علاّمہ اقبالؔ کا نظریہ تعلیم : – ڈاکٹر سید اسرارالحق سبیلیؔ

Share

نظریہ تعلیم
علاّمہ اقبالؔ کا نظریہ تعلیم

ڈاکٹر سید اسرارالحق سبیلیؔ

09346651710

ڈاکٹر سرمحمد اقبالؔ (۱۸۷۷۔۱۹۳۸ء)شاعر مشرق ، مفکّر اور فلسفی شاعر کی حیثیت سے دنیا ئے ادب میں مشہور ہیں، اقبالؔ نے اپنی فکر و فلسفہ میں تعلیم و تربیت کو خاص طور سے شامل کیا ہے، انہوں نے تعلیم کی فنیّ اور عملی صورتوں پر غور کیا، مسائل تعلیم کو اپنی توجہ کا مر کز بنا یا اور اسے اپنے فلسفۂ حیات میں مناسب جگہ دی ہے، اقبال نے اپنے عہد کے نظام تعلیم کا گہر ائی سے مطالعہ کیا ، اور اس پر تنقیدی نظرسے جا ئز ہ لیا ہے، انہوں نے مد رسہ ، طلبہ، اسا تذہ اور نصاب تعلیم پر اظہار خیال کیا ہے-

انہوں نے مشرق و مغرب کے فلسفہ ء تعلیم اور نظام کا ر کو سا منے ر کھا ہے، دونوں کا ایک دوسرے سے تقابل کیا، ان کے درمیان حدّفاصل کھینچی ہے، خو بیوں اور خامیوں کا جا ئزہ لیا ہے، اور یہ بتا یا ہے کہ زندگی کو کا میاب طر یقہ سے بر تنے اور اس کی مز احمتوں پر قابو پا نے کے لئے کس قسم کی تعلیم اور نظام تعلیم کی ضرورت ہے۔
مسائل تعلیم سے اقبال کی دل چسپی صرف نظری بحثوں اور خیال آرائیوں تک محد ور نہ تھی، بلکہ عملی طورپر انہوں نے اس میں حصہ لیا ہے، تعلیم کے مشا غل و مسائل سے عملاً ان کی دل چسپی کا ایک ثبوت تو یہی ہے کہ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز معلّم کی حیثیت سے کیا، اور شعبۂ تعلیم و تد ریس سے تقریباًپندرہ سال منسلک رہے، اور اگر ان میں ان کے لکچر وں کو بھی شامل کر لیا جا ئے جو انہوں نے حیدر آباد، مدر اس ، میسور، لا ہو ر، علی گڑ ھ، الہٰ آباد اور دہلی و غیرہ میں و قتاً فوقتاد ےئے، جن میں سے بیش ترکی حیثیت اعلیٰ تعلیم کے مو ضو ع پر تو سیعی خطبات کی سی تھی، نیز مختلف جا معات کی نصابی کمیٹیو ں کا ممبر ہو نا اور اعلیٰ تعلیم کے امتحانات کے سلسلہ میں مختلف اداروں میں بہ حیثیت ممتحن ان کا بلا یا جا نا اس امر کا ثبوت ہے کہ تعلیمی مسائل و مشاغل سے ان کی دل چسپی کا سلسلہ کسی نہ کسی طورپر تا عمر قا ئم رہا، ان تمام با توں کے نتیجہ میں ایک مفکر کی حیثیت سے انہوں نے تعلیم مسئلہ پر بھی گہری نظرپیدا کر لی تھی ، اور ان کے تعلیمی تصوّرات میں تنظیم و تفکر کے ایسے آثار رونما ہو گئے تھے جن کی بد ولت ان کا شمار تعلیمی مفکر ین میں کیا جا نے لگا، اور اہم تعلیمی مسائل کے سلسلہ میں نہ صرف اند رون ملک بلکہ بیرون ملک بھی ان کی افکا ر و تجر با ت کو اہمیت دی جا نے لگی۔
مسئلہء تعلیم سے اقبال کی نظری و علمی دل چسپی کا ثبوت ۱۹۱۲ء سے یعنی اس وقت سے ملتا ہے جب کہ نہ تو ابھی ان کا کو ئی فلسفہء حیات مر تب ہو اتھا، نہ ’’اسرا ر خو دی‘‘ منظرعام پر آ ئی تھی، اور نہ سیاست کے خار زار میں انہوں نے قدم ر کھا تھا، چنا نچہ مسٹر گو کھلے نے امپیر یل لیجسلیٹو کو نسل میں جبری یا لازمی تعلیم کا ایک مسوّدہ پیش کیا، جو ہندؤ ں اور مسلمانو ں میں مذہبی حیثیت سے زیر بحث رہا، مختلف شہروں میں اس کی و ضاحت اور تا ئید و تر دید میں جلسے ہو ئے، ایک بڑا جلسہ اسلامیہ کا لج لاہور میں ۸/فروری ۱۹۱۲ء ؁کو علامہ اقبال کی صدارت میں ہو ا، علامہ نے گو کھلے کے مسوّد ے کی پر زور تا ئید کر تے ہو تے اپنے خطبۂ صدارت میں کہا :
’’ لفظ جبر یہ کسی کو کھٹکنا نہ چا ہتے ، جس طرح چیچک کا ٹیکہ لازمی اور جبری قرار دیاگیا ہے، اور یہ لزوم و جبر اس شخص کے حق میں کسی طرح مضر نہیں ہو سکتا،جس کے ٹیکہ لگا یا جا تا ہے، اُسی طر ح جبر یہ تعلیم بھی گو یا روحانی چیچک کا ٹیکہ ہے، اسلام میں جبر کی تعلیم مو جو د ہے، مسلمانوں کو حکم ہے کہ اپنے بچوں کو زبردستی نماز پڑھا ئیں ، بعض لو گ اعتر اض کر تے ہیں کہ اس جبریہ تعلیم کے قانون کی حد میں لڑکیا ں بھی آجا ئیں گی، مگر ہم چا ہیں تو اس شق کو قا نو ن سے نکلو انے کی کو شش کر سکتے ہیں۔‘‘ (گفتار اقبالؔ :۳ مر تبہ :رفیق افضل، ادارہ تحقیقات پا کستان، دانش گاہ پنجاب لا ہو ر ۱۹۶۹ء ؁)
اس بیان سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ تعلیم کے مسا ئل سے ان کا کتنا گہر اتعلق تھا، اور وہ ان مسائل کو جا نچنے پر کھنے کے لئے اسلامی حدود کے مطابق کیسی کشادہ نظری سے کام لیتے تھے ، ۱۹۱۵ء میں جب ’’اسرار خو دی‘‘ اور ۱۹۱۸ء میں’’رموز بخیو دی‘‘کی اشاعت کے ذریعہ اقبال کا فلسفہ ء خودی یا پیغام حیات منظر عام پر آیا ، تو تعلیم کے سلسلہ میں ان کے فکر ی پہلو بھی سامنے آتے، اور یہ بھی معلوم ہو ا کہ تعلیم کی بلند ترین سطح ان کی نظرمیں کیا ہے؟اور اس سطح تک پہنچنے کے لئے فر داور جماعت کو کیا کچھ کر نا چا ہئے؟
فلسفہ ء خو دی کے حوالہ سے جہاں اقبال با لو اسطہ اپنے تعلیمی تصورات کی اشا عت کر تے رہے، و ہیں تعلیم کے عملی پہلوؤں سے بھی بر ابر دل چسپی لیتے رہے، چناں چہ ۱۹۳۲ء میں جب جے۔ایف۔بر وس تا ریخ کے پر و فیسر کی حیثیت سے پنجاب یونی ورسٹی آئے اور انہوں نے سینٹ کے ہند و ممبروں کے زیر اِثر اسلامی تاریخ کو بی۔اے کے کو رس سے خارج کر نے کی تجویز پیش کی تو مسلمانانِ پنجاب نے اس تجویز کے خلاف کئی احتجاجی جلسے کئے، اس سلسلہ کا ایک بڑا جلسہ علامہ اقبالؔ کی صدارت میں بھی ہو ا، اس میں انہوں نے یو نیورسٹی کے فیصلہ کے خلاف ایک جا مع اور مد لل تقر یر کی اور مسٹر بر وس کی رپو رٹ کا جا ئزہ لیتے ہو ئے ان کے اس استدلال کو کہ ہندوستان کے لو گوں کو اسلامی تاریخ کے بجائے صرف ہندوستان کی تاریخ پرھنی چا ہئے، تنگ نظری و تعصّب کا نتیجہ قرار دیا، اور دلائل سے ثابت کہا کہ کسی قوم کی تا ریخ صرف ایک قوم کی تاریخ نہیں، بلکہ اجتماعی حیثیت سے روحِ انسانی کی عکاس اور پو رے عالمِ انسانی کی تاریخ ہو تی ہے، اور اسی نسبت سے اسلامی تاریخ بھی صرف مسلمانوں کی نہیں ، بلکہ کل اقوامِ عالم کی تاریخ ہے۔ ( گفتارِاقبالؔ :۱۵۳)
تعلیم کے نظری اور عملی مسائل سے اقبالؔ کی دل چسپی اور وسعتِ نظر کا اندازہ ان تجاویز سے بھی لگا یا جا سکتاہے جو انہوں نے اسلامیات کے نصاب سے تعلق صاحبز ادہ آفتات احمد خاں کے سوالات کے جو ابات میں مر تب کرکے انہیں بھیجی تھیں، اور جس میں انہوں نے علی گڑھ یو نی ورسٹی ، پنجاب یو نی ورسٹی اور دیو بند و ندوہ جیسے تعلیمی اداروں کے نصاب و طر یقہء تدریس کو پیش نظر رکھ کر ایک مکمل لا ئحہ، عمل مر تب کیا تھا۔ ( فکرِاقبالؔ : ۹۱ مر تبہ پر و فیسر غلام دستگیر رشید، حیدرآباد دکن ۱۹۴۴ء ؁)۔
مسئلہ تعلیم خصوصاًاسلامی تاریخ کی تعلیم کے سلسلہ میں اقبال کا وہ طو یل خط بھی خاص طورپر قابل تو جہ ہے جو انہوں نے ایک ترکی اسکالر خالد فیصل کے استفار کے جو اب میں لکھاتھا، جس میں علم الانساب کے نصاب و تدریس کے مبا حث پر تفصیل سے گفتگوکی گئی ہے۔ ( اقبال نا مہ:۲/۲۷۲)
علاوہ ازیں ۶/اپریل ۱۹۳۳ء ؁ کو دہلی میں و السئر ائے ہند کی طلب کر دہ تعلیمی کا نفرنس میں اقبال کو مد عو کہا جا نا اور اس سلسلہ میں جو سب کمیٹی لندن میں بنی تھی، اس کا ممبر ہونا ، بعد ازاں علامہ سید سلیمان ندوی اور سر راس مسعود کے سا تھ نا درشاہ فر ما ں روائے افغانستان کی خصوصی د عوت پر و ہا ں کی تعلیمی منصوبہ بندی پر مشورہ دینے کی غرض سے ۱۹۳۳ ؁ء میں اقبالؔ کا کابل جانا ( دیکھئے : سیا حتِ اقبال:۲۰۶مر تبہ حق نو از، کتاب مر کز ،لاٹلپور ۱۹۷۶ء اس امر پر دلالت کر تا ہے کہ انہوں نے مسائلِ تعلیم پر غیر معمولی نظر پیدا کر لی تھی، اور ان کے خیالات و افکار کو علمی حلقوں میں حد درجہ اہمیت دی جا تی تھی۔
بعض خطوط سے یہ بھی معلوم ہو تا ہے کہ علامہ اقبال پنجاب میں ایک بڑااسلامی مر کز قا ئم کر نے کا منصوبہ اور اسے عملی شکل دینے کے آرزومند تھے، چناں چہ وہ علامہ مصطفی المراغی شیخ الجا معہ ازہر کو ایک خط میں لکھتے ہیں کہ :
’’ہم نے ارادہ کیا ہے کہ پنجاب کے ایک گا ؤں میں ایک ایسا ادارہ قائم کر یں، جس کی نظرآج تک یہاں و قوع میں نہیں آتی، ہماری خو اہش ہے کہ اس ادارے کو وہ شان حاصل ہو جو دوسرے دینی اور اسلامی اداروں کی شان سے بہت بڑھ چڑھ کر ہو، ہم نے ارادہ کیا ہے کہ علوم جدیدہ کے فارع التحصیل اور چند علوم دینیہ کے ما ہر ین کو یہاں جمع کر یں، ہم ان کے لئے تہذیب حاِضرہ کے شور شغب سے دور ایک کو نے ہیں ہو سٹل بنانا چا ہتے ہیں ، ہم ان کے لئے لا ئبریری قائم کر نا چا ہتے ہیں ، جس میں ہر قسم کی نئی اور پر انی کتابیں مو جو د ہوں اور ان کی رہ نمائی کے لئے ہم ایک ایسامعلم جو کا مل اور صالح ہو، اور قرآن حکیم میں بصارت تا مہ رکھتا ہو، نیز انقلابِ دورِ حاضرہ سے بھی واقف ہو، مقر ر کر نا چا ہتے ہیں ، آپ ازراہ عنایت ایک روشن خیال مصری عالم کو جا معہ ازہر کے خرچ پر ہمارے پا س بھیج کر ممنون فر ما ئیں ، مجھے تو قع ہے کہ دین حق کا نور اس مر کز سے ہند و ستان کے تمام اطراف و اکناف میں پھیلے گا ‘‘۔ (اقبال نا مہ:۱/۲۵۱)
اس خط سے اندازہ ہو تاہے کہ اقبالؔ دینی و عصری علوم پر مشتمل ایک معیاری ادارہ قا ئم کر نے کے متمنی تھے، جہاں جد ید علوم کے سا تھ دینی علوم اور قرآن کی تعلیم کا خصوصی نظم ہو ، تا کہ یہاں سے فا رغ ہو نے والے دینی علوم میں بصیرت کے سا تھ دورحاضر کے جد ید تقاضوں سے واقف ہو ں ، تا کہ قوم و ملت کی دینی اورو حانی اور عصری رہ نمائی کامقدس فر یضہ انجام دینے کے لا ئق ہو ں ۔
تعلیم اور فن تعلیم کے مسائل سے اس گہر ے لگاؤ کے پیش نظریہ سوال پیدا ہو تاہے کہ تعلیم کے سلسلہ میں اقبال کے بنیادی تصوارت کیا تھے؟ اپنے عہد کے نظام تعلیم سے وہ کسی حد تک مطمئن تھے؟ انفر ادی و قومی سطح پر مر و جہ نظام و نصاب تعلیم میں وہ کس قسم کی تبد یلیاں چاہتے تھے، اور ان تبدیلیوں سے ان کا مقصود کیاتھا؟ مناسب ہو گا کہ سب سے پہلے آخری سوال سوال یعنی تعلیم کے سلسلہ میں ان کے مقصود نظر پر روشنی ڈالی جا تے ، تاکہ بقیہ سوالوں کا جو اب آسان ہو جا ئے۔
اقبال کے کلام و مقالات کے مطالعہ سے اندازہ ہو تا ہے کہ تعلیم کے سلسلہ میں ان کا ممطح نظران کے فلسفہء خو دی سے الگ نہیں تھا، فلسفہ خودی کی روح عظمت آدم اور احتر ام انسانیت ہے، اس کے لئے وہ ایک ایسے معاشرہ کی تشکیل چا ہتے تھے جس کی بنیاد رنگ و نسل یا علاقائی تفریق کے بجائے اخوت انسانی اور عالم گیر انسانی بر ادری پررکھی گئی ہو، اور جس میں بندہ و آقایا افغانی و تو رانی اور مغربی و مشرقی کے امیتازات کو بالا ئے طاق رکھ کر ہر شخص کو تکمیل خودی کے یکساں مو اقع حاصل ہو ں ، اور جس میں استحصال، مر عو بیت اور احساس کم تری کا عمل دخل نہ ہو ، تکمیل خو دی سے مر اد فر دمیں ایسی لچک دار اور متوازن سیرت و کر دار کی تخلیق ہے، جس کے سہارے وہ زند گی کے سارے نشیب و فراز میں کا میابی سے گزر سکے، چنانچہ فر د کے لئے اقبال کا پیغام یہ ہے کہ :
مصاف زندگی میں سیرت فولا د پیداکر ۔ شبستان محبت میں حر یر و پر نیاں ہو جا
گزر جا بن کے سیل تند رو کو ہ وبیایاں سے۔ گلستان راہ میں آئے تو جو ئے نغمہ خواں ہو جا
اقبالؔ کا خو دی کی تر بیت و استحکام پر زور دینا، زند گی کے سارے مر حلوں میں فر د کو صرف اپنی ذات پر اعتماد کر نے کی تلقیں کر نااس امر پر دلا لت کر تا ہے کہ وہ ذاتی اور انفرادی تعلیم کو رسمی اور جا معاقی تعلیم سے کم اہمیت نہیں دیتے تھے، انہیں یقین تھا کہ غیر رسمی اور ذاتی تعلیم جسے ایک فر د اپنے ذاتی تجر بوں اور مشاہدوں کی مدد سے حا صل کر تا ہے، رسمی اور مکتبی تعلیم کے مقابلہ میں زیادہ صحت مند، تو انا، قابل اعتماد، حقیقت شناس اور کا رگر ہو تی ہے، کیوں کہ رسمی تعلیم کا سلسلہ مکتب یا اسکول سے شر وع ہو کر کا لجوں اور یو نی ورسٹیوں پر ختم ہو جا تا ہے، جب کہ ذاتی اور غیر رسمی تعلیم کا سلسلہ عمر بھر جا ری رہتا ہے، گو یا رسمی تعلیم، تعلیم کا حاصل و مقصود نہیں، بلکہ اس غیر رسمی تعلیم کا زینہ ہے، جو فر دمیں یقین و خو د اعتمادی کی صفات پیدا کر کے اسے رفعتِ انسانیت اور معراج بشریت سے ہم کنار کر تی ہے۔
ظاہر ہے ایسی تعلیم جو کہ فر د میں زندگی بھر کے لئے جستجو ئے علم کا شوق و ولولہ پیدا کر دے اور اسے اپنے طورپر اپنی خو دی کی تعمیر کا مو قع فر اہم کر سکے ، آزاد فضا میں ہی میسرآ سکتی ہے، ایسا ما حول جس میں خوف اور مر عو بیت کو دخل ہو ، خو دی کے ارتقاء اور ذہن کی نشو و نما کے لئے ساز گار نہیں ہو سکتا، اس لئے اقبال کے نز دیک تعلیم اور تعلیم کے اعلیٰ مقاصد کے حصول کے لئے اس کا ما حول ، ان عناصر سے پا ک ہو جو طالب علم میں محکو ما نہ یا غلاما نہ ذہنیت پیدا کر سکتے ہو ں، خو اہ یہ غلامی و محکومی سیا سی و سماجی ہو، یا نفسیاتی ، ذہنی اور معاشی ہو ۔
علا مہ اقبال مشرق کے نظام تعلیم کو اس لئے غیر مؤ ثر اور بے روح خیال کر تے ہیں کہ وہ استحصالی اور استعماری قوت کا زائیدہ و پر وردہ ہے، مغرب نے نہایت چالا کی سے علم کے نا م پر دین اور تہذیب کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور جسمانی قتل کے فر سو دہ اور بدنام طر یقہ کو چھوڑکر گہرے سازش کے تحت مشرقی اقوام و ممالک کو اپنا آلۂ کا ر بنا لیا ہے، جو نئی نسل کی رو حانی اور مذہبی نسل کشی کے متر ادف ہے :
گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مد رسہ نے تر ا
کہا ں سے آئے صدا لا الہ الا اللہ
عصر حا ضر ملک الموت ہے تیرا جس نے
قبض کی روح تری، دے کے تجھے فکر معاش
اور یہ اہلِ کلیساکا نظام تعلیم
ایک ساز ش ہے فقط دین و مر و ت کے خلاف
ہم سمجھتے تھے کہ لا ئے گی فر اغت تعلیم
کیا خبر تھی کہ چلا آئے گا الحا د بھی سا تھ
گر چہ مکتب کا جو اں زندہ نظر آتا ہے
مر دہ ہے، ما نگ کے لا یا ہے فر نگی سے نفس
علا مہ نے اپنی نظم :’’فر دوس میں ایک مکا لمہ ‘‘ میں جدید تعلیم میں مذہب کی ضرورت و اہمیت کو اس طرح اجا گر کیا ہے :
جب پیرِ فلک نے درق ایام کا الٹا ۔  آتی یہ صدا پا ؤ گے تعلیم سے اعزاز
آیا ہے مگر اس سے عقیدوں میں تزلزل ۔  دنیا تو ملی، طا ئرِ دیں کر گیا پر و از
دیں ہو تو مقا صد میں بھی پیدا ہو بلندی ۔  فطرت ہے جو انوں کی زمیں گیر، زمین تاز
مذہب سے ہم آہنگئی افراد ہے با قی ۔  دیں زخمہ ہے، جمعیت ملت ہے اگر ساز
بنیاد لرز جا تے جو دیوار چمن کی ۔  ظا ہر ہے کہ انجام گلستان کا ہے آغاز
پا نی نہ ملا ز مزم ملت سے جو اس کو ۔  پیدا ہیں نئی پو د میں الحاد کے انداز
اقبالؔ کے نزدیک مذہب کی رہ نمائی میں علم حا صل کرنے سے مقاصدمیں بلند پروازی پیدا ہو گی، اور افر اد و اقوام کے درمیان ہم آہنگی ہو گی ، کیوں کہ مذہب سے عاری تعلیم نہ بلند فکری پیدا کر سکتی ہے اور نہ اقوام عالم کو متحداور پر امن ر کھ سکتی ہے، جیساکہ مذ ہب سے عاری تعلیم کے علم بر دار اہل یو رپ نے اپنے ہم مذہب کے ساتھ دو عظیم جنگیں لڑیں، اور اپنے سا تھ مشرقی اقوام کو بھی ملوَّث کیا، اور آج تیسری جنگ عظیم کے لئے بھیا نک تیار یاں جا ری ہیں۔
مغرب اور مغرب کے زیرِ اثردرس گا ہو ں کے با رے میں اقبالؔ کا شکو ہ ہے کہ ان درس گا ہو ں میں طلبہ کی کر دار سازی نہیں ہو پارہی ہے، یہ نظامِ تعلیم شا ہین بچوں کو کر گس بنانے کا فن بن گیا ہے، اس تعلیم کے سبب نو جو ان یا س و محرو می کے شکار ہو گئے ہیں، نہ ان میں جو ش عمل ہے، نہ جذبۂ خو دداری ہے، یہ نظام تعلیم مذہب و اخلاقیات کے خلاف ایک منظم سازش ہے، پڑھا نے و الوں میں نہ افکار کی ندرت ہے ، نہ خیال کی جدّت، نہ علم کی گہرائی ، یہی حال پرھنے والوں کا ہے، نہ ان میں تحصیلِ علم کی لگن ہے، نہ حقاتق کی جستجو ئنہ تعمیرِ خو دی کا ذوق و شوق، تجد ید و ایجاد کے بجائے ہر با ت میں تقلید کا اثر نما یا ں ہے، روح پر وری کو نظر انداز کر کے صرف جسم پر وری اور ہو سناکی پر سا ر او رصرف کیا جا رہا ہے، نتیجہ میں طلبہ کی نظر سطح بینی سے آگے نہیں بڑ ھتی ، اور زند گی کے ر مو زو حقائق ان کی نظر وں سے پو شیدہ ہیں، یہ با تیں اقبال نے عمیق مطالعے ،گہرے مشاہدے اور ذاتی تجربوں کے بعد کہی ہیں:
آہ !مکتب کا جوان گرم خوں
ساحرِ افر نگ کا صید زبوں
دنیا ہے روایات کے پھندوں میں گر فتار
کیا مد رسہ، کیا مدرسہ والوں کی تگ ودو
کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دما غ اپنے زمانے کے ہیں پیرو
حیات تازہ اپنے ساتھ لا ئی لذّتیں کیا کیا
رقابت ، خو د فر و شی، نا شکیبائی، ہو سنا کی
اہلِ دانش عام ہیں، کم یاب ہیں اہل نظر
کیا تعجب ہے کہ خا لی رہ گیا تیرا ایاغ
شیخ مکتب کے طر یقوں سے کشادہ دل کہا ں
کس طرح کبر یت سے روشن ہو بجلی کا چر اغ
مغربی مد ارس فکر ی بے راہ روی اور کج روی کے شکار ہیں، آزادانہ اور حقیقت پسند انہ سو چ و فکر سے عاری ہیں ، آزادئی فکر کے نام پر غلامانہ فکر کو قبول کر رہے ہیں،مشینی دور میں افکار کے گھوڑ ے کوبے لگام چھوڑدیاگیا ہے، انہیں عقل و تدبّر کی کسو ٹی پر پر کھا نہیں جا رہا ہے، اس لئے نا پختہ افکار بجائے انسان بنا نے کے حیوان بنا رہی ہیں، اور بے لگا م فکر نے بتا ہی کے دہا نے پر لا کھڑ اکیا ہے :
پُر ہے افکار سے ان مدرسہ والوں کا ضمیر ۔ خوب و نا خوب کی اس دورمیں ہے کس کو تمیز
آزادئی افکار سے ہے ان کی تباہی ۔ رکھتے نہیں جو فکر و تد بّر کا سلیقہ
ہو فکر اگر خام تو آزادئی افکار ۔ انسان کو حیوان بنانے کا طر یقہ
پختہ افکار کہا ں ڈھو نڈنے جانے کو ئی ۔ اس زمانے کی ہو ار کھتی ہے ہر چیز کو خام
مد رسہ عقل کو آزاد تو کر تا ہے مگر ۔ چھوڑ جا تا ہے خیا لا ت کو بے ر بط و نظام
ضرب کلیم میں ’’ اجتہاد‘‘ اور ’’ ہندی مکتب‘‘ کے عنوان سے اقبال نے درس گا ہو ں کی کم عیاری، بے جا ن ما حول، تقلیدی انداز تدریس ، نصا ب کی بے معنو یت ، گُھٹی گُھٹی فضا، فکر سے عاری اورخرافات میں گر فتار ذہن پر اظہارِ تا سف کیا ہے اور مدرسہ و اہلِ مد رسہ کو بڑی خوب صورتی سے طنزِلطیف کا نشانہ بنا یا ہے :
اقبال ؔ یہاں نام نہ لے علم خو ری کا
مو زوں نہیں مکتب کے لئے ایسے مقالات
آزادی کی اک آن ہے محکوم کا ایک سال
کس درجہ گراں سیر ہیں محکوم کے اوقات
آزاد کا اند یشہ حقیقت سے منوّر
محکوم کا اند یشہ گر فتارِ خرافات
مو سیقی و صورت گر ی و علم بناتات ( ہندی مکتب)
ہند میں حکمت دیں کو ئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذتِ کر دارنہ افکار عمیق
حلقۂ شوق میں وہ جراتِ اند یشہ کہا ں
آہ! محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق ( اجتہاد )
اس طرح کے بے شمار اشعار ہیں، جن میں اقبالؔ نے مغرب کی حکمت و دانش اور تہذیب و تمدن کو تعلیم اور نظام تعلیم کے حوالہ سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے، اقبال مغرب کے ما دہ پر ستانہ نظامِ تعلیم ہی کو مغربی تہذیب کی ساری خرابیو ں کی جڑ خیال کر تے تھے ، اور مشرق میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ مغرب ہی کے زیرا ثر ہو ر ہا ہے، اور مشرق کے اسا تذہ نے تعلیم کے با ب میں جو تقلیدی اور محکومانہ اندازِ فکر اختیار کر ر کھا ہے، اس میں مغرب کے حکمرانوں اور ان کی حکمتِ عملی کو بڑادخل ہے، چنانچہ اقبال نے مغرب کے نظامِ تعلیم پر بڑی سخت تنقید یں کی ہیں، اور چوں کہ مشرق کی خرابی کا ذمہ داربھی مغرب ہی ہے، اس لئے انہوں نے مغرب پر لعن طعن کر نے کاکو ئی مو قع ہا تھ سے جا نے نہیں دیاہے۔
تعلیم کے مسئلہ میں اقبال کی رائیں کسی تنگ نظری کی شکار نہیں ہیں ، بلکہ انہوں نے مغرب کے قلب میں بیٹھ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی، اور مغربی طر ز زندگی کا نہا یت قر یب سے مشاہدہ کیا تھا، وہ یو رپ سے اوروں کی طر ح محض مر عوب و مسحور ہو کر نہیں لو ٹے، بلکہ مغرب کے خلاف بغاوت کے عناصر ان کی طبیعت میں پہلے سے بھی زیادہ قوی ہو گئے تھے :
خیر ہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فر نگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خا کِ مدینہ و نجف
غداب دِانش حا ضر سے با خبر ہو ں ہیں
کہ اس غداب میں ڈالا گیا ہو ں مثلِ خلیل
عصری مدارس یا مر وجہ نظام تعلیم پر طنز و تنقید کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اقبال علم و فن یاا سا تذہ و تعلیم کی اہمیت و افادیت کے قا ئل نہیں تھے، بلکہ وہ اپنے زمانے کے بہت بڑے عالم، دانش ورا ور اسکالر تھے، اور شراب علم کی لذت کے لئے کشاں کشاں مشرق سے مغرب پہنچے تھے :
چلی ہے لے کے وطن کے نگار خا نے سے
شرابِ علم کی لذت کشاں کشاں مجھ کو
تعلیم ان کے نز دیک ملت کے جملہ امراض کی دوا اور خون فا سد کے لئے کا رگر نشتر ہے، اسا تذہ بھی ان کے نز دیک قوم کے معمارہیں، ان کو احساس تھا کہ مغرب کا نظام تعلیم مشرق کے مقابلہ میں بہر حال اثر انگیز اور زندگی افروز ہے، ہر چند کہ اس کی بنیاد عقل یعنی ما دی ترقیوں پر ہئے با یں ہمہ اس کی کامرا نیا ں قا بلِ رشک ہیں ،اس نے ز مین کے چپے چپے کو فردوس بنادیا وہے اور مشرق ا بھی تک خیا لی جنت کے انتظار میں ہا تھ پہ ہا تھ دھرے بیٹھا ہے :
فردوس جو تیرا ہے کسی نے نہیں دیکھا ۔ فرنگ کا ہر قریہ فر دوس کے ما نند
ایک جگہ اقبال نے و اضح الفاظ میں اہلِ فر نگ کی تعریف کر تے ہو ئے بتا یا ہے کہ مغرب کی قوت کا راز چنگ و رباب، رقص و سر ور ، عر یانی و بے حیائی ، مو تر اشی ولا لہ روئی یا لا دینی وخطِ لا طینی میں نہیں بلکہ علم و فن کی تر قی میں ہے :
قوتِ مغرب نہ ازچنگ ورباب ۔ نے ز ر قصِ د ختر انِ بے حجاب
نے ز سحر سا حران لا لہ روست ۔ نے زعریاں ونے از قطع مو
محکمی اورانہ از لا د ینی است ۔ نے فر و غش از خط لا طینی است
قوتِ افر نگ از علم و فن است ۔ ازہمیں آتش چر اغش روشن است
لیکن مغربی علوم و فنون میں دستگاہ ر کھنے کے سا تھ اقبالؔ اہلِ مشرق خصو صاًملت اسلامیہ سے یہ مطالبہ کر تے ہیں کہ وہ اپنے نظامِ تعلیم اور طر یقہ ، تد ریس میں مغرب کی تقلید و پیروی کے بجا ئے تجد د واجتہاد سے کا م لیں، خو د کو غلامانہ ذ ہنیت سے آزاد کر یں، اور ملّی حرّیت پسندی کے شا یا نِ شان اپنی درس گا ہو ں کے لئے نصاب تعلیم مر تب کر یں ، اس نصاب کے راہ نما اصول قرآن اور سنت سے ما خو ذ ہو ں ۔
اقبالؔ مد ارس کے ماحول کو تقلید سے پاک ، خو ف و ہر اس سے مبرّاحیات افر وزی سے ہم کنار ، علم و فکر سے زیادہ جذب و شوق اور تخمین و ظن سے زیادہ عشق و یقین کے جذبوں سے معمور، تعصب و تنگ نظری سے نزّہ ، احترامِ آدمیت اور کشادہ قلبِ انسانی سے ہم آہنگ اور اخوت و محبت کی بنیادوں پر استوار دیکھنے کے متمنی تھے۔
وہ چا ہتے تھے کہ تعلیمی درس گا ہیں آدمی کو انسان بنا ئیں ، دما غ کے سا تھ روح کی غذا کا بھی سامان فر اہم کر یں، دنیاداری کے ساتھ دین داری بھی سکھا ئیں ، علم و فکر کی روشنی کے سا تھ قلب و نظر کی روشنی بھی عام کر یں، ظاہر کے ساتھ با طن پر بھی نظر رکھیں اور زندگی کے مختلف مر احل میں ما دّی و سائل کے ساتھ با طنی شعو ر و خو د آ گہی کی قو توں سے بھی کا م لیں، اقبالؔ کے نزدیک ایسا ہو نا اسی وقت ممکن ہے، جب کہ نظامِ تعلیم اور نصابِ تعلیم میں دینی اور مذہبی تعلیم کو بنیادی اہمیت دی جا ئے۔
مغرب کی خرابی یہ ہے کہ اس نے اپنے نظامِ تعلیم سے اخلاقیات کے درس اور دینی تعلیم کو یکسر خارج کر دیا ہے، ذہن کے لئے تو نئے نئے راستے کھو لے ہیں، لیکن کشاد قلب کی راہیں بند کر دی ہیں ، اس کے بر عکس مشرق کے قدیم نظامِ تعلیم میں غلط قسم کی با طنیت اور خو د کو فنا کر د ینے والی روحا نیت پر اتنا زور دیا گیا ہے کہ اس کی نظرے خارجی حقائق پو شیدہ رہ گئے ہیں ، نئے نظامِ تعلیم میں ذہن و قلب ، خبر و نظر، عقل و عشق اور جسم و جا ن کا یہ عدم تو ازن اقبال کو بہت کھٹکتا تھا، وہ ان میں تو ازن و تو افق پید ا کر نا چا ہتے تھے، وہ چا ہتے تھے کہ مغرب عقل کے سا تھ عشق کو بھی اپنا ر ہ نما بنا ئے اور مشرق روحانی قدروں کی محافظت کے ساتھ ساتھ جد ید علوم و فنون سے بھی پو ری طر ح مسلح ہو، گو یا، اقبال ایک ایسا نظامِ تعلیم چا ہتے تھے کہ جس میں مشرق و مغرب کی تمام خو بیاں جمع ہو ں ، اور جس میں تعلیم و تربیت پا کر ایک فر د دل و دماغ کی جملہ قوتوں کے سا تھ متوازن و مکمل شخصیت کا حا مل بن سکے، جیساکہ اقبال ضرب کلیم کی نظم: ’’علم اور دین ‘‘ میں اپنے جذبہ کا اظہار کر تے ہیں :
زمانہ ایک، حیات ایک ، کا ئنات بھی ایک
دلیلِ کم نظری ، قصۂ جدید و قدیم
چمن میں تر بیتِ غنچہ ہو نہیں سکتی
نہیں ہے قطرۂ شبنم اگر شر یکِ نسیم
وہ علم ، کم بصری جس میں ہمکنار نہیں
تجلیاتِ کلیم و مشا ہد اتِ حکیم !
——
کتابیات :
(۱) کلیات اقبال
(۲) نقوش اقبالؔ ( علامہ ابو الحسن علی نددی ؒ )
(۳) اقبالؔ کا فن ( ڈاکٹر گو پی چند نا رنگ)
(۴) دس عظیم شاعر ( فاروق ارگلی)
(۵) اقبالؔ سب کیلئے ( ڈاکٹر فر مان فتح پو ری )
(۶) اقبالؔ کی اردو نثر ( ڈاکٹر عبادت بر یلوی )
(۷) اقبالؔ دانا ئے روز گار ( عبد اللطیف اعظمی)
(۸) حا فظ اور اقبالؔ ( یو سف حسین خاں)
——
ڈاکٹر سید اسرارالحق سبیلیؔ
اسسٹنٖٹ پروفیسر و صدر شعبۂ اردو
گورنمنٹ ڈگری اینڈپی جی کا لج سدی پیٹ۔ ۱۰۳ ۵۰۲، تلنگانہ

09346651710

Share
Share
Share