کالم : بزمِ درویش – روحانی مسافر گوتم بدھ :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

کالم : بزمِ درویش
روحانی مسافر گوتم بدھ

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:

بلا شبہ خالقِ کائنات کی ہر تخلیق اپنا خاص حسن رکھتی ہے ‘ آپ کائنات کے چپے چپے پر بکھرے خالقِ کائنات کی تخلیقات کے جلوے دیکھ کر اُس کی خالقیت کی داد دئیے بنا نہیں رہ سکتے ۔ خدا کی تخلیق میں ہر لحاظ سے حضرت انسان کو سب پر فضیلت حاصل ہے انسان کو باقی تخلیقات پر جو برتری حاصل ہے

وہ ہے عقل شعور فہم ادراک محبت ایثار قربانی خدمت خلق ۔ کائنات خدا کے پراسرار بھیدوں پر طویل مراقباتی غور و فکر اور تفکر کے بعد حق تک رسائی یا کائنات کے سر بستہ رازوں کا انکشاف انہی انسانوں پر ہو تا ہے جو کائنات کی حقیقت یا رازوں کو جاننے کی کو شش کر تے ہیں ایسے ہی لو گ پھر معاشروں ملکوں کی روحانی اخلاقی راہنمائی کرتے ہیں ‘ تجسس کھو ج غور و فکر یہ انسان کی جبلت ہے یہ کسی میں کم کسی میں بہت زیادہ ‘ یہ فطری میلان ہوتا ہے جس میں بھی ہو وہ فطری طور پر غور و فکر میں مصروف رہتا ہے ‘ گو شہ نشینی اختیار کر کے پھر خدا اور اُس کی کا ئنات کے اُن بھیدوں کو جاننے کی کو شش کرتا ہے جن پر عمل پیرا ہو کر انسان صراطِ مستقیم یا حق کے راستے پر چل سکتا ہے ‘ ایسے انسان نبیوں پیغمبروں کی صورت ہر دور میں حق تعالیٰ زمین پر اتارتا رہا ہے جنہوں نے کچھ عرصہ آبادیوں سے دور خلوت گزینی کر کے خدا کی کائنات پر غور و فکر کیا ‘ حقائق کے مو تی اپنی جھولی میں بھرے پھر آبادیوں میں آکر حکمت و دانش کے موتی انسانوں میں بانٹ کر اُن کی راہنمائی کی ‘ تجسس کھو ج غور و فکر نبیوں پیغمبروں کو تو حاصل تھا لیکن جب ہم تاریخ انسانی کابغور مطالعہ کر تے ہیں توکرہ ارض کے مختلف علاقوں میں دوسرے انسان بھی اِس فطری جو ہر سے مالا مال تھے جنہوں نے غور و فکر اورتلاش کے بعد حق تک رسائی حاصل کر کے انسانیت کو حق کے راستے پر ڈالنے کی کوشش کی ‘ معاشرے کو امن بھلا ئی اخو ت اورمحبت کا درس دیا ‘ ایسے لو گ کسی بھی علا قے کے لیے خدا کا خاص انعام ہوتے ہیں جو    خوشبو کی طرح اُن معاشروں میں بہتے ہیں اُنہی لو گوں کے دم سے ہی معاشرے امن کا گہوارہ بنتے ہیں خدا کی یہ فیاضی ہمیں تاریخ انسانی کے ہر دور میں ہر علا قے میں نظر آتی ہے جب کسی انسان کو خدا عقل شعور کی صلاحیتوں سے مالا مال کر کے خاص مزاج خاص صلاحیتیں دے کر کسی علا قے میں اتارتا ہے کہ وہ شخص اُس علا قے کی جہالت ظلم و بربریت کو مٹا سکے ایسا ہی ایک با کردار بچہ ہزاروں سال پہلے نیپال کے علا قے ترائی میں راجا شد ھو دھن کے گھر میں پہلے پیدا ہوا اِس انسان کی ماں کا نام مہامایا بتایا جاتا ہے بچے کی ماں جب حاملہ ہوئی تو اِس کے با رے میں بھی معجزے کا بیان کیا جا تا ہے وہ یہ کہ ایک ہا تھی آسمان سے پرواز کرتا ہوا آکر مہا ما یا کے بائیں پہلو سے اُس کے رحم میں داخل ہوا اِس طرح ما فوق الفطرت طریقے سے اِس بچے کا حمل ٹھہرا یہ بھی کہا جاتا ہے اِس عظیم بچے کی پیدائش کھلے آسمان کے نیچے پھولوں پھلوں سے مزین ایک باغ میں ہو ئی ‘ یہی وجہ تھی کہ یہ انسان ساری عمر سبزہ زاروں اور جنگلوں سے محبت کر تا رہا ‘ بچے کا نام سدھا رتھ رکھا گیا جو بعد میں گوتم بدھ کے نام سے مشہور ہوا ‘ عظیم انسانوں کی طرح گو تم بدھ کی پیدائش کے سات روز بعد ماں کا انتقال ہو گیا ۔ اب پرورش کی ذمہ داری ماں کی بہن پر جاپتی کے ہاتھ آئی جو اُسی راجا سے بیا ہی ہو ئی تھی ۔ بچپن سے ہی اداسی غم سادگی بچے کی فطرت کا حصہ بن گئی تھی ۔ بچپن سے ہی بچے میں فطری غور و فکر محویت کھو جانا اسکی عادت تھی ‘ وہ گھنٹوں آسمان اور چیزوں کو تکتا رہتا پانچ سال کا ہوا تو اُسے ایک میلے میں لے گئے غلاموں نے بچے کو میلے میں کھلونوں مٹھا یوں سے بہلانے کی بہت کو شش کی لیکن بچے کو اِن چیزوں میں بلکل بھی دلچسپی نہ تھی وہ پتھر کے مجسمے کی طرح آسمان کی وسعتوں میں ڈوبا کسی گہرے غور و فکر میں مبتلا رہا ‘ میلے میں بے شمار لوگ اور دلچسپی کے سامان مو جود تھے لیکن وہ دنیا کی رنگ برنگی چیزوں اور دلچسپیوں سے بے نیاز آسمان میں گھو رتا رہا ۔ تھوڑا بڑا ہوا تو اپنے دوست کے ساتھ شاہی کے اطراف میں کھیل رہا تھا دوست کے پاس تیر کما ن تھا اُس نے ایک خو بصورت نرم و نازک بطخ پر تیر چلا یا بطخ زخمی ہو کر گر پڑی ‘ دونوں دوست بطخ کو پکڑنے اُس کی طرف دوڑے گوتم نے بطخ کو پہلے پکڑ لیا دوست نے سدھارتھ سے بطخ چھیننے کی بہت کو شش کی کہ یہ میری ہے میں نے اسے شکا رکیا اِس پرصرف میرا حق ہے تو گو تم بولا یہ پرندہ تمہارا کیسے ہو گیاتوُ اس کی جان لینا چاہتا ہے ‘ مقدمہ گو تم کے باپ کے سامنے پیش کیا گیا تو راجا نے فیصلہ گوتم کے حق میں کر دیا شہزادے نے چند دن خوب دن رات لگا کر بطخ کی مرہم پٹی کی پرورش کی جب پرندے کے زخم بھر گئے تو اُسے آزاد کر دیا ۔ باپ گو تم کی محویت استغراق مراقبہ کی کیفیت رحم دلی دوسروں سے مختلف پن کی وجہ سے بہت متفکر رہنے لگا تھا کیونکہ بچہ سب سے الگ تھلگ اپنی ہی دنیا میں مصروف تھا اِس لیے باپ نے نجومیوں جو تشیوں کو اکٹھا کیا اور پو چھا شہزادے کے بارے میں آپ کا حساب کتاب زائچہ کیا کہتا ہے تو جو تشیوں نے راجا کو اور بھی پریشان کر دیا کہ بچہ جوان ہو کر جوگ (فقیری ) اختیار کر کے رہبانیت اپنا کر گھر بار بادشاہی محل تخت چھوڑ کر جنگلوں کی راہ لے گا یہ بھی بتا یا گیا کہ بچہ غیر معمولی حساس ہے ‘ بہت نرم دل ہے ‘ غم دکھ برداشت نہیں کر پا ئے گا راجا یہ سن کر پریشان ہوا شہزادے کے لیے اچھے پڑھے لکھے استاد مقرر کئے گئے انہیں بتا دیا گیا کہ شہزادے کو ایسی تعلیمات دیں کہ اِس کو تیاگ سے نفرت ہو جائے یہ جنگلوں میں جو گ کے لیے جانے کا خیال دل سے نکال دے ‘ شہزادے کی تربیت پڑھائی لکھائی کا سارا انتظام محل کے اندر ہی کردیا گیا شہزادے کو عام لوگوں اورمعاشرے سے دور رکھا گیا تھا اِس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ شہزادے کا عام معاشرے سے کسی بھی قسم کا تعلق نہ رہے ‘ راجا اپنی انسانی کو ششوں میں مصروف تھا وہ مقدر کے وار کو ہر صورت میں ٹالنا چاہتا تھا انسان اپنی کو شش کرتا ہے خدا اپنی ‘ کیونکہ انسان اورکائنات خدا کی ہی تخلیق ہے وہی کن فیکون کی قوتوں کا مالک ہے یہ ساری کائنات اسباب اُس کے ادنیٰ اشارے کے منتظر رہتے ہیں باپ اپنی کو ششوں میں لگا ہوا تھا لیکن وقت آنے پر ہو نا تو وہی تھا جو حق تعالیٰ نے لکھ دیا تھا جس کام کے لیے بچہ دنیا میں آیا تھا بچپن کی سرحد کراس کر کے بچہ نوجوانی میں داخل ہوا ایک دن شہزادے کو گھوڑا گاڑی پر شہر کی سیر پر لے گئے ‘ گو تم پہلی بار انسانوں کے مختلف اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا پر ہر منظر اُسے ادھیڑ رہا تھا ایک اپاہج پر نظر پڑی جس کی ٹانگیں مفلوج تھیں اور وہ ہا تھوں کے بل چلنے پر مجبور تھا استاد سے پو چھا اِس کی یہ حالت کیوں ہوئی ہے تو استاد نے بتایا بیماری نے اُس کی یہ حالت کر دی ہے رحم دل شہزادے کا جگر ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا انسان کی بے بسی دیکھ کر‘ اگلے منظر میں ایک بو ڑھا دیکھا جس کے بڑھا پے نے اُس کوکمزوری کی آخری حد تک پہنچا دیا تھا ‘ بال دانت گر چکے تھے آنکھیں اندھے پن کے قریب تھیں‘ کمزوری کی وجہ سے جسم پر رعشا طاری تھا استاد نے بتا یا یہ بڑھاپا ہے آخری عمر میں ہر انسان ایسا ہی ہو جا تا ہے شہزادہ یہ دیکھ کر بھی بہت غمگین ہوا سوچنے لگا کہ ایک دن مجھ پر بھی یہی بڑھاپا آئے گا تو اور بھی اداس ہو گیا اگلے منظر نے تو ہلا کر رکھ دیا ایک چارپائی پر بے کفن لاش تھی لوگ اُسے مرگھٹ کی طرف لے کر جا رہے تھے استاد سے پوچھا یہ کیا ہے لوگ کون ہیں تو بتایا گیا یہ موت کا شکار بندہ ہے لوگ اِسے جلا نے لے کر جا رہے ہیں ہمراہ اس کے دوست رشتہ دار ہیں موت کیا ہے ‘ شہزادے نے پو چھا تو استاد بو لا موت انسان کا انجام ہے جب انسان نہ بول سکتا ہے نہ حرکت نہ سن سکتا ہے نہ سونگھ سکتا ہے نہ سوچ سکتا ہے دنیا میں جو بھی آتا ہے اُس پر موت وارد ہو تی ہے ہما را بڑھا پا اور موت گو تم کی سوچ کی کھڑکیاں تھکتی چلی گئیں کہ اِن کی وجہ کیا ہے اِس وجہ اور درد کا حل کیا ہے ۔