نیا دور نئے انداز

Share

عمیر محمد خان
ریسرچ سکالر
9970306300

      ایک حسین ملک و ریاست کا خواب جہاں سب کو مساوی حقوق  حاصل ہوں۔جہاں ہمارے حقوق کے حصول کی آزادی ہو۔ایک بہتر  وطن عزیز کا خواب، ایک مثالی خاندان ،سماج  اور محلے کا خواب ،جہاں  بھائی چارگی، اپنائیت ،خلوص اور حقوق انسانی سے پر معاشرہ ہو۔ایک ایسا مسکن ,ایک ایسا ملک, ایک ایسی ریاست,  ایک ایسا علاقہ جو امن سکون اور آشتی کا گہوارہ ہو۔ہم ایسے ہی مثالی  ملک، ریاست 
اور وطن کا خواب دیکھتے ہیں۔   اور ایسے ہی دلکش سپنے کی تعبیر چاہتے ہیں۔
    
ان تمام باتوں کے امکانات اسی وقت واضح ہوتے ہیں جب ہم عمل کی دنیا میں 
بھی قدم رکھتے ہیں۔انقلاب کا خواب دیکھنے سے انقلاب پیدا نہیں ہو سکتا  ہے جب تک کے اس میں عمل کی آمیزش نہ کی گئی  ہو۔انقلاب اس صورت میں برپا ہو سکتا ہے جب   مستقل عمل اور مسلسل تگ و دو انسان جاری رکھتا ہے۔انقلاب  ایثار وقربانی چاہتا ہے ۔  انقلاب جرات و حوصلہ چاہتا ہے ۔ انقلاب اجتماعی کوششوں کا اور اجتماعی فکر  ونظریہ کا نتیجہ ہوتا ہے ۔انقلاب کی تاریخ خون سے رقم ہوتی ہے۔ صرف موہوم امیدیں اور انتظارِ فردا انقلاب برپا نہیں کرسکتے ہیں ۔۔۔۔ !!  رسول اللہ صلعم نے اپنے کردار اور اپنے عمل سے معاشرے میں انقلاب برپا کیا تھا ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ،  خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے اپنی عظیم قربانیوں ، مثالی کردار ، رنگ و نسل و  گروہی  بندشوں سے بالا تر  عمل کے بدولت معاشرے کو ایک مثالی نمونہ بنا کر پیش کیا تھا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، خلفائے راشدین ،صحابہ اور ہمارے اسلاف نےسیاسی ،سماجی، معاشرتی ،فکری و نظری ،زرعی ،علمی ،معاشی  ہر زاویہ  میں  ایک منفرد مثال قائم کی تھی جس کی نظیر  تاریخ میں ملنا مشکل ہے ۔حاصل گفتگو  یہ کہ انقلاب کا خواب دیکھنے سے اور دکھانے سے میں اور آپ انقلاب برپا نہیں کرسکتے ہیں بلکہ  یہ اجتماعی کوشش، جدوجہد اور ہمہ جہت سعی سے ہی ممکن ہوسکتا ہے ۔بقول اقبال۔۔۔

موت ہے وہ زندگی جس میں نہ ہو انقلاب
روح امم کی حیات کشمکش انقلاب

کسان تحریک اور ان کے آندولن سے سبھی ایک انقلاب کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں۔ہندوستان میں ایک ایسے نئے دور کے آغاز کا خواب ہم دیکھ رہے ہیں جہاں عوام کو ان کے حقوق اور مذہبی آزادی میسر ہو۔ایک نئے دور کے ہم منتظر ہیں ۔ایک ایسے نئے دور کی جہاں مذہبی رواداری و آزادی،جمہوری حقوق، ،عوام کے حقوق کی بالا دستی اور مفاد عوام بالا تر ہوں۔
ایک نیا دور ہم کو اگر حاصل کرنا ہے تو ملک کے ہر خطے ہر علاقے سے اور چپے چپے سے ہمیں کوشش کا آغاز کرنا ہوگا۔دیگر مسائل کو لے کر بھی ہم کو اٹھنا ہوگا۔مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف احتجاج کرنا ہوگا۔راشن ،سبزی ،گیس،پٹرول کے یومیہ بڑھتے داموں پر سمجھوتا نہیں کرنا ہوگا۔ رشوت بدعنوانی، مذہبی منافرت ،استحصال نسواں جیسے معاشرتی جرائم کے کے خلاف آواز بلند کرنا ہوگی۔ سیاسی اور معیشتی مقاطعہ Boycott کرنا ہوگا۔ اسی صورت میں ہم نئے دور کو حاصل کر سکتے ہیں۔انقلاب برپا ہو سکتا ہے اور سیاسی و سماجی کایا پلٹ کی جاسکتی ہے۔
یہ بات سب پر عیاں ہے کہ کسان تحریک یا کسان آندولن کا مقصد زرعی اصلاحات پیدا کرنا ہے ۔اور اس تحریک کی کامیابی ایک زرعی نئے دور کا آغاز ہو گا۔ایک نئے زرعی دور میں ہم داخل ہوں گے جہاں ہم ہماری پیداوار کے با اختیار مالک اور خود مختار ہوں گے۔ کسان موسم کی سختی برداشت کرتے ہوئے ، کھلے آسمان کے نیچے، زمین پر اپنے مطالبات پورے کرنے کیلئے احتجاج کر رہے ہیں۔دیگر ممالک سے بھی انہیں حمایت حاصل ہو رہی ہے ۔مگر ان کے مطلوبہ مرادیں تسلیم نہیں کی جا رہی ہیں۔ اتنے لمبے عرصے کے گزر جانے کے باوجود سرکار کوئی مثبت قدم اٹھانے کے لئے تیار نہیں۔ اس ضمن میں سا حر لدھیانوی کی نظم یاد آتی ہے جس میں ساحر نے زمام اقتدار سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔۔۔
جہان کہنہ کے مفلوج فلسفہ دانو!
نظامِ نو کے تقاضے سوال کرتے ہیں
یہ شاہراہیں اسی واسطے بنی تھیں کیا؟
کہ ان پر دیس کی جنتا سسک سسک کے مرے
زمیں نےکیا اسی کارن اناج اگلا تھا
کہ نسل آدم و حوا بلک بلک کے مرے
چمن کو اس لیے مالی نے خوں سے سینچا تھا؟
کہ اس کی اپنی نگاہیں بہار کو ترسیں
زمیں کی قوتِ تخلیق کے خداوندو!
ملو کے منتظمو! سلطنت کے فرزندو
خموش ہونٹوں سے دم توڑتی نگاہوں سے
بشر بشر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں

        ملک کے مختلف سیکٹرز سے اور دیگر میدانوں سے جب تک  ہم نکل کر باہر نہیں آئیں گے ایک نیا دور  ہمیں حاصل نہیں ہوپائے گا۔ایک مطلق العنانی سیل رواں کو روکنے کے لئے ہمیں ایک سد بن کر کھڑے ہونا ہوگا۔قررت نے ہمیں بہترین موقعہ عنایت کیا ہے کہ ان سر پھری ہواؤں کا رخ موڑ دیں۔ملک کی سالمیت کو در پیش خطرے کو روک دیں ۔اپنے ہم وطنوں کے لئے اور اپنے مستقبل کے  لئے کچھ مثبت کر گزر یں ۔

اس نئے دور کے ہم ،آپ اور سب ہی حقدار ہیں۔ایک ایسا دور جہاں سیاسی منافرت نہ ہو ۔جہاں عوام کو اپنے حقوق حاصل ہوں۔جسکی ہر ریاست امن ،سکون، آشتی و محبت کا گہوارہ ہو ۔جہاں ملک کا اثاثہ سب کی ملکیت ہو ۔جہاں ملک کی املاک ، پیدا وار چند لوگوں کی اجارہ داری نہ ہو بلکہ عوام کی ہو ں۔جہاں آئین کے مساوی حقوق بلاتفریق مذہب،قوم و ملت عوام کو حاصل ہوں۔جہاں ترقی کرنے، آگے بڑھنے کے مواقع سب کو میسر ہو ں۔ جہاں آئین کی بالادستی قائم ہو ۔جہاں انصاف مقدم ہو ۔جہاں انصاف جذبات پر نہیں بلکہ واقعات اور حقائق پر مبنی ہو ۔ جہاں عوام سے وصول کیا گیا فنڈ عوام کی فلاح و بہبودی کے لئے صرف کیا جاتا ہو۔ جہاں ملک کا مال ومتاع، سر کاری زر و زمین چند لوگوں کے تصرف میں نہ ہو بلکہ عوام کی ملکیت ہو۔ جہاں ہر فرد کو تحفظات مذہب حاصل ہوں۔ جہاں آزادئ رائے کے مواقع میسر ہوں۔ جہاں رسم ورواج کو اپنانے کی آ زادی ہو۔ جہاں اپنے قومی ،سیاسی اور ہر جائز مطالبات رکھنے اور منوانے کی آزادی حاصل ہو۔آئیے ہم سب مل کر ایک ایسے ہی نئے دور کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ایک نئے دورکی سمت ایک قدم بڑھا ئیں جس کے حقدار میں آ پ اور ہم سبھی ملک ہندوستان کی عوام ہوں ۔

Share
Share
Share