قسط: 22 – قرآن کو لوگوں سے چھپانا اللہ کی لعنت کا باعث :- مفتی کلیم رحمانی

لعنت کا
مفتی کلیم رحمانی

دین میں قرآن فہمی کی اہمیت
قسط: 22
قرآن کو لوگوں سے چھپانا اللہ کی لعنت کا باعث

مفتی کلیم رحمانی
پوسد ۔ مہاراشٹرا
موبائیل : 09850331536

دین میں قرآن فہمی کی اہمیت کی 21 ویں قسط کے لیے کلک کریں

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے علماء کے جو گناہ بیان کئے ہیں ان میں سے ان کا ایک بڑ اگناہ بیان کیا کہ وہ لوگوں کے سامنے اللہ کی کتاب کو کھول کھول کر بیان نہیں کرتے تھے ۔

اور قرآن مجید میں بنی اسرائیل کے علماء اور عوام کے گناہ صرف ان کی برائی بیان کرنے کے لیے بیان نہیں کیے گئے بلکہ امّتِ مسلمہ کے علماء اور عوام کی نصیحت و عبرت کے لیے بیان کئے گئے ہیں تاکہ وہ ان گناہوں سے بچے جن میں مبتلاء ہوکر بنی اسرائیل کے علماء اور عوام اللہ کے ملعون قرار پائے۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی آیت ۱۶۰ میں بڑی وضاحت کے ساتھ بنی اسرائیل کے علماء کے ایک سنگین جرم اور گناہ کو اس طرح بیان فرمایا۔اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْتُمُوْنَ مَا اَنْزَلْنَامِنَ البَےِّنٰتِ وَالھُدَیٰ مِنْ م بَعَدِ مَابَیِّنٰہُ للِنَّاسِ فِی الْکِتٰبِ اُوْلٰٓءِکَ یَلْعَنُہُمْ اللّٰہُ وَیَلْعَنُہُم اللّٰعِنُوْنَ (بقرہ ۱۶۰)ترجمہ : بے شک جو چھپاتے ہیں جو ہم نے نازل فرمایا واضح تعلیمات اور ہدایت کوباوجود یہ کہ ہم نے اُس کو لوگوں کے لیے کتاب میں کھول کھول کر بیان کردیا ۔اِنہیں چھپانے والوں پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے فرشتے لعنت کرتے ہیں۔ اس سے بخوبی واضح ہوا کہ اللہ کی کتاب کو لوگوں کے سامنے کھول کھول کر بیان نہ کرنا کتنا بڑا گناہ ہیکہ اس کی وجہ سے انسان اللہ کی لعنت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اور ظاہر ہے جو اللہ کی اور فرشتوں کی لعنت میں زندگی گزارے وہ اللہ کی رحمت کا مستحق کیسے ہوسکتا ہے۔ یہ حقیقت ہمارے ذہن میں رہنی چاہیے کہ جس طرح بنی اسرائیل کے لیے توریت ، زبور ، انجیل اللہ کی کتابیں اور ہدایت کا ذریعہ تھیں ۔ اسی طرح قرآ ن مجید امتِ مسلمہ کے لیے اللہ کی کتاب اور ہدایت کا ذریعہ ہے اور اگر امت مسلمہ کے علماء اور عوام نے قرآن مجید کو لوگوں سے چھپانے کا جرم اور گناہ کیا تو یقینی طورپر امتِ مسلمہ کے علماء اور عوام بھی اللہ اور اُس کے فرشتوں کی لعنت میں گرفتار ہوں گے۔اور اس لعنت سے نکلنے کے لیے وہی تدبیریں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ کی مذکورہ آیت کے متصل آیت ۱۶۱؂ میں بیان فرمائیں۔اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْ اوَاصلَحُوْ
وَبَیَّنُوْ فَاُوْلٰٓءِک اَتُوْبُ عَلَیْہِمْ وَاَنَا التَّوَّابُ الَّرَحِیمْ (البقرہ۱۱۶)ترجمہ : مگر وہ لوگ (جنہوں نے اللہ کی کتاب کو لوگوں کے سامنے بیان نہ کرنے کے گناہ سے) توبہ کی اور اپنی اصلاح کرلی اور بیان کردیا تو میں ایسے ہی لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہوں۔قرآن مجید میں ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے مذکورہ جرم کو بیان فرمایا۔وَاِذْاَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوْ الکِتٰبَ لَتُبَیِّنُنّٰہُ لَلِنَّاسِ وَلَا تَکْتُموْنَہٗ فَنَبَذُوْہٗ وَرَآءُ ظُہُورِہِمْ وَاشْتَرَوْابِہٖ ثَمَناً قَلِیْلاً فَبِئسَ مَایَشْتَرُوٗن(آل عمران۱۸۷)ترجمہ : اور جب اللہ نے ان لوگوں سے عہد لیا جنھیں کتاب دی گئی تھی کہ تم اس کو ضرور ضرور لوگوں کے لیے بیان کرنا اور اس کو چھپانا مت پھر بھی انہوں نے اس عہد کو پیٹھ پیچھے ڈال دیا اور تھوڑی قیمت کی خاطر اس عہد کو بیچ ڈالا پس انھوں نے بہت بری خریداری کی۔
مذکورہ دونوں ہی آیات سے یہ بات واضح ہوتی ہے یہود و نصاریٰ کے علماء کا سب سے بڑ اگناہ اللہ کی کتاب کو لوگوں کے سامنے کھول کر بیان نہ کرنا تھا۔اس سلسلہ میں اگر امت مسلمہ کاجائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن کو لوگوں کے سامنے کھول کر بیان نہ کرنے کے گناہ میں امتِ مسلمہ کے بہت سے علماء، حفاظ ، ائمہ اور افراد یہود نصاریٰ سے کچھ بھی پیچھے نہیں ہیں بلکہ آگے ہی نظر آتے ہیں، وہ یہ کہ آج امت مسلمہ میں بہت سے علماء حفّاظ اور افراد ہزاروں ایسے ملیں گے جو قرآن کی تعلیمات اور ہدایات کوخود اپنے آپ پر واضح کئے ہوئے نہیں ہیں۔ اور ظاہر ہے جو قرآن کو اپنے ذہن و دماغ پر کھول کر بیان نہ کریں وہ لوگوں کے سامنے قرآن کو کھول کر کیا بیان کریں گے ۔اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ قرآن مجید کو سمجھ کر نہیں پڑھنا اور سمجھ کر نہیں سننا ایک طرح سے قرآن کو اپنے آپ سے چھپا لینا ہے اور جو خود اپنے آپ سے قرآن چھپالے وہ اللہ کی لعنت سے کیسے بچ سکتا ہے ۔جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کوبھی اپنی لعنت کا مستحق قرار دیا جو کتاب اللہ کو عام لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرتے تھے اور اس سلسلہ میں مزید غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ قرآن مجید کو لوگوں کے سامنے بیان نہ کرنے کے گناہ کی شدت یہود و نصاریٰ کے گناہ کی شدت سے بڑھ جاتی ہے۔
کیوں کہ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ توریت ، زبور ، انجیل اللہ کی کتابیں ہونے کے باوجود وہ مقام نہیں پاسکی جو قرآن کو حاصل ہے۔ اس لیے کہ یہ کتابیں مخصوص قوموں اور محدود زمانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوئی تھیں ۔ جب کہ قرآن مجید تمام انسانوں اور تمام زمانوں کی ہدایت کے لیے نازل ہوا۔ اور خود پہلی کتابوں میں قرآن مجید اور صاحبِ قرآن کا ذکر موجود ہے اور جن نبیوں پر توریت، زبور ، انجیل نازل ہوئیں خود ان نبیوں کو حکم تھا کہ جب وہ نبی تمہاری موجودگی میں آجائے تو اس کی اتباع کرنا اور اس پر نازل ہوئے کلام قرآن پر ایمان لانا ۔ ظاہر ہے جب گناہ کی شدت بڑھ جائے گی تو اللہ کی لعنت کی شدت بھی بڑھ جائیگی ۔ اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ اس وقت امت مسلمہ دنیا میں ڈیڑھ سو کروڑ کی تعداد رکھنے کے باوجود اللہ اور اسلام کے دشمنوں کی ذہنی اور سیاسی غلامی میں جکڑی ہوئی ہے۔ اس غلامی سے نکلنے کی ایک ہی صورت ہے اور ایک ہی صورت ہو سکتی ہے وہ یہ کہ امتِ مسلمہ قرآن کی ذہنی اور سیاسی غلامی میں داخل ہوجائے اور یہ اس وقت تک ناممکن ہے جب تک امتِ مسلمہ خود قرآن مجید کو نہ سمجھ لے اور دیگر قوموں پر اس کے احکام و فرامین واضح نہ کردیں۔