درویشِ بے مثال :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

درویشِ بے مثال

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

جس دن سے حضرت انسان اِس جہان رنگ وبومیںآباد ہواہے یہ شان توحیدپرستوں کوہی حاصل ہوئی کہ باربارمسلمانوں نے کثرت افواج کے فلسفے کو جذبہ ایمانی اور قلتِ افواج سے شکست دی ‘جذبہ ایمانی و عقائد نے ہمیشہ فتح پائی چشم فلک ہر دورمیں ایسے واقعات دیکھتی رہی ہے تاریخ کے اوراق ایسے ہزاروں درخشاں واقعات سے بھرے پڑے ہیں ‘جب خدائی فرعون نے طاقت کے بل بو تے پر جذبہ ایمانی کے چراغ کو بجھاناچاہا لیکن ہمیشہ طاغوتی قوتیں جذبہ ایمانی کے سامنے جل کر خاکستر ہوئیں-

یہ داستان ایمان جنگ بدر سے شروع ہو ئی اور ہر دورمیں بارباراہل دنیاکے سامنے دہرائی جاتی رہی ہے 588ھ سرزمین ہندپربھی یہی معرکہ حق وباطل بر پا ہو نے جارہا تھا جب افغانی سپہ سالار شہاب الدین غو ری ایک لاکھ سات ہزارجذبہ ایمانی سے سرشارسپاہیوں کے ساتھ ترائن کے میدان کی طرف بڑھ رہا تھاجہاں اُس کے مقابلے کے لیے ہندوؤں کی تاریخ کا سب سے بہا در مغرور راجہ پرتھوی راج تیار تھا جس نے ہندوستان کے تمام راجاؤں کو اپنے جھنڈے کے نیچے جمع کر لیا تھا‘ ہندو راجہ کے لشکر کی تعدادسات لاکھ سے زیادہ تھی جس میں تین ہزار ہاتھی بھی تھے ہندوستان کے تقریبا ڈیڑھ سو راجا اپنے سورماؤں کے ساتھ اُس کاساتھ دے رہے تھے‘ شہاب الدین غو ری ایک سال پہلے پرتھوی راج سے شکست کھا کربھاگا تھا ۔ ہندوؤں اور راجہ کو اُس فتح نے فرعونیت میں مبتلا کر دیا تھا‘ہم پہلے بھی شہاب الدین غو ری کو عبرت ناک شکست دے چکے ہیں اُس فتح کے بعد ہی ہندوؤں کا غرور آسمان تک ہو گیا تھا‘تاریخ انسانی کے عظیم بے مثال خدا مست درویش شہر اجمیرمیںآچکے تھے اور ہندوؤں کے تمام ساحروں کو اُن کے سحر سمیت خاک چٹا چکے تھے ‘درویش کے بڑھتے ہو ئے اثر رسوخ اور جو ق درجوق ہندوؤں کا مسلمان ہوناپرتھوی راج کو اپنی سلطنت ڈوبتی نظر آرہی تھی ‘پرتھوی راج خوا جہ شہنشاہؒ کو شکست دینے کی بار بار کو ششیں کر چکا تھالیکن صاحب تصرف اور کن فیکون کے مالک کے سامنے راجہ کی تمام چالیں ناکام ہو ئیں اب راجہ نے جب تکبر کے آسمان پر بیٹھ کر یہ بیان جا ری کیا کہ مسلمان تین دن کے اندر ہندوستان اجمیر کی سر زمین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ جائیں اوردرویش بے نظیر کے قریبی ساتھیوں کو جسمانی اذیتیں دینی شروع کیں تو شاہِ چشت ؒ نے حالت جذب و سکر اورآتش جلال میں آکر کہادیکھتے ہیں تین دن میں کون یہاں سے جاتا ہے اور میں نے پرتھوی راج کو زندہ پکڑ کر لشکر اسلام کے حوالے کیا ‘پرتھوی راج نے سن کر کہامجھے گرفتار کر نے لشکر اسلام آسمان سے آئے گادرویش کے منہ سے نکلی بات تقدیر بن چکی تھی شہاب الدین غو ری راجہ پرتھوی کو شکست دینے کے لیے بر ق رفتاری سے آگے بڑھ رہا تھا‘نگاہ درویش کام کر گئی تھی شہاب الدین غو ری کا لشکر جب پشاور پہنچاتو ایک بوڑھا سردارجو پہلی جنگ میں شہاب الدین غو ری کو میدان جنگ میں چھوڑ کر بھا گا تھا غو ری کے پاس آیااور کہا جناب آپ جن سرداروں سے نا راض ہیں وہ اپنی پچھلی غلطی پر بہت نادم ہیں اپنی شرمندگی اور شکست کا داغ دھونے کے لیے ایک با رپھر آپ کے شانہ بشانہ جنگ میں حصہ لینا چاہتے ہیں اِس با ر اپنی بہا دری سے آپ کادل جیتنے میں کامیاب ہونگے اور اپنے دامنوں پر لگے بزدلی کے داغ بھی دھونا چاہتے ہیں ‘شہاب الدین غو ری نے سب معزول سرداروں کو معاف کیا اب یہ لشکر زیادہ جوش و لولے سے آگے بڑھنے لگاپھر ملتان سے ہوتاہوالاہور قیام کیا اور پرتھوی راج کے پاس دعوت اسلام کا قاصدبھیجااہل ایمان کا پہلے دن سے یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ جب بھی کفرستان کا رخ کر تے ہیں پہلے انہیں اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا پیغام حق دیتے ہیں ‘قاصدنے جاکرپرتھوی راج کو دعوت اسلام دی کہ اگر تو دعوت اسلام قبو ل کر لے تو میرے تمہارے درمیان کوئی جھگڑا باقی نہیں رہے گا اور میں واپس چلا جاؤں گا پرتھوی راج دعوت اسلام سن کر آگ بگولاہوگیابھڑک اٹھا اور بولا شہاب الدین غوری کو پچھلے سال والی شکست یاد نہیں جب وہ بزدلوں کی طرح میدان جنگ چھو ڑ کر بھا گا تھاہم راجپوت صرف تلوار کی زبان سے بات کر تے ہیں میری تلوار تیرے خون کی پیا سی ہے راجہ جنگی کثرت پرنازاں تھالیکن وہ درویش کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کی بازیابی سے بے خبر تھاکہ آسمان پر اُس کی شکست لکھی جاچکی ہے کیونکہ جب خالق کائنات کسی کے مقدر میں شکست لکھ دیں تو پھر کائنات کی تمام قوتیں جن و انس بھی اُس کو نہیں بچا سکتے پھر ہندوستان کی تاریخ کا عظیم دن آگیا جب مسلمانوں اور ہندوؤں کے لشکر ایک دوسرے کے سامنے آئے ایک خوفناک گھمسان کا رن پڑا راجپوت ہندوؤں کو اپنی کثرت طاقت پر بہت بھروسہ تھالیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اُن کا راجہ خدا کے لاڈلے ولی اللہ حضرت معین الدین چشتی اجمیری ؒ کی دل آزاری کرچکا تھا جس کی جنبش چشم کے سامنے فتح کی دیوی تیار رہتی ہے درویش بے مثال پرتھوی راج کو شکست اور شہاب الدین غوری کو فتح کی نوید سنا چکے تھے ۔جذبہ ایمانی سے سرشارلشکرقہرکی طرح ہندوؤں پر ٹوٹ پڑا ‘ ہندواپنے ساتھیوں کی لاشوں کو روندتے ہو ئے بھاگ رہے تھے ‘پرتھوی راج میدان جنگ سے بھاگ رہا تھالیکن درویش کے منہ سے نکلے الفاظ اُس کا پیچھا کر رہے تھے راجہ دہلی کی طرف دوڑ رہاتھاتاکہ دوبارہ طاقت اکٹھی کر کے مقابلہ کر سکے لیکن مسلمان فوجیوں کا ایک دستہ اُس کا پیچھا کررہا تھا آخر کار مسلمان دستے نے دریائے سرستی کے کنارے ہتھورا عرف پرتھوی راج فخر ہندوستان کو زندہ گرفتارکر لیااور پھر اِس مغرور راجہ کو زنجیریں پہنا کر شہاب الدین غو ری کے سامنے پیش کردیا گیا جب پرتھوی راج کو زنجیروں سمیت افغان سپہ سالار غوری کے سامنے لایا گیاتو غو ری بولا بے شک زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے وہ خدا کے لیے ہی ہے پھر غو ری خدا کے حضور سجدہ ریز ہو گیا جس نے اُسے عظیم الشان فتح سے ہمکنار کیا ‘سجدے سے سر اٹھایا تو سپاہیوں نے بتایا کہ یہاں پر ایک درویش گو شہ نشین بھی ہے جو اِس کوچہ کفر میں آذان حق دے رہا ہے فوری طور پر سپاہیوں سے کہا مجھے اُس درویش بے مثال کے پاس لے جاؤ اور جب فاتح ہند شہاب الدین غوری حقیقی شہنشاہ ہند خواجہ معین الدین ؒ کے سامنے پیش ہوا تو آپ کا رخ روشن دیکھ کر اچھل پڑا کیونکہ آپ ؒ کا پیکر نورانی وہ خواب میں پہلے دیکھ چکا تھا ‘بے ساختہ منہ سے نکلتا آپ ہی تو وہی بزرگ ہیں جنہوں نے مجھے خواب میں ہندوستان کی فتح کی بشارت دی تھی پھر فاتح ہندوستان جوش عقیدت میں آگے بڑھا تاج سر سے اتار کر شہنشاہِ ہند خواجہ معین الدین ؒ کے قدموں میں رکھ دیا اور بولا اِس فتح کے حقیقی وارث آپ ؒ ہیں مجھے یہ فتح آپ کے خوا ب سے ہی ملی ہے میں غلام آپ ؒ شہنشاہ ‘شہاب الدین غو ری کا تاج کلا ہ خسروی شاہ اجمیر ؒ کے قدموں میں پڑا تھا وہ تاج جس کو پانے کے لیے لاکھوں انسان اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے درویش کے قدموں میں پڑا تھا بے نیاز حقیقی شہنشاہ نے تاج اٹھایا اور شہاب الدین غوری کے سر پر رکھ دیا تمہا رے دشمن مغرور طاقت ور تھے لیکن حق تعالیٰ نے تمہیں فتح سے ہمکنار کیا بلاشبہ شکست و فتح اللہ کے ہی ہاتھ میں ہے ‘انسانوں سے انصاف اوربھلا ئی کرو‘ محبوب خداحق تعالی کے پیغام کو عام کر و پھرشہاب الدین غو ری شہنشاہِ ہند سے ڈھیروں دعائیں لے کر رخصت ہوا پرتھوی راج کو زنجیروں میں باندھ کر غزنی لے گیا پرتھوی راج نے پہلی جنگ میں سازش کے طور پر شہاب الدین غو ری کو شکست دی جس کا غو ری کو بہت زیادہ رنج تھاآج جب درویش کی دعاؤں اور حق تعالیٰ کے کرم خاص سے پرتھوی راج زنجیروں میں جکڑا اُس کے سامنے لایا گیا تو شہاب الدین غوری کو روشن چہرے والے بزرگ یاد آگئے جنہوں نے خواب میں آکر کہا تھا ہندوستان کا تخت تجھے دیا اور پھر جب پرتھوی راج کا سر تن سے جدا ہو نے کے لیے تلواراُس کی گردن کی طرف لپکی ہو گی تو یقیناًاُسے اپنی مرحومہ ماں کا فقرہ یاد آرہا ہو گا کہ سرزمین اجمیر پر ایک درویش بے مثال آئے گااُس سے چھیڑ خانی نہ کر نا ورنہ اپنی زندگی اور سلطنت سے ہاتھ دھو بیٹھو گے لیکن اب موت قریب تھی اوروہ غلطی کر چکاتھااور پھر انہی سوچوں میں غرق پرتھوی راج کی گردن تن سے جدا کر دی گئی اور شاہِ چشت کے الفاظ سچ ہو ئے کہ میں نے پرتھوی راج کو زندہ لشکر اسلام کے حوالے کیا ۔