نظام آباد کے طالب علم محمد ریحان کا ڈیکن یونیورسٹی آسٹریلیا میں کارنامہ

محمد ریحان

نظام آباد کے طالب علم
محمد ریحان کا ڈیکن یونیورسٹی آسٹریلیا میں کارنامہ

موسمی پیش قیاسی اور دیگر شعبوں میں کارآمد مصنوعی ذہانت چپ بورڈ کی ایجاد
نظام آباد( 18ستمبر ۔راست) شہر نظام آباد کے نوجوان طلباء زندگی کے مختلف شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیتے ہوئے ملک و قوم کا نام روشن کر رہے ہیں۔

باکسر حسام الدین‘نکہت زرین کے بعد اب ایک اور ذہین طالب علم محمد ریحان ولد محمد عبدالباسط نبیرہ جناب محمد عبدالحکیم جمعرات بازار و نانا سید نعمت علی سلیم سیٹھ گنج نظام آباد نے آسٹریلیا کی ڈیکن یونیورسٹی کے شعبہ گیلانگ الیکٹرانکس میں پڑھتے ہوئے اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔ انہوں نے اپنے استاد ڈاکٹر حامد عابدی کے زیر نگرانی تحقیق کرتے ہوئے مصنوعی ذہانت پر مبنی مائیکرو چپ کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا مدر بورڈ ایجاد کیا ہے جو زندگی کے مختلف شعبوں میں کار آمد ہوسکتا ہے۔ اس مصنوعی ذہانت کی چپ کے مدد سے موسمی پیش قیاسی کا ایسا آلہ تیار کیا جاسکتا ہے جو مخصوص علاقے میں موسمی پیش قیاسی کرسکتا ہے۔ روز مرہ زندگی میں ٹریفک جام کی صورت میں مختلف ہدایات دے سکتا ہے۔بغیر ڈرائیور کی کار بنانے اور دیگر کار آمد مشینوں کی تیاری میں یہ چپ اور بورڈ کار آمد ہوگا۔ مصنوعی ذہانت Artificial Intellingence(AI) جدید طرز کے کمپیوٹر س میں استعمال ہونے والی وہ ٹیکنالوجی ہے جو انسانی ذہن کی طرح کام کرتی ہے ۔ اور کمپیوٹر کی مدد تیز رفتاری سے مختلف قسم کی پیش قیاسی کرتے ہوئے ہدایات دیتی ہے۔ آئی فون نے مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کو استعمال کیا ہے۔ آسٹریلیا میں زیر تعلیم نظام آباد کے طالب میں محمد ریحان کا کہنا ہے کہ کسی بھی طالب علم کے لیے یہ بڑی کامیابی ہے کہ وہ یونیورسٹی سطح پر تعلیم حاصل کرتے ہوئے ایسا مدر بورڈ تیار کرلے جو مصنوعی ذہانت ٹیکنالوجی کو استعمال کرے اور انسانیت کے فائدے میں کام آنی والی مشینوں کی راہ ہموار کرے۔ انہوں نے کہاکہ عام طور پر طلباء روایتی قسم کے کمپیوٹر ہارڈ ویر استعمال کرتے ہیں لیکن ہمیں ایک ہزار گنا تیز مائیکرو چپ کی مدد سے ایک ایسا بورڈ تیار کرنے میں مدد ملی ہے جو زندگی کے مختلف شعبوں میں کار آمد ہوسکتا ہے۔ آسٹریلیا کے اخبارات میں اس اہم کامیابی کی خبریں شائع ہوئی ہیں۔ محمد ریحان نے جے این ٹی یو سے انجینیرنگ میں نمایاں کامیابی حاصل کی تھی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے ڈیکن یونیورسٹی آسٹریلیا میں زیر تعلیم ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی محمد سلمان حیدرآباد سے سی اے کر رہے ہیں۔ ڈیکن یونیورسٹی آسٹریلیا میں ڈاکٹر حامد عابدی کے گروپ میں طلباء پراجکٹس تیار کر رہے ہیں۔ ایک ہندوستانی طالب علم آدتیہ روی شنکر اس مصنوعی ذہانت پر مبنی چپ کی مدد سے چھوٹا سا موسمی پیش قیاسی کا اسٹیشن تیار کرنا چاہتے ہیں جو مخصوص علاقے میں درجہ حرارت‘رطوبت اور بارش کے پیش قیاسی کرے گا۔اور لوگوں کو احتیاطی تدابیر کے مشورے بھی دے گا۔اس کی پیش قیاسی سے ٹریفک کو باقاعدہ بنانے میں مدد بھی ملے گی۔اس کے لیے پہلے بھاری مقدار میں ٹیکنالوجی کی ضرورت تھی لیکن اب AIچپ بورڈٖ کی مدد سے کام آسان ہوجائے گا۔ساتھی طالب علم اس ٹیکنالوجی کی مدد سے ایسا روبوٹ تیار کر رہے ہیں جو راہ میں آرہی رکاوٹوں کی پیش قیاسی کرتا ہے جو گاڑیوں میں کام آئے گی۔اور بغیر ڈرائیور کی خود کار گاڑیوں کا خواب پورا ہوگا۔ڈیکن یونیورسٹی کے شعبہ الیکٹریکل اور الیکٹرانکس کے سینیر لیکچرر ڈاکٹر حامد عابدی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی آمد سے کمپیوٹر کی رفتار میں اضافہ ہوا ہے ۔مشینوں کی لاگت میں کمی واقع ہوئی ہے اور معلومات کے تحفظ میں بہتری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ابھی نئی ہے لیکن بہت جلد وہ اسمارٹ فونس اور دیگر اشیائے ضروریہ میں اپنی جگہ بنا لے گی اور انٹرنیٹ کی رفتار میں بھی اضافہ ہوگا۔اور ہم ڈیکن یونیورسٹی میں طلباء کو اس شعبہ میں تحقیق کی مکمل آزادی دے رہے ہیں جس کے سبب طلباء نے یہ کارہائے نمایاں انجام دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا میں شائد ہی کوئی اور یونیورسٹی ہوگی جہاں طلباء نے مصنوعی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے کوئی نئی ایجاد کی ہو۔ نظام آباد کے طالب علم محمد ریحان کی کامیابی پر ان کے اہل خانہ والدہ مسرت ناز‘ ماموں ڈاکٹر وجاہت علی شکاگو۔دیگر عزیز و اقارب سید یعقوب علی شکاگو‘سید عابد علی ‘سید امتیاز علی‘ محمد اظہر فاروقی‘ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی ‘اساتذہ ‘دوست احباب اور ڈیکن یونیورسٹی انتظامیہ نے انہیں مبارکباد پیش کی ہے۔ اور ان کی نئی ایجاد کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔ اہل نظام آباد نے بھی اس نوجوان کی ترقی و کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔

( نیوز برائے اشاعت: ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی)