بچوں کا ادب اور اخلاق ایک تجزیہ :- وکیل نجیب

بچوں کا ادب اور اخلاق ایک تجزیہ :- وکیل نجیب

بچوں کا ادب اور اخلاق
ڈاکٹر سید اسر ار الحق سبیلی کا تحقیقی و تخلیقی شعور
بچوں کا ادب اور اخلاق ایک تجزیہ : کے تناظر میں

وکیل نجیب
نجیب منزل ،نزد لال اسکول
مومن پورہ ناگپور ۔۴۴۰۰۱۸ (مہاراشٹر)
 Cell:09373114213 

گذشتہ چند برسوں میں بچوں کے ادب پر کافی کچھ لکھا گیا ، کھل کر لکھا گیا اور دل کھول کر لکھا گیا اور یہی حال بچوں کے ادب کا بھی رہا۔ بہت سے نئے پرانے شاعروں ادیبوں نے ادب اطفال کے تئیں اپنی دلچسپی دکھائی ۔ اس طرح ادب اطفال کے خزانے میں بہت سی اچھی بری چیزیں شامل ہوتی گئیں۔ اس جذبہ کو مہمیز کرنے کا کام ریاستی اکادمیوں نے بڑھ چڑھ کر کیا ۔

کتابیں شائع کرنے کے لیے مالی اعانت دی گئی اور کتابوں کوانعامات سے نوازا گیا ۔ اس عمل میں اشتعال اس وقت پیدا ہوگیا جب قومی ساہتیہ اکادمی نے بچوں کے ادب پر پچاس ہزار کا انعام دینے کا سلسلہ شروع کیا ۔ بڑے بڑے شاعر اور ادیب جو بچوں کے ادب کو ادب نہیں مانتے تھے اور مانتے بھی تھے تو دوسرے اور تیسرے درجے کا وہ بھی ادب اطفال کے اکھاڑے میں لنگوٹ باندھ کر اتر پڑے اور قومی ساہتیہ اکادمی کے ایوارڈ کے سب سے بڑے دعویدار بن کر سامنے آگئے۔ اب جو لوگ برسوں سے صرف بچوں کا ادب ہی تخلیق کرنے میں لگے ہوئے تھے ان کے لیے مشکل کھڑی ہوگئی ۔ کچھ بزرگوں نے چالیں پچاس سال پہلے جو تھوڑا بہت بچوں کے ادب کے چیتھڑے جمع کررکھے تھے اسے سمیٹنے میں لگ گئے۔ سمیٹ لینے کے بعد نئی بوتل میں پرانی شراب لے کر دعویٰ کرنے لگے کہ وہی بچوں کے سب سے بڑے ادیب یا شاعر ہیں۔
غرض یہ کہ بات کچھ بھی ہو بچوں کے ادب نے نئے نئے میدان سر کرنے شروع کردئیے ۔ اس کام کو تقویت پہنچانے کا سب سے بڑا کام مالیگاؤں کے رحمانی سلیم احمد نے کیا ۔ اس نوجوان نے پہلے ہفت روزہ بچوں کا اخبار بزم اطفال نکالنا شروع کیا بعد میں گلشن اطفال کے نام سے ماہنامہ جاری کیا پھر کتابوں کی طباعت کے لیے رحمانی پبلی کیشنز کی بنیاد ڈالی اور دیکھتے ہی دیکھتے رحمانی پبلی کیشنز کی جانب سے سینکڑوں کتابیں شائع ہو کر میدان میں آگئیں۔ اس سلسلے میں کونسل کی تعریف نہ کرنا بخیلی کے مترادف ہوگا ۔ کونسل برائے فروغ اردو زبان (NCPUL)کی جانب سے بچوں کے ادب کو مستحکم بنانے کے لیے کافی کوششیں کی گئیں۔ کتابیں شائع کی گئیں ، کتابوں کو مالی اعانت دی گئی، بچوں کے ادب پر سیمینار اور ورکشاپ کا انعقاد ہوا۔ کونسل کی جانب سے سب سے خوبصورت مفید او رسب سے سستا بچوں کا ماہنامہ ’’ بچوں کی دنیا ‘‘ جاری کیا گیا۔ اسی کے ساتھ کو نسل کی جانب سے چھوٹے بڑے شہروں میں کتابوں کے میلے کا اہتمام کیا گیا ۔جہاں بچوں کا ادب شائع کرنے والوں کو اسٹال دئے گئے اور تعلیمی اداروں نے اسکولوں کے بچے بچیوں کو میلے کی سیر کرائی اور ہزاروں کتابیں ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوگئیں۔ ایسی دھواں دھار کتابوں کی خریداری کا منظر میں دوبار ممبئی میں اور ایک بار مالیگاؤں میں دیکھ چکا ہوں۔ مرحوم عادل اسیر دہلوی بھارت کے کسی بھی شہر میں کتابوں کا میلہ لگتا تھا تو اپنا اسٹال لے کر ضرور جاتے تھے ۔ ممبئی میں ، میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ اسکولوں کے بچوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا تو ان کا اسٹال پوری طرح کتابوں سے خالی ہوگیا ۔ ایسا ہی کچھ حال رحمانی پبلی کیشنز کے اسٹال کا بھی تھا۔ غرض یہ کہ ادب اطفال کے جسم میں نئی جان آگئی ہے۔
ایسے ماحول میں بچوں کے ادیبوں اور شاعروں کی طرف خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ ڈاکٹر خوشحال زیدی صاحب نے دہلی یونیورسٹی میں مقالہ لکھ کر بچوں کے ادب پر PhD کی پھر اسی مقالہ کو کتابی شکل میں شائع کروایا ۔ یہ کتاب بچوں کے ادب پر کام کرنے والوں کی رہنمائی کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ غلام حیدر صاحب نے بچوں کا ادبی ٹرسٹ قائم کیا اور خود بچوں کے لیے معلوماتی کتابیں ، کہانیاں اور ناول شائع کروائیں ، بچوں کا ادب لکھنے والوں کو ہدایت نامے جاری کئے برسوں سے ان کا یہ کام اب تک جاری ہے ۔ یہاں ناگپور یونیورسٹی سے ڈاکٹر اظہر حیات صاحب کی نگرانی میں شمیم اکبر علی صاحبہ نے ’’ ودربھ میں بچوں کا نثری ادب او راس میں وکیل نجیب کا حصہ‘‘ اس موضوع پر Thesis لکھا اور ناگپور یونیورسٹی سے انھیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی گئی۔اس طرح بچوں کے ادب پر کام کرنے کاسلسلہ چل نکلا۔ امسال ۲۰۱۵ء میں اس سلسلے کی سب سے اہم اور معتبر کوشش حیدرآباد کے ڈاکٹر سید اسرار الحق سبیلی صاحب نے کی ہے۔ ڈاکٹر اسرارالحق نے بچوں کا ادب اور اخلاق کے موضوع پر ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم کی نگرانی میں جامعہ عثمانیہ سے پی ایچ ڈی کیا۔ اس تحقیقی مقالہ کا ایک حصہ کتابی شکل میں ’ بچوں کا ادب اور اخلاق‘ ۲۰۱۵ء میں منظر عام پر آیا ہے ۔ اس کتاب کے تعلق سے تفصیلی گفتگو کرنا لازمی ہے کہ جس محنت ، بردباری ، ایمانداری ، غیر جانب داری ، خلوص اور محبت سے موصوف نے یہ کام کیا ہے اس کی داد نہ دینا ان کے تئیں نا انصافی ہوگی۔
ڈاکٹر سید اسرار الحق سبیلی کی کتاب ’ بچوں کا ادب اور اخلاق‘ بچوں کے ادب پر تحریر کردہ ایک معلوماتی کتاب ہے ۔ انتہائی عرق ریزی اور ہوشمندی سے اس کے لیے مواد جمع کیا گیا ہے ، سلیقے سے ترتیب دیا گیا ہے ۔ مصنف نے ادب اطفال کی تمام اصناف کو کھنگا لنے اور چھانٹے پھٹکنے کی ایمانداری سے کوشش کی ہے اس کا اندازہ آپ مندرجہ ذیل عنوانات پر لکھے گئے مضامین سے لگا سکتے ہیں۔
(۱) بچوں کا ادب اور اخلاق (۲) ادب اور اخلاق میں ربط
(۳) حسن اخلاق کی اہمیت (۴) اخلاقی ادب ایک ضرورت
(۵) ادب۔ اخلاقی تربیت کا موثر ذریعہ (۶) ادب اطفال کی ذمہ داری
(۷) بچوں کے ادب کی بنیاد (۸) بچوں کے ادب کا بنیادی مقصد
مندرجہ بالا عنوانات کے تحت مختصر لیکن اہم معلومات دینے کی کوشش کی گئی اس کے بعد عقائد ، عبادات ، معاملات ، معاشرے کے موضوعات پر کھل کر گفتگو کی گئی ہے۔ ان موضوعات سے فرصت پا کر مصنف نے اخلاقی ادب کا اسلوب ، اخلاقی ادب کے اثرات ، غیر اخلاقی ادب کے اثرات پر کھل کر بحث کی ہے اور بچوں کے ادب کے لیے کون سی چیزیں ضروری ہیں اس کا احاطہ کیا ہے ۔ اتنا سب کرنے کے بعد ان کا تقابلی مطالعہ اس عنوان سے امید افزا معلومات بہم پہنچائی گئی ہے۔
بچوں کے ادب میں نظم و نثر کو شامل کیا جاتا ہے اور اس میں دنیا جہان کی بہت ساری چیزیں آجاتی ہیں اس میں موصوف نے سب سے پہلے ’’ بچوں کی شاعری کا تجزیہ‘‘ اس موضوع سے شروعات کی ہے ۔ اس میں حمد ، نعت ، بچوں کی رباعیاں ، قطعات ، لوری ، گیت ، دوہے ، کہہ مکرنیاں ، غزلیں ، مذہبی و اخلاقی نظمیں ان تمام موضوعات پر مختصر سی بات کرنے کے بعد ان اصناف میں کن کن شعرا کی کتابیں شائع ہوچکی ہیں ان کی بھی معلومات دی گئی ہے ۔ شعری اصناف پر اتنا کام کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ موصوف نے مہینوں کی تحقیق او رمطالعے کے بعد یہ ساری چیزیں جمع کی ہیں۔
نظموں کی بات کہہ چکنے کے بعد مصنف نے اپنی تحقیق کا رخ نثری مضامین کی طرف موڑ دیا ہے ۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ نظم کے مقابلے میں نثر میں بات کہنے کی وسعت زیادہ ہے ۔ نظمیں جہاں چند اشعار یا چند صفحات پر اپنے اختتام کو پہنچ جاتی ہیں وہیں نثر پارے ایک صفحہ سے لے کر ہزار یا ہزارہا صفحات تک وسیع کئے جاتے ہیں لیکن جب معاملہ بچوں کے ادب کا ہو تو طوالت سے احتراز کرنا بھی ضروری ہوتا ہے لیکن ناول لکھنے کی بات ہو تو اسے پلاٹ کے حساب سے چھوٹا یا بڑا رکھا جاسکتا ہے ۔ فاضل مصنف نے بچوں کے ادب کے نثری مضامین کو تلاش کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے اور نثر کی تمام اصناف جن میں بچوں کے ادبا طبع آزمائی کررہے ہیں انھیں وہ اس کتاب کے صفحات میں مقید کرچکے ہیں۔
بچوں کے نثری ادب میں سب سے پہلے بات ہوتی ہے کہانی کی اور کہانیوں کی کئی اقسام ہوتی ہیں۔ موصوف نے صنف کہانی کی تمام اقسام کا تبصرہ و تجزیہ اس کتاب میں کیا ہے اور اس کے اہم قلمکاروں کو اس مضمون میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے ۔ سب سے پہلے فاضل مضمون نگار نے اخلاقی اور مذہبی کہانیوں کا ذکر کیا ہے ،اس کی افادیت بتائی ہے اور اخلاقی و مذہبی کہانیاں لکھنے والوں کی چند مثالیں پیش کی ہیں۔
تاریخی اور مذہبی کہانیوں کے بعد موصوف نے ’’ سبق آموز کہانیاں ‘‘ کے ذیل میں ایسی مشہور و معروف اور ہر دور میں پسند کی جانے والی کہانیوں کا ذکر کیا ہے جن سے بچوں کو سبق دینے کی کوشش کی گئی اور جو ادب اطفال کا ایک نہایت اہم مقصد بھی ہے ۔ اس عنوان کے تحت محقق نے کافی تفصیلی مضمون لکھا ہے اور جہاں تک اس کی پہنچ ہوسکی ہے اسے ضبط تحریر میں لانے کی کوشش کی ہے ۔ اس موضوع پر جن مصنفین نے قلم اٹھائے ہیں ان کی کہانیوں کی مختصر معلومات بھی دی گئی ہیں۔
اگلا موضوع ہے ’قصے کہانیاں‘ جس دور میں لوگوں کو پڑھنے کے لیے کتابیں میسر نہ آتی تھیں یا تعلیم عام نہیں تھی ان دنوں میں قصہ گو ہوا کرتے تھے جو چوپال میں یا گھر کے کسی گوشے میں بیٹھ کر کوئی قصہ چھیڑ دیا کرتے تھے اور آس پاس کے لوگ اس قصے کے تجسس اور قصہ گو کے دلچسپ انداز بیان میں کھو سے جاتے تھے۔ بچے خوابوں کی دنیا میں پہنچ جاتے تھے ۔ قصہ کہانی کے ذیل میں آنے والی کہانیوں کو بھی بہتر طریقے سے اس کتاب میں پیش کیا گیا ہے۔
’’ تربیتی کہانیاں‘‘کے عنوان سے مصنف نے بچوں کی تربیت کے لیے جو کہانیاں تخلیق کی ہیں ،انھیں تلاش کیا ہے اور ان کی تفصیلات اس میں بیان کی گئی ہیں ۔ اس کے بعد کتاب میں لوک کہانیوں کا ذکر ہے ۔ لوک کہانیاں کسے کہتے ہیں کن کن علاقوں کی لوک کہانیاں بعد میں کتابوں میں شامل کی گئیں وغیرہ وغیرہ کی اس مضمون کے تحت معلومات دی گئی ہیں ۔ دیس دیس کی کہانیوں کے تحت دوسرے دیسوں کی کہانیاں جو اردو میں آئی ہیں انھیں نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔
اساطیری اور روایتی کہانیوں کے ذیل میں مصنف نے پریوں کی کہانیاں، دیوؤں اور جنوں کی کہانیوں کا ذکر کیا ہے مثالیں بھی دیں ہیں ۔اس سے آگے بڑھیں تو ہماری نظر مہماتی کہانیوں پر پڑتی ہے۔ اس موضوع پر موصوف نے تین مہماتی کہانیوں کا ذکر کیا ہے ۔یہاں سے آگے بڑھیں تو ہمیں جانوروں سے متعلق کہانیاں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ تفریحی کہانیوں کے ذیل میں مصنف نے کافی تلاش کی ہے اور اس موضوع پر بچوں کے لیے جو کہانیاں لکھی گئی ہیں ان کا ذکر کیا ہے ۔ مزاحیہ کہانیوں کے متعلق جو ہنسی مذاق اور چہرے پرمسکراہٹ لانے والی کہانیاں ہیں ان کا ذکر کیا گیا ہے۔
مترجم کہانیوں کے عنوان کے تحت ان کہانیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو دوسری ملکی یا غیر ملکی زبانوں سے اردو میں داخل کی گئی ہیں اس تعلق سے مصنف نے سیر حاصل بحث کی ہے اور چند ترجمہ شدہ کہانیوں اور ان کے مترجموں کا ذکر کیا ہے ۔ اس کے بعد مصنف نے ماخوذ کہانیاں ، ننھے منے بچوں کی کہانیاں ،با تصویر کہانیاں ، سوانحی کہانیاں ان کا ذکر نہایت مختصر انداز میں کیا ہے۔’ناول‘ اس عنوان کے تحت مصنف نے لکھا ہے کہ ’’ تیرہ چودہ سال کے بچے چھوٹی چھوٹی کہانیوں سے آسودہ نہیں ہوتے۔ ان کے دلوں میں طویل کہانیاں اور ناول پڑھنے کی خواہش مچلتی ہے اس لیے بچوں کے ادیبوں نے بچوں کے لیے سماجی ، مہماتی ، جاسوسی اور فنطاسی ناول لکھنے کا اہتمام کیا ہے۔ ناول کے ذیل میں سماجی ناول انسانیت اور درنگی ، غمگسار ، سام پر کیا گذری ، جانباز ساتھی، جاسوسی ناول میں جنگل کی پہچان، سائنسی ناول میں کمپیوٹان ،فنطاسی ناول میں مہربان جن جانوروں سے متعلق ناول میں جنگل میں منگل کا تجزیہ و تبصرہ کیا ہے ۔ اس میں ناول سام پر کیا گذری انگریزی سے ترجمہ شدہ ناول ہے۔
ناولوں کے تذکرے کے بعد ڈراموں کا ذکر کیا گیا ہے اس صنف کے متعلق فاضل مصنف لکھتے ہیں کہ’’ ڈرامہ یونانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہے کرکے دکھانا ۔ یہاں افراد کے کام کو بیان کرنے کی بجائے کرکے دِکھایا جاتا ہے اس بنا پر یہ بچے اور بڑوں کے لیے حد درجہ کشش رکھتا ہے۔ ادب کی کسی دوسری صنف کو یہ خوبی میسر نہیں ! ڈراموں کے تحت ڈاکٹر بانو سرتاج کے ڈرامے آئی برسات کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ اظہر افسر کے ڈراموں کے مجموعے ’ بچوں کے ڈرامے ‘ کا تفصیلی تجزیہ ہے ۔اسی طرح اقبال نیازی کے ڈراموں کی کتاب’ ایک نئی اڑان ‘ کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں ۔ وکیل نجیب کے ڈراموں کے مجموعے ’ کچھ ڈرامے کچھ کہانیاں‘ کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے ۔ مومن شمشاد کے ڈراموں کی کتاب ’ میری آواز سنو‘ کے ڈراموں پر بحث کی گئی ہے ۔ تعلیمی ڈراموں کے تحت چوں چوں کا مربّہ (خالد شاہین) ’ ٹیچر کے بغیر‘ (محمد خالد عابدی) ’بازیچۂ اطفال‘(مہر رحمن) پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے ۔ مزاحیہ ڈرامے ’پپو پاس ہوگیا ‘(ایم مبین ) ’حضور کا اقبال بلند رہے ‘(نور الحسنین) ’ ٹکلم ٹولا گھی کا گولا‘(بانو سرتاج) کے متعلق بیان ہے۔
ڈراموں کے تذکرے کے بعد معلوماتی ادب کی معلومات دی گئی ہے ۔ بچوں کا انسائیکلو پیڈیا (رحمانی سلیم احمد)، آرٹ کی کہانی (سیما پرویز)، سائنس کی دنیا (فرید الدین احمد)، مواصلاتی سیارے (فرید الدین احمد)، روبوٹ(حکیم محمد سعید)، کیمیا کی کہانی(سید شہاب الدین دسنوی)، ہمارے سائنسداں (عادل اسیر دہلوی)، سائنس دانوں کی دلچسپ باتیں اور دنیا کے عجیب و غریب جانور (محمد خلیل سائنسداں)، انوکھی پہیلی (شمس الاسلام فاروقی )، بینک کی کہانی(غلام حیدر) ان کتابوں کی معلومات کو مختصر مختصر پیش کیا گیا ہے۔
اس کتاب کے بالکل آخر میں بچوں کے بند ہو چکے رسائل و اخبارات او رفی الحال جاری و ساری بچوں کے رسائل و اخبارات کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اس معاملے میں مصنف کی تلاش و تحقیق کی داد نہ دینا نا انصافی ہوگی۔غرض یہ کہ یہ کتاب ’’ بچوں کا ادب اور اخلاق ایک تجزیہ ‘‘ ہر اعتبار سے ایک مکمل تحقیقی کتاب ہے ۔ بچوں کے ادب کے متعلق تفصیلی معلومات بہم پہنچاتی ہے پھر بھی اس میں کچھ چیزوں کی کمی محسوس ہوتی ہے مثلاً ناول کے ذیل میں کرشن چندر او رسراج انور کا نام نہیں ہے ۔ نظموں کے تذکرے میں مولوی اسمٰعیل میرٹھی ، شفیع الدین نیر، علامہ اقبال ، حامد اللہ افسر کا ذکر نہیں کیا گیا ہے اسی طرح ادب اطفال کے کہانی کاروں کی کاوشوں کو ضبط تحریر میں نہیں لایا گیا ہے۔
——-

وکیل نجیب
ڈاکٹرسید اسرارالحق سبیلی