سات سال میں ہندوستان ستر سال پیچھے کیوں ہوگیا ؟ :- ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد

Share

سات سال میں ہندوستان ستر سال پیچھے کیوں ہوگیا ؟

ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد (حیدرآباد)
91+9885210770

مرکز کی این ڈی اے حکومت جس کی سر براہی بی جے پی کر رہی ہے اپنی پہلی معیاد کے پانچ سال کی تکمیل کے بعد اب اپنی دوسری معیاد کے دوسال بھی مکمل کر چکی ہے۔ 2014میں پہلی مر تبہ بھر پور اکثریت کے ساتھ کا میاب ہو نے والی زعفرانی پارٹی کو ملک کے رائے دہندوں نے پھر 2019میں اس امید کے ساتھ لوک سبھا کی300سے زائد نشستوں پر کا میابی دلائی تھی کہ پانچ سال پہلے جو وعدے کئے گئے تھے اب کم از کم دوبارہ اقتدار ملنے پر ان وعدوں پر عمل کیا جائے گا۔

لیکن ملک کی 140 کرو ڑعوام کو گز شتہ سات سالوں کے دوران جن تلخ تجربات سے گذرنا پڑا اس سے ہر شہری بخوبی واقف ہے۔ ملک کے وزیراعظم نریندر مودی پررائے دہندوں نے جس اعتماد کا اظہار کر تے ہوئے ان کے کندھوں پر جو ذ مہ داری ڈالی تھی اسے پورا کرنے میں وہ ناکام رہے۔ انہوں نے بلند بانگ دعوے تو کئے لیکن ملک کی تقدیر اور تصویر بدلنے کے لئے کوئی سنجیدہ اور ٹھوس اقدامات نہیں کئے۔ اپنی پہلی معیاد کے دوران راتوں رات نوٹ بندی کا اعلان کر کے انہوں نے عام لوگوں کو نا قابل بیان مشکلات میں ڈال دیا۔ بیرونِ ملک سے کالا دھن واپس لانے کا وعدہ فضاء میں بکھر کر رہ گیا۔ نوجوانوں کو روزگار دینے کا وعدہ ایک دھوکہ ثابت ہوا۔ پانچ سالوں کے دوران بے روزگاری کا عفریت اپنی انتہا پر پہنچ گیا۔ ان تمام نا کامیوں کے باوجود نریندرمودی اپنی پارٹی کو بر سرِ اقتدار لانے اور خود دوبارہ وزیراعظم بننے میں کا میاب ہو گئے۔ 2019کا الیکشن بی جے پی نے ہنگامی اور جذباتی مسائل کو عوام کے بیچ لا کر جیت لیا۔ پلوامہ میں ہندو ستانی فوج کی قربا نیاں، بی جے پی کی کا میابی کا زینہ بنیں۔ ملک کی قومی سلامتی کا ڈھنڈورا پِیٹ کر عوام کو گمراہ کیا گیا۔ جس کے نتیجہ میں عوام پھر سے بی جے پی کے پروپگنڈا کا شکار ہوگئی اور دوبارہ اقتدار ان لوگوں کے ہاتھوں میں آ گیا جو ملک اور قوم کی ترقی کا کوئی مثبت ایجنڈا اپنے پاس نہیں رکھتے۔ الیکشن میں وزیراعظم نریندر مودی نے "سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس”کا نعرہ دیا تھا۔ یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ بی جے پی سرکار مذہب، ذات یا علاقہ کی بنیاد پر کوئی بھید بھاؤ نہیں کر تی۔ مودی حکومت ملک کے تمام شہریوں کو ساتھ لے کر، سب کی ترقی اور سب کے بھروسہ کے ساتھ کام کر ے گی۔ اپنی دو سالہ معیاد کی تکمیل کے موقع پر انہوں نے اپنے خاص ماہانہ پروگرام "من کی بات "میں بھی یہی دعویٰ کیا کہ ان سات سالوں میں ملک نے سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس منتر پر عمل کیا ہے۔ اس کی وجہ سے ان کے مطابق ہندوستانیوں کا سَر فخر سے اونچا ہو گیا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ مودی حکومت نے اپنے سات سال اپنے ملک کی عوام سے کھوکھلے وعدے کر تے ہوئے گذارے ہیں۔ خاص طور پر ان دو سالوں کے دوران کروڑوں لوگوں کی زندگی اجیرن ہو گئی۔ عالمی وباء کوویڈ۔19سے نمٹنے میں مودی حکومت نے جس غیر ذ مہ داری کا ثبوت دیا اس سے لاکھوں افراد کی جانیں چلی گئیں۔ ہزاروں لوگ اب بھی اسپتالوں میں زندگی اور موت کی کشمکش سے دو چار ہیں۔ دواخانے مریضوں سے بھر تے جا رہے ہیں لیکن مناسب علاج کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ اس خطرناک بیماری پر قابو پانے کے لئے جس قسم کے انتظامات کی ضرورت تھی اس کا فقدان آ ج بھی پا یا جا رہا ہے۔ مارچ2020سے ملک کورونا کی لپیٹ میں ہے۔ ایک سال سے زائد عرصہ گذر جانے کے بعد بھی مرنے والوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آ ئی۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حکومت نے عوام کو مرنے کے لئے چھوڑ دیا ہے
کوویڈ۔19پر دنیا کے دیگر ممالک نے بڑی حد تک قابو پا لیا ہے۔ لیکن ہندوستان میں ابھی تک کوویڈ کا قہر دیکھا جا رہا ہے۔ ملک کی مختلف ریا ستوں میں ابھی بھی لاک ڈاؤن چل رہا ہے۔ حکومت کی ٹیکہ اندازی کی مہم بھی اپنے ٹارگٹ کو پورا نہیں کر سکی ہے۔ ملک میں ویکسین کی قلت ہو گئی ہے۔ عوام سے کہا جا رہا ہے وہ ٹیکہ لے کر اپنے آ پ کو اس مرض سے محفوظ کر لیں لیکن حکومت خود بار بار ٹیکہ ا ندازی مہم کو ملتوی کر تی جا رہی ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہو گئے ہیں۔ اب لوگ کورونا سے کم اور فاقہ کشی سے زیادہ مر رہے ہیں۔ روز کا کاروبار کرنے والوں کی زندگی تو داؤ پر لگ گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے پابندیاں تو عائد کی جارہی ہیں لیکن عوام کے نان شبینہ کا کیا ہوگا اس پر حکومت غور بھی نہیں کر رہی ہے۔ حکومت کے سارے دعووں کے باوجود عام آدمی کی زندگی میں راحت کو کوئی سامان ان دوسالوں میں کہیں نظر نہیں آ یا۔ مہنگائی آ سمان کو چھورہی ہے۔ حالیہ دنوں میں خورد و نوش کی اشیاء کی قمیتوں میں جو اضافہ دن بہ دن ہوتا جا رہا ہے اس سے متوسط خاندان پریشان ہیں تو غریبوں کا کیا حال ہوگا۔ پٹرول کی قیمت فی لیٹر 100روپیوں سے زائد ہو گئی ہے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کی معیشت کس خطرناک موڑ پر آ چکی ہے۔ ایک طرف کورونا کی مار نے ملک کی معیشت کو ٹھکانے لگا دیا تو دوسری طرف مودی حکومت کے غلط فیصلوں نے ملک میں معاشی بحران پیدا کر دیا۔ ملک کی آْزادی کے 70دہوں بعد شاید پہلی مر تبہ ملک اس دھماکو صورتِ حال سے گذررہا ہے، جہاں ہر روز ملک کی عوام بیماری سے، بھوک سے اور خوف سے مرنے پر مجبور ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ ملک کے حکمران اپنی ناکامیوں کو چُھپاتے ہوئے یہ باور کر انے میں لگے ہوئے ہیں ملک میں سب کچھ ٹھیک ہے۔ وزیراعظم نے 29/ مئی کو جس انداز میں خطاب کیا اس سے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ سات سال کے دوران ہندوستان نے وہ ترقی کر لی جو گزشتہ 70سالوں کے دوران نہیں ہوئی۔ تصویر کاایک رخ پیش کرتے ہوئے انہوں نے اپنے ادھورے کارناموں کو اس انداز میں عوام کے سامنے رکھا کہ واقعی ان کی قیادت میں ملک ترقی کی راہوں پر گا مزن ہو گیا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ان سات سالوں میں عوام کو مایوسی کے سواکوئی چیز ہاتھ نہیں لگی۔ ملک کا کوئی طبقہ حکومت کی کار کردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ اپنی دوسری معیاد کے آ غاز کے ساتھ ہی مودی حکومت نے فرقہ پرستی کو ہوا دینے کی کوشش کی۔ شہریت ترمیمی بِل لاکر سماج کو بانٹنے کا کام کیا گیا۔ پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش میں پناہ لئے ہوئے ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی اور عیسائی طبقات کو ہندوستانی شہریت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کالے قانون کے خلاف ملک کے تمام انصاف پسند شہری ملک گیر احتجاج پر اُ تر آ ئے اور بڑے پیمانے پر اس ظالمانہ قانون کی مخالفت ہونے لگی تو اسے معرضِ التواء میں ڈال دیا گیا۔ لیکن گزشتہ دنوں حکومت نے اعلامیہ جاری کر تے ہوئے ان ممالک کے ان طبقوں کو ہندوستانی شہریت کے حصول کے لئے درخواستیں دینے کی اجازت دے دی۔ ملک میں ایک طرف کورونا کابحران چل رہا ہے اور دوسری طرف حکومت پھر سے اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈا کو نافذ کر نے میں لگی ہوئی ہے۔ یہ ایک طرح سے عوام کو حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کی دانستہ حکومت کی کوشش ہے۔ جذباتی مسائل کو چھیڑ کرفائدہ اٹھانا بی جے پی کی پالیسی رہی ہے۔ متنازعہ عنوانات کا سہارا لے کر ہی اس پارٹی نے ملک کی سیاست میں چھلانگ لگائی ہے۔سا بق میں بابری مسجد۔ رام جنم بھومی کی تحریک چلا کر بی جے پی نے اپنی سیاسی قوت میں غیر معمولی اضا فہ کیا ہے۔ دو ارکانِ پارلیمنٹ سے آج یہ پارٹی جس مقام پر پہنچی ہے اس میں اس کے فرقہ وارانہ پالیسیوں کا بہت بڑا دخل ہے۔ اب بھی وہ اسی نظریہ پر کاربند ہے۔
گزشتہ دنوں جب ملک کورونا کی آگ میں جھلس رہا تھا، ملک کے وزیر اعظم مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کو تیسری مرتبہ اقتدار پر آنے سے روکنے کے لئے اپنی ساری طاقت کو جھونک دئے تھے۔ ملک کی عوام کوویڈ۔19سے بدحال ہو رہی تھی اور نریندرمودی ممتا بنرجی کو ہر حال میں سیاست سے گمنام کر نے پر تُلے ہوئے تھے۔ اسی طرح کیرالہ، تامل ناڈو، آسام اور پڈوچیری میں وہ انتخابی مہم میں ہمہ تن مصروف رہ کر یہ ثابت کردئے کہ انہیں انسانی جانوں سے زیادہ اقتدار عزیز ہے۔ چار لاکھ کے قریب اموات کے بعد ملک کا وزیراعظم اپنا سَر فخر سے بلند ہونے کی بات کر تا ہے تو یہ ملک کے شہریوں کی توہین ہے۔ اس قدر جانوں کے اتلاف کے بعد ان یہ کہنا غرور اور تکبر کی نشانی ہے۔ اپنی ساکھ کو بہتر بنانے کے لئے وزیراعظم ملک کے مختلف اداروں کو اپنی گرفت میں لئے ہوئے ہیں۔ الیکشن کمیشن ان کے احکامات کا پابند ہو گیا ہے۔ حالیہ چارریاستی اسمبلیوں اور ایک مرکز کے زیرِ انتظام علاقہ کے الیکشن کے دوران الیکشن کمیشن نے جس جانبداری کا ثبوت دیتے ہوئے بی جے پی کا ساتھ دیا اور دیگر پارٹیوں کے ساتھ نا انصافی کی وہ سب کچھ عوام کے سامنے ہے۔ ان تمام انتخابی دھاندلیوں کے باوجود بی جے پی مغربی بنگال، تامل ناڈو اور کیرالہ میں عبرتناک شکست سے دوچار ہوئی۔ آسام میں بھی این آر سی کا ہّوا کھڑا کر کے بی جے پی دوبارہ حکومت بنانے میں کا میاب ہو سکی۔ اب جب کہ اتر پردیش اسمبلی کے انتخابات عنقریب منعقد ہو نے والے ہیں، بی جے پی کے اپنے سابقہ فرقہ وارانہ ایجنڈے پر آ نے کے پورے آ ثار ہیں۔ یوپی کے چیف منسٹر یوگی آ دتیہ ناتھ کی فرقہ پر ستی سے ایک دنیا واقف ہے۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران یوپی کا جو حال یوگی نے بنادیا ہے وہ مودی کے ہندوستان سے کچھ کم نہیں ہے۔ کورونا کی آ فت نے بھی یوگی آدتیہ ناتھ میں انسانیت کے جذبات کو فروغ نہیں دیا ہے۔ ماب لینچنگ کے نام پر مسلمانوں کے خون سے فرقہ پرستوں کے ہاتھ اب بھی رنگے جا رہے ہیں۔ کئی معصوم مسلم نوجوانوں کو ہجومی تشدد کا شکار بنایا جا رہا ہے۔ کوویڈ۔19کے علاج میں بھی تعصب برتا جارہا ہے۔ اس ناگہانی مصبیت میں مسلمان اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر انسانوں کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں، کہیں مسجدوں اور مدرسوں کو آسولیشن سنٹسرس میں تبدیل کر دیا گیا، کہیں مسلم نوجوان ہندوؤں کی نعشوں کا انتم سنسکار کرنے سے بھی نہیں ہچکچارہے ہیں، لیکن اس کے باوجود یوپی کی یوگی حکومت مسلمانوں کی زندگی دوبھر کر کے رکھ دی ہے۔ ملک کے وزیر اعظم بھی ان کی سرزنش تو کر نا دور کی بات ہے انہیں اس معاملے میں احتیاط بر تنے کی بھی صلاح نہیں دے رہے ہیں۔ یہ ہے وہ ہندوستان، جو فرقہ پرستی کی آگ میں جل کر خا کستر ہونے کے قریب ہے۔ لیکن وزیراعظم اور ان کی حکومت اپنے جھوٹے امیج کو سدھارنے میں لگی ہوئی ہے۔ حکومت کی نا کامیوں پر سوال اٹھانا بھی ان سات سالوں کے دوران ملک سے غداری کے ز مرے میں آ گیا ہے۔ کوویڈ۔19سے نمٹنے میں حکومت کیوں ناکام ہو گئی، یہ پوچھنا بھی اب جرم ہو گیا ہے۔ ملک میں میڈیکل انفرا اسٹرکچر کی کمی کی شکایت کر نا بھی آسان نہیں رہا۔ کوئی ہمت کر کے سوال کر لے تو پھر اس کے لئے جیل کی کال کوٹھری تیار کر دی جاتی ہے۔ کتنے انسانی حقوق کے لئے آ واز اٹھانے والے نوجوان جیلوں میں بند ہیں؟ ملک کے قومی میڈیا کا کیا کہنا ان میں کی اکثریت مودی حکومت کی تعریف میں لگی ہوئی ہے۔ اسی لئے وزیر اعظم عوام کی آواز کو سننے اور ان کی مشکلات کو دور کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے لیکن اقتدار ہمیشہ باقی رہنے والا نہیں ہے۔ جمہوریت میں عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جائے تو حکومتیں خس و خاشاک کی طرح بکھر جاتی ہیں۔ کوویڈ۔19نے بتادیا کہ انسان سب کچھ رکھتے ہوئے کتنا بے بس ہے۔ یہ حقیقت مودی جی بھی جا نتے ہوں گے!

ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد
Share
Share
Share