ہندوستانی سیاست میں ووٹ کی حکمت عملی : – : مفتی امانت علی قاسمیؔ

Share


ہندوستانی سیاست میں ووٹ کی حکمت عملی

مفتی امانت علی قاسمیؔ
استاذ دار العلوم حیدرآباد
E-mail:
07207326738 Mob:

جمہوری ملک میں ووٹ کی اہمیت بہت زیادہ ہے، اس پر حق شہریت موقوف ہے، یہی وہ حق ہے جس کے ذریعہ اپنے حقوق کی جنگ لڑی جاسکتی ہے، ووٹ وہ طاقت ہے جس کے ذریعہ حکومتوں کا الٹ پھیر ہوتا ہے اور جو پارٹی زیادہ ووٹ حاصل کرتی ہے اس کو حکومت بنانے اور ملک کے نظم ونسق کا اختیار ہوتا ہے وہ پارٹی ملک کے سیاہ وسفید کی مالک ہوجاتی ہے،ملک کی تقدیریں ان کے ہاتھوں وابستہ ہوجاتی ہیں، ہندوستان میں مسلمان ا قلیت ہیں اور سوائے کشمیر کے کسی بھی صوبے میں اپنی حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، اور سوائے چند شہر اور ضلع کے ہر جگہ مسلمان منتشر ہیں،اس لئے ووٹ کے سلسلے میں مسلمانوں کی حکمت عملی کی بہت ضرورت ہے-

۲۰۱۴ء کے لوک سبھا انتخاب اور ۲۰۱۷ء کے یوپی اسمبلی انتخاب میں مسلمانوں کے ووٹ نے کوئی خاص رول ادا نہیں کیا اور مسلمانوں کا ووٹ بنک بھی ان دونوں انتخابات میں بالکل غیر مؤثر ثابت ہوا، جس کی وجہ سے لوک سبھا اور یوپی اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی بھی بہت کم ہوگئی،ظاہر سی بات ہے اگر بہتر حکمت عملی اختیار نہ کی گئی اور مسلم ووٹ کوپولرائز نہیں کیا گیا تو اس طرح مسلمانوں کی نمائندگی کم ہوتی چلی جائے گی اور مسلمان بالکل حاشیہ پر آجائیں گے، اس لئے ووٹ کے سلسلے میں حکمت عملی بہت ضروری ہے، آیئے اہل علم اور اصحاب قلم کی تحریر کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس ضمن میں مسلم ووٹ کے پولورائز کرنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں، اس سلسلے میں ایک بات تو تمام اہل علم لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو مسلکی تناظر سے اوپر اٹھ کر سوچنا چاہئے اور سیاسی حکمت عملی میں بحیثیت مسلمان اپنے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
’’ مسلم ارباب حل وعقداپنے طرز عمل میں انقلابی تبدیلی پیدا کریں‘‘ کے عنوان سے مدثر احمد قاسمی نے ایک مضمون لکھا ہے: ’’سیاسی نمائندوں کا انتخاب کثرت ووٹ سے ہوتا ہے، ظاہر ہے کہ اس صورت حال میں اکثریت کی حمایت جنہیں حاصل ہوگی وہی فاتح ہوگا، اب اگر مذہبی بنیاد پر ہم ا پنے آپ کو تقسیم کرلیتے ہیں تو گنتی کی چندسیٹوں کے علاوہ اکثر جگہوں پر ہماری شکست طے ہے، کیوں کہ ہم مذہبی اعتبار سے اقلیت میں ہیں، اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ ہم سیکولر برادران وطن کو سیاسی طور پر اپنا ہم خیال بنائیں اور علاقے کے حساب سے ’’کچھ لو کچھ دو‘‘کی پالیسی بنائیں، کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کوئی دوست کوئی دشمن نہیں ہوتا ہے، اسی وجہ سے ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ اپنے مفادات کو پیش نظر رکھ کر تمام انتخابات کے موقعوں پر ہر خطہ کے لئے اپنا لائحہ عمل تیار کریں اور اپنے مطالبات کے حساب سے سیکولر پارٹی یا کسی دوسرے سیکولر پاٹی اور امیدوار سے سمجھوتا کریں‘‘۔(روز نامہ انقلاب ، جمعرات ۲۲؍مارچ ۲۰۱۷ء)
قاسم سید صاحب جوہندوستانی سیاست پر اپنی خاص سیاسی رائے رکھتے ہیں اور اخبارات میں کثرت سے لکھتے ہیں، یوپی کے ۲۰۱۷ء کے اسمبلی الیکشن میں بی جے پی کی کامیابی پر انہوں نے’’ ٹیکٹیکل ووٹنگ، اپیل اور پریس ریلیز والی سیاست کا انتقال پرملال ‘‘کے عنوان سے ایک مضمون لکھا ہے جس میں انہوں نے تمام ملی جماعتوں کو متحد ہوکر لائحہ عمل تیار کرنے کو کہا ہے:’’بی جے پی ہراؤ کی لفظی پالیسی اور سیکولر پارٹیوں کے منافقانہ رویوں نے مسلمانوں کو سیاسی طور پر بے حیثیت کرکے حاشیہ پر پہونچادیا ہے، پارٹ ٹائم اور موسمی سیاست کبھی نتیجہ خیز نہیں ہوتی ہے، خدا کے لئے کوئی راستہ نکالئے، اضطراب کی کوئی سمت دیجئے، ایک جگہ بیٹھنے کا حوصلہ دکھایئے، جماعتی حصار بندی سے اوپر اٹھ کر اضطراب کو سکون میں بدل دیجئے، سرکار سے ٹکراؤ اور عدالتوں سے تکرار کے علاوہ کوئی حل اور راستہ اگر ممکن ہو تو نکالئے، کیا ہم توقع کریں ، بورڈ، جمعیۃ علماء، جماعت اسلامی ہند،مشاورت،جمعیۃ اہل حدیث وغیرہ دیوبند، ندوہ دیگر مدارس کے اکابرین کوئی لائحہ عمل تیار کرکے رہنمائی کریں گے، کیوں کہ بابری مسجد، راج جنم بھومی تنازع اور طلاق ثلاثہ کا معاملہ ہماری بصیرت کا امتحان لینے آپہونچا ہے‘‘۔(قاسم سید، خبریں روزنامہ، جمعرات ۲۲؍مارچ ۲۰۱۷ء)
انقلاب اخبار نے یوپی کے اسمبلی الیکشن کے بعد ’’یوپی کی ہار کے بعد اب کیا‘‘ کے عنوان سے خصوصی مضامین کی سریز شائع کی تھی، اس کے بعد تمام مضامین کا تجزیہ کیا ہے ،اس تجزیہ میں مشترکہ باتیں یہ ہیں: (۱) خود احتسابی(۲) اپنے منصب کو پہچاننا اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا کہ ہم اپنے منصب سے دور ہوگئے ہیں(۳) برادران وطن سے بہتر اور خوشگوار تعلقات کے ذریعہ اس خلیج کو پاٹنے کی کوشش کرنا جو بڑی تیزی سے بڑھائی جارہی ہے(۴) سیکولر برادران وطن کے ساتھ مل کر سیکولر زم کو تقویت بخشنا(۵) تعلیم و ترقی کے تمام مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھانا(۶) اپنے اب تک کے طرز عمل میں تبدیلی کرکے سوجھ بوجھ کے ساتھ نئی حکمت عملی بنانا(۷) جوش کے بجائے ہوش سے کام لیتے ہوئے یہ سمجھنا کہ کس طرح موجودہ تشویشناک حالات سے باہر نکلنے کی کوشش ممکن ہے۔(روز نامہ ا نقلاب ہفتہ، ۲۵؍ مارچ ۲۰۱۷ء)
مسلمانوں میں حکمت عملی کے تعلق سے عربی کے مشہور پروفیسر ڈاکٹر محسن عثمانی نے ’’چمن سرور کا جل گیا‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا ہے جس میں انہوں نے دوباتوں پر زیادہ زور دیا ہے، ایک یہ کہ برادران وطن اور خاص طورسے پسماندہ طبقات سے تعلقات قائم کیا جائے اور تعلیم کے میدان میں اپنا امتیاز قائم کیا جائے،آج ایک ایسی نسل کی ضرورت ہے جو برادران وطن سے ان کی زبان میں ڈائیلاگ کرسکیں، مذہبی اور سماجی مسائل پر مکالمات کریں۔(پروفیسر محسن عثمانی، چمن سرور کا جل گیا، ملت ٹائمز،۱۸؍ مارچ ۲۰۱۷ء)
سیاسی مسائل پر سنجیدہ خیال ظاہر کرنے والے جماعت اسلامی ہند کے امیر مولانا جلال الدین عمری نے یوپی کے اسمبلی الیکشن کے بعد جماعت کے مرکز میں خطاب کیا تھا، اس میں انہوں نے جن خاص باتوں کی طرف توجہ دلائی تھی ان میں چند اہم باتیں ہیں: (۱) مسلمان الیکشن کا موقع آتا ہے تو اس پر خوب گفتگو کرتے ہیں، لیکن سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور نہیں کرتے(۲) لوگ ا تحاد کا نعرہ تو بلند کرتے ہیں مگر وہ نعرہ خلوص سے خالی ہوتا ہے(۳) ہمیں اس بات کی پوری کوشش کرنی چاہئے کہ مسلمانوں میں موجود انتشار کی کیفیت ختم ہو(۴) دیکھنے میں آیا ہے کہ مسلمان زیادہ تر جذباتیت کا مظاہرہ کرتے ہیں یہ صحیح نہیں ہے۔(موصوف کا یہ مضمون کئی آن لائن اخبار میں شائع ہوا ہے)
جماعت اسلامی کے نائب امیر جناب سعادت اللہ حسینی صاحب نے سیاسی حکمت کے سلسلے میں اپنی رائے ظاہر کی ہے، وہ لکھتے ہیں:
سیاسی سطح پر بڑی ضرورت بیدار مغز سیاسی قیادت کے ابھرنے کی ہے، ہماری سیاسی وملی جماعتیں مل بیٹھ کر مشترکہ سیاسی قوت ابھاریں، ہماری سیاست کو فرقہ پرست اور مسلم قوم پرست رنگ کی بجائے اسلام کی روشنی میں اصول پسند اور انصاف پسند رنگ اختیار کرنا چاہئے، یہ بھی خیال صحیح نہیں ہے کہ ہر جگہ انتخاب میں حصہ لینا ضروری ہے، ملک کے اکثر مقامات پر غیر انتخابی سیاسی اثر اندازی کی حکمت عملی ہی کامیاب ہوسکتی ہے، کہیں کہیں محدود پیمانہ پر صرف مسلمانوں کی نہیں ؛بلکہ تمام طبقات کی نمائندگی کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیا جاسکتا ہے، لیکن زیادہ تر ہماری قیادت کو سیاسی جماعتوں پر دباؤ بنانا ان سے گفت وشنید کرنے اور مصالحت ومعاہدات،ووٹرز کی صحیح رہنمائی اور منتخب نمائندوں سے کام کرانا جیسے کام ہوں گے۔
بہر حال یہ اہل علم اور ارباب فکرودانش کی اپنی اپنی تخیلاتی باتیں ہیں، اور یہ باتیں حکمت عملی کے تعلق سے ہیں ان کا مجموعہ ہمارے لئے مفید ہے، بعض بعض حکمت عملی کے تعلق سے اختلاف ہوسکتا ہے ، اس لئے کہ ہر انسان کے سوچنے کے انداز مختلف ہوتے ہیں، لیکن مجموعی طور پر یہ مخلصانہ خیالات ہیں، بات اصل میں یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کا مستقبل سیاسی قوت کے بغیر مضبوط اور مستحکم نہیں ہوسکتا ہے، لیکن اس سیاسی قوت کو مضبوط کیسے کیا جائے، اس سلسلے میں اہل علم نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے، میں مختصرا الفاظ میں ان خیالات کا تجزیہ کرتا ہوں:
یہ بات طے ہے کہ مسلمانوں میں اجتماعیت بہت ضروری ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر نبوی ہدایت کے مطابق اخوت وبھائی چارگی کی فضاء قائم کی جائے اور سیاسی میدان میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اجتماعیت واتحاد کا مظاہر کیا جائے، آپسی انتشار نے ہم مسلمانوں کو سیاست کے میدان میں ضعیف وناتواں بنادیا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ فرقہ پرستوں نے غیر مسلم سیکولر ذہن رکھنے والوں میں بھی مسلمانوں کے تعلق سے نفرت کا زہر بھردیا ہے جس کی وجہ سے غیر مسلم عام طور مسلمانوں سے سیاسی دوری بنانا چاہتے ہیں، اس فضا کو ختم کرنے کی ضرورت ہے، ہندوستان میں ایک ہزار سال سے ہندومسلم شیر وشکر کی طرح رہتے آرہے ہیں، آج بھی اکثر جگہ مکانات پر ہندومسلم کی چھتیں ملی ہوئی ہیں، تہواروں میں خوشیوں کا تبادلہ ہوتا ہے،غیر مسلم عید میں مسلم گھروں میں سوئیاں کھاتے ہیں تو مسلمان دیوالی کی مٹھائی سے اخوت وطنی کوچاشنی بخشتے ہیں، لیکن ادھر چند سالوں سے بعض غیر مسلم تنظیمیں نفرت کو ہوا دے کر ماحول کو مکدر کرنے کی کوشش کررہی ہیں، ضرورت ہے اس نفرت کی فضا کو ختم کیا جائے اور غیر مسلم بھائیوں کو یہ باور کرایا جائے کہ مسلمان غیر مسلموں کے حریف نہیں حلیف ہیں،مسلمان امن پسند قوم ہیں، اسلام امن وامان کا پیغامبر ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک ہزار سال سے زائد عرصے میں ہندومسلم نفرت کی کوئی مثال نہیں ملتی ہے، اس کے لئے بین مذہبی مکالمات جیسے پروگراموں کا انعقاد بھی مفید ثابت ہوگا۔
آج بیدار مغز سیاسی قیادت کی شدید ضرورت ہے، ہماری ملی وسیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر مشترکہ سیاسی لائحہ عمل طے کرنا چاہئے، آج بہت بڑی دشواری یہ ہے کہ جامع قیادت طے ہونے سے پہلے ہی آپسی قیادت کا معاملہ اٹھ جاتا ہے، جس کی وجہ سے بات آگے نہیں بڑھ پاتی ہے، ضرورت ہے ایثار واخلاص جیسے خوشنما عنوان کو زندگی کا جز بناتے ہوئے سیاسی میدان میں قیادت دوسروں کو سپرد کرکے ایک سپاہی کی طرح کام کیا جائے، اور ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے۔
مسلمانوں میں تعلیم کی کمی اور کمزوری بھی سیاسی حکمت عملی میں ایک رکاوٹ ہے، دینی تعلیم کے ساتھ اعلیٰ عصری تعلیم کا حصول ہمارے لئے بہت ضروری ہے، ملک میں نفرت اور عصبیت کی آگ چاہے کس قدر جلے، لیکن ہمیں تعلیم سے روکنے والا کوئی نہیں ہے، یہ تو ہوسکتا ہے کہ ہمیں تعلیم کے بہتر مواقع اسباب کی کمی کی بنا پر میسرنہ ہوں، لیکن حالات سے نبرد آزما ہوکر اعلیٰ تعلیم کی جدوجہد ہمارا نصب العین ہونا چاہئے، اس سلسلے میں ہماری تنظیموں اور رفاہی اداروں کو بھی خاص توجہ دینی چاہئے اور غریب ونادار طلبہ کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے چاہئے، اعلیٰ تعلیم کے ذریعہ ہم ملک میں انقلابی تبدیلی پیدا کرسکتے ہیں، حکومت کے اعلیٰ عہدہ پر فائز ہوکر ملک وقوم کی خدمت بہتر انداز میں کرسکتے ہیں اور تعلیم ہی وہ جوہر ہے جس کے ذریعہ صحیح اور غلط کی تمیز کرسکتے ہیں اور سیاست میں موثر رول ادا کرسکتے ہیں۔
مسلمانوں کی علیحدہ سیاسی پارٹی اس سلسلے میں مفید ہوگی یا غیر مسلموں کے ساتھ اشتراک مفید ہوگا؟یہ کوئی حتمی اور لازمی امر نہیں ہے، بلکہ حالات اور جگہ کے اعتبار سے اس میں تبدیلی ممکن ہے، کبھی کسی جگہ مسلمانوں کی علیحدہ پارٹی مفید ہوسکتی ہے اور کبھی غیر مسلموں کے ساتھ اشتراک مفید ہوسکتا ہے، اس کا فیصلہ قائدین کو بروقت کرنا چاہئے، الیکشن کے موقع پر بہت ضروری ہے کہ جامع حکمت عملی اور مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے اور انفرادی بیان بازی سے گریز کیا جائے، آج جس کسی کی بھی قومی سطح پر شناخت ہے ، عین الیکشن کے موقعوں پر کسی پارٹی کی تائید اور حمایت میں ان کابیان آجاتا ہے جس سے ماحول میں انتشار پیدا ہوجاتا ہے، مسلم ووٹوں میں انتشار کا ایک سبب یہ بھی ہے میں ان شخصیات کو متہم نہیں سمجھتا ہوں ان کا بیان ایک نیک جذبے سے ہی منظر عام پر آتا ہے ، لیکن ایک بیان کی وجہ سے بہت سی طے شدہ پالیسیاں درہم برہم ہوجاتی ہیں، اس لئے اگر یہ بیان مشترکہ جاری کیا جائے اور وقت کی نزاکت کا خیال کیا جائے تو اس کے اچھے ا ثرات پڑیں گے۔
دیکھنے میں یہ بھی آتا ہے کہ ہمارے بہت سے قائدین الیکشن کے موقع پر بالکل خاموش ہوجاتے ہیں، ممکن ہے کہ انتشار سے بچنا مقصود ہو، لیکن ہمارے اکابرین کی تاریخ رہی ہے تو انہوں نے میدان میں اتر کر قوم کی رہنمائی کی ہے، اس لئے قومی رہنمائی بہت ضروری ہے، الیکشن کے موقع پر دو قسم کی حکمت عملی اپنائی جاسکتی ہے، ایک تو یہ کہ اپنی پارٹی تشکیل دے کر کسی سیکولر پارٹی سے اس کا اتحاد کرالیا جائے اور آبادی کے تناسب سے اپنے امیدوار کھڑے کئے جائیں، باقی جگہوں پر سیکولر پارٹی کو ووٹ دیا جائے اس شرط کے ساتھ کہ وہ سیکولر پارٹی ہمارے مسلم امیدواروں کو ووٹ دے گی، دوسری حکمت عملی یہ ہوسکتی ہے انتخابی سیاست سے بالکل دست بردار ہوکر دباؤ اور مطالبہ کی سیاست اختیار کی جائے کسی بھی پارٹی سے معاہدہ کرلیا جائے کہ وہ ہمارے فلاں فلاں منصوبہ کو بروئے کار لائے اور ہم انتخاب میں ان کے نمائندوں کو ووٹ دیں گے یہ دونوں ہی حکمت عملی بہتر ہے جگہ اور حالات کے اعتبار سے دونوں حکمت عملی اختیار کی جاسکتی ہے۔
ووٹ میں اگر اتحاد ہو تو طاقت ہے اور اگر اتحاد نہ ہو جس کا جی چاہے جس کو ووٹ دے دے تو ظاہر سی بات ہے کہ اس ووٹ کا کوئی موثر کردار نہیں ہوگا، اس لئے ووٹ کو پولرائز کرنا اور اس کے لئے حکمت عملی بنانا بہت ضروری ہے اور اس حکمت عملی کو مخفی رکھنا اور طرح طرح بیان بازی سے احتراز کرنا ضروری ہے، الیکشن کے موقعہ پر دوسری پارٹیاں اشتعال دلانے اور جذبات میں لانے کی بہت کوشش کرتی ہیں ایسے موقعوں پر ہوش مندی اور دانش مندی کی ضرورت ہے، بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم کسی پارٹی کو ہرانے کے لئے ووٹ کرتے ہیں یہ منفی سوچ ہے، جوانتہائی نقصان دہ ہے، ہمیں ہمیشہ اپنے امیدوار کو جتانے کے لئے ووٹ ڈالنا چاہئے، کانگریس نے ہمیشہ بی جے پی کا خوف دلا کر ہم سے ووٹ کا مطالبہ کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے بعد بھی کانگریس نے مسلمانوں کو اس کا حق نہیں دیا، اس لئے کہ مسلمانوں کے ووٹ دینے کو انہوں نے مسلمانوں کی مجبوری محسوس کیا اپنی ضرورت نہیں مسلمانوں کو اس احساس سے بھی نکلنا چاہئے اور جو بھی مسلم مفادات کے حق میں کام کرنے کا پختہ وعدہ کرے اس کو ووٹ دینا چاہئے۔

Share
Share
Share