انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اردو کی موجودہ صور تحال :- جاگیردار عذرا شیرین


انفارمیشن ٹیکنالوجی اور اردو کی موجودہ صور تحال

جاگیردار عذرا شیرین
جزوقتی لکچرر و ریسرچ اسکالر
شعبۂ اردو ٗ مہاراشٹرا اودے گری کالج ٗ
اودگیر ۔ضلع لاتور۔413517
Mob:07721952754

زندگی تسلسل سے عبارت ہے ۔حال کا پتہ لگا نا دراصل ما ضی کا محاسبہ کرنا اور مستقبل کے امکانات کے سفر کو جاری رکھنا ہے۔ہر لمحہ جو تازہ ہوتا ہے اور ایک ثانیے بعد وہی لمحہ پُرانی ساعتوں میں کھو جاتا ہے۔ یہ لمحے ہمیں احساس دلاتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے بیش قیمت ہیں۔ ان لمحوں کا اگر مثبت استعمال کیا جائے تو زندگی کی نئی منزلوں کا پتہ چلتا ہے۔ آج کی زندگی میں انسان مثبت اور منفی قوتوں کی کشمکش کا شکار ہے۔ جس نے مثبت احساس کے ساتھ زندگی گزاری ٗ اُس کے لیے دشواریاں آسان ہو گئیں ٗ اسی مثبت احساس کے تئیں اردو زبان و ادب اور اردو والوں نے ارتقاء کی مسافتیں طئے کی ہیں۔

اردو ایک ایسی زبان ہے ٗ جس کے پاس وافر علمی ذخیرہ اور ادبیات کا خزانہ ہے۔شعر و ادب نے ہمیشہ آفاق مستنیر کیے ہیں اوررموزِ کائنات کے علا وہ تہذیبی و ثقافتی قدروں کو جاننے اور انسان کو انسان کے کام آنے کی تلقین کی ہے۔اسی زبان نے ما ضی میں دار الترجمہ ٗ دائرۃ المعارف اورعثمانیہ یو نیورسٹی کے تحت قانون ٗ انجینأرنگ اور میڈیکل کو اردو میں منتقل کر کے وہ عظیم الشان کارنامہ انجام دیاتھا کہ جس کی نظیر کسی علا قائی زبان میں نہیں ملتی۔سر سید احمد خان نے 1863 ء میں سائنٹیفک سوسائٹی کی بنیاد اسی غرض سے رکھی تھی کہ دوسری زبانوں کے ادب ٗ سائنس اور تاریخ و لسانیات کی کتابوں کو اردو میں منتقل کیا جائے۔عصرِ ھاضر میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ٗ حیدرآباد ٗ NCPUL,New Delhi کے علا وہ اردو کی بیشتر اکادمیوں اور کچھ انجمنوں نے دنیا کی بیشتر سائنسی ٗ ٹیکنیکی ٗ علوم وفنون کو اردو زبان میں منتقل کیا ہے اور کر رہے ہیں۔اس طرح اردو کی نئی بستیاں آباد ہو رہی ہیں۔ایک زندہ زبان کے لیے یہ ضروری بھی ہے کہ وہ عصرِ حاضر کے تقا ضوں کو پورا کرے۔
موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ذرائع ابلاغ نے دنیا کی ترقی میں چار چاند لگا دیے ہیں ٗ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کے تقا ضوں کے تحت اردو زبان نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔سینما اور ٹی۔وی کی دنیا کی بقا اسی زبان سے ہے ۔نوے فی صد فلمیں اور سیریلس اسی زبان میں لکھے اور فلمائے جاتے ہیں ٗ لیکن لیبل اس پر ہندی کا لگتا ہے اور اردو والے ٹک ٹک دیدم ٗ دم نہ کشیدم کی تصویر بنے رہتے ہیں۔آج اس زبان نے شہرت کی حدوں کے سات سندر پار کر لیے ہیں۔
ہندوستان میں یو۔پی اور اے۔پی میں اردو یونیورسٹیوں کا قیام ٗ لندن ٗ شکاگو ٗ جدہ ٗ اور خلیجی ممالک میں منعقدہ عالمی سمینار اور مشاعرے ٗ سیکڑوں ویڈیو ٗ آڈیو پروگرام ٗ ڈاکومنٹری ٗ انٹر نیٹ پر دستیاب ہونے والی اردو کی بے شمار ویب سائٹس ٗ امریکہ اور یورو پی ممالک سے شائع ہونے والے ماہنامے ٗ روزنامے اور جرائد ٗ افریقہ میں اردو زبان کی ترقی اور ایک اندازے کے مطابق دنیا میں اردو بولنے والے 25 کروڑ عوام اورفاصلاتی تعلیم کے دائرۂ اثر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ’’ اردو کے روئے زیبا کی کشش سے پروانے خود بخود اس کی طرف مائل ہو گئے ہیں‘‘ اور بقولِ داغ ؔ دہلوی اب ہم یہ دعوی کر سکتے ہیں :
ع سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
پہلے اردو زبان اور تعلیم ریڈیو اور ٹیلی ویژن تک ہی محدود تھی ۔ان دنوں کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کے سہارے اس کا دائرہ کارورلڈ وائیڈ ویب کے ذریعے پوری دنیا پر چھا گیاہے۔ای۔ٹیوشن ٗ ای۔لرننگ ٗ ای۔ایجوکیشن ٗ ای۔بکس ٗکمپیوٹر یا موبائل کے ننھے چپس (Micro Chips) ایجو کیشنل آڈیو ٗ ویڈیو سی ڈیز ٗ Intractive Tele Conference ٗ ای۔میل ٗ کمپیو ٹر کانفرنسنگ اور وائس ای۔میل ٗ Phone in Progrramme ٗ تصاویر ٗ گرافکس ٗ ریڈرای بکس کے ذریعے انسان نے دنیا کو مٹھی میں بند کرلیاہے۔اس زبان نے سائبر اسپیس میں بھی اپنے قدم جما لیے ہیں اور ٹیکنیکی و سائنسی ترقیات سے ہم آہنگ ہو گئی ہے۔سوپ اوپیرا ٗ وکی سائٹ ٗفو نیٹک اور کسٹمائز کی بورڈ ٗ اینڈرائیڈ کے لیے اردو کی بورڈ ٗ آن لائن اور آف لائن ڈکشنریز ٗ وکی پیڈیا اور انسائکلو پیڈیا ٗ جامع اردو پورٹل کے ذریعے الیکٹرونک وسائل اور OCRسوفٹ ویر کے ذریعے اردو کی ترقی کا سفر روز بروز بامِ عروج پر ہے۔
سابق مرکزی وزیرِ مواصلات کپل سبل نے 12؍ جولائی 2013ء کو ایک پُروقار تقریب کے دوران اردو کی بورڈ منیجر اور اردو فونٹ میں نسخ کے بارہ فونٹس اور ایک نستعلیق فونٹ کا اجراء کرتے ہوئے کہا تھا کہ
’’ اب موبائل فون ٗ لیپ ٹاپ ٗ کمپیوٹر ٗاور ونڈو فون پر اردو زبان میں استعمال کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور اردو زبان پر جدید ٹیکنالوجی کے دروازے کھل گئے ہیں۔کیونکہ اردو زبان میں جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ ہونے کی تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں۔اگر اردو جدید کاری کی گوناگوں سہولتوں سے تہی داماں رہتی تو جلد ہی دم توڑتی نظر آتی لیکن اردو کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں برِ صغیر میں جو اقدامات کیے گئے ہیں ٗ وہ اردو کے تابناک مستقبل کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔(1)
اردو سافٹ ویر کے تعلق سے اگر بات کی جائے تو اس کا سفر تقریباً (34 )برسوں پر محیط ہے۔1980ء میں پاکستان کے مرزا جمیل احمد نے سافٹ ویر تیار کرنے والی غیر ملکی کمپنی سے رابطہ کیا اور اُن کی ممکنہ کوششوں کے باعث اردو سافٹ وئے کی شروعات ہوئی ۔اخبار کی دنیا میں اس کا سب سے پہلے استعمال اخبار ’’جنگ‘‘ پاکستان نے کیا۔بعد ازاں ’’کاتب ‘‘ ’’صدف‘‘ ’’شاہکار‘‘’’ خطاط‘‘’’سرخاب ‘‘ ’’ صفحہ ساز‘‘ ’’اردو پبلیشر‘‘ ’’اردو کلیپ آرٹ‘‘’’ نقاش‘‘ ’’اردو ماہر‘‘’’ اردونگار‘‘’’ پارس نگار اور’’ان پیج ‘‘ کا وجود عمل میں آئے۔
اردو کی ترقی و ترویج مین قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ٗ ایک قابلِ ستائش اردو ادارہ ہے ٗ جو یکم اپریل 1996ء کو عمل میں آیا۔اس ادارے کو نوڈل ایجنسی بنا کر وسیع کر دیا گیا۔قومی سطح پر اقلیت کو ارسدو تنظیم نیٹ ورکنگ کے ذریعے با خبر رکھنا ٗ تاکہ سرکار کی وضع کردہ نئی نئی پالیسیوں سے استفادہ کیا جاسکے۔اس کے فرائضِ منصبی میں شامل ہیں ۔
عالم کاری اور جدید کاری کے اس دور میں قومی اردو کونسل نے اردو کو انفارمیشن ٹیکنالوجی سے جوڑ کروقت کا ایک اہم تقاضہ پورا کیا ہے۔یہ اردو کے فروغ میں تومعاون ہے ٗ تا ہم معاش کی نئی راہیں بھی وا کر رہا ہے۔NCPUL,New Delhiنے کمپیوٹر اپلی کیشن اور ملٹی لینگول ٗ ڈی ٹی پی کے ایک سالہ ڈپلومہ کورس کو جاری کیا۔ اب تک 1300کے زائد
کمپیوٹڑ مراکز کا قیام ہو چکا ہے۔تقریباً 80ہزار وں فراد یہاں سے اسنادات حاصل کر کے روزگار سے جڑ گئے ہیں۔کیالّی گرافی اور گرافک ڈیزائن میں دو سالہ تربیتی کورس نے کاتبوں کے لیے مختلف میدانو ں میں قسمت آزمائی کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مائل بہ زوال خطاطی کے عروج کے لیے بھی روشن امکانات پیدا کیے ہیں ٗ جبکہ تخلیقی ادب اردو ویکی سائٹ پیانل کی تشکیل کے ذریعے افسانوی و غیر افسانوی ادب کو بہترین صورت میں قارئین تک پہونچایا جا رہا ہے۔ NCPUL کا بہترین کارنامہ اردو پورٹل ہے ٗ جس کے ذریعے اردو سرچ انجن ٗ اردو انسائکلو پیڈیا ٗ لغات اور دستاویزات کی طباعت ٗ اردو آموزش سافٹ ویر ٗ بچوں کا ادب وغیرہ پروگرامس مہیا کیے گئے ہیں۔
اس کے علا وہ بھی اردو زبان کے فروغ میں مسلمانوں کی خدمات اپنی جگہ مگر اردو کے گیسوئے تابدار کو اور تابدار کرنے میں ہندوحضرات کی کاوشیں کچھ کم نہیں ۔اردو کی
مختلف ویب سائٹس آج انٹر نیٹ پر بیش بہا ادبی اور علمی خزینے سے لبریز ہیں۔انہی میں سے ایک ریختہ ڈاٹ او آر جی ہے جسے غیر مسلم اردو عاشق اشوک صراف نہایت کامیابی اور عمدگی کے ساتھ انٹر نیٹ پر جاری رکھے ہوئے ہیں۔انٹر نیٹ پر ریختہ کے خزانے سے متعلق اُستاذی ڈاکٹر حامد اشرف رقمطراز ہیں کہ:
آج ریختہ ڈاٹ او آر جی پر ابجدی فہرست میں 3000 سے زائد شاعروں کے کلام کے ویڈیوز موجود ہیں ٗ جسے تین ہزار سے زائد مختلف گلوکاروں نے گایا ہے۔اس ویب سائٹ پر تا حال 18633 غزلیں ٗ 14335 متفرق اشعار ٗنظمیں ٗ تمام فلمی غزلوں کے ویڈیوز اور 18490 ای ۔بکس کا گراں قدر سرمایہ اپ لوڈ کیا گیا ہے ٗ جسے 154 ممالک کے ڈھائی لاکھ سے زیا دہ اردو شائقین کی نگا ہیں بقدرِ ظرف و شوق ملا حظہ کر رہی ہیں۔ یہ سب اس لیے ممکن ہو سکا کہ اس ویب سائٹ کے بانی سنجیو صراف کو اردو شاعری سے بے حد فطری اور وراثتی لگاؤ ہے ۔وہ اردو پڑھنا جانتے ہیں ٗانہیں آرٹ اور موسیقی سے بھی گہری دلچسپی ہے۔(2)
اس کے علاوہ اردو شعرو ادب کی ترقی و ترویج میں فیس بُک ٗ ٹویٹر ٗ ہائی فائی ٗ اور سوشل نیٹ ورک سایٹس ٗ فارمس اور بلاگس نے اردو شعراء و ادبا کو روبرو کر دیا ہے۔اب نہ دوریاں رہیں نہ سرحدیں ٗ بلکہ دنیا ایک عالمی گاؤں بن گئی ہے۔گوگل ٹرانسلیٹر نے اور بھی آسانیاں پیدا کر دی ہیں ۔کسی بھی زبان کا مواد اردو میں اور اردو کا مواد کسی اور زبان میں ترجمہ کیا جا سکتا ہے۔
——-
حواشی:(1) ماہنامہ اردو دنیا ۔جولائی ص 2010 NCPUL,New Delhi -25ء
(2) اردو کی ایک اہم ویب سائٹ : ریختہ ڈاٹ او آر جی ۔ ڈاکٹر حامد اشرف ’’ تجاویز‘‘ 2017ء ایم۔ایم۔پبلی کیشنز ٗ دہلی

متعلقہ موضوعات

جہانِ اردو

Create Account



Log In Your Account



Facebook
↓