تک یہاں رہنا ہوگا ۔اسے کچھ پتا نہ تھا
پولیس اس کے اور یونین والوں کے ساتھ کیا سلوک کرنے والے تھے اس کا تھوڑا بہت اندازہ اسے ہو چکا تھا۔لیکن اسے یہ سزا کیوں دی جارہی تھی ۔اسے کیوں پکڑ کر حوالات میں بند کر دیا تھا۔ وہ تو بے ضرر تھا اس نے آج تک کسی ذی روح کو بھی نقصان نہ پہنچایا تھا ۔ کسی غیر کو نقصان پہنچانا تو ایک طرف آج تک وہ اپنی شریک حات سے بھی اونچی آواز میں نہ بولا تھا حالانکہ نوے فیصد مردوں اور عورتو ں کے درمیان تلخ کلامی ہونا معمولی بات ہے ۔وہ تو اپنے کام سے کام رکھنے والا تھا اپنے وقت پر فیکٹری آتا ،کام کرتا اور گھر چلا جاتا ۔ لیکن آج رات اسے حوالات میں ہی گزارنا تھی کل اس کی ضمانت کیلئے بھی کوئی آئے گا یا نہیں یہ اس کو معلوم نہ تھا۔اس کا دماغ مختلف وسوسوں میں گھرا تھا کہ ایک کانسٹیبل آیا اور یونین والوں کو اپنے ساتھ لے گیا ۔کانسٹیبل کی باتوں سے سلیم نے اندازہ لگایا تھا جیسے ان کو تھانے دار نے اپنے دفتر میں بلایا تھا ۔
ساری رات پکڑے جانے والوں سے تفتیش کا سلسلہ جاری رہا ۔حوالات میں لائے گئے سو سے زیادہ ورکرز سے تفتیش کی گئی ۔جو قصور وار ٹھہرے ان کو ا لگ حوالات میں بند کر دیا گیا جو قصور وار تھے ان کو صبح ہوتے ہی چھوڑ دیا گیا ۔رہا ہونے والوں میں سلیم بھی تھا ۔گھر پہنچنے پر سلیم کے بچے اس سے آن لپٹے ،بیوی ایک جانب آن کھڑی ہوئی اس کی آنکھوں کے سوالات سلیم پڑھ چکا تھا وہ اسے اندر لے گیا اور سارا ماجرہ کہہ سنایا۔
چولہے کے پاس سلیم اور اس کی بیوی جلتی آگ کو مسلسل گھورے جا رہے تھے آگ میں کیا دیکھ رہی ہو تم ،سلیم نے اپنی بیوی سے پوچھا ۔ سوچ رہی ہوں فیکٹری کے بند ہونے سے ہمارے چولہے کی آگ بھی ٹھنڈی پڑ گئی ہے ۔ کیوں پریشان ہوتی ہے ۔جب تک سانس ہے تب تک آس ہے ۔سوچ رہا ہوں کسی دوسری فیکٹری میں کام ڈھونڈ لوں ۔ہاں چولہا تو جلتا رکھنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن سلیم ایک اور فیکٹری کے مالک کے سامنے کام کے سلسلہ میں کھڑا تھا ۔مالک کوجب سلیم نے بتا کہ وہ اس فیکٹری میں کام کرتا رہا ہے ۔جس کو جلا دیا گیا تھاتو وہ آگ بگولا ہوگیا ۔تمھیں کام پر رکھنے کا مطلب میں بھی اپنی فیکٹری کو آگ لگوا لوں ۔تم لوگ پہلے کام لیتے ہو پھر یونین بنا کر مالکان کو بلیک میل کرتے ہو ۔اگر تمھارے مطالبات نہ مانے جائیں تو فیکٹری کو آگ لگا دیتے ہو ‘‘ سلیم نے بتایا کہ وہ فیکٹری کو آگ لگانے والوں میں نہیں تھا اور نہ ہی یونین کا کبھی حصہ دار رہا ہے ۔وہ تو ایک مزدور ہے اور فیکٹری صرف مزدوری کرنے جاتا تھا۔اس نے کبھی لالچ نہیں کیا بس اتنے کی حوس کی ہے جس سے اس کے گھر کا چولہا جلتا رہے ،اس کے بچوں کا پیٹ بھرتا رہے،فیکٹری کا مالک کا بپھر گیا اس نے سارا غصہ سلیم پر نکال دیا ۔
ہم نے کروڑوں روپیہ اس آگ میں اس لیئے جھونکا ہے تاکہ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکیں ۔اگر ہم، تم جیسے لوگوں کو کام پر رکھ لیں گے تو ہمارے گھر کا چولہا بجھ جائے گا ۔ اور اب ہم تم جیسے شر پسندوں کو ہر گز کا م نہیں دیں گے ۔ہم فیکٹری مالکان نے ایک میٹنگ کی ہے جس میں ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم فیکٹری مالکان کی ایک تنظیم بنائیں گے، تاکہ آئندہ کسی بھی فیکٹری کو آگ نہ لگائی جا سکے ۔ سلیم کے ہاتھ سے سرخ رومال میں بندھی روٹی نیچے گر گئی اور وہ دفتر سے باہر آ گیا۔

Share
Share
Share