کتاب:دکنی محاورے’ کہاوتیں اورضرب الامثال- مصنف:ڈاکٹرمحمد عطااللہ خان(شکاگو)

رکنی 2

رکنی

کتاب :دکنی محاورے’ کہاوتیں اورضرب الامثال معہ تشریح

مصنف:ڈاکٹر محمد عطااللہ خان(شکاگو)

فون ۔ 17735775780+ / 13023573644+

مبصر : ڈاکٹر سید فضل اللہ مکرم
صفحات:224 ۔ ۔ ۔ ۔ قیمت : 200
پبلشر : ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوز ۔ نئی دہلی –
ملنے کا پتہ : اردو بک ڈپو۔انجمن ترقی اردو ہند۔حیدرآباد
—-
’’ایک دفعہ کوئی جاٹ سر پر چار پائی لئے کہیں جار ہاتھا۔ ایک تیلی نے دیکھ لیا اور پھبتی کسی ’’جاٹ رے جاٹ تیرے سر پہ کھاٹ‘‘ جاٹ اس وقت تو چپ ہوگیا مگر دل میں بدلے کی بھاؤ نا لئے بیٹھا رہا۔ ایک دن دیکھا کہ تیلی اپنا کولہو لئے جاتاہے ۔ جاٹ نے جواباً کہا ۔’’ تیلی رے تیلی تیرے سر پہ کولہو‘‘ تیلی ہنسا اور کہنے لگا ’’کچھ جچی نہیں‘‘ جاٹ نے جواب دیا ۔ جچے نہ جچے تو بوجھوں تو مرے گا۔‘‘

محاورہ ، کسی بھی زبان کی تہذیب کا ترجمان ہوتا ہے ۔ زبان کی سب سے بڑی شان محاورے ، کہاوتیں اور ضرب ا لا مثال ہیں۔ محاورے ایک دو دن میں تیار نہیں ہوتے بلکہ برسوں کے تجربوں کے بعد اپنی جگہ بناتے ہیں ۔ سچ کہا جائے تو زبان کا حسن ان کے محاوروں اور کہاوتوں میں پوشیدہ ہوتا ہے بلکہ کسی بھی زبان کی ترویج و اشاعت میں محاوروں کا اہم رول ہوتا ہے یہ دو یا دو سے زائد لفظوں پر مبنی ہوتے ہیں مگر اپنے اندر تاثیر کی بے پنا ہ طاقت رکھتے ہیں ۔ اس میں تغیر و تبدیل کی گنجائش نہیں ۔ لفظوں کی ترتیب جو طئے ہے وہی قطعی ہے ۔ لفظوں کے آگے پیچھے کر نے سے محاورہ ، محاورہ نہیں رہتا۔ اہلِ زبان کبھی غلط محاوروں کا استعمال نہیں کرسکتے۔
ضرب المثل ، عربی زبان کا لفظ ہے ۔ کہاوت اس کا مترادف ہے کہا جاتا ہے کہ ضرب المثل میں ہمارے اسلاف کے تجربات، ان کے مشاہدات‘ زندگی میں رونما ہونے والے واقعات یا سانحات کو دو یا دو سے زائد الفاظ میں اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ وہ زبان زد خاص و عام ہوجاتے ہیں ۔ گویا ضرب المثل میں کوئی مثل چھپی ہوئی ہوتی ہے ۔
’’ بقول شان الحق حقی کہ : ضرب المثل عوامی سطح پر پیدا ہوتی ہیں ۔ ان میں عوامی فسطانت سمائی ہوتی ہے اور عوامی زندگی کی جھلک نظر آتی ہے خوبی یہ ہے کہ پھر خواص بھی ان ہی مثلوں اور کہاوتوں کو برتتے ہیں اور اپنالیتے ہیں ۔ اگر چہ وہ اکثر ان کے اپنے ماحول یا معاشرے سے تعلق نہیں رکھتیں۔ نہ صرف امثال بلکہ الفاظ ، تلفظ محاورے و غیرہ کے معاملے میں بھی عوام کے آگے خواص کی زیادہ نہیں چلنے پاتی ۔‘‘
دکنی کی ایک اپنی شان ہے ۔ دکنی لب و لہجہ ہر کسی کو اپنی طرف متوجہ کرلیتا ہے ۔ آج اُردو کی جو شکل و صورت ہے ۔ اس کی بنیاد تویہی دکنی ہے ۔ دکنی کا ایک اپنا ماحول ہے۔ مقامی اور علاقائی سطح کی تہذیب و ثقافت کو دکنی نے ایسا اپنا لیاہے کہ وہ اب دکنی کی میراث ہی لگتاہے ۔آج بھی دکنی جنوبی ہندوستان خصوصاً تلنگانہ میں بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔ آج یہا ں بھی شعر و شاعری میں دکنی الفاظ ، محاورے ، کہاوتیں اور ضرب الامثال کو برتا جاتا ہے۔ دکنی محاوروں اور کہاوتوں کی ایک اپنی شان ہے ۔
ڈاکٹر عطا اللہ خان، اُردو کالج کے پرنسپل رہے ہیں ۔ انہیں دکنی ادب پر عبور حاصل ہے۔ دس سے زیادہ تحقیقی و تنقیدی کتابوں کے مصنف ہیں ۔ یہ روانی سے دکنی محاوروں او رکہاوتوں کا استعمال کرنا جانتے ہیں ۔ اور ان محاوروں کی تہذیبی عناصر سے بھی خوب واقف ہیں ۔ تبھی تو انہوں نے بیسوں دکنی کے محاورے اور ضرب الامثال کو نہ صرف یکجا کیا ہے بلکہ اس کی تشریح و توضیح کرکے نئی نسل کو اس قدیم زبان سے جوڑنے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ آپ ایک ایک محاورہ اور کہاوت پڑھتے جائیے ، آپ کے چہرے پر خود بہ خود مسکراہٹ دوڑنے لگے گی۔ یہی دکنی کا کمال ہے۔آج بھی دکنی اُردو دکنی عوام کی زندگیوں میں مسکراہٹیں بکھیرنے کا کام کرتے ہیں ۔موجودہ دور تشویش، تشکیک اور تشنج کا دور ہے ۔ آج ہر انسان نفسیاتی مریض بنا ہوا ہے ۔ ایسے میں محاوروں اور ضرب الامثال کے ذریعے کسی کو گُدگُدی کرنا سب سے بڑی نیکی ہے ۔ ڈاکٹر عطاللہ خاں نے ان محاوروں اور کہاوتوں کو یکجا کر کے نیک کام کیا ہے ۔جو سینہ بہ سینہ منتقل ہورہی ہیں اس کتاب میں شامل اکثر کہاوتیں غالباً کسی کتاب میں نہیں ملیں گی ۔بلکہ جیسے جیسے آپ کہاوتیں پڑھتے جائیں گے ۔ آپ کواپنی دادی ماں او رنانی ماں کی یاد آتی جائیگی۔ کیونکہ یہ وہ عظیم خواتین تھیں جنہوں نے محاوروں او رکہاتوں کا اثاثہ سنبھال رکھا تھا اور ان ہی کی توسط سے ہماری تہذیب و ثقافت کے خزانوں کو نئی نسل میں منتقل کرتی جاتی تھیں۔ ہائے، اب وہ مائیں نہیں رہیں۔ جو محاوروں او رکہاوتوں کا استعمال کرسکے۔ اب با محاورہ لکھنے پڑھنے والے بھی عنقا ہوتے جار ہے ہیں اب تو زبان و ادب خبروں کی تحریروں میں سمٹ آیا ہے۔سو شیل میڈیانے زبان، ادب ،تہذیب اور ثقافت کو ہی ملیا میٹ کر دیا ہے ۔ ایسے میں فاضل مصنف نے نہ صرف دلچسپ محاوروں اور کہاوتوں کو ترتیب دیا ہے۔ بلکہ اس کی تشریح اور توضیح کرکے نوجوانوں کو اس ادبی اثاثہ سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ ۲۲۴ صفحات کی اس تصنیف میں تقریباً ۳۶۱ محاورے اور ضرب الامثال حروف تہجی کے تحت یکجا کیے گئے ہیں۔ایک محاورہ ملاحظہ ہو۔
اوتالی چھوری کو دوپہر کا جلوہ
قدیم زمانے میں ایک گاوں کی لڑکی سے دوسرے گاوں کے لڑکے کی شادی ہواکرتی تھی۔ صبح کا نکاح ہوتا اور شام تک گانے بجانے کا پروگرام ہوتا مغرب کے بعد جلوہ کی رسم ادا کی جاتی اور دلہن کی رخصتی ہوتی تھی۔ یہاں دوپہر کا جلوہ ہورہا ہے وہ اوتالی چھوری کا یعنی دلہن بہت تیز ہے اوتالی ہورہی ہے دلہے کے گھر جانے بے چین ہے وہ اپنی مان سے کہتی ہے دوپہر میں میرا جلوہ ڈال دو میں دلہے کے گھر چلے جاتی ہوں ۔ اس بات پر شادی میںآئی خواتین کہتی ہے یہ محاورہ ’’اوتالی چھوری کو دوپہر کا جلوہ‘‘ اس طرح یہ محاورہ بنا ہے ۔
یہ کتاب اردو بک ڈپو ۔حمایت نگر حیدرآباد کے علاوہ ھدی ٰ بک ڈپو پر دستیاب ہے۔براہ راست طلب کرنے والے حضرات (9160058268) پررابطہ کرسکتے ہیں۔ اس کتاب کی اشاعت پر میں مصنف کو دلی مبارک باد دیتا ہوں اور امید کرتاہو ں کہ یہ کتاب اُردو حلقوں میں نہایت وقعت نظر سے دیکھی جائے گی ۔

۷ thoughts on “کتاب:دکنی محاورے’ کہاوتیں اورضرب الامثال- مصنف:ڈاکٹرمحمد عطااللہ خان(شکاگو)”

Comments are closed.

↓