افسانہ : بھوک :- فوزیہ حبیب

Share

افسانہ : بھوک
فوزیہ حبیب
اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو
اسلامیہ ویمنس آرٹس اینڈ سائنس کالج،
وانمباڑی – تمل ناڈو

آج کے دور میں میڈیا بھی کسی فتنہ سے کم نہیں اور میڈیا والے سے تو لوگ ویسے ہی پناہ مانگتے ہیں معمولی بات کو بھی مسالے دار اور چٹپٹی بنا کر عوام کے سامنے پیش کرنامیڈیا والوں کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے کیونکہ اس طرح ان کے چینل کی ٹی آر پی ) (TRP راتوں ورات اوپر پہنچ جاتی ہے اور آج کل جو چینلوں کے درمیان مقابلہ ہورہا ہے اس سے تو ہر چینل والا یہی چاہیگا کہ سب سے پہلے اس کے چینل کے ذریعے خبر پہنچے بھلے ہی اس بات کو ری کور(RECOVER) کرنے کے لئے رپورٹر کو کتنی ہی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

وہ سوچتی کلستی کیمرہ مین راہل کے ساتھ اندورن علاقہ کے تنگ سی گلی میں جارہی تھی دھوپ کی تمازت سے اس کا چہرہ سرخ ہورہا تھاگو کہ وہ لوگ فل ایر کنڈیشنز گاڑی میں آئے تھے لیکن گلی تنگ ہونے کی وجہ سے ان کی بڑی سی گاڑی کو گلی کے نکڑ پر ہی چھوڑنا پڑا اور اب وہ کوڑا کرکٹ کے ڈھیر سے بچتے بچاتے مطلوبہ گھر کے سامنے کھڑے تھے گھر کے دروازے پر ٹاٹ کا موٹا سا پردہ پڑا تھاجب تک گھر والے باہر آتے گلی کے تمام لوگ امڈ پڑے تھے اور دھکم پیل جاری تھی کوفت سے اس کا برا حال تھا۔پردہ ہٹتے ہی لڑکی کے باپ کا چہرہ دکھائی دیا اس کے کندھے کی اوٹ سے جھانکتی شاید اس لڑکی کی ماں تھی۔اس لڑکی کا نام کلثوم تھا انیس بیس سال کی لڑکی اسی شہر کے کسی منسٹر کے گھر میں معمولی ملازمہ تھی منسٹر کے بیٹے نے اس لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے کی کوشش کی تھی وہ تو کسی نہ کسی طرح وہاں سے بھاگ نکلی مگر شومئی قسمت ان کے چینل کے مینجر کی کار سے اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا معمولی سی چوٹ آئی تھی لیکن وہ بہت سہمی ہوئی لگ رہی تھی مینجر کے استفسار پر اس نے معصومیت سے پورا حال کہہ سنایابس پھرکیا تھا ان کے چینل کوایک چٹخارہ دار کہانی مل گئی اس نے وہیں سے چینل کے اونر کو فون کیا بھلا منسٹر کے بیٹے کا یہ کارنامہ دنیا والوں کے سامنے کیسے پیش نہ کرتے اس نے وہیں پر لڑکی کو روکنے کی ہدایت کی اور رپورٹراور کیمرہ مین کو بھی پہنچنے کا کہا مگر لڑکی بے ہوش ہوچکی تھی اور ہوش میں آنے کے بعد بھی اس کی کنڈیشن ایسی نہیں تھی کہ وہ انٹرویو دے سکتی مجبوراً اسے گھر چھوڑنا پڑا یہ دو دن پہلے کی بات تھی اور اب وہ باقاعدہ اپنی ٹیم کے ساتھ اس کے گھر کے سامنے کھڑے تھے ٍ لڑکی کے باپ نے ہاتھ جوڑ کر التجا کی کہ وہ ان کی عزت کو سر عام نیلام نہ کرے وہ یہ گھر اور شہر چھوڑ کر ہمیشہ کے لئے گاؤں چلے جائیں گے اور بات دب جائیگی کلثوم کی ماں نے بھی روتے ہوئے اس سے کہا کہ ان کی بیٹی نے تو کسی نہ کسی طرح اس درندے سے اپنی عزت بچالی تھی لیکن یہ میڈیاوالوں کی بدولت اس کی عزت جودو کوڑی کی ہونے والی تھی اس سے وہ لوگ سماج میں منھ دکھانے کے قابل نہ رہیں گے “ اس فیلڈ میں ایسے واقعات کا ہونا عام بات تھی اور یہ سب ان کے روٹین کا حصہ تھا لیکن جب کلثوم نے سسکتے ہوئے کہا کہ ”باجی مجھے بخش دیں مجھے کچھ نہیں بتانا میرا ابا اس کے بعد نہیں جی پائیگا “ تو اس کے دل کو کچھ ہوا اس نے چیف ایڈیٹر کو فون کر کر پوچھا انھوں نے اسے زبردست ڈانٹ پلائی اوراسٹوری کور کرنے کے لئے کہا ” منسٹر کو میڈیا کے سامنے لانے کا اچھا موقع ہے الیکشن سے پہلے اس کے بیٹے کے کرتوت کوعوام کو دکھانا ضروری ہے “ وہ سب تو ٹھیک ہے سر لیکن اس بیچاری لڑکی کی عزت ۔۔۔ ” اس کی فکر کرنے کی تمہیں کوئی ضرورت نہیں ہے ایڈیٹر نے سرد مہری سے اس کی بات کاٹ دی ” انھیں کچھ دے دلا کر ان کا منھ بند کردیں گے ویسے بھی ان نچلے طبقے والوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی “ ’سوری سر مجھ سے یہ نہیں ہوگا “اس نے بھی دو ٹوک جواب دیدیا ” تو پھر اپنی جاب سے بھی ہاتھ دھونا پڑیگا “ کھٹاک سے فون بند کردیا گیا ۔ ”لعنت ہے ایسی نوکری پر “ اس نے غصہ سے باہر جانے کے لئے قدم بڑھائے لیکن میری نوکری۔۔۔؟ اس کے قدم کو جیسے کسی نے بریک لگادئے نوکری تو خیر کہیں نہ کہیں مل جائیگی لیکن جو شہرت اس کو اس چینل کے ذریعے ملی تھی اس سے وہ منکر نہیں ہونا چاہتی تھی اس کا ضمیر جو چند لمحوں کے لئے جاگا تھا اس نے بڑے پیار سے تھپک کر پھر سے سلادیا واقعی بھوک انسان سے برداشت نہیں ہوتی اب چاہے وہ پیٹ کی ہو دولت کی یا پھر شہرت کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
—–

Share
Share
Share