ناول ”شجرِ حیات“ پر تنقیدی نظر :- ڈاکٹر عبدالعزیز ملک

Share
عبدالعزیز ملک

ناول ”شجرِ حیات“ پر تنقیدی نظر

ڈاکٹر عبدالعزیز ملک
شعبہ اردو، جی سی یونیورسٹی، فیصل آباد

ریاض احمد عصرِ حاضر کے چند اہم لکھاریوں میں سے ایک ہیں۔وہ محض ناول نگار ہی نہیں،متعددجہتوں کے مالک ہیں۔ وہ مصور بھی ہیں،گرافک ڈیزائنر بھی،ٹی وی میں سکرپٹ رائٹر بھی اور عمدہ ترجمہ نگار بھی۔انھوں نے ٹی وی اور تھیٹرکے لیے کئی ڈرامے لکھے۔

ٹی وی پر ”چہرے پہ چہرہ“،”مہرباں کیسے کیسے“ اور”اعتماد“ ایسے پروگراموں کی میزبانی کی۔سماجی اور سیاسی سر گرمیوں میں مصروف رہنے میں لطف محسوس کرتے ہیں جس کا ثبوت ان کا مزدور کسان پارٹی لاہور کا دو سال تک صدر رہنا ہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور سے ان کا خاص تعلق ہے۔اس وقت بھی اس کے سر گرم رکن ہونے کے ساتھ ساتھ رسالہ ”استعارہ“ کے شریک مدیر ہیں۔اتنا کچھ کر گزرنے کے بعد اب وہ ناول نگاری کی جانب متوجہ ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال یعنی 2019ء کے آ خر میں ان کا ناول”شجرِ حیات“ الحمد پبلی کیشنز، لاہور سے شائع ہو ا ہے۔
ناول”شجرِ حیات“ عام فہم اور سادہ نوعیت کی حامل کہانی پر مبنی ہے جس کی قرأت بوجھل پن کا احساس نہیں ہونے دیتی۔قاری واقعات کی روانی میں ناول کے آغاز سے اختتام تک کا سفر بغیر کسی ذہنی مشقت اور دشواری کے طے کر جاتا ہے۔اگر چہ فلسفہ ئ حیات ناول کے صفحات پر جابجا موجود ہے مگر کہانی کے کرداروں اور فضا میں اس طرح گتھا ہوا اورنامیاتی ربط کا حامل ہے کہ فطری محسوس ہوتا ہے۔کہیں کہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ریاظ احمد نے فکشن کی تخلیق کاری میں مصوری کے اصولوں کو برتنے کی کوشش کی ہے،رنگوں اور قوسوں کے امتزاج سے ایسا فن پارہ تخلیق کیا ہے جو فلسفہ حیات کی گتھیوں کو اس آسانی سے سلجھاتا ہے کہ قاری ناول کی تکمیل پر،محنت،لگن،شوق اوررجائیت ایسے مثبت جذبوں سے لبریز ہو جاتا ہے۔وہ ممکن اور ناممکن کی پروا کیے بغیر امکان کی انگلی پکڑے حیاتِ جاوداں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے۔
ناول دو ابواب پر مشتمل ہے۔ ابواب روایت کے برعکس بلا عنوان مرقوم ہیں۔ پہلا باب صبح کے منظر سے شروع ہوتا ہے۔یہ منظر علامتی رنگ لیے ہوئے ہے جو دن کے آغاز کے ساتھ ساتھ زندگی کے سفرکے آغاز کا بھی نمایندہ ہے۔ سورج کے زرد رنگ کی کرنیں زندگی،اجالا اورخدا کے نور کو ظاہر کرتیں ہیں۔سورج کے حوالے سے زرد رنگ طاقت اورا قتدار کی علامت خیال کیا جاتا ہے۔ماضی پرغور کریں توسورج کو متعدد تہذیبوں میں خدا تسلیم کیا گیا۔اب بھی دنیا میں سورج اور آگ کی پوجا کرنے والے کثرت سے موجود ہیں۔ادب میں سورج کو مختلف تناظرات میں خوشی، عیش و عشرت، طاقت، ترقی،علم و آگہی اور روشنی کے مبدا کی علامت کے طور پر استعما ل کیا گیا ہے۔سورج کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مسلسل سفر میں ہے۔اس کے مشرق سے طلوع ہو کر مغرب میں غروب ہونے کا سفر صدیوں سے جار ی ہے۔ناول کے پہلے منظر میں ہی سورج کے طلوع ہونے سے بہزاد اور اس کے گھر والوں کا سفر شروع ہوتا ہے،جہاں ناول کا مرکزی کردار بہزادوقت کاٹنے کی غرض سے گاڑی میں کہانیوں کی کتاب کا مطالعہ کر رہا ہے۔ کہانی وقت کاٹنے کے لیے انسان کی قدیم دوست ہے جسے انسانی تہذیب کے ابتدائی دور سے انسان کی ہمراہی کا شرف حاصل ہے۔ناول میں سورج کے طلوع ہونے کے منظر کو،ناول نگار نے کچھ ان الفاظ میں بیان کیا ہے،ملاحظہ ہو:
”صبحِ نو رات کے خواب سے بیدار ہو رہی تھی۔اشکال اپنے اپنے رنگ پہن رہی تھیں۔چہچہاتے پرندے نئی اڑانوں کے لیے رنگ کھول رہے تھے۔روشنی کی عظیم مشعل سورج،اساطیری عہد کا خدا،مْقدس سی بے نیازی میں،بغیر کو ئی سر گوشی کیے،اجالا پھیلاتا ہوا،آہستہ آہستہ طلوع ہو رہا تھا۔یہ قرنوں سے اس کا معمول تھا۔۔۔سورج کی اسی رنگوں بھری روشنی کا معجزہ زندگی۔۔۔۔ خابناک حسن کی تجسس بھری کہانی،صبح کی نشاط بھری تازگی کے لطف میں سر شار تھی۔
ہندوستان کی قدیم تہذیب میں سورج کو برہم کی علامت خیال کیا گیا ہے۔سورج جہاں کائنات کی تخلیق کرتا ہے وہیں اس کی تخریب کا ذمہ دار بھی ہے۔تعمیر اور تخریب کا عمل ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں،سورج کے غروب ہونے کو تنزلی اور غم کی علامت اور طلوع ہونے کو خوشی اور عروج کی علامت خیال کیا جاتا ہے۔انسان کااس کی پیدایش سے لے کر عصرِ حاضر تک سورج سے تعلق قایم ہے۔ جب تخلیق کار سورج یا سورج سے منسلک تلازمات کو تحریروں میں استعمال کرتا ہے تو قاری کا اجتماعی لاشعور بیدار ہوجاتا ہے اور صدیوں پرانی دنیا میں اپنے آپ کو تازہ دم محسوس کرنے لگتاہے۔سورج چوں کہ انسانی زندگی کو براہ ِراست متاثر کرتا ہے اس لیے اس کی ادب میں علامتی حیثیت بڑھ جاتی ہے۔”شجرِ حیات“میں اس کے علامتی استعمال نے ناول کے ابتدائی منظر کو بامعنی بنا دیا ہے۔
ناول نگار نے سورج کے علاوہ کئی فطرتی مظاہر کو بطور علامت استعمال کیا ہے جو ان کی تخلیقیت کی واضح دلیل ہے۔ان علامتوں میں چیونٹی،ہوا، پھول، تصویر، رنگ، صوفی درخت، کہانی باغ وغیرہ بطورِ خاص نمایاں ہیں،یوں انھوں نے فرسودہ فنی روایات سے دامن چھڑاتے ہوئے ”فنی محدوددیت سے آگے بڑھ کر امکانات کی لامحدودیت کو چھونے“ کی کوشش کی ہے اور وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہے ہیں۔ناول کے بیشتر صفحات پر ”کہانی باغ“ چھایارہتا ہے۔یہی وہ جگہ ہے جہاں بہزاد کا سامنا پہلی بار نیلی سے ہوتا ہے جو ناول میں اس کی زندگی کا استعارہ ہے۔ وہ نیلی جو بہزاد کے لیے ”رنگوں، لکیروں، آوازوں،خوشبوؤں اور ذائقوں کا رس بھرا جادو“ ہے۔ کہانی باغ میں ہی بہزاد کی ملاقات پروفیسر سے ہوتی ہے جواس کی زندگی میں نئے رنگ بھر دیتا ہے۔نیلی اور پروفیسر کے کردار بہزاد کی زندگی میں تخلیقی عمل کو انگیخت کرنے میں عمل انگیز ثابت ہوتے ہیں۔بہزاد جو مصور ہے وہ اپناتخلیقی شاہکاربھی اسی باغ میں مکمل کرتاہے۔اسے جہاں نیلی سے عشق ہے وہیں وہ کہانی باغ کے بغیر بھی نہیں رہ سکتا۔اُسے جب وقت ملتا ہے وہ کہانی باغ چلاآتا ہے،وہ باغ کی رنگینیوں میں کھو جاتا ہے،وہ خواہش کرتا ہے کہ باغ کے سارے رنگ اور روپ اپنے کینوس پر اتار لے۔اس کی باغ سے دلچسپی کو ناول نگار نے کچھ یوں بیان کیا ہے:
”وہ باغ کا مزاج آشنا تھا،اس نے باغ کے چاروں کونے،آٹھوں پہر اور سارے موسم دیکھے تھے،دھوپ میں تپتے،آندھیوں سے ڈرتے اور بارشوں میں بھیگتے سب منظر اس کی آنکھوں میں رچے بسے تھے،باغ کی رعنائی اور تنہائی اس کی ذات کا حصہ بن گئی تھی،اسے بہت سے اشجار کی ڈرائینگ زبانی یاد تھی،اس نے چند اشجار کے نام بھی رکھے ہوئے تھے۔کبھی کبھی اسے محسوس ہوتا،جیسے شجر بھی اس کا نام جانتے ہیں۔اس نے کئی بار ہوا سے اپنا نام سنا۔اُسے لگتا،جیسے ہوا اشجار کے کہنے پر اس کا نام لیتی ہے،وہ ہوا اور اشجار کی سر گوشیاں سنتا اورمسکرا دیتا۔“
کہانی باغ محبت کرنے والوں کے لیے جنتِ ارضی ہے۔شہر کے وسط میں موجود اس باغ میں کئی کردار اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لیے اسے وسیلہ بناتے ہیں،جہاں مصنوعی شناختیں دم توڑ جاتی ہیں انسانوں کے مابین نرگسیت کی وہ دیواریں زمیں بوس ہو جاتی ہیں جو انسانوں کو انسانوں سے دور کر دیتی ہیں،انھیں ایک دوسرے کا دشمن بناتی ہیں، اس موقع پر کہانی باغ علامتی حیثیت اختیار کر جاتا ہے اور ایک ایسے مقام کے طور پر ناول میں موجود ہے جہاں مصنوعی شناختیں اپنا وجود کھو بیٹھیں ہیں اور انسانیت کا بول بالا ہے۔
کہانی باغ میں موجود”صوفی شجر“ کی علامتی حیثیت نے بھی ناول نگار کے نظریہ حیات کو قاری پر آشکار کرنے میں معاونت کی ہے۔مذکورہ درخت انوکھی اور پُراثر نوعیت کا حامل ہے۔ اسے صوفی شجر کہنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کی خوشبو،سایہ اور پھل،پورے باغ کا مشترکہ اثاثہ ہیں،اس کی فیاضی اور وقار اسے صوفیوں کا منصب عطا کرتے ہیں۔ اس نے زندگی کے تجربات کو محسوس کیا ہے۔وہ گرم سرد سبھی موسموں کے رازوں سے واقفیت رکھتا ہے۔ موسمی سختیوں کو وہ کشادہ پیشانی سے برداشت کرتااور اس سے اپنے لیے قوتِ مدافعت کشید کرتا رہا ہے۔اس نے زندگی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے بہاؤ کو محسوس کیا ہے جو اسے دیگر اشجار سے ممیز کرتا ہے۔ہواؤں کی خوشبو سے وہ موسمی تغیر کو بھانپنے کی صلاحیت سے مالا مال ہے۔موسمی تبدیلیاں اس پر زندگی کے رازآشکار کرتی ہیں جو اس میں صوفیانہ خصوصیات پیدا کر دیتی ہیں۔یوں اس زمیں پرصوفی درخت زمین کے زیور اور فطرت کے اوتار کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ناول کے شروع کے صفحات میں مصنف نے جن دو مقدس اشجار کا ذکر کیا گیا ہے،صوفی شجر کی علامتی حیثیت سے ان کی معنویت میں اوربھی اضافہ ہو جاتا ہے۔”کتابِ مقدس“ میں پہلا شجر وہ ہے جس کا پھل کھانے سے خدا نے منع کیا تھالیکن شیطان کے بہکاوے میں آکر انسان نے اس کا پھل کھا لیااور خدا نے نافرمانی کے سبب انسان کو باغِ عدن سے نکال دیا۔ دوسرے شجرکے بارے میں ”کتابِ مقدس“ میں تحریر ہے کہ باغِ عدن میں ایک شجرِ حیات بھی ہے جس کے بارے میں خدا وند نے کہا:”دیکھو کہ آدمی نیک و بد کی پہچان میں ہماری مانند ہو گیا ہے، اور اب کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اپنا ہاتھ بڑھائے اور شجرِ حیات سے بھی کچھ لے کھائے اور ہمیشہ جیتا رہے۔“حیاتِ جاوداں انسان کی ازلی خواہش ہے جو مختلف مذہبی اور ثقافتی اساطیر میں شکلیں بدل بدل کر ظاہر ہوتی رہی ہے۔عیسائیت میں اس کا اظہاراس طرح ہوا کہ اللہ نے ٍحضرت عیسیؑ کو حیات بخشی کا معجزہ عطا کیا۔وہ ”قم باذن اللہ“ کہ کر مردوں کو زندہ کر دیتے تھے۔حیات بعد از ممات کا تصور دنیا کے تقریباً تمام مذاہب میں موجود ہے۔چشمہ ئ آبِ حیواں،عمرِ خصر،آبِ حیات اور امرت رس جیسی تلمیحات اردو ادب کا حصہ ہیں جو انسان کی ابدیت کی خواہش کی نمایندہ ہیں۔ناول نگار نے شجرِ حیات کو ان ہی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ صوفی شجر کی خصوصیات انسان میں بھی پیدا ہو سکتی ہیں جب وہ زندگی کے ثمرات کو اپنی ذات سے اوپر اٹھا کر انسانیت کے لیے وقف کر دے۔جب وہ انتخاب کی آزادی سے تقدیر کا سفلی دائرہ توڑ کر اپنے آپ کو عظیم تر مقصد کے لیے وقف کر دے کیوں کہ زندگی محض سانس لینے کا نام نہیں بلکہ عظیم تر مقصد کے حصول کی جدو جہد کا نام ہے۔
ناول میں رنگوں کے استعمال اور مصوری کو خاص اہمیت ہے اس کی بنیادی وجہ ناول نگار کا بذاتِ خود مصور ہونا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس نے مرکزی کردار کو بھی مصور کے روپ میں پیش کیا ہے، ناول نگار جب اپنی شخصیت کے مصورانہ پہلو کا اظہارکرنا چاہتا ہے تو بہزاد کے کردار میں ظاہر ہوتا ہے اورجب اپنی شخصیت کے فلسفیانہ پہلو کا اظہار کرنا چاہتا ہے تو پروفیسر کے روپ میں ظاہر ہوتا ہے۔بہزاد کا نام بھی شعوری طور پر منتخب کیا گیا ہے جو ایران کے معروف مصورکمال الدین بہزاد کی یاد دلاتا ہے جو مختصر تصویریں (Miniature) بنانے میں کمال مہارت رکھتا تھا۔اس کا زمانہ سولھویں صدی عیسوی ہے۔اس کے جہاں دنیا کے دیگر خطوں پر ثرات موجود ہیں وہیں ہندوستانی مصوری پربھی گہرے اثرات ہیں۔ ہندوستان کا بادشاہ بابر جو فنونِ لطیفہ کا بے حد شوقین تھا اس نے بھی ”تزکِ بابری“ میں بہزاد کے قلم کی تعریف کی ہے۔ترکی کے معروف ناول نگار اورحان پاموک نے بھی اپنے ناول MY Name is Redمیں بہزاد کے کردار کو اجاگر کیا ہے۔ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ریاظ احمد بہزاد کے فنِ مصوری سے اورحان پاموک کی طرح متاثر ہیں۔ اورحان نے مذکورہ ناول میں بنیادی کرداروں میں عثمانیہ سلطنت کے منی ایچرسٹ پیش کیے ہیں جن میں سے ایک کردار ناول کے پہلے ہی باب میں موت کا شکار ہوجاتا ہے۔ ”شجرِ حیات“ میں بھی ایسا ہی ہوا ہے کہ بہزاد کے ماں باپ سڑک حادثے کا شکار ہوتے ہیں اور بہزاد موت کے تلخ تجربے سے ہمکنار ہوتا ہے لیکن ایک ہی لمحے میں اسے زندگی واپس مل جاتی ہے، یوں پورے ناول میں زندگی اور موت کی پرچھائیاں قاری کے دماغ پر وقفے وقفے سے نمودارہوتی رہتی ہیں۔ زندگی سے موت اور موت سے زندگی کا سفر حقیقت پسند قاری کے لیے ہضم کرنا ناممکن ہے لیکن جس طرح ناول نگار نے اس سارے منظر میں مذہبی رنگ بھرا ہے اس سے ان کے مصورانہ تجربے کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔اس ضمن میں ناول کا اقتباس ملاحظہ ہو:
”مجھے لگ رہاتھا جیسے میں ایک عظیم حقیقت کے روبرو ہوں،جہاں ہر شے نے اپنا جوہر پا لیا ہے،تمام مادہ لطیف روشنی بن گیا ہے،جہاں روشنی کی خدائی ہے۔انہی لمحات میں میرے سامنے روشنی کا ایک اور بڑاہالہ نمودار ہوا،اس ہالے میں مجھے ایک پُر وقار ہستی نظر آئی۔جس کا رنگ و روپ،سنہری بال اور لباس پیغمبر عیسیٰ کے مماثل تھا،میرے باطن سے آواز آئی کہ شاید یہ ہستی پیغمبر عیسیٰ کی ہے،کیا مجھے پیغمبروں کی زیارت نصیب ہو رہی ہے؟ شاید ہاں،شاید نہیں،میرا شعور تو جیسے اس وقت رخصت پر تھا، میں نہیں جانتا کہ اس وقت میں شعور کی کس منزل میں تھا۔پُر وقار ہستی کے پس منظر میں ایک شجر بھی تھا،شجرِ حیات جیسا زندگی کے رس بھرے پھلوں سے لدا ہو اور آفاق کے دائمی رنگوں سے سجا ہو“
حضرت عیسیٰ جو ایک مہربان ہستی کے طور پر نمودار ہوئے ہیں اسے شجرحیات کا پھل توڑ کر دیتے ہیں اور وہ از سرِ نو زندہ ہو جاتا ہے اور موت اسے چھونے سے معذور ہو جاتی ہے۔موت کو شکست دینا ہی تو دراصل اس ناول کا بنیادی موضوع ہے جسے مادی سطح پر تو نہیں لیکن تخلیقی سطح پر ممکن بنایا جا سکتا ہے کیوں کہ موت کا ایک اور نام انتقال بھی ہے جہاں زندگی کا خاتمہ نہیں ہوتابلکہ زندگی محض اپنی ساخت بدلتی ہے،ایک شکل سے دوسری شکل اختیار کرتی ہے۔زندگی ”ہونے“ کے لامحدو دمعنوں سے عبارت ہے۔اس کے برعکس سوچنا اپنی ذات کی تکریم کھو دینے کے ہم معنی خیال کیا جائے گا۔ کیوں کہ کائنات میں امکانات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ اس موقع پر چیونٹی کی تمثیل قاری کے لیے کار گر ثابت ہوتی ہے جس میں اسی فلسفے کو آسان ترین لفظوں میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔
”اس نے ایک ننھی سی چیونٹی کو اڑان بھرتے ہوئے دیکھا،جس کے پر تھے۔اسے لگا، چیونٹی اڑان بھر کر اپنے محدود سے نکلنا چاہتی ہے،ننھی سی چیونٹی کی یہ بہت بڑی کوشش تھی۔اسے چیونٹی بہت پیاری لگی۔وہ اڑتے اڑتے گر گئی۔اس کے گرنے پہ وہ دھیما سا مسکرایا،چیونٹی نے اپنی ساری قوت جمع کر کے پھر سے اڑان بھری،اس بار وہ نہیں گری اور اڑتے اڑتے اس کی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔“
محدو د سے نکل کر لامحدو کا سفر دراصل فا نی سے لافانی کا سفر ہے۔یہ وہ تجربہ ہے جو اپنی ذات سے نکل کر دوسرے کے تجربے میں شامل ہونے کے مترادف ہے۔اسی کانام زندگی کا بہاؤ ہے جس میں صوفی شجر سے لے کر،کہانی باغ اور پروفیسر سے لے کر بہزاد،پرویز اور نیلی کے کردار شامل ہیں۔ یہ وہ کردار ہیں جو زندگی کے بہاؤ کو محسوس کرتے ہیں اور محدود سے جست بھر کر لامحدود کے دائرے میں داخل ہونے کے امکانات کوتلاش کرنے میں سر گرداں ہیں۔اس کے برعکس آذر صمدانی، جوزف، نیلی کا باپ اور آذر صمدانی کی سیکرٹری جیسے کردار موجود ہیں جن کی موجودگی درج بالا کرداروں کی معنویت میں اضافہ کرتی ہے۔ کسی بھی شے کی بہتر تفہیم کے لیے اس کے تضاد کو معرضِ تفہیم میں لانا ضروری ہوتا ہے۔جہاں ناول میں بہزاد کا کردار موجود ہے وہیں آذر صمدانی کے کردار سے اس کے تضاد کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو بہزاد کے برعکس کاروباری ذہنیت کا مالک ہے اور تصویروں کے حوالے سے لوگوں کی نفسیاتی پسماندگی کواپنے مفاد میں استعمال کرنے کا ہنر جانتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تصویری نمایش میں جانے سے پہلے وہ بہزاد کی نجی اور فنی زندگی کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرتا ہے تا کہ اپنے کاروباری مفادات میں اسے استعمال کرسکے۔وہ دنیا کے بڑے بڑے مصوروں سے تعلقات پیدا کرنے میں مہارت رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے اثر و رسوخ کا دائرہ ملکی ہی نہیں بین الاقوامی سطح تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کردار کے حوالے سے ناول نگار کا بیان ملاحظہ ہو:
”اس کا سب سے بڑا ہتھیار پروپیگنڈہ تھا، وہ پرو پیگنڈے کو موجودہ صدی کی سب سے بڑی قوت سمجھتا تھا۔وہ اپنی نجی محفلوں میں اکثر کہتا،ملکوں پر باد شاہ نہیں ان کا پروپیگنڈہ حکومت کرتا ہے۔“
اس نے اسی پروپیگنڈے کی طاقت سے بہزاد کو مجبور کرنے کی کوشش کی کہ وہ اسے تصویر بیچ دے لیکن وہ بہزاد کی ایمانداری اور وعدہ پروری کی وجہ سے تصویر حاصل نہ کر پایا۔اس کا ردِ عمل یہ ہوا کہ اس کے خلاف اخبارات میں پرو پیگنڈا مہم شروع ہو گئی جس میں بہزاد کی تصویر کے حوالے سے سنائی گئی کہانی کو جھوٹ قرار دیا گیا اوراس پر الزام لگایا گیا کہ ا س نے مالی مفاد اور شہرت کے لیے لوگوں کے مذہبی اعتقادات کا استعمال کیاہے۔ایسا کرنا قابلِ مذمت ہے۔ اسی دوران میں جوزف کا کردار بھی نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے جو مذہبی حوالہ رکھنے کے باوجود انتہائی موقع پرست،مفاد پسند اور دنیا دار انسان کے روپ میں سامنے آیا ہے۔یہاں ناول نگار نے نیلی کے باپ، جوزف اور آذر صمدانی کے کرداروں کے ذریعے مذہبی منافقت سے بھرے اور کاروباری مفادات کی خاطر انسانیت سے گرے ہوئے انسانوں کی تصویر کشی ہے۔
ناول نگارنے مذکورہ ناول میں حقیقت اور رومان کے امتزاج سے ایسی فضا تخلیق کی ہے جوانسانی جذبات کو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قاری تک پہچانے میں معاون ثابت ہوئی ہے۔اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ریاظ احمد فن کو الہامی اور وجدانی کیفیت جوخاص لمحے میں خود بخود وجود میں آجاتی ہے،خیال نہیں کرتا۔فن ایسی شے ہے جسے سوچ سمجھ کر، ناپ تول کر،سلیقے،طریقے اور محنت سے تیار کیا جاتا ہے اور اس کا مقصد خاص طرز کا اثر پیدا کرنا ہوتا ہے۔ اس طرف ایذرا پاؤنڈ نے بھی اپنی تحریروں میں اشارے کیے ہیں جس کے مطابق فنکار ریاضی کی مساواتوں کی طرح جذبات و احساسات کے بیان کے لیے مساواتیں تیار کرتا ہے۔انگریزی کے معروف نقاد ٹی ایس ایلیٹ نے اس نظریے کو آگے بڑھاتے ہوئے معروضی تلازمہ کی اصطلاح کو متعارف کرایا،جس کے مطابق فن کار اندرونی جذبات کے مطابق خارجی ماحول میں ایسے تلازمات گھڑتا ہے جو اس کے داخلی تجربے کی ترسیل میں معاون ہوتے ہیں۔ریاظ احمد نے بھی ایک ماہر فنکار کی طرح کرداروں کی داخلی کیفیات کو اجاگر کرنے کے لیے ناول میں بکثرت معروضی تلازمات کا استعمال کیا ہے۔ ناول میں پروفیسر کے کردار کو جب عامل کے پاس لے جا یا جاتا ہے تو اس کے کمرے کی مخصوص فضا کو محسوس کرانے کے لیے ناول نگار نے جن تلازمات کا سہارا لیاہے ملاحظہ ہو:
”عامل بے ڈھنگے بھاری بھر کم جسم کا مالک تھا۔اس نے آنکھوں میں سرمہ اور بالوں میں تیل لگایا ہوا تھا،اس کے بال سیاہ خضاب سے رنگے ہوئے تھے۔۔۔اس کے قریب چند بوتلیں بھی رکھی ہوئی تھیں،جن میں دھواں سا بھرا ہوا تھا۔لوگوں کے بقول ان بوتلوں میں عامل نے جنوں کو قید کر کے رکھا ہوا تھا۔۔۔الو کے بائیں جانب ایک انسانی کھوپڑی پڑی ہوئی تھی،جو اپنی تمام شناختیں اور شجرہ نسب گنوا چکی تھی۔۔۔“
اس ماحول کو پیش کرنے میں براہِ راست بیان کا سہارا لیا جا سکتا تھا لیکن بیرونی اشیاء یا معروضات کو کام میں لا کر ایک خاص طرز کا تاثر پیدا کرنا جو خاص کیفیت کا استعارہ یا پیکر بن جائے،فن کار کا کمال ہے۔ اس طرح کے پیکر تراشی، منظر نگاری اور علامتی انداز کے نمونے ناول میں جا بجا مل جاتے ہیں۔اسی بات کو فرانسیسی نقاد ملارمے نے To Evoke an Objectکے نظریے میں پیش کیا ہے۔جس میں فنکار کو غم، غصے، نفرت یا محبت وغیرہ کے جذبے کے اظہار کے لیے یہ نہ کہنا پڑے کہ فلاں کردار دکھی ہے، فلاں کردار خوش ہے اور فلاں کردار حسد کے جذبے میں مبتلا ہے۔بلکہ فن کار کو چاہیے کہ وہ خارج میں موجود اشیاء کو جذبات کے نعم البدل یعنی حسی پیکر بنا کر پیش کرے۔یہ وہ فنکارانہ اظہار ہے جس میں جذبات کے براہِ راست اظہارکے بجائے بتدریج سامنے آنے والی کیفیات زیادہ اہم ہیں جو معروضی اشیا، ماحول اورواقعات کے سلسلوں کی مدد سے نمایاں کی جاتی ہیں۔
ریاض احمد کا ناول ”شجرِ حیات“ کئی اور جہات کو بھی سامنے لاتا ہے جن پر تفصیلی گفتگو کی جا سکتی ہے جو مضمون کی طوالت کا باعث بن جا ئے گی۔ ان کا یہاں محض ذکرکر دیتا ہوں جن میں مارکسی فلسفہ، حضرت عیسی کا طبقاتی کردار،نظریہ امکان، انسان کے مستقبل کی تاریخ،اتفاقاتِ زمانہ، مذہب کا انسانی زندگیوں میں کردار، محبت ماورائی جذبہ یا مادی؟انسانی آزادی اور تخلیقیت و ابدیت وغیرہ نمایاں ہیں۔

Share
Share
Share