ابن غوری کی کتاب : فکریے ۔ تبصرہ:محمد حنیف قاسمی

Share

Fikriyay Title

نام کتاب: فکریے
مصنف: ابن غوری
صفحات: ۱۶۲ قیمت: ۔/۹۰
ملنے کا پتہ: (۱) ابن غوری(9392460130)
(۲) ہدیٰ بک ڈپو، پرانی حویلی، حیدرآباد۔۲
(۳) مکتبہ کلیمیہ، درگاہ یوسفین روڈ، نامپلی، حیدرآباد۔۱
تبصرہ نگار: محمد حنیف قاسمی

’’فکریے‘‘ محترم جناب ابن غوری کے ان فکر انگیز اور دل پر چوٹ کرنے والے ان چھوٹے چھوٹے مضامین کا مجموعہ ہے جن میں غوری صاحب نے سماج میں پھلی ہوئی دینی، مذہبی اور سماجی قسم کی برائیوں پر طنز کیا ہے۔ ان میں طنز کی کاٹ اتنی گہری ہے اور وار اتنا قوی ہے کہ کوئی قاری تلملائے بغیر نہیں رہ سکتا، بلکہ بسااوقات ان جملوں کوپڑھ کر اپنی اصلاح پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
غوری صاحب کا یہ اسلوب خود ان کا وضع کردہ ہے اور کم از کز اسلامی مذہبی لٹریچر میں اتنے مختصر جملوں میں ایسی زبردست ہنرمندی کی کوئی روایت موجود نہیں ہے، مولانا عبد الماجد دریابادی اور جناب نصر اللہ خاں عزیز جیسے ایک دو لکھنے والوں نے اپنی غیر معمولی ادبی صلاحیت کی بنا پر اس طرح کے کالم لکھے ہیں، لیکن غوری صاحب کا انداز بعض حیثیتوں سے ان سب سے جداگانہ ہے اور اس کے پیچھے ان کا مذہبی شعور ، مثبت فکر اور الفاظ کے درجہ حرارت کا بھر پور ادراک ہے، وہ الفاظ سے کھیلتے ہیں اور ان کی ایک خاص ترتیب قائم کرکے عبرت وموعظت کے پہلو نکال لیتے ہیں، اس کام میں ان کی گہری بصیرت اور شعور کو بھی دخل ہے، سماج کے قابل اصلاح پہلؤں پران کی نگاہ اتنی گہری ہے کہ جب قاری کسی خاس طبقہ کی کسی خاص کمزوری کا ذکر پڑھتا ہے تو اچھل جاتاہے کہ ان کی نگاہ نے اس طبقہ کی سات پردوں میں چھپی ہوئی یہ کم زوری کیسے دیکھ لی، اور اس پر ان کا طنز اور تبصرہ پڑھ کر تلملاجاتاہے ۔
ہندوستان میں طبقہ علماء کے ایک بہت ممتاز صاحبِ قلم، مصنف وادیب جناب محسن عثمانی صاحب نے ابن غوری کے اسلوب کے بارے میں بجا فرمایاہے:
’’میں نے محترم ابن غوری صاحب کی بہت ساری تحریریں دیکھی ہیں ان کا اسلوب ما قل ودل کا مصداق ہے، دریا کو کوزہ میں بند کردینے کا فن انھیں آتاہے ، ان کے اسلوب کی ایک دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ مشکل اور وسیع المعنیٰ کلام کو بہت آسان زبان میں اس طرح پیش کردیتے ہیں کہ وہ بات بہت عام فہم اور ہر شخص کے پیمانہ فہم کے مطابق ہوجاتی ہے‘‘۔
یہ کتاب ایسے بہت سے فکریوں پر مشتمل ہے جن میں زندگی ہے، تابندگی ہے، عبرت ہے، نصیحت ہے، مشورہ ہے، تازیانہ ہے، اور سب سے بڑھ کر مایوسی کے بجائے عمل کا پیغام ہے۔ یہ فکریے ملک بھر کے بہت سے اخبارات ورسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں اور قارئین کی طرف سے داد تحسین حاصل کرتے رہے ہیں، مصنف نے بہت اچھا کیا کہ انھیں ایک مرتب کتاب میں جمع کرکے استفادہ کا دائرہ بہت وسیع کردیا اور بیک وقت اس کو حاصل کرنا آسان بنادیا۔
یقیناًیہ کتاب اور اس طرح کی دوسری کتابیں اس لائق ہیں کہ ہماری نئی نسل اور اہل علم وقائدین ان سے فائدہ اٹھائیں اور ان کے مثبت اسلوب اور فکر انگیز طرز سے روشنی حاصل کرکے مسلم معاشرہ کی ہمہ جہتی اصلاح کے کام میں لگ جائیں۔ اس لیے اس کتاب کے عام مطالعہ کی سفارش کی جاتی ہے۔

Share
Share
Share