مسجد نبوی، مدینہ المنورہ

Share

 مسجد نبوی
Masjid Nabwi, Madina Munawara

مسجد نبوی، مدینہ المنورہ
(جس کی تعریف کے لئے الفاظ نہیں ملتے)

ڈاکٹر عزیز احمد عرسی، ورنگل

مسجدالحرام،مکہ المکرمہ کے بعد دنیا کی سب سے زیادہ مقدس اور عالی شان مسجد ، مسجد نبوی ہے ،ارشاد نبوہ ﷺ ہے کہ ’’میری مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز مسجد الحرام کے سوا باقی تمام مساجد کی ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے ‘‘صحیح احادیث سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد کی کتنی بھی توسیع کردی جائے وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد ہی کہلائے گی، ایک حدیث میں ہے’’ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ اگر یہ مسجد صنعاء تک بڑھادی جائے تب بھی میری مسجد ہی کہلائے گی‘‘ ۔ اس مسجد کی تعمیر کے وقت رسول اللہ ﷺ نے بہ نفس نفیس اس میں حصہ لیا، آپ نے اینٹیں اٹھائیں، پتھر اٹھائے اور تعمیر میں برابر کے شریک رہے۔ تحویل قبلہ سے قبل آپ ﷺ موجودہ استوانہ عائشہ کے سامنے کھڑے ہوکر نماز پڑھاتے تھے لیکن تحویل قبلہ کے بعد آپ ﷺ نے مسجد نبوی کا قبلہ میزاب رحمت کی سیدھ میں درست فرمایا جس کے لئے حضرت جبرئیل نے بحکم خدا اس راہ میں حائل تمام حجابات دور کئے۔محراب کا مقام طے فرمایا لیکن کوئی نشانی نہیں رکھی ، اسی مقام پر ۹۱ ھ ؁ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ نے محراب تعمیر فرمایا۔ تعمیری اعتبار سے مسجد نبوی کی ترکی تعمیرات اور مابعد تمام تعمیرات اپنی مثال آپ ہیں ،تقدس سے ہٹ کر میں عام طور پر موجودہ مسجد کی تعمیری خوبیوں کو میرے دوستوں پر اجاگر کرنے کے لئے یہ کہتا رہتا ہوں کہ آج تک کسی بھی دور میں کسی بھی بادشاہ کا کوئی بھی محل نہ اس قدر خوبصورت ہے اور
نہ کسی بھی دور میں رہا ہوگا جس قدر کہ خوبصورت مسجد نبوی ہے۔

مدینہ منورہ ایک زرخیز و سر سبز نخلستان ہے،اس کے شمال مغرب میں جبل سلع، جنوب میں جبل عیر اور وادئی عقیق ، شمال میں جبل احد واقع ہے۔مدینہ منورہ، مکہ معظمہ سے 497کلو میٹر دور واقع ہے، عقیدتمند اس شہر کو ’’جنت کی روشنیوں کے شہر‘‘ سے مخاطب کرتے ہیں ،اس کا قدیم نام یثرب تھا، بعض احباب نے مدینہ کے پچانوے نام بتائے ہیں جن میں مشہور طابہ، طیبہ،مدینۃ الرسولﷺ، بیت رسول اللہ ، دارالفتح ، حرم رسول اللہ وغیرہ ہیں۔رسول اللہ ﷺ کو مدینہ سے اس قدر محبت تھی کہ جب کہیں سفر پر تشریف لے جاتے تو لوٹتے وقت جب مدینہ قریب آجاتا اور اس کی عمارتیں دکھائی دینے لگتیں تو آپؑ اپنی سواری کو کمال شوق میں تیز کردیتے اور فرماتے طابہ آگیا۔(بخاری) ۔ آپؑ مدینہ کے قریب اپنی چادر مبارک شانہ اقدس سے گرا دیتے اور فرماتے کہ یہ طابہ کی ہوائیں ہیں ، صحابہ میں جو کوئی بوجہ گرد و غبار اپنا منہ بند کرتا تو آپؑ منع فرماتے کہ مدینہ کی خاک میں شفا ہے۔ رسول خدا ﷺ نے مدینہ کے لئے یہ دعا مانگی کہ اے اللہ مدینہ کی محبت ہمارے دلوں میں ایسا ڈال دے جیسا کہ لوگوں کو مکہ سے محبت ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ ، اے خدا ہمارے ’’ساع ‘‘اور ’’مد ‘‘ میں برکت دے اور مدینہ کی آب و ہوا کو درست کردے اور اس کا بخار جحفہ بھیج دے۔ رسول اللہ ﷺ نے 621ء میں مدینہ ہجرت فرمائی، پہلے قبا کی بستی میں عمرو بن عوف کے مہمان رہے اس دوران مسجد قبا کی بنیاد رکھی اور چودہ دنوں بعد مدینہ منتقل ہوئے کچھ دن حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر قیام کیا ، اس اثنا میں مسجد کے لئے زمین خریدی اور مسجد نبوی کی بنیاد رکھی۔
مسجد نبوی کی بنیاد رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے پہلے سال یعنی 622ء میں رکھی تھی،ابتدا میں اس کا رقبہ 850.5مربع میٹر تھا، اس کی چھت عریش موسیٰ کلیم اللہ ؑ کے عریش کے مطابق یعنی موجودہ ساڑھے دس فٹ کے برابر یا بعض مورخین کے مطابق 2.9میٹریا اس سے کچھ کم رکھی گئی تھی رسول اللہ ﷺ نے صرف کچھ ہی برس بعد مسلمانوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر اس مسجد کی توسیع انجام دی، اس کا طول و عرض سو، سو گز مقرر فرمایا اور اس کے رقبے کو 2025 مربع میٹر تک وسیع کیا، چھت بھی اونچا کیا گیا اور اس کی اونچائی 4.06 میٹر مقرر ہوئی ،ابتدا میں مسجد کے ستون کھجور کے تنے سے بنائے گئے تھے اور چھت کھجور کی کڑیوں پر مٹی اور گارا ڈال کربنائی گئی تھی۔مسجد کے ابتدائی دروازوں میں باب نبی ؑ یا باب عثمانؓ (موجودہ باب جبرئیل) ،باب عاتکہ (موجودہ باب الرحمۃ)، باب عمرؓ ، باب انساء وغیرہ شامل ہیں، مختلف توسیعات میں بعض قدیم دروازوں کو بند کردیا گیا اور کئی نئے دروازے قائم کئے گئے۔۱۷ ھ ؁ میں حضرت عمرؓ نے 1100 مربع میٹر کی اور حضرت عثمانؓ نے 496مربع میٹر کی توسیع فرمائی۔ ۸۸ ھ ؁ میں ولید بن عبد الملک نے حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کی نگرانی میں تقریباً 2369مربع میٹر رقبے کی توسیع کی۔اس توسیع میں امہات المومنینؓ کے حجروں کو بھی توسیع میں شامل کرلیا گیا۔اس توسیع میں زر وجواہر، سونا، سنگ مرمر اور منقش پتھر وغیرہ استعمال کئے گئے۔اس توسیع کے بعد مہدی العباسیؔ نے 2450مربع میٹر علاقے کی توسیع کی،سلطان قلاونؔ نے حجرہ مبارک اور گنبد شریف پر ایک بڑی گنبد بنائی،886ہجری میں مسجد میں اتفاقاً آگ لگنے کے بعد اشرف قایتبائیؔ نے تین سالہ مدت(۸۸۶ ھ تا ۸۸۸ ھ) میں مسجد کی تعمیری تجدید کی اور اس میں سنگ سیاہ کے ستونوں اور لوہے کی شہتیروں کو استعمال کیا ، لوہے کو جوڑنے کے لئے سیسے کو استعمال کیا، چھت لکڑی کے لٹھوں سے بنائی گئی جو تقریباً 387 برس تک قائم رہی،اس نے باب رحمۃ پر مینار اور ایک عالی شان منبر بھی تعمیر کروایا، اشرف قایتبائی کی توسیع میں صرف 120مربع میٹر کا علاقہ شامل ہے ۔ اشرف قایتبائی ؔ نے ۸۸۷ ھ ؁ میں حجرہ مطہرہ کی بنیادوں اور گنبد خضرا کی ستونوں کے ذریعے توسیع و تجدید کی، اس کے بعد سلطان عبد المجید (18391501861) نے ۱۲۶۵ ھ ؁ میں مسجد کی جدید تعمیر شروع کی جو تقریباً 13برس تک چلتی رہی،اس نے بھی گنبد خضرا کی بلند عمارت کی تجدید و توسیع کی۔اس تعمیر میں نہایت زیادہ ادب و احترام کو ملحوظ رکھا گیا، مشہور ہے کہ تمام کاریگر حافظ قرآن تھے (واللہ اعلم)۔ تقریباً 296 منقش زرکاری سے مزین ستونوں پر مسجد تعمیر کی گئی، اس تعمیر میں خوبصورت اور قیمتی پتھر اور سونا وغیرہ استعمال کیا گیا ، تعمیر کے لئے زیادہ تر پتھر ذوالحلیفہ میں واقع سرخ پہاڑ سے حاصل کئے گئے جنہیں ماہر، متقی سنگ تراشوں، معماروں، نقاشوں نے نہایت حسن کمال سے استعمال کیا ،مسجد کے اندرونی حصوں کو نقش و نگار سے مزین کیا گیا، دیواروں پر سنہرے حروف میں نہایت خوبصورت طرز تحریر کے ساتھ آیات قرآنی اور رسول اللہ ﷺ کے اسمائے مبارکہ لکھے گئے، سونے کی ملمع کاری کی گئی،دیگر دیواروں پر بیل بوٹوں کی گل کاری کی گئی ،مسجد کے اندرونی حصے کو دوگنا کیا گیا، چھت کو چھوٹے چھوٹے قبوں سے بنایا گیا اور قرآنی آیات سے سجایا گیا، بوصیریؔ ؔ کے قصیدہ بردہ کے اشعار لکھے گئے( جس کو عہد سعودی میں مختلف وجوہات کی بنا مٹا دیا گیا ) ، مسجد کی قبلہ کی جانب کے ستونوں پر قدیم مسجد نبوی کی حد کا نشان لگایا گیا ۔ یہ نشان جو ’’حد مسجد نبوی‘‘ کی شکل میں لکھے ہیں آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں ، حتیٰ کہ ان ستونوں میں قدیم مسجد نبوی کی اونچائی کا اشارہ بھی موجود ہے، صٖفہ کے تعلق سے بھی ان حکمرانوں نے مختلف نشانات کے ذریعہ یا تعمیر میں قدرے تبدیلی لاکر واضح نشاندہی کی ہے۔ مسجد کے اندرونی حصے میں ریاض الجنہ اور اس میں موجود تاریخی ستونوں وغیرہ کی تعمیر کی گئی،ان ستونوں یعنی اسطوانوں کو ستون ہائے رحمت کہا جاتا ہے ان کی جملہ تعداد آٹھ ہے ۔ (۱)منبر نبوی سے متصل ’’اسطوانہ حنانہ‘‘ (۲)’’اسطوانہ عائشہ‘‘ (۳)’’استوانہ ابی لبابہ یا ستون توبہ ‘‘ (۴) ’استوانہ سریر‘‘ (۵) اسطوانہ محرس (۶) اسطوانہ وفود (۷) اسطوانہ تہجد (۸) اسطوانہ جبرئیل ۔ ان میں بیشتر ستون دکھائی دیتے ہیں لیکن اسطوانہ جبرئیل جالی مبارک کے اندر ہونے کی وجہہ سے نظر نہیں آتا۔ علاوہ ان تعمیرات کے ترکوں نے سلیمانیہ مینار بھی بنایا ، باب جبرئیل، باب رحمۃ ،باب صدیق ، باب النساء اور باب السلام بنائے ،اس دور کی یہ تمام تعمیرات سعودی تجدید وتوسیع کے باوجود آج بھی بعینہ باقی ہیں ۔ سلطان عبدالمجید کی توسیع کا کل رقبہ 1293 مربع میٹر ہے،مسجد نبوئی کی طرز تعمیر اسلامی ہے جس میں عثمانی اور مملوک طرز تعمیر کی جھلکیاں نمایاں ہیں ویسے موجود دور میں جدید طرز تعمیر سے بھی استفادہ کیا جارہا ہے۔ ترکوں کی تعمیر مسجد نبوی کی کئی ایک خصوصیات میں ایک خصوصیت اسطوانوں کا بنانا ہے ، یہ دراصل اہمیت کے حامل تاریخی مقامات کی نشاندہی
ہے جس کو ایک خاص ڈھنگ سے محفوظ کرلیا گیا ہے۔
اس کے بعد عہد سعودی کی تعمیرات کا آغاز ہوا جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور ان تعمیرات کی خوبصورتی کا قیاس بھی مشکل ہے۔عہد سعودی کی پہلی توسیع1951میں ملک عبد العزیز ابن سعود کے کہنے پر شروع ہوئی،جو 6024 مربع میٹر رقبے پر مشتمل ہے، مختلف ادوار میں بنے چار میناروں کے علاوہ مزید دو مینار بنائے گئے۔ کئی دروازے جیسے باب عبدالعزیز، باب عثمانؓ ، باب مجیدیؔ ، باب عمرؓ ، باب سعودؔ وغیرہ بنائے گئے، جملہ دروازے 41ہیں لیکن بعض دروازوں میں دو ،تین یا پانچ دروازوں کا راستہ ہے اسی لئے ان دروازوں کو جملہ تعداد میں شامل کیا جائے تو ان کی کل تعداد 85ہوتی ہے ہر دروازے پر پتھر میں ’’ادخلو ھا بسلام آمنین ‘‘ لکھا ہوا ہے۔ 1973میں فیصل بن عبد العزیزنے توسیع کی،لیکن تاریخ کی ایک بڑی توسیع شاہ فہد ؔ کے دور میں انجام پائی جس میں مسجد کے احاطے کو بڑھا کر اسے مکمل ایر کنڈیشن بنایا گیا ،مسجد نبوی کا ایر کنڈیشن ساری دنیا میں منفرد ہے اس نظام کا اصل پلانٹ 7کلو میٹر دور ہے، مسجد کی کار پارکنگ منفرد ہے جس میں ساڑھے چار ہزار گاڑیاں ٹہر سکتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ مسجد نبوی قدیم شہر مدینہ کے مکمل احاطے پر بنائی گئی ہے اور ایک اندازے کے مطابق یہ مسجد دور نبوی کی مسجدسے رقبے میں سو گنا بڑی ہے،مسجد نبوی میں جملہ دس (10) مینار ہیں ،ان پر شکوہ میناروں کی خوبصورتی لا جواب ہے ، بڑے میناروں کی اونچائی 105میٹر (344 فٹ) ہے، اس مسجد کی تعمیر میں پائیدار لکڑی،خوبصورت پتھر ، سنگ مرمر، گرانائیٹ اور قیمتی جواہرات(پتھر) کو استعمال کیا گیا اندرونی حصوں کو پتھر میں ابھارے گئے قرآنی آیات سے مزین کیا گیا ،تازہ ہوا کی آمد و رفت کے لئے چھت میں کھسکنے والی27 گنبدوں کو بنایا گیا، گنبد کے اندرونی حصوں میں قیمتی پتھروں زمرد، فیروزہ وغیرہ کو جڑا گیا،ہر گنبد میں ڈھائی کلو سے زیادہ سونا استعمال ہوا ہے، ہر گنبد 18میٹر لمبی اور چوڑی ہے ۔ مسجد نبوی دو منزلہ ہے ، بالخصوص حج کے زمانے میں جب زائرین کی تعداد بڑھ جاتی ہے تو اوپری منزل بھی استعمال کی جاتی ہے جس کے لئے سیڑھیوں کے علاوہ خود کار مشینی سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں۔ لکڑی اور پیتل سے سنہرے دروازے بنائے گئے ہیں،جن میں کاریگروں نے لاجواب جمالیاتی حسن پیدا کیا گیا ہے،مسجد کے اندرونی حصے کی خوبصورتی کا بیان مشکل ہے، ستونوں کے اوپری حصے میں قوسوں کے مانند لگی سنہری لائیٹوں پر اللہ نور السماوات والارض(24-35) لکھا ہوا ہے، ان قندیلوں سے نکھرتی ہوئی روشنیاں جب ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ بکھرتی ہیں تو زائر عقیدت کی چادر اوڑھے اللہ کے ذکر میں مستغرق ہو جاتا ہے اس کا سر خدا کے حضور سجدہ ریز ہوجاتا ہے ،یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمتیں اور نوازشیں نازل ہوتی ہیں،اللہ ان کی نمازوں میں خشوع و خضوع پیدا کرتا ہے اور وہ قوموا للّہ قانتین کی تفسیر بن جاتے ہیں ۔ ستونوں کے قاعدے میں بنی جالیوں سے نکلتی ٹھنڈی ہوا انسان کو زندگی کا احساس دلاتی ہیں کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں انسانیت آداب زندگی مانگتی ہوئی نظر آتی ہے ، یہی وہ در ہے جہاں سے زندگی کے اصولوں کی خیرات بٹتی ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں روح کو بالیدگی عطا ہوتی ہے، یہ در شہنشاہ کونین کا در ہے،یہاں پر وجہ تخلیق دو جہاں آرام فرما رہے ہیں ،جب گنبد خضرا پر ہماری نظر پڑتی ہے تو ہمارا دل جھک جاتا ہے ہمارے وجود پر عقیدت میں ڈوبا سکون چھا جاتا ہے اور ہماری ذات کو زندگی کے معنی مل جاتے ہیں۔ ہم جیسے گنہ گار اس مسجد کی عظمت کا کیا بیان کرسکتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ میں نے اس مضمون کو اس کتاب میں محض اسی لئے شامل کیا ہے کہ اس کی برکت سے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف کردے اور ہمارا نام بھی ثنا خوان مصطفےٰ ﷺ میں لکھ دے تاکہ ہماری نجات ہو سکے کیونکہ
ع ہماری مدحت کا دائرہ بس نجات کے گرد گھومتا ہے
مسجد نبوی کی وسعت کو شاہ فہدؔ نے تقریباً 82000مربع میٹربڑھایا۔ اس توسیع کے بعد مسجد میں چھ لاکھ نمازیوں کے نماز ادا کرنے کی گنجائش پیدا ہوگئی ، لیکن زمانہ حج میں مسجد میں تقریباً دس لاکھ نمازی نماز ادا کرتے ہیں۔ تاریخ کی مزید ایک بڑی توسیع(میگا پراجکٹ) شاہ عبداللہ کے ذریعہ انجام پارہی ہے جو مسجد کے مشرقی حصے میں آج بھی جاری ہے۔زائرین کو دھوپ کی شدت سے بچانے کے لئے قدیم مسجد کے اندرونی احاطے میں نصب چھتریوں جیسی 182 بڑی خود کار چھتریاں نصب کی گئی ہیں جو نمازیوں کو دھوپ سے بچانے کے علاوہ اطراف کے حسن میں اضافے کا باعث بھی بن رہی ہیں، چھتریوں کی تنصیب کا کام ہوچکا ہے۔ایک اندازے کے مطابق اس عظیم الشان توسیع پر چار ارب ستر کروڑریال سے زائد خرچ آئے گا اور مزید 70 ہزار نمازیوں کے لئے جگہ فراہم کی جائے گی ،علاوہ اس کے نئی توسیع کے دوسرے اور آخری مرحلے کی تکمیل کے بعد مسجدنبوی میں زائد از 25 لاکھ افراد نماز ادا کرسکیں گے جو تاریخ کی سب سے بڑی توسیع ہوگی۔
***
Photo Dr Azeez Ahmed Ursi, Warangal

Share
Share
Share