’’ نقد ونظر ‘‘ (جلداول ،جلد دوم) میری نظرمیں :- مبصر : مولانامحمدجہان یعقوب

Share


’’ نقد ونظر ‘‘ (جلداول ،جلد دوم) میری نظرمیں

تالیف: شہیداسلام مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ
ترتیب وتہذیب: مولانامحمدا عجاز مصطفی
مبصر : مولانامحمدجہان یعقوب

یہ کتاب شہید اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ کے ماہنامہ بینات میں شائع ہونے والے تبصروں کا مجموعہ ہے۔دو ضخیم جلدوں میں جن موضوعات کی کتب پرحضرت شہیدا سلام ؒ کے سیال قلم سے کیے جانے والے تبصروں کو جمع کیا گیا ہے،

ان میں قرآن کریم وعلوم قرآنیہ،حدیث اور متعلقات حدیث،عقائد وایمانیات،کتب فقہ وفتاویٰ،کتب تصوف،کتب سیرت ،کتب در تذکار حضرات صحابہؓ واہل بیتؓاور کتب تذکرہ وسوانح، تاریخ،مقالات ومضامین،مکتوبات وادبیات،مواعظ وملفوظات ،خطبات وارشادات،اصلاح،وظائف وادعیہ،رسائل وجرائد،خاص اشاعتیں،درس نظامی،رد فرق باطلہ ومذاہب باطلہ اور رد قادیانیت شامل ہیں۔اس کی تفصیل مرتب ومہذب مولانا محمد اعجاز مصطفی ’’پیش لفظ‘‘میںیوں بیان کی ہے: قرآن کریم وعلوم قرآنیہ سے متعلق 84کتب،حدیث اور متعلقات حدیث سے متعلق 73کتب،عقائد وایمانیات سے متعلق 70کتب،فقہ وفتاویٰ سے متعلق202کتب ،تصوف سے متعلق 50کتب ، سیرت انبیائے کرام سے متعلق 36کتب،صحابہ کرامؓ واہل بیتؓ سے متعلق 42کتب،تذکرہ وسوانح سے متعلق 120کتب،تاریخ سے متعلق 66کتب، مقالات و مضامین، مکتوبات و ادبیات سے متعلق 37کتب، مواعظ و ملفوظات، خطبات و ارشادات سے متعلق 47کتب، اصلاحی کتب سے متعلق 156کتب، وظائف و دعاؤں سے متعلق 11کتب، رسائل و جرائد سے متعلق 15کتب، رسائل وجرائد کی خصوصی اشاعتوں سے متعلق 20کتب، درس نظامی سے متعلق 70 کتب، رَدِّفرقِ باطلہ و مذاہبِ باطلہ سے متعلق 159کتب اور رَدّ قادیانیت سے متعلق 60کتب۔اس طرح کل 1318کتب کا تعارف اور تبصرہ دو جلدوں کی صورت میں اس مجموعے میں آگیا ہے۔
شہید اسلام حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ؒ کے اوقات میں اللہ تعالیٰ نے محیرالعقول حد تک برکت رکھی تھی۔ان کے تبصروں کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ اتنی ساری کتابوں کے بالاستیعاب مطالعے کے لیے کس طرح وقت نکال لیتے ہوں گے،جب کہ ان کے مشاغل میں صرف بینات کی ادارت نہیں ،اس کے ساتھ ساتھ گوناگوں تعلیمی وتدریسی،تحریری اور اصلاحی وتبلیغی مصروفیات شامل تھیں۔سچ ہے اہل اللہ کے اوقات میں اللہ تعالیٰ ایسی برکت دیتے ہیں،جس کا کوئی دوسرا تصور بھی نہیں کرسکتا۔وہ ہر کتاب کا بالاستیعاب مطالعہ تو ضرور فرماتے تھے ،لیکن تبصرے میں ہر کتاب کو اتنا ہی حصہ اور حق دیا کرتے تھے ،جس کی وہ مستحق ہوا کرتی تھی۔
چناں چہ ان کے تبصروں میں ایسے تبصرے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں،جن میں کتاب کا خاکہ تحریر کرنے کے بعد صرف ایک آدھ سطر میں اس پر تبصرہ فرمایا،اگرچہ یہ ایک آدھ سطر بھی دریا بکوزہ کا مصداق ہوتی ہے۔جیساکہ یہ تبصرہ ملاحظہ فرمائیے:شہرسدوم،جناب شفیق مرزا،صفحات:۱۷۶،قیمت:۸روپے،پتا:مہتاب پبلی کیشنز ،۴۰بی،لوئر مال ،لاہور(یہ تو ہوا کتاب کا خاکہ)اس کے بعد اس پر ان الفاظ میں تبصرہ فرماتے ہیں:جناب محموداحمد صاحب کی سیرت وسوانح کا مستند ریکارڈ۔یہ تو صرف ایک مثال ہے ،اس نوع کے کئی تبصرے اس جلد کی زینت ہیں۔ان تبصروں کو ہم مختصر ترین تبصروں کا نام دے سکتے ہیں۔
تبصروں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جسے ہم مختصر تبصرہ کا نام دے سکتے ہیں،جیسے یہ تبصرہ ملاحظہ فرمائیے:اسلامی نظام حکومت کے ضروری اجزا(خاکہ بیان کرنے کے بعدارقام فرماتے ہیں)’’جناب مولانا محمد اسماعیل صاحبؒ ،جماعت اہل حدیث کے امیر تھے۔پکے سلفی،نہایت ذوفہم،پختہ عالم،بلند پایہ خطیب!زیر نظرمقالہ میں موصوف نے اسلامی نظام حکومت کے تین اجزا:امارت،شوریٰ اور انتخاب پر روشنی ڈالی ہے۔ضمناًخلفائے راشدینؓ کے انتخاب اور وہابی تحریک جیسے مسائل بھی زیر قلم آتے گئے۔مقالہ کے بعض اجزا ست اتفاق مشکل ہے۔‘‘کتنا مختصر مگر متوازن تبصرہ ہے،جس میں مؤلف کا تعارف،کتاب کے مشمولات کی تحسین اور ساتھ ہی اپنے اختلافی نقطہ نظر کی طرف بھی اشارہ فرمادیا!وللہ در الکاتب!
ان مختصر تبصروں کے علاوہ حضرت شہید اسلام ؒ کے مفصل اور طویل تبصروں کو بھی ہم تسہیل فہم کے لیے دو قسموں میں تقسیم کرسکتے ہیں:ایک طویل اور دوسرے طویل ترین۔ان تبصروں میں تبصرہ نگاری کے جملہ لوازم کا بڑی خوب صورتی کے ساتھ خیال رکھا ہے۔جس موضوع کی کتاب ہے ،اس موضوع کا تعارف،اس موضوع کی اہمیت،کتاب کی وجہ تالیف،مصنف کا تعارف،کتاب کے مندرجات کا تجزیہ۔اس کے لیے کتاب کے اقتباسات کی مدد لینا اور ان پر اپنے نقطہ نظر کا اظہار۔اکثر وہ کتب جو تحقیقی وتخلیقی طرز کی ہیں،ان کے تبصرے میں یہی شان نظر آتی ہے۔مثالیں موجب طوالت ہوں گی۔مثالوں سے قارئین وحظ بھی حاصل نہیں کرسکیں گے،جو اصل کتاب کے مطالعے سے حاصل ہوسکتا ہے۔تو جلدی کیجیے،اور دیے ہوئے نمبرات پر رابطہ کرکے اپنی کاپی بک کرالیجیے!
اب ہم حضرت کے تنقیدی تبصروں کی طرف آتے ہیں۔ان کے ہاں تنقید کا معیار متعین ہے،اور وہ ہے کتاب کے مندرجات۔وہ کسی بھی مصنف ومؤلف کی ذات کو نقد کا موضوع بناتے ہیں اور نہ ہی اس کی دینی یا سیاسی وابستگی کو۔یہ ان کا بڑا پن ہے کہ ایک ہی مصنف کی ایک کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے وہ اس کی تحسین وتعریف میں رطب اللسان نظر آتے ہیں،لیکن یہی مصنف کسی دوسری کتاب میں جمہور اہل سنت کے خلاف کوئی انتہاپسندانہ سوچ یا نظریے کو اسلامی تحقیق کے غلاف میں لپیٹ کر پیش کرنے کی جسارت کرتے ہیں،تو شہید اسلام اس کا نہ صرف ہاتھ پکڑتے ،بلکہ اس کے نظریات کا مدلل رد بھی کرتے ہیں ،اور اسی پر اکتفانہیں کرتے،بلکہ اس مصنف کی پشت پناہی کرنے والی فکری طاقتوں تک کو بے نقاب کرکے اتمام حجت کردیتے ہیں۔اس کی چند مثالیں بصد اختصار پیش کی جاتی ہیں۔
مولانا محمد حنیف ندوی ،ماضی قریب کے معروف اہل قلم ہیں،ان کی کتاب ’’مطالعہ قرآن‘‘پر تبصرہ کرتے ہوئے کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں:’’علمی حلقوں کی جانی پہچانی شخصیت۔ ان کا طرزنگارش ادیبانہ، ذہن فلسفیانہ او ردل مؤمنانہ ہے۔ ان کی نظرقدیم کے علاوہ جدید پر بھی ہے بلکہ نستباً زیادہ گہری ۔ انہوں نے کانٹوں کو صاف کرنے کی کوشش بطور خاص کی ہے جو مستشرقین اور ان کے معتقدین کے ذہن میں خلش کا باعث بنے، اس کا مطالعہ اہل علم کو عموماً اور جدید طبقہ کو خصوصاً کرناچاہیے۔(جلداول ،ص79,80)لیکن ان کی دوسری کتاب’’اساسیات اسلام ‘‘پر تبصرہ کرتے ہوئے شہید اسلام کا قلم تیغ براں بن جاتا ہے،وہ ان کی کتاب کے تین ابواب ،جن میں اسلام کی جدید تشکیل کے نام پر اشتراکیت کو اسلام بناکر پیش کرنے اور اہل اسلام کو اس ازم کو قبول کرنے کی دعوت دی گئی ہے،کے مندرجات نقل کرکرکے پہاڑ سے مضبوط دلائل مولانا کی فکر کے جواب میں قائم کرتے اوریہ ثابت کرتے ہیں کہ ان کی یہ سوچ اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں رکھتی،یہ مغرب سے مرعوبیت کا نتیجہ ہے اور اس میں تجددنہیں ،سراسرتجدید ہے۔یہ تبصرہ کافی طویل ہے ،اور جلداول کے صفحہ نمبر 275تسے 293 کے شروع تک چلاگیاہے،بایں ہمہ اسی کتاب کے غیر متنازعہ ابواب کی تعریف میں بھی کسی قسم کے بخل سے کام نہیں لیتے،چناں چہ لکھتے ہیں: مولانا ندوی سے بڑی بے انصافی ہوگی اگر ہم یہ اعتراف نہ کریں کہ موصوف نے ’’اساسیاتِ اسلام ‘‘میں وجودباری تعالیٰ، توحید، نماز، حق تعالیٰ کی ربوبیت او راسلامی اخلاق سے متعلق ،بعض جزوی امور سے قطع نظر، بڑی ایمان افروز بحثیں کی ہیں، جس میں ان کا قلم واقعتاً ابنِ تیمیہؒ اور شاہ ولی اﷲؒ کی بلندیوں کو چھوتا نظر آیا۔ تاہم کتاب کے تین ابواب نے،جو اصل موضوع بحث سے تعرض کرتے ہیں،ان کی ساری قلم کاریوں پر پانی پھیر دیا ہے، یہ مواود اس مقدر ’’ایمان شکن‘‘ ہے کہ اس کی توقع کسی ’’مولانا ندوی‘‘ سے کیا؟ کسی سلیم فکر عامی سے بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔(جلداول ،ص292)اس تبصرے سے قارئین شہید اسلام کی اعتدال پسندی کااندازہ لگاسکتے ہیں۔
ایک اور مثال ملاحظہ فرمائیں:اس جلد میں پروفیسر غلام احمد حریری مرحوم کی دو کتابوں پر تبصرہ موجود ہے،ایک سیرت سرورانبیاء ﷺ،جس میں جمہور سے ہٹ کر کوئی قابل اعتراض بات نہیں،اس لیے اس پر کسی قسم کا نقد نہیں فرمایا، لیکن دوسری کتاب ’’تاریخ تفسیر ومفسرین‘‘میں موصوف نے جمہور کے خلاف اپنے نظریات اور تقلید بے زار خیالات کو تحقیق کے نام سے پیش کرنے کی جسارت کی ہے،چناں چہ شہید اسلام نے ہر ہر باب سے ان کے خیالات کے اقتباسات نقل کرکے ان پر مدلل نقد کیا ہے۔یہ تبصرہ نقد ونظرجلدا ول کے صفحہ 83سے شروع ہوکرصفحہ 90تک چلاگیا ہے۔اس کے باوجود پروفیسر غلام احمد حریری مرحوم کی تحسین بھی بڑی فراخ دلی سے کی ہے،چناں چہ ایک مقام پر لکھتے ہیں: پروفیسر غلام احمد حریری اپنے سیال قلم اور متعدد تراجم و تالیفا ت کی بنا پر علمی حلقوں میں مصروف شخصیت ہیں۔(ایضا:صفحہ84)کتاب ’’تاریخ تفسیر ومفسرین‘‘میں متنازعہ نظریات وخیالات پر مدلل نقد کے باوجود فرماتے ہیں:ان فروگذاشتوں سے قطع نظر ،جن کی طرف گزشتہ سطور میں اشارہ کیا گیا ہے اور اس خاص طرزِ فکر سے صرفِ نظر کرتے ہوئے جو مصنف کی تحریر سے نمایاں ہے، ان کی یہ کتاب اپنے موضوع پر بڑی گراں قدر، معلوماتی، مبسوط اور جامع کتاب ہے۔ فاضل مصنف نے کوشش کی ہے کہ تفسیر کے طالب علم سے اس کا کوئی گوشہ مخفی اور کوئی بحث تشنہ نہ رہے۔ (ایضا:صفحہ90)
ہم ایک او ر مثال نقل لرکے اس باب کو بند کرتے ہیں۔نواب صدیق حسن خان بھوپالیؒ کی عربی تصنیف’’ ظفر الٰاضی بمایجب فی القضاء علی القاضی‘‘میں تعددازدواج سمیت کئی ایک، بلکہ متعدد مسائل میں اجتہاد کے نام پر اجماع امت سے صریح اختلاف کیا گیا ہے۔جس پر شہید اسلامؒ نے علمی نقد تو ضرور فرمایاہے،لیکن ماضی کے ان بزرگ کے تعارف میں کسی قسم کی ادب واخلاق سے گری ہوئی بات نہیں کی،جیسا کہ آج کل بعض اکابر کے نام لیواؤں کا طرز بن چکاہے،کہ جس بزرگ سے علمی ،دینی یا مسلکی اختلاف ہو،اسے تحت الثریٰ میں پہنچائے بغیر انھیں چین نہیں آتا۔ملاحظہ فرمائیے،شہید اسلام لکھتے ہیں:’’نواب صدیق حسن خان بھوپالیؒ کثیرالتصانیف بزرگ تھے۔ قریباً ہر اہم دینی موضوع پر انہوں نے قلم اٹھایا ہے۔‘‘یہ ہوتا ہے اعتدال ، جو علمائے دیوبند کا طرہ امتیاز رہاہے ،اور اب اس سلسلے میں کافی کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ایسا بھی نہیں ،کہ شہیدا سلام ؒ نے کسی مداہنت سے کام لیا ہو،بلکہ نواب صاحب کا مسلک بھی واضح کیاہے:’’مسلکاً اہلِ حدیث تھے، خود اجتہاد کا دعویٰ تھا۔‘‘اسی پر بس نہیں فرمائی،بلکہ ان کے مقصد وحٰد کو بھی واضح اور طشت ازبام فرمایا:’’کتاب و سنت کے فہم میں مصنف کا بیشتر زورِقلم اس پر صرف ہوا ہے کہ ہر شخص کو خود مجتہد بننا چاہیے، اور ائمہ مجتہدین میں سے کسی سے راہ نمائی حاصل نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ساتھ ہی علامہ شوکانی ، جو زیدی تھے اور نواب صاحب کی نظر میں،احادیث کو معلول، ارشادات صحابہؓ کو بے وقعت اور اجماع کو قعقعہ تک کہنے سے نہیں چوکتے تھے ،ان کی اصلیت بھی واضح کی ہے اور حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں:’’اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ حضرات کتنی پست علمی سطح کے لوگوں کو ’’مجتہد مطلق‘‘ بنادیتے ہیں۔‘‘
یہ تو چند نمونے ہیں۔اس قسم کے نمونے آپ کو کتاب کی دونوں جلدوں میں جابجا نظر آئیں گے۔خلاصہ یہ کہ اس کتاب میں موجود ہر تبصرہ تبصرہ نگاری کے تقاضوں کے عین مطابق معلوم ہوتا ہے۔کتاب کا مطالعہ کرنے والا گویا ایک بہت بڑی لائبریری کا وزٹ کررہا ہے،جس کا ہاتھ پکڑ پکڑ کر شہید اسلام ؒ اور اب ان کے متعلقین، ایک ایک کتاب کا تعارف وتجزیہ ایسے دل نشیں انداز میں کرتے جارہے ہیں،کہ وہ ہر کتاب کا تجزیہ سننے پڑھنے کے بعد یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اسے یہ کتاب ضرور خریدنی اور اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔یہ کئی سالوں کے تبصرے ہیں۔ان میں سے ایک بڑی تعداد ایسی کتابوں کی بھی یقیناہے،جو اب جنس نایاب بن چکی ہیں،ناشرین کو اس جانب خود توجہ دینی چاہیے،علم دوست باتوفیق احباب خود بھی ان کتابوں کے اصل مسودے حاصل کرکے انھیں زیور طباعت سے آراستہ کرسکتے ہیں،جو بلاشبہ ایک بڑی علمی خدمت ہوگی۔ناشرین کے پتے کتاب سے دیکھے جاسکتے ہیں۔
دیدہ زیب چار رنگے سرورق،کمپیوٹرکتابت اور فارمیٹنگ و جلدبندی سے ناشرین کی سلیقہ مندی عیاں ہے۔لفظی اغلاط نہ ہونے کے برابر ہیں۔کاش!شروع میں شہیداسلام ؒ کا تعارف بھی دے دیا جاتا،تو ان کے تبصروں سے استفادہ مزید آسان اور دوررس اثرات کا حامل بن سکتا تھا۔بحیثیت مجموعی یہ کتاب ایک گراں قدر علمی دستاویز ہے،جو کتاب دوست اہل علم عوام وخواص کے لیے اچھی سوغات اور پر ائبریری وکتب خانے کی ضرورت ہے۔امید ہے اس کی قدر کی جائے گی۔
ناشر۔۔۔مکتبہ ختم نبوت،دفتر ختم نبوت،پرانی نمائش،ایم اے جناح روڈکراچی
021-32780337,021-32780340
—-

Share
Share
Share