ترنگا — ہند کی عظمت کا نشان :- فاروق طاہر


ترنگا — ہند کی عظمت کا نشان

فاروق طاہر
عیدی بازار ،حیدرآباد۔
,
9700122826

پرچم کا مطلب علامت یا نشان ہوتا ہے جو ہمیشہ سے قوموں اور قبیلوں کی شناخت کی علامت رہا ہے۔ سب سے پہلے پرچم کا استعمال جنگوں میں فوجیوں کی شناخت کیلئے کیا جاتا تھا۔ جھنڈے کی ابتداء کب اور کہاں سے ہو ئی، اس کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔ ابتدائے آفرینش سے مذہبی رسومات کی ادائیگی ہو یا جنگ و جدل، کھیل کود کے میدانوں سے لے کر سیاست کے ایوانوں تک جھنڈے کو ایک خاص شناخت اور علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا رہاہے۔ دنیا میں سب سے پہلے قومی پرچم کے رواج کا آغاز مصر سے ہوا۔ اہل مصر جنگ کے موقعوں پر مختلف رنگوں کی لکڑی کی تختیاں ساتھ لے کر نکلتے تھے جن پر نشانات بنے ہوتے تھے۔ اہل روم نے جنگ کے موقع پر پرچم لے کر نکلنے کا طریقہ مصریوں سے سیکھا لیکن انھوں نے لکڑی کی تختیوں کے بجائے کپڑے کے استعمال کو رواج دیا۔ دنیا میں موجودہ پرچموں کی شکل رومنوں کی ہی مرہون منت ہے۔ اہل روم کی دیکھا دیکھی دیگرممالک میں بھی پرچم کا رواج عام ہوا اور ہر ملک اپنا ایک خاص جھنڈا تیار کرنے لگا۔ اسلام میں پرچم کا رواج ہجرت کے آغاز کے ساتھ ہی ہوا ۔ نبی کریمﷺ جب مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت فرما رہے تھے تب راستے میں حضرت بریدہؓ نے عرض کیا’’یا رسول اللہﷺ! مدینہ میں داخل ہوتے وقت آپ کے پاس ایک جھنڈا ہونا چاہئے‘‘۔ نبی کریم ﷺنے اپنا عمامہ اتارا اور نیزہ سے باندھ کر حضرت بریدہؓ کو عطا کیا۔ جس وقت آپ ﷺمدینہ منورہ میں داخل ہوئے تب حضرت بریدہ جھنڈا اٹھائے آپﷺ کے ساتھ تھے۔ یہ امن و سلامتی کانشان اور اسلام کا پہلا جھنڈا تھا۔
قومی پرچم کسی بھی ملک و قوم کی شناخت کا نشان اور اس کی عظمت و وقار اور نظریے کا ترجمان ہوتا ہے۔ آزادی ہندکے حصول کے 72 سال مکمل ہونے پر تمام ہندوستانی یوم آزادی کو جوش و خروش سے منانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔جشن یوم آزادی کے موقع پر دیگر رنگا رنگ پروگرامس کے علاوہ سرکاری عمارات،دفاتر،اسکولس ،کالجز ،یونیورسٹیز ،عدالتوں پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہنئی نسل کو قومی پرچم کی اہمیت اور اس کے احترام کے تقاضوں سے واقف کروایا جائے۔قومی پرچم کسی بھی قوم کی آزادی، عظمت اور استحکام کا مظہر ہوتا ہے۔ہم اپنے قومی پرچم کی حفاظت کو مادروطن کی حفاظت کی طرح اہمیت دیں۔ قومی پرچم کا احترام بے حد ضروری ہے۔کسی بھیطور اس کی بے حرمتی نہیں ہونی چاہئے۔آزاد قومیں اپنے قومی پرچم کی عظمت کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتی ۔ ہمارا قومی پرچم ہماری قومی امنگوں ،خودمختاری ا ورآزادی کا علمبردار ہے۔ اسکے ادب و احترام کے کچھ تقاضے ہیں جس پر عمل پیرائی ہم سب ہندوستانیوں کے لئے ضروری ہے۔ اپنے قومی پرچم کی عظمت و احترام کی برقراری کے لئے ہمیں قومی پرچم سے متعلق اوامر (کرنے کے کامDo’s) اور موانع(نہ کرنے کے کام Don’ts) کا علم حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ قومی پرچم کی عظمت و وقار میں کوئی کمی نہ آئے ۔پیش نظر میں مضمون انھی امور پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
ہندوستانی قومی پرچم۔ترنگا
ہمارا قومی پرچم تین رنگوں زعفرانی،سفید اور سبز رنگ کے افقی مستطیل خانوں(پٹیوں) پر مشتمل ہے۔ درمیان میں پائی جانے والی سفید رنگ کی پٹی میں نیلے رنگ کا ایک چکر بھی پایا جاتا ہے۔
(1)زغفرانی رنگ جرات،قربانی ،شجاعت اور ایثار کے جذبے کا اظہار کرتاہے اس کے علاوہ یہ حکمت اور عمل مسلسل کی بھی غمازی کرتا ہے۔
(2)ترنگا کے درمیان سفید رنگ کی پٹی کے بیچ میں پائے جانے والے نیلے رنگ کے چکرکو اشوک چکر )دھرم چکر( کہاجاتا ہے جو امن اور سچائی کا مظہر ہے۔اس چکر میں 24ڈنڈے مساوی فاصلے پربنائے گئے ہیں جو خراب اور نامساعد حالات میں بھی مسلسل آگے بڑھنے اور ترقی کی جانب ہم کو مائل کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
(3)ترنگے کی تیسری اور نچلی پٹی سبز رنگ کی ہوتی ہے جو زرخیزی ،ترقی اور خوش بختی کی علامت ہے۔
ہمارے اس قومی پرچم ’’ترنگا‘‘ کو 22 جولائی،1947کو اختیار کیا گیا ۔ جھنڈے کی تیاری کے مراحل کی نگرانی اور اسے بنانے کے حقوق کھادی ڈیولپمنٹ اینڈ ولیج انڈسٹریز کمیشن(Khadi Development and Village Industries Commission) مختلف علاقوں کوتفویض کرتا ہے ۔ہمارے قومی پرچم کا معیاربیورو آف انڈین سٹینڈرڈ(Bureau of Indian Standards-BIS) کی جاری کردہ ہدایات کے مطابق ہونا چاہئے۔ قومی پرچم کے استعمال کے چند اصول و قواعد مقرر کئے گئے ہیں جن کا اطلاق دیگر قومی علامات پر بھی ہوتا ہے۔قانونی طور پرہمارا جھنڈا(پرچم) ہاتھ سے بنے ہوئے اونی(wool) سوتی (Cotton)،کھادی اور ریشم کے کپڑے کا ہوتا ہے۔2005ء میں قانون میں ترمیم کے ذریعے ترنگے کو کچھ خاص قسم کے کپڑوں سے بھی تیار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔جھنڈے کی نمائش اور اس کے استعمال سے متعلق قانون کو فلیگ کوڈ آف انڈیا 2002 کہا جاتا ہے۔ فلیگ کوڈ آف انڈیا2002،سے قبل قومی پرچم سے متعلق امور کی نگرانی کے لئے قومی نشانیوں اور ناموں کے غیر مناسب استعمال کے انسداد کا قانون The Emblems and Names (Prevention of Improper Use)ACT 1950اور قانون برائے انسداد قومی اعزاز ایکٹPrevention of Insults to National Honour Act-1971 بھی موجود تھا۔
اوامر (کرنے کے کام)Do’s
فلیگ کوڈ 2005میں قومی پرچم کو لہرانے اور خصوصاً دیگر قومی اور غیر قومی پرچموں کے ساتھ لہرانے کے رہنمایانہ اصول و ضوابط کی صراحت کر دی گئی ہے۔
(1)قومی پرچم ہر لحاظ سے قابل احترام ہے ،کسی بھی حالت میں اس کی بے حرمتی نہیں ہونی چاہئے۔
(2) قومی پرچم بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈ (BIS)کی صراحت کردہ معیاری پیمائش کے مطابق ہونا چاہئے۔
(3)ہمارے قومی پرچم کی لمبائی اور چوڑائی2/3 کے تناسب( یعنی پرچم کی لمبائی چوڑائی سے 1.5گنا زیادہ ہونی چاہئے)میں ہونی چاہئے۔پرچم کوڈ(Flag Code 2005)اور بیورو آف اسٹانڈرڈ(BIS)کے مطابق ہمارا قومی پرچم نو (09)معیاری سائزس میں دستیاب ہے۔چھوٹے پرچم کا سائز 6X4انچ اور بڑا پرچم (جو عمارتوں،قلعوں اور بلندی پر لہرایا جاتا ہے) 21X14سائزکا ہوتا ہے۔ لال قلعہ،راشٹراپتی بھون اور درمیانی سائز کی سرکاری عمارتوں پر 12X8سائز کا پرچم لہر ایا جاتا ہے۔
(4)جب پرچم لہرایا جائے تو اسے ہموار و مسطح(Flat)اور افقی سمت میں پھیلا ہواہونا چاہئے۔ زعفرانی پٹی اوپر ہونی چاہیے اور پرچم دائیں جانب یعنی سامنے سے دیکھنے والے شخص کے دائیں جانب ہونا چاہئے۔
(5)کھلے مقامات پر اگر رسم پرچم کشائی انجام دی جائے تب لہرائے جانے کے وقت سے غروب آفتاب تک پرچم کو لہراتا رکھاجائے۔
(6)قومی پرچم انتہائی مستعدی کے ساتھ لہرایا اور انتہائی ادب و احترام کے ساتھ اتارا جائے۔قومی پرچم لہراتے اور سرنگوں کرنے کے لئے بگل کی آواز کو اشارے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
(7)جب قومی پرچم لہرایا یا سرنگوں کیا جائے تب تمام افراداپنا رخ پرچم کی سمت رکھتے ہوئے باادب کھڑے ہوجائیں۔
(8)جب کبھی قومی پرچم کو لہرایا جائے تب اس کے احترام کا خاص لحاظ رکھا جائے اور اسے نمایاں اور ممتاز مقام پررکھاجائے۔
(9)عموماً جن عمارات پر قومی پرچم کو لہرانے کا معمول ہو ان عمارات پر پرچم تمام ایام بشمول اتوار اور دیگر تعطیلات میں بھی،موسمی حالات کے قطع نظر طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک لہرایا جانا چاہئے۔ان عمارات پر چند مخصوص موقعوں پر رات کے وقت بھی پرچم لہرایا جائے گا۔
(10) جب کو ئی سرکاری ملازم یا اسٹاف قومی پرچم کی نمائش افقی سمت ،کھڑکی ، یا بالکنی یا پھر عمارات کے سامنے کرتا ہے تب زعفرانی پٹی اس سے دورکنارے پررہنی چاہئے۔
(11)قومی پرچم جب مسطح ،ہموار دیوار پر افقی طور پر نمائش کے لئے رکھاجائے تب زعفرانی پٹی اوپر ہونی چاہئے اور جب اسے عمودی سمت میں نمائش کے لئے رکھا جائے تب زعفرانی پٹی جھنڈے کے دائیں جانب ہونی چاہئے یعنی کہ دیکھنے والے افراد کے دائیں جانب ہونی چاہئے۔
(12)اگر قومی پرچم کو جب گلی کے درمیان میں یا پھر مشرق۔مغرب کی پھیلی ہوئی سمت یا شمال ۔جنوب کی پھیلی ہوئی سمت رکھا جائے تب پرچم کو عمودی سمت میں اس طرح ایستادہ کیا جائے کہ اس کی زعفرانی پٹی کا رخ شمال یا مشرق کی سمت ہو یا پھر جیسا ممکن ہو اس طرح عمل کیاجائے۔
(13)جب دو جھنڈوں کی نمائش مقصود ہو تو اس کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ انہیں پوڈیم کے پیچھے دیوار پر افقی طور پر پھیلایا جاتاہے۔ جھنڈوں کے شروع کا حصے ایک دوسرے کی طرف ہونا چاہئے جبکہ زعفرانی پٹی اوپر ہونی چاہئے۔ پرچم کبھی بھی میز کو ڈھانکنے والے غلاف، لکھنے یا گانے کے ڈیسک، پوڈیم یا عمارات اور جنگلے سے نہیں لپٹاجانا چاہئے۔
(14)جب کبھی بھی کسی ہال کے اندر جھنڈے کو رکھا جائے تو اسے ہمیشہ دائیں جانب یعنی ناظرین کے بائیں ہاتھ کی جانب رکھا جائے یہ مقام جھنڈے کے با اختیار ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ لہذا کسی ہال یا کسی دوسرے میٹنگ میں جھنڈے کو رکھا جائے تو اسے مقرر کے دائیں جانب رکھا جائے۔ اگر ہال میں یا کہیں اور ہو تو اسے تمام سامعین کے دائیں جانب رکھا جائے۔
(15)جھنڈے کو نمائش کے وقت مکمل طور پر پھیلایا جانا چاہئے۔ اگر جھنڈے کو پوڈیم کی دیوار پر عمودی سطحپر رکھا جائے تو زعفرانی رنگ ناظرین کے بائیں جانب ہوناچاہئے۔
(16)اگر جھنڈا کسی جلوس یا پریڈ میں دیگر جھنڈوں کے ساتھ ہو تو پرچم کو تمام جھنڈوں کے دائیں جانب رکھا جانا چاہئے جبکہ درمیان میں ہونے کی صورت میں اسے سب سے آگے رکھا جانا چاہئے۔
پرچم کو کسی مجسمے،یادگار یا تختی کے تقریب نقاب کشائی کے طور پر تو استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن اس سے کسی چیز کو بھی ڈھانکنے کی اجازت نہیں ہے۔
(17)پرچم کشائی کی کسی تقریب میں جب جھنڈا حاضرین کے سامنے سے گزرے تب تمام حضرات مستعدی ،چوکسی اور ادب سے اس کا سامنا کریں جبکہ باوردی افراد پرچم کو صحیح طریقے سے سلامی(سلیوٹ) پیش کریں۔
(18)جب پرچم قطار سے گزرے تو اسے سیلوٹ کرنا یا مستعد رہنا چاہئے۔ کوئی معزز شخص بنا ٹوپی پہنے بھی پرچم کو سلامی( سلیوٹ) دے سکتا ہے۔ پرچم کو سلامی دینے کے بعد قومی ترانے کا آغازکیا جانا چاہئے۔
(19)کسی اجلاس یا میٹنگ میں قومی پرچم مقرر اور صاحب صدر کے پیچھے اس کے سر سے اونچا لگانا چاہئے۔
موانع (Don’ts)
(1)میلے ،خراب ،پھٹے ہوئے یا بوسیدہ پرچم کو نہیں لہرانا چاہئے۔
(2)سوائے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ سرکاری سوگ کے علاوہ قومی پرچم کو کبھی بھی نصف بلندی پر نہیں لہرانا چاہئے۔
(3)ہمارے قومی پرچم کے اوپر یا اس کے دائیں جانب کوئی دوسرا جھنڈا یا کوئی نشان وغیرہ نہیں رکھاجانا چاہئے۔
(4)قومی پرچم کو کسی بھی شکل میں سجاوٹ یا بینر (پھریرے) کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہئے۔
(5)قومی پرچم کو لباس یا وردی(یونیفارم ) کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہئے۔
(6)بچوں کوقومی پرچم کھلونے کی طرح استعمال نہیں کرنا چاہئے۔
(7) قومی پرچم کوتکیوں ،رومالوں ،نیاپکنس(Napkins) اور کپڑوں پر پینٹ نہیں کرنا چاہئے اور اسی طرح اس کی کڑھائی اور بنائی بھی ممنوع ہے۔
(8)کلچرل ،اسپورٹس کے تقاریب کے بعدکاغذ یا کسی دوسری شئے سے بنے ہوئے جھنڈوں کو پھینکنا یا ضائع نہیں کرنا چاہئے۔پھٹے ،خراب یا بوسیدہ پرچم کو احترام کے ساتھ تنہائی میں محتاط طریقے سے دفنانا یا دریا برد کرنا چاہئے۔
(9)کسی فرد یا شئے کو سلامی پیش کرنے کے لئے قومی پرچم کو ہرگز نیچے نہیں جھکانا چاہئے۔
(10)قومی پرچم کو مقرر کی میز کو ڈھانکنے کے لئے یا پھر پلاٹ فارم پر اوڑھانے کے لئے استعمال نہیں کرنا چاہئے۔
(11)قومی پرچم کو الٹا نہیں لہرانا چاہئے۔دھیان رہے کہ ترنگے کی زعفرانی رنگ کی پٹی اوپر رہے۔
(12)قومی پرچم زمین یا پانی سے مس نہیں ہونا چاہئے۔
(13)قومی پرچم کو کسی بھی شکل میں پردے کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہئے۔
(14)قومی پرچم میں کوئی چیز نہیں ڈالی جانی چاہئے۔ پرچم کشائی سے قبل پھول کی پتیاں پرچم میں ڈالی جاسکتی ہیں۔
(15)قومی پرچم کو ایسے نہ باندھا اورایستادہ جائے جس سے پرچم کو نقصان پہنچنے ۔
(16)قومی پرچم کا کسی بھی طرح سے غلط استعمالممنوع ہے۔
(17)کوئی دوسرے پرچم کو اپنے قومی پرچم سے ہرگز اونچانہیں لہرانا چاہئے۔
(18)قومی پرچم کا کسی بھی تشہیر میں استعمال نہیں کرنا چاہئے حتی کہ وہ ستون جس پر پرچم لگایا جاتا ہے اس پر بھی کوئی تشہیری مواد نہیں ٹانگا جاسکتا ہے۔
(19)صرف یوم آزادی اور یوم جمہوریہ کے موقعوں پر جھنڈے کے اندر پرچم کشائی سے قبل پھول کی پتیاں رکھی جاسکتی ہے۔
(20)قومی پرچم پر کچھ بھی نہیں لکھنا چاہئے۔
درجہ بالا سطور میں قومی پرچم سے متعلق اوامر (Do’s)اور موانع (Don’ts)کا اجمالی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔قومی پرچم کی تاریخ، اہمیت اور اسکے اداب و احترام کے بارے میں نئی نسلوں کو آگاہ کرنا نہایت ضروری ہے۔قومی پرچم کی جان بوجھ کرتوہین کرنایا اس کے وقار واحترا م میں کمی کرنا قانون کی رو سے قابل مواخذہ عمل ہے جس کی سزا تین سال قید،جرمانہ یا بیک وقت دونوں کا اطلاق ہوسکتا ہے۔ اگست کا مہینہ آتے ہی بازاروں میں جابجا مختلف سائزاور رنگوں کے جھنڈ ے فروخت ہونے لگتے ہیں۔ یوم آزادی کے جشن کو تزک و احتشام سے منانے کے لئے عواممیں جوش و خروش پایا جاتا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ جیسے ہی پندرہ اگست گزرا ہم اپنے قومی پرچم کو گلی بازاروں میں یونہی چھوڑدیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ہمارے پاؤں تلے روندے جاتے ہیں یا پھر ہوا وں میں بکھر کر گلی کوچوں میں اڑتے رہتے ہیں ۔اکثر کوڑے دان اور دیگر جگہوں پر بھی پڑے دکھائی دیتے ہیں۔ عوام بالخوص طلبہ میں شعور پیدا کیا جائے کہ قومی پرچم ہمارے تشخص اور قومی نظریہ کا غماز ہے ۔قومی پرچم کی حفاظت اور اس کے احترام اور وقار کی برقراری ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ہمارا قومی پرچم ہماری شناخت اور ہمارا فخرہے۔اگر ہم اپنے قومی پرچم کے احترام کو ملحوظ نہیں رکھیں گے تب یہ امر یقینی ہے کہ ہم خود اپنی شناخت مسخ کرتے ہوئے ازخود اپنے وقار اورتفخر کو خاک میں ملا یں گے۔والدین اور اساتذہ نئی نسل کو قومی پرچم کی اہمیت سے روشناس کریں اور ان میں حب الوطنی کے جذبے کو فروغ دیں۔
——–

فاروق طاہر

جواب دیجئے