کالم : بزمِ درویش – خوف خدا :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
خوف خدا

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:

میرے سامنے بیٹھے شریف معصوم پاکباز میاں بیوی ہا رے ہو ئے کھلاڑیوں کی طرح بیٹھے تھے جیسے وہ اپنی متاع حیات لٹا چکے ہوں اُن کی زندگی بھر کی کما ئی اُن سے چھین لی گئی ہو‘ کسی نے دونوں کے جسموں سے سارا خون نچوڑ لیا ہو دونوں کا مذہب کے نام نہاد ٹھیکیداروں سے ایمان اٹھ چکا تھا

دونوں بے یقینی کی حالت میں اُجڑے ہو ئے پرندوں کی طرح پھڑ پھڑا رہے تھے کہ عقیدت احترام محبت غلامی کا کو ئی اِس طرح صلہ دیتا ہے دونوں اِسی غم میں گھلے جارہے تھے کہ اُن کی سالوں کی ریاضت خد مت احترام کا یہ صلہ دیا گیاہے ‘ اپنے مرشد کی یہ ڈیمانڈ کے اپنی نو خیز بیٹی جس کی عمر ابھی صرف چودہ سال ہے جو ابھی گڈی گڈے پر یوں کی کہانیوں میں بس رہی تھی جو کھلونوں کی دنیا میں زندہ تھی ۔ وہ معصوم کلی جس پر ابھی جوانی کی شفق بھی نہیں پھوٹی تھی جو ابھی معصومیت کے رنگوں سے جوانی کی دہلیز پر قدم بھی نہ رکھ پائی تھی ۔
مرشد صاحب کہہ رہے تھے وہ معصوم کلی نازک پھو ل مجھے دے دو ‘ میں نے اُس سے اپنا نو ے سالہ دل بہلا نا ہے اپنے بڑھاپے کا تاریک گھناؤنا سایہ اُس پر ڈالنا ہے ۔ ماں نے اپنی بات جاری رکھتے ہو ئے کہا سر مجھے پہلے تو بابا جی کی باتوں کا بلکل بھی یقین نہیں آیا کیونکہ اگر کوئی اور مجھے قرآن پاک اوراللہ تعالی کی قسم کھا کر بھی یہ بات کہتا تو میں ماننے سے انکار کر دیتی لیکن جو ڈیمانڈ بابا جی کر رہے تھے یہ تومیرے وہم وخیال میں بھی نہ تھی آخر کار بہت جرات کے بعد میں نے لب کشائی کی اور بولی بابا جی مجھے آپ کی بات کی سمجھ نہیں آئی آپ کیا کہہ رہے ہیں ۔ میں نے زندگی میں پہلی بار عقیدت و احترام کے خو ل سے نکل کر باباجی کو دیکھا تو مجھے اُن کی آنکھوں میں اُس بھیڑئیے کی چمک نظر آئی جو شکار کو دبو چنے سے پہلے کسی بھی شکا ری کی آنکھوں میں آتی ہے ۔ جنسی خواہش جنسی رنگوں کے ہلکو رے پہلی بار مجھے بابا جی کی آنکھوں میں نظر آئے ‘ اب بابا جی نے مذہب اور نبی دو جہاں ﷺ کا حوالہ دے کر مجھے بے بس کر نے کی کوشش کی اور بو لے تم جانتی ہو جس وقت حضرت عائشہ ؓ کا نکاح نبی کریم ﷺ سے ہوا تھا تو اُس وقت اماں عائشہؓ کی عمر مبارک کتنی تھی ‘ نعوذ باللہ بابا جی خود کو کہاں ملارہے تھے میرے چہرے پر خوف اور الجھے تاثرات دیکھ کر بابا جی نے پھر لفظوں کی جگالی شروع کی دیکھو تم نہیں چاہتی کہ میں اسلام کی بھر پور خدمت کر سکوں یہ تو اُسی صورت میں ممکن ہے جب میں آرام سکون سے زندگی گزاروں جب میں ذہنی طور پر پر سکون نہ ہوں گا تو اسلام کی خدمت کیسے کروں گا پھر بابا جی نے اپنا خطیبانہ جوہر مجھ پر اُتارنا شروع کر دیئے کہ یہ زندگی فانی ہے اصل زندگی تو آخری ہے تمہیں نیکی اور اسلام کی خدمت کا جو مو قع مل رہا ہے اُس سے بھر پور فائدہ اٹھاؤ میری بات مان لو میں تمہاری ہر ضرورت پو ری کروں گا مالی فائدے بھی دوں گا جب بابا جی خوب بول چکے اپنا خطیبانہ جو ش مُجھ غریب معصوم پر اتار چکے تو میری طرف گہری نظروں سے دیکھا اور سر گو شی کے لہجے میں بو لے آخری اور اصل بات یہ خواہش میری نہیں ہے یہ تو مجھے خواب میں بشارت یا حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہاری بیٹی سے شادی کروں اگر میں خواب کا حکم نہیں مانتا تو میں نافرمان ہو جاؤں گا اور اِس نا فرمانی کی وجہ تم ہو گی تم نے میرا ساتھ دینا ہے تم نے میرا نکا ح اپنی بیٹی سے کرا نا ہے اب میرا اُس کے بغیر گزارا نہیں ہے دن میں وہ آجاتی ہے تو اُسے دیکھ کر میرا دل بہل جاتا ہے جب وہ چلی جاتی ہے تو جدائی اداسی کا زہر مجھے ڈسنے لگتا ہے بابا جی دورانِ گفتگو مختلف تیر چھوڑ رہے تھے کہ کو ئی نہ کو ئی تیر لگ جا ئے لیکن مجھے بار بار اپنی معصوم بیٹی کا ملکوتی چہرہ نظر آرہا تھا جو چند دنوں سے گھبرائی گھبرائی گھر آتی تھی اُس کے نو خیز چہرے پر خوف کا رنگ نظر آنا شروع ہو گیا تھا میں جب بھی بابا جی کی طرف کھانادے کر بھیجتی تو وہ خو فزدہ ہو جاتی انکار کر تی لیکن بے حد میرے مجبور کر نے پر لے جا تی ‘ بابا جی نے اُسے پتہ نہیں کیا کہا تھاکہ معصوم بچی کنفیوژ ہو کر رہ گئی تھی اب میں نے سہمے ہو ئے لہجے میں گزارش کی بابا جی آپ اورمیری بیٹی کی عمر میں پچھتر سال کا فرق ہے کیا وہ ساری زندگی آپ کی مو ت کے بعد بیوہ بن کر گزارے گی تو بابا جی بو لے نہیں میرے بعد تم اُس کی دوسری شادی کسی جوان سے کر دینا‘ بابے کی یہ بات سن کر میری رگوں میں دوڑتا خون جمنے لگا سانس کی نالی تنگ ہو نے لگی جیسے کسی نے جسم کو قیمے والی مشین میں ڈال دیا ہو میں بے جان ہو کر بابا جی کی باتیں سن رہی تھی مجھے اپنے کانوں پر ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا مجھے لگ رہا تھا کہ یہ میں خواب دیکھ رہی ہوں ابھی آنکھ کھلے گی تو جان میں جان آئے گی ۔ میں بے جان پتھر کے مجسمے کی طرح بے حس و حرکت بیٹھی تھی ‘ بابا جی نے جب دیکھا کہ میں ابھی بھی کشمکش کی سولی پر لٹکی ہوں اُن کی بات نہیں مان رہی تووہ جلال میں آگئے سانپ کی طرح پھنکارتے ہو ئے بو لے تم کو ذرہ بھی خوف خدا نہیں یہ کام تم نے میرے لیے نہیں اسلام کے لیے خدا کے لیے کر نا ہے جب تم یہ کام نہیں کرو گی تو خدا تم سے ناراض ہو گا خوف خدا پیدا کرو اور اپنی بیٹی کا نکاح میرے ساتھ کرو ‘ باباجی کے غصے اور جلال میں لرزنا شروع ہو گئے میری آنکھوں سے فرات کی نہریں بہنا شروع ہو گئیں ‘ بابا جی نے مجھے کباب والی سیخ پر پرو کے آگ کے دہکتے انگاروں پر رکھ دیا تھا ایک طرف خوف خدا دوسری طرف معصوم کلی جیسی بیٹی میری آنکھوں سے غم بے بسی کی نکلتی آبشاریں دیکھ کر بابا جی نے میری جان چھو ڑی اور بولا چلو ابھی تم جاؤ گھر جاکر آرام سے دونوں میاں بیوی سوچو پھر آکر مجھے ہاں کا جوا ب دو میں نے نہ نہیں سننی تم ہر حال میں میری خدمت کرو گی یہ کام تمہیں ہر حال میں کر نا ہو گا اگر نہ کیا تو مر شد ناراض تونبی ناراض نبی ناراض تو خدا نارا ض ‘ جاؤ خدا کا خوف کرو جلدی فیصلہ کر کے میرے پاس آؤ پھر سر میں زندہ لاش کی طرح گھر آئی میں ساری رات انگاروں پر جلتی رہی میاں بار بار پو چھ رہا تھا کہ بابا جی سے کیا بات ہو ئی لیکن میں بار بار ٹال رہی تھی میرے دل و دماغ پر بابا جی کے مطالبے کا k2تھا جس کے بوجھ تلے میرا دم گھٹ رہا تھا آخر کار تنگ آکر میں نے اپنے شوہر کو بابا جی کا مطالبہ بلکہ خواہش کا بتایا تو میاں کی تو جان ہی نکل گئی تین دن ہم میاں بیوی اِسی بحث مباحثے میں پڑے رہے کہ اگر بابا جی کی بات نہ مانی تو خدا ناراض ہو جائے گا پھر میرے میاں نے اپنے بڑے بھائی سے سارا مسئلہ بیان کیا جو پرو فیسر صاحب آپ کو جانتے ہیں انہوں نے ساری بات سننے کے بعد ہمیں آپ کے پاس بھیجا ہے آپ بتائیں اب ہم کیا کریں ہم مر شد کی نا راضگی کے خوف میں مبتلا ہیں کہ ان کی بات نہ مان کر ہم منکر خدا ہو جائیں گے وہ مر شد بار بار خوف خدا کی بات کر رہے ہیں ۔ میں نے میاں بیوی کو حو صلہ دیا اور کہا تم گورنمنٹ ملازم ہو فوری طور پر کسی دوسری جگہ ٹرانسفر کرالو چند دن بعدمجھے میاں کا فون آیا کہ میں نے اپنی ٹرانسفر دور کرا لی ‘ بابا جی کوبتادیا ہے کہ میرا بڑا بھائی نہیں مانتا میرے حوصلہ دینے پر یہ میاں بیوی تو بابا جی کے چنگل سے آزاد ہو گئے لیکن پتہ نہیں وطن عزیز میں کتنے ایسے سادہ لوح لوگ ہوں گے جو ایسے عالم دین اور پیروں کی جنسی خوا ہشات کی تکمیل کے لیے جسم جان اوردولت کی قربانی دیتے رہیں گے بابا جی کا وہ فقرہ کہ خوف خدا کرو جس سے آج کاانسان بلکل بے فکر ہے مجھے تاریخ انسانی کے عظیم انسان مرادِ رسول ﷺ حضرت عمر فاروقؓ یاد آگئے جن کی خوف خدا سے جان سولی پر اٹکی رہتی ‘ تھی حضرت سیدنا ضحاکؓ سے روایت ہے حضرت عمرؓ فرمایا کر تے تھے اے کاش میں گھر والوں کا دنبہ ہو تا جسے وہ خوب کھلا پلا کر مو ٹا تا زہ کر تے حتی کہ میں صحت مند موٹا ہوجاتا پھر ہما رے گھر مہمان آتے تو وہ مہمان داری کے لیے مجھے ذبح کر تے میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے میرے ٹکڑوں کو بھون ڈالتے مہمان میرے ٹکڑوں کو کھا جاتے اورپھر فضلہ بنا کر مجھے مٹی میں تبدیل کر دیتے اے کاش میں انسان نہ ہو تا ۔ آپؓ اکثر فرمایا کر تے اگر آسمان سے آواز آئے کہ زمین پر ایک شخص کے علا وہ تمام انسانوں کو بخش دیا گیا ہے اب صرف ایک شخص زمین پر دوزخی ہے تو میں سمجھوں گا کہ وہ دوزخی شخص میں ہی ہوں ۔ خو ف خدا کا یہ عالم تھا کہ حضرت عبداللہ بن عامرؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کو دیکھا کہ آپ نے زمین سے مٹی کا ایک ڈھیلا اٹھا یا اور کہا ۔ اے کاش عمر یہ مٹی کا ڈھیلا ہو تا اے کاش میں پیدا نہ ہوا ہوتا ‘ میری ماں نے مجھے جنا نہ ہوتا اے کاش میں کچھ نہ ہو تا کو ئی بھولی بسری شے ہوتا یہ الفاظ اس عظیم انسان کے ہیں جنہیں فخرِ دو جہاں ﷺ نے خدا سے دعا مانگ کرلیا اور دنیا میں ہی جنت کی بشارت دی ۔