حمزہ فاروقی سے ایک مصاحبہ – – – – ڈاکٹرتہمینہ عباس

Share

 فاروقی
حمزہ فاروقی سے ایک مصاحبہ

ڈاکٹرتہمینہ عباس

حمزہ فاروقی اردو ادب میں بحیثیت سفرنامہ نگار ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ان کے پانچ سفر نامے اور دو خاکوں کے مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ اقبالیات اور تحقیق سے انہیں خاص لگاؤ ہے۔ اس کے علاوہ غلام رسول مہر کے حوالے سے ان کی کئی تحقیقی تصانیف منظر عام پر آچکی ہیں۔ طنز و مزاح پر مبنی کئی اک مضامین مختلف رسالوں کی زینت بن چکے ہیں۔

حمزہ فاروقی 27 جنوری 1945ء کو پٹیالہ بھارت میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام دیوان مشتاق احمد فاروقی اور والدہ کا نام لطیفن بیگم ہے۔ حمزہ فاروقی پانچ بہنیں اور پانچ بھائی تھے، بہن بھائیوں میں حمزہ فاروقی کا نواں نمبر تھا۔ حمزہ فاروقی کا خاندان تقسیم و ہند کے بعد پاکستان آگیا اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ حمزہ فاروقی نے ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی۔ میٹرک سندھ مدرسۃ الاسلام سے 1961ء میں پاس کیا۔ انٹرمیڈیٹ 1963ء میں اسلامیہ کالج کراچی سے کیا۔ بی اے آنرز جامعہ کراچی سے 1966 میں کیا۔ ایم اے اردو جامعہ کراچی کے شعبۂ اردو سے1967ء میں کیا۔ دوسرا ایم اے ،ایس او اے ایس یونیورسٹی (SOAS) لندن سے (ایریا اسٹڈیز جنوبی ایشیا) 1979ء میں کیا۔حمزہ فاروقی نے تحسین فاروقی سے شادی کی جن کے بطن سے ان کے دو بچے، ایک بیٹی ندا فاروقی اور ایک بیٹا مجتبیٰ فاروقی پیدا ہوئے۔
1967ء سے 1985ء تک دیوان مشتاق گروپ آف انڈسٹریز سے وابستہ رہے۔ ڈائریکٹر دیوان ٹیکسٹائل ملز لمیٹڈ کوٹری بھی رہے۔
جامعہ کراچی میں ان کی ہونے والی ایک ملاقات اور مصاحبہ درج ذیل ہیں۔
س: آپ کب اور کہاں پیدا ہوئے؟
ج: میں 27 جنوری 1945ء کو پٹیالہ بھارت میں پیدا ہوا۔
س: ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
ج: میں نے ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی۔ میٹرک 1961ء میں سندھ مدرستہ الاسلام، انٹر 1963ء اسلامیہ کالج، بی اے آنرز جامعہ کراچی 1966، ایم اے اردو، جامعہ کراچی، شعبۂ اردو 1967ء میں جب کہ دوسرا ایم اے ایس او اے ایس یونیورسٹی (SOAS) لندن سے (ایریا اسٹڈیز جنوبی ایشیا) 1979ء میں کیا۔
س: آپ نے کون سا پیشہ اختیار کیا؟
ج: (مسکراتے ہوئے) خاندانی پیشہ تجارت تھا۔ اسی لیے تجارت یعنی کاروبار سے وابستہ رہا۔ کاروبار میری فطرت میں نہ تھا اس لیے راہ فرار اختیار کی اور دنیا کی سیاحت پر نکل گیا۔ ۱۹۶۷ء سے ۱۹۸۵ء تک دیوان مشتاق گروپ آف انڈسٹریز سے وابستہ رہا۔ ڈائریکٹر دیوان ٹیکسٹائل مل کوٹری بھی رہا۔
س: لکھنے کا باقاعدہ آغاز کب سے کیا؟
ج: ادب سے دلچسپی ایم اے اردو کے دوران پیدا ہوگئی تھی۔ لکھنے کا باقاعدہ آغاز 1967ء سے کیا۔
س: آپ کے کتنے سفرنامے منظر عام پر آچکے ہیں۔
ج: تقریباً پانچ سفرنامے منظر عام پر آچکے ہیں۔ میرا پہلا سفرنامہ ’’زمان و مکاں اور بھی ہیں‘‘ تھا جو 1978ء میں شائع ہوا۔ دوسرا ’’آج بھی اس دیس میں‘‘ جو 1982ء میں منظر عام پر آیا۔ تیسرا ’’سفر آشوب‘‘ جو 1987ء میں شائع ہوا۔ چوتھا ’’قید مقام سے گزر‘‘ جو 2005ء میں شائع ہوا۔ پانچواں ’’دل ایشیا، سنگاپور و ملائیشیا‘‘ ہے جو ’’مکالمہ‘‘ کے 21 ویں شمارے میں 2014ء میں شائع ہوا۔
س: سنا ہے ’’اقبالیات‘‘ آپ کا خاص موضوع ہے اور اس حوالے سے آپ کافی تحقیق کرچکے ہیں؟
ج: میں اقبال شناسی کے پہلو اور نظام اقدار کو قابل تحریم سمجھتا ہوں کیونکہ اقبال کی فکر کی بنیاد قرآن و سنت پر تھی اس لیے میں ان کے افکار کا دلدادہ ہوں۔
س: آپ کی ’’اقبالیات‘‘ کے حوالے سے کون کون سی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں؟
ج: میری اقبال کے حوالے سے کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں سفرنامۂ اقبال، حیات اقبال کے چند مخفی گوشے، اقبال کا سیاسی سفر وغیرہ شامل ہیں۔
س: کیا ’’غلام رسول مہر‘‘ بھی آپ کی تحقیق کا موضوع ہیں؟
ج: جی بالکل، غلام رسول مہر، غالبیات کے حوالے سے ایک اہم نام ہیں۔ میری ان سے باقاعدہ خط و کتابت رہی ہے۔ ان کی زندگی کے متنوع پہلو میری نظر میں تھے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ مہر کے حوالے سے بھی میں نے تحقیق کی اور میری کتابیں، مہر اور ان کا عہد، اعجاز نامۂ مہر، مہر بیتی، مہر درخشاں کے نام سے شائع ہوئیں۔
س: مصنف کے اسلوب میں کیا چیزیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں؟
ج: کسی بھی کتاب میں مصنف کا اسلوب بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ میں اس بات کا قائل ہوں کہ مصنف کو تخلیقی زبان میں نت نئی تراکیب وضع کرنی چاہئیں۔ خود میرے سفرناموں میں آپ کو نت نئی تراکیب کا امتزاج نظر آئے گا۔ موضوع کے حوالے سے زبان کا استعمال تحریر کے حسن میں اضافہ کرتا ہے۔ فارسی کی آمیزش کے بنا تحریر میں حسن پیدا نہیں ہوتا۔ کسی بھی تحریر میں مصنف کا ڈکشن بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
س: آپ اپنے اساتذہ میں کس استاد سے متاثر تھے؟
ج: میں اپنے اساتذہ میں ڈاکٹر اسلم فرخی کو پسند کرتا تھا کیونکہ ان کا حافظہ غضب کا تھا اور وہ اک اچھے استاد تھے۔ ان کی بہ نسبت دیگر اساتذہ جزوقتی استاد تھے جو کلاس میں پڑھا دیا سو پڑھادیا۔ اس کے بعد پڑھائی کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں کرتے تھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمارے زمانۂ طالب علمی میں استاد اور شاگرد میں دوستی اور بے تکلفی عام نہ تھی۔ جامعات تحقیق کے لیے بنتی ہیں۔ مگر ہمارے دور میں تقریر پر زور دیا جاتا تھا۔
س: آپ تعلیم حاصل کرنے انگلستان بھی گئے، وہاں مستقل سکونت کیوں اختیار نہیں کی؟
ج: انگلستان اور امریکہ میں، میرے پاس وہاں کی شہریت حاصل کرنے کے مواقع موجود تھے مگر اس کے باوجود میں نے وہاں کی شہریت لینے سے انکار کردیا جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ چار سال انگلستان میں رہنے کے باوجود میں وہاں اجنبیت محسوس کرتا رہا۔ اگر میں وہاں پوری زندگی بھی گزار لیتا تو اجنبی ہی رہتا۔ میرا ملک تیسرے درجے کا ملک ہے اور میں یہاں اوّل درجے کا شہری ہوں۔ میرے لیے یہ ہی بات باعث فخر ہے۔
س: آپ نے انگلستان میں رہتے ہوئے تحقیق کیوں نہیں کی؟
ج: انگلستان میں تحقیق بھاری پتھر تھا جسے چوم کر چھوڑ دیا۔ نیز وہاں کافی عرصے رہنے کے باوجود انگلستان اور وہاں کے لوگوں سے اجنبیت ختم نہ ہوسکی۔
س: سیاحت کے دوران آپ کن کن ممالک سے متاثر ہوئے؟
ج: مجھے عقیدت کے اعتبار سے مکہ اور مدینہ پسند آیا اس کے بعد ترکی اور آسٹریا سے متاثر رہا۔
س: کیا تعلیم مادری زبان میں دیے جانے سے شرح خواندگی پر فرق پڑتا ہے؟
ج: جی بالکل، ایران، ترکی اور بہت سے عرب ممالک میں تعلیم ان کی مادری زبان میں ہونے کی وجہ سے ان ممالک کی شرح خواندگی پاکستان سے زیادہ ہے۔
س: آپ نے اپنی نثر میں کن چیزوں سے مزاح پیدا کرنے کی کوشش کی؟
ج: میں نے مبالغہ، تحریف لفظی اور دو متضاد چیزوں کے بیان سے مزاح پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پر میرے سفرنامے کا ایک جملہ ہے کہ ’’ازبکستان میں بس کے سفر کے دوران ازبک خواتین پھولدار کپڑوں میں پھولے نہ سماتی تھیں۔
س: لکھنے، پڑھنے اور سیاحت کے علاوہ آپ کو کن چیزوں کا شوق ہے؟
ج: مجھے 1973ء میں فوٹو گرافی کا شوق ہوگیا تھا جس نے دن بہ دن شدت اختیار کی اور آج میرے پاس قیمتی کیمروں کا ایک ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ قیمتی قلم جمع کرنا اور کتابیں جمع کرنا بھی میرے اہم ترین شوق ہیں۔
س: کیا سفرنامے میں اس ملک کی تاریخ کا تذکرہ ضروری ہے؟
ج: ابتدا میں، میرا خیال تھا کہ سفرنامے میں اس ملک کی تاریخ کا ہونا ضروری ہے لیکن بعد میں احساس ہوا کہ اصل احساسات اور مشاہدات تاریخی معلومات سے زیادہ اہم ہیں کیونکہ تاریخی معلومات تو کہیں سے بھی حاصل کی جاسکتی ہیں۔
س: آپ کن زبانوں سے واقف ہیں؟
ج: میری مادری زبان پنجابی ہے۔ انگریزی اور اردو پر عبور حاصل ہے جبکہ عربی فارسی سے واجبی شناسائی ہے۔ میں تحریر میں عوامی زبان کا قائل نہیں ہوں مجھے اپنی تحریروں میں فارسی کے مشکل الفاظ و تراکیب استعمال کرنا اچھا لگتا ہے۔
س: کیا آپ نے خاکے بھی تحریر کیے ہیں؟
ج: جی میرے خاکوں کے دو مجموعے ’’یادوں کے دیے‘‘ اور ’’ہم نفسان خوش گزراں‘‘ کے نام سے منظر عام پر آچکے ہیں جس میں جامعہ کراچی کے اساتذہ کے خاکے بھی موجود ہیں۔ میں نے ’’اساتذہ جامعہ کراچی‘‘ کے نام سے جو خاکہ لکھا ہے اس میں ان اساتذہ کا خاکہ اڑایا ہے۔
س: طنز و مزاح کے حوالے سے آپ نے کن عنوانات پر مضامین تحریر کیے؟
ج: میں نے طنز و مزاح کے علاوہ بھی مختلف موضوعات پر لکھا جن میں کراچی کی بسیں، پھر بیان کراچی کا، ذکر ٹیلی وژن کا، تزک موالی، یادوں کی بارات، وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عبد المجید سالک کے کالموں کا انتخاب ’’افکار و حوادث‘‘ کے نام سے چار جلدوں میں ترتیب دیا۔ غلام عباس کے نام مختلف مشاہیروں کے خطوط ’’مکاتب بنام غلام عباس‘‘ نے نام سے مرتب کیے۔
س: آپ نے کن ممالک کے سفر کیے؟
ج: میں نے شام، افغانستان، ایران، اردن، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، لبنان، ترکی، مراکش، سری لنکا، مالدیپ، تھائی لینڈ، ملائیشیا، سنگاپور، یونان، اٹلی، رومانیہ، ہنگری، یوگو سلاویہ، فرانس، آسٹریا، جرمنی، ڈنمارک، ہالینڈ، بیلجیئم، انگلستان، سوئٹزر لینڈ، اسپین، امریکہ، ازبکستان کے سفر کیے۔
اس سوال پر ہم نے اپنی گفتگو کا اختتام کیا۔ فاروقی صاحب کی بحیثیت محقق اقبال شناسی اور مہر شناسی پر کئی تصانیف موجود ہیں۔ بحیثیت خاکہ نگار ان کے دو مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔ بحیثیت سفرنامہ نگار ان کے سفرناموں کے چار مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں اور کئی ایک ادبی اور تحقیقی رسالوں میں شائع ہوچکے ہیں اس لیے اردو ادب میں بحیثیت محقق، خاکہ نگار اور سفرنامہ نگار ان کی تصانیف کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

Share

One thought on “حمزہ فاروقی سے ایک مصاحبہ – – – – ڈاکٹرتہمینہ عباس”

Comments are closed.

Share
Share