خرم نفیس – – – کچھ یادیں کچھ باتیں :- ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

خرم نفیس

خرم نفیس – – – کچھ یادیں کچھ باتیں

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
ایڈیٹر گواہ اردو ویکلی‘
حیدرآباد۔ فون:9395381226

جن سے خبر بنانی سیکھی‘ ایک دن اُن ہی کے انتقال کی خبر بنانی پڑے گی… ایسا تو کبھی سوچا نہ تھا۔
خرم نفیس— کے انتقال کی خبر سوشیل میڈیا پر عام ہوئی تو اندازہ ہوا کہ ان کے چاہنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے۔ تلنگانہ اور آندھرا کے مختلف علاقوں سے تعزیتی پیامات کا سلسلہ جاری رہا۔

ان کے دیرینہ رفاقت کا اظہار کیا گیا۔ انہیں ایک ملنسار، خلیق، خوش اخلاق انسان قرار دیا گیا اور جانے کتنے ہی لوگوں نے انکشاف کیا کہ خرم نفیس ان کے محسن بھی تھے۔ بعض نے ان کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کیا۔
جانے کیوں مجھے ان کے انتقال پر افسوس، رنج یا غم نہیں ہوا بلکہ ایک قسم کی راحت کا احساس ہوا۔ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا یہ شخص جو آہستہ آہستہ اپنی یادداشت سے محروم ہوتا جارہا تھا… جسے اپنے حواس پر قابو نہ رہا… جو ہر لمحہ ہر پل دوسروں کا محتاج ہوکر رہ گیا تھا… اس کی موت نے اسے کم از کم دنیاوی تکالیف سے تو نجات دے دی۔ وہ شخص جو ساری زندگی اپنا اور دوسروں کا بوجھ اٹھاتا رہا… خود ایک بوجھ بن گیا تھا۔ کم از کم یہ بوجھ تو کم ہوگیا۔
27؍اپریل کی سہ پہر خرم نفیس کے انتقال کی خبر ملی… عشاء میں نماز جنازہ اور تدفین مقرر تھی۔ نماز مغرب کے بعد ہم بارکس کے لئے نکلے مگر ٹریفک جام کی وجہ سے چند کیلو میٹر کی مسافت طئے کرنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لگ گیا۔ بارکس پہنچے تو خرم نفیس دوسروں کے کندھوں پر سفر کرتے ہوئے اپنی آخری منزل کی طرف رواں دواں تھے۔ اپنی آرام گاہ کے قریب ان کی سواری اتاری گئی۔ زندگی میں تو سہرا نہیں پہنا.. مگر اب چہرہ چادر گل کے پیچھے… سفید پردہ کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ منہ دکھائی کی رسم پوری ہوئی… یہ کسی برسوں بیمار کا چہرہ ہرگز نہ تھا۔ ہشاش بشاش خرم نفیس… پانی نہاکر لیٹ گئے… اور آنکھ لگ گئی ہو…
عجیب انسان تھا یہ شخص… کبھی کسی کے جنازہ میں شریک نہیں ہوتا۔ نہ تو اپنی ماں کے، ماموں کے، خالہ کے نہ اپنے سگے بھائی کے جنازہ میں حالانکہ یہ سب انہیں اپنی جان سے زیادہ عزیز تھے۔ ساری زندگی اس نے اپنے ان ہی ارکان خاندان کے لئے وقف کردی تھی۔
خرم نفیس سے ہمارا ساتھ 1975ء سے تھا۔ دور کی رشتہ داری اپنی جگہ… رہنمائے دکن کے طلبہ اور نوجوانوں کے صفحہ کی بدولت زیادہ میل جول رہا۔ اکثر پریس کانفرنس‘ کسی افتتاحی تقریب میں ساتھ لے جاتے۔ اہم شخصیات سے ملاقات، تحفے تحائف کی وصولی… اخبار میں تصویر کی اشاعت‘ اس عمر میں اچھا لگتا تھا… وہ رہنمائے دکن کا دور شباب تھا۔ اور خرم نفیس ایک جانا پہچانا نام تھا۔ سیاسی شخصیات، پولیس عہدیدار، ڈاکٹرس، سماجی خدمات گزاروں میں وہ جانے پہچانے تھے۔ ان کے ساتھ رہنے کی وجہ سے ہماری اپنی پہچان بھی بننے لگی تھی۔ بلکہ زیادہ تر لوگ ہمیں خرم نفیس کے کزن کے طور پر جاننے لگے۔ جہاں جہاں موقع ملتا وہ ہمیں آگے بڑھانے کی کوشش کرتے… جیسے آل انڈیا ریڈیو کے یووا وانی پروگرامیں پہلی تقریر نشر ہوئی تو ان ہی کی بدولت۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ عرصہ بعد وہ ریڈیو اسٹیشن سے دور اور ہم قریب ہونے لگے۔
خرم صاحب کا روزانہ کا یہ معمول تھاکہ صبح گھر سے سیدھے عثمانیہ ہاسپٹل جاتے جہاں ان کی خالہ زیر علاج تھیں۔ عثمانیہ ہاسپٹل میں قلب کا پہلا آپریشن غالباً ان کی خالہ کا ہی ہوا تھا۔ ہاسپٹل کے سیکوریٹی گارڈ سے لے کر آر ایم او تک سے ان کے روابط تھے۔ ایک عثمانیہ ہی کیا شہر کے سبھی اہم ہاسپٹلس کے ایم آر او‘ سرجن سے ان کے روابط تھے۔ ان میں ڈاکٹر شیام سندر، ڈاکٹر رماپت پرتاپ ماتھر قابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹر ماتھر ایم ایل اے کوارٹرس ڈسپنسری کے انچارج تھے۔ خرم صاحب روزانہ کسی نہ کسی ایم ایل اے کی سفارش سے میڈیسن حاصل کرتے اور اسے اپنے جان پہچان والوں میں تقسیم کرتے۔
خرم صاحب کی اصل جان ان کی والدہ تھیں۔ جنہیں وہ ’’مورے‘‘ کہتے۔ ان کے ماموں حکیم کریم الدین کی جان خرم صاحب تھے اور کریم صاحب کے بچے خرم صاحب کی آنکھ کا تارہ تھے۔ انجم، افشاں، شاہنواز، احمد، سرفراز یہ بہت چھوٹے تھے۔ خرم صاحب رہنمائے دکن سے رات دیر گئے گھر واپس ہونے سے پہلے بیکری سے ان بچوں کے لئے مختلف ایٹمس خریدتے۔ یہ معمول حال حال تک برقرار رہا۔ ماموں کے بچے بڑے ہوگئے… تو اپنے بھائی طارق کے بچوں کے لئے یہ سلسلہ جاری رکھا۔ اب یہ بچے بھی بڑے ہوچکے ہیں۔
بہرحال! 1979ء میں ہم کراچی گئے۔ میرا ددھیال بھی وہیں ہے… اور خرم صاحب کا بھی۔ وہ بھی پہلی بار کراچی جارہے تھے۔ اپنے والد سے ملنے کیلئے… جو برسوں پہلے پڑوسی ملک چلے گئے تھے۔ وہاں انہوں نے دوسری شادی کرلی۔ انہوں نے خرم صاحب اور ان کی والدہ کو بھی وہاں بلانا چاہا مگر ’’حورے‘‘ نہیں گئیں۔ اپنے دو بچوں کے لئے وہ شوہر کے رہتے ہوئے بھی ایک بیوہ کی طرح زندگی گزارتی رہیں۔ اپنی والدہ کا دکھ خرم صاحب کی آنکھوں سے جھلکتا۔ وہ پہلی بار اپنے اس باپ سے ملنے کے لئے جارہے تھے جن کے رہتے ہوئے بھی خرم صاحب اور ان کے بھائی طارق یتیموں کی طرح کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے۔ حیدرآباد سے دہلی، امرتسر، اٹاری… لاہور اور پھر کراچی تک ٹرین کے سفر کے دوران وہ آزمائشی دور کی داستان سناتے رہے۔
کراچی ریلوے اسٹیشن سے ٹیکسی کے ذریعہ ہم حیدرآباد کالونی جیل روڈ پہنچے۔ ’’A-47‘‘ ان کے والد ؍ تایا کے مکان کا نمبر تھا۔ دو منزلہ شاندار بنگلہ، ایک گھر میں نو ڈاکٹرس… ان کے تایا ذوالفقار علی بھٹو کے فیملی ڈاکٹر‘ والد ایرفورس کے اعلیٰ عہدہ پر فائز۔ خرم صاحب کے سوتیلے بھائی معین بھی ڈاکٹر… کچھ دیر کے لئے ہم چکرا سے گئے۔ باپ نے بیٹے کو گلے لگایا۔ تو برسوں کا ضبط ٹوٹ گیا… صبر کا پیمانہ چھلک گیا۔ اپنے والد کے گلے سے لگ کر… کراچی کے گھر کی شان و شوکت کو دیکھ کر‘ یا اپنی والدہ کی حالت، یا ان کی قربانیوں کو یاد کرکے…
کراچی سے واپسی کے دوران خرم صاحب نے کہا… دیکھو اللہ کا انصاف۔ ایک شخص کی دو بیویوں… دونوں کی اولاد کی حالت… میں نے دوسری باتوں میں لگادیا۔ کہیں اس دلبرداشتہ شخص کی زبان سے کوئی گستاخانہ لفظ نہ نکل جائے۔
کراچی سے واپسی کے بعد خرم صاحب کی فطرت ہی بدل گئی… ان کا مزاج بدل گیا۔ چڑچڑاپن، شک… عدم تحفظ، محرومی کا احساس… انہیں ہر دوسرا شخص اپنا دشمن نظر آنے لگا۔ اور یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ ان کے ساتھ بار بار ناانصافی ہوئی۔ مثال کے طور پر وہ شام نامہ رہنمائے ملت میں کام کرتے تھے۔ غالباً محبوب پاشاہ مرحوم اس کے مدیر تھے۔ وہ کاتبین کو تو معاوضہ دے دیا کرتے تھے خرم صاحب کو ترسا ترساکر، ستاکر قسطوں میں ان کا معاوضہ دیتے… وہ دکن نیوز بھی سنبھالتے تھے۔ یہاں بھی معاوضہ کا وہی حال تھا۔ رہنمائے دکن میں وہ پارٹ ٹائم تھے۔ اس وقت رہنمائے دکن ایک بحر بیکراں تھا جس میں وہیل، شارک جیسی بڑی بڑی مچھلیاں تھیں… جو ہر چھوٹی مچھلی کو نگل جایا کرتی تھیں۔ خرم نفیس نے ان میں اپنی جگہ بنائی۔
پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وہ رہنما کے سب سے اہم اور ذمہ دار رکن بن گئے۔ رہنمائے دکن انتظامیہ کا معاملہ بھی عجیب تھا۔ سب سے زیادہ غصہ خرم صاحب پر اور سب سے زیادہ اعتماد بھی ان ہی پر۔ شاید اس لئے کہ ادارہ سے ان کی وفاداری کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا تھا۔ جو رہنما کا دشمن‘ وہ ان کا دشمن۔رہنمائے دکن کا دفتر چاہے وہ افضل گنج کا ہو، شنکر باغ کا یا پھر آصف نگر کا۔ اپنی صحت کی ناسازی سے پہلے تک وہ سب سے پہلے آتے اور سب کے آخر میں واپس جاتے۔ حتیٰ کہ اپنے آخری ایکسیڈنٹ کے بعد بھی وہ آٹو رکشہ میں آصف نگر آتے‘ کچھ دیر بیٹھتے چلے جاتے۔
اپنے بھائی طارق کی موت کے بعد وہ پوری طرح ٹوٹ گئے… انہیں شدت سے احساس تھا کہ وہ اپنے بھائی کا ٹھیک سے علاج نہیں کرواسکے۔ خرم نفیس نے شادی نہیں کی۔ اردو صحافت میں کئی نام ایسے ہیں‘ محبوب حسین جگر مرحوم، ایم اے متین صاحب بھی مجرد رہے۔ خرم صاحب سے ہم شادی کے بارے میں بات کرتے تو کہتے ’’ارے میاں! اردو اخبار کی تنخواہ میں کیسے پال سکتے ہیں‘ کسی کو اپنے گھر لاکر اسے راحت دینا‘ تکلیف نہیں‘‘۔ حقیقت یہ تھی کہ نکریکل حادثہ میں ان کے دونں پیر اور دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے تھے۔ دونوں پنڈلیوں میں راڈز تھے۔ وہ کئی بار حادثات کا شکار ہوئے۔ ایک طرح ان کی ہمت ٹوٹ چکی تھی۔ معصوم ننھے منے بچوں سے بے حد پیار تھا۔ برقعہ پوش غریب خواتین کو دیکھ کر وہ کانپ جاتے۔ 70کی دہائی میں جب ان کا مکان چنچل گوڑہ میں تھا‘ وہ سکندرآباد سے واپس ہورہے تھے‘ جیب میں صرف چونی تھی۔ ایک برقعہ پوش خاتون نے دست سوال دراز کیا تو وہ چونی دے دی۔ اور سکندرآباد سے چنچلگوڑہ پیدل آگئے۔
رہنمائے دکن کے کئی کاتبوں کا انہوں نے عثمانیہ میں علاج کروایا اور ایم ایل ایز سے دستخط لے کر قیمتی دوائیں بھی فراہم کیں۔ واجد مسعود اس کی گواہی دے سکتے ہیں۔
شخصی طور پر ہم خرم صاحب کے احسانات کے مقروض ہیں۔ ایس ایس سی میں امتحان کی فیس سے لے کر انوارالعلوم کالج الیکشن: اپنے ساتھیوں کی کوثر کیفے (ملے پلی) میں سموسہ چائے سے دعوت… یہ سب خرم صاحب کے ذمہ تھی۔(جبری طور پر)
رہنمائے دکن میں اسپورٹس رپورٹر کی حیثیت سے صحافتی کیریئر کا آغاز ہوا تو بی سی جے میں داخلہ کی ترغیب… یہ سب خرم صاحب کی بدولت ہے۔خرم صاحب یقیناًایک اچھے صحافی رہے۔ خبر بنانا ہم نے ان سے ہی سیکھا۔ ایڈیٹنگ کی تکنیک بھی ان سے ہی سیکھی‘ ہاں کوششوں کے باوجود خبروں سے ناپسندیدہ افراد کے نام کو حذف کرنا نہیں سیکھ سکے جس پر اکثر اختلاف بھی رہا۔خرم صاحب کی ایک کمزوری یہی تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کے ساتھ رہنے والے ان کے تحت رہیں اور وہ جس سے ناراض ہوں دوسرے بھی رہیں۔اس بات پر قربتیں دوریوں میں بھی بدلیں‘ مگر ایک دوسرے کا پاس و لحاظ ہمیشہ برقرار رہا۔
اس میں ان کا اپنا کوئی قصور نہیں تھا۔ وہ حالات کے مارے ہوئے تھے۔ قدم قدم پر ستائے گئے۔ جہاں ترقی کے مواقع تھے چھینے گئے۔ ان کے سامنے جو میدان میں آئے وہ آگے نکل گئے جن جن کو انہوں نے آگے بڑھنے میں مدد دی۔ وہ اتنا آگے بڑھے کہ پیچھے پلٹ کر کبھی انہوں نے خرم صاحب کو پوچھا نہیں۔
اردو اخبارات کی تنخواہیں… اور اردو صحافی۔ گھر اور گھر سے باہر کی زندگی… اَن گنت مسائل… محدود وسائل۔ لوگوں کی استعمال کرو اور پھینک دو کی پالیسی نے انہیں بہت بدظن کردیا تھا۔ وہ اپنی دانست میں رہنمائے دکن کے سب سے زیادہ وفادار تھے اور ان کی نظر میں ادارہ کے بیشتر ملازمین دوسرے اخبارات کے آلہ کار تھے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے‘ رہنمائے دکن میں رہتے ہوئے جانے کتنوں نے اپنی دکانیں کھول رکھی تھیں‘ ان سب کی کمزوریاں خرم صاحب کے پاس تھیں۔ وہ دکھتی رگ پر انگلی رکھتے تو لوگ بلبلا اٹھتے۔ بعض سیاسی قائدین، مذہبی رہنما، سماجی ادارے بھی خرم صاحب سے ناراض رہتے… کیوں کہ خرم صاحب ان کی خبروں کا پوسٹ مارٹم کردیتے۔ اس لئے کہ یہ لوگ فائدہ رہنمائے دکن سے اٹھاتے، وقار پاشاہ سے چندے لیتے‘ خبریں اور مفت اشتہارات رہنما میں چھپاتے۔ دوسرے اخبارات میں پیسہ دے کر اشتہار شائع کرواتے۔ ان لوگوں سے خرم صاحب کا ذاتی اختلاف نہ تھا۔ وہ رہنمائے دکن کے ہمدرد تھے۔ اس لئے خود لڑجاتے۔ انہیں رہنمائے دکن کے ان ’’حرام خوروں‘‘ سے بھی نفرت تھی جو پاشاہ کے دسترخوان کے بلاوڑ بھی بنتے اور ان کے مخالفین کی پھینکی ہوئی ہڈیوں کے بھی منتظر رہتے بلکہ ان کے دسترخوان کے بلاوڑوں نے سب سے زیادہ رہنمائے دکن اوروقار پاشاہ کو نقصان پہنچایا، مجلس سے دوری پیدا کی۔ خرم صاحب نے اپنے طور پر کوشش بھی کی کہ رہنما اور مجلس کے اختلافات ختم ہوں مگر ممکن نہ ہوسکا۔ کیوں؟ اس کا جواب… خیر۔
خرم نفیس‘ نہیں رہے سبھی کو ایک دن جانا ہے۔ کچھ عرصہ بعد لوگ بھول بھی جائیں گے۔ سب کے ساتھ ایسا ہونے والا ہے بس ہم ہر ایک موت سے درس عبرت حاصل کرسکتے ہیں—

خرم صاحب حاضر جواب تھے۔ ان کے برجستہ جملوں اور جوابات سے اکثر ان کے فریقین کے تن بدن میں آگ لگ جاتی تھی اور وہ لاجواب ہوجاتے۔ ویسے ان کے جملوں سے سبھی محظوظ ہوا کرتے تھے۔
وہ اپنی ہتک برداشت کرلیتے اور اس کا جواب بزبان قلم دیتے۔ ایک ریاستی وزیر ہوا کرتے تھے احمد شریف۔ کسی محفل میں انہوں نے خرم صاحب سے اہانت آمیز لہجہ میں بات کی۔ حسب عادت خرم صاحب نے کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ وقت اور موقع کا انتظار کرتے رہے۔ کچھ عرصہ بعد مغل پورہ میں اوقافی مسائل پر جلسہ ہورہا تھا۔ کسی کی تقریر ہورہی تھی کہ مغرب کی اذان کی آواز سنائی دینے لگی۔ مقرر نے اپنی تقریر روک دی شہ نشین پر احمد شریف اپنے بازو بیٹھے ہوئے مہمانوں سے قہقہہ لگاکر باتیں کرنے لگے۔ دوسرے دن رہنمائے دکن کے صفحہ آخر پر خرم صاحب کی باکس ایٹم میں چھپی اس نیوز نے احمد شریف کا بیڑہ غرق کردیا جس کی سرخی تھی ’’مسلم وزیر جسے اذان کا احترام نہیں‘‘۔ بس پھر کیا تھا مذمتی اور مخالفانہ بیانات کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ احمد شریف کو ایک عرصہ تک مسلمانوں سے بھی منہ چھپا کر رہنا پڑا۔
چھوٹی چھوٹی باتیں آل انڈیا ریڈیو حیدرآباد کے اردو پروگرام ’’نیرنگ‘‘ کا سب سے مقبول عام پروگرام تھا۔ رات ساڑھے نو بجے ہر گھر میں بس چاند میاں فاطمہ بی، لالہ بھائی اور محبوب بھائی کی آوازیں سنائی دیتیں۔ اُس زمانہ میں خرم صاحب ریڈیو اسٹیشن کافی آیا جایا کرتے تھے۔ کسی معمولی سی بات پر چھوٹی چھوٹی باتوں کے ایک رکن سے (جن کا نام یہاں دینا مناسب نہیں) اختلاف ہوا۔ یہ دور تھا جب چھوٹی چھوٹی باتوں کے فنکار عوامی ہیرو تھے۔ ان کی ایک جھلک دیکھنے لوگ اُمڈ پڑتے تھے۔ اُسی زمانہ میں عوام کے اصرار پر چھوٹی چھوٹی باتیں رویندر بھارتی میں پیش کیا گیا۔ خرم صاحب نے اُس وقت کے اسٹیشن ڈائرکٹر سے رہنمائے دکن کے لئے لئے گئے انٹرویو کے دوران سوال کیا کہ آیا آل انڈیا ریڈیو کے پروگرام کو کمرشیل طور پر رویندر بھارتی میں کیوں کر پیش کیا جاسکتا ہے اور آیا اس کی آمدنی آل انڈیا ریڈیو کو ملے گی یا نہیں؟ اس واقعہ کے کچھ دن بعد سے چھوٹی چھوٹی باتیں کے نشریات ختم ہوگئیں۔
کراچی میں ان کے والد اور دیگر رشتہ داروں نے انہیں بہت سارے تحائف دےئے‘ ان میں الیکٹرانک واچ بھی شامل تھی۔ یہ 1979ء کی بات ہے۔ یہ جاپانی واچ بہت خوبصورت تھی جس کا ڈائل سرخ رنگ کا تھا اور ایک بٹن دبانے سے ڈائل کی اسکرین پر ٹائم ہندسوں کی شکل میں نظر آتا تھا۔ وہ بار بار چھوٹے بچوں کی طرح ٹائم دیکھا کرتے تھے۔ کراچی سے واپس آنے کے بعد اس واچ کی گولڈن چین پر کچھ دھبے سے نظر آئے۔ خرم صاحب بے چین ہوگئے۔ پوچھا کہ یہ دھبے کیسے صاف کئے جائیں۔ میں نے سنجیدہ لہجہ میں کہا کہ اسے آدھے گلاس پانی میں رات بھر رکھا جائے انشاء اللہ صبح تک یہ دھبے چلے جائیں گے۔ میں نے یہ بات مذاق میں کہی تھی مگر خرم صاحب نے واقعی اسے رات بھر پانی میں رکھ چھوڑا۔ صبح میں CASIO واچ محض ایک کھلونا گھڑی بن گئی۔ سال ڈیڑھ سال تک اس کا انہیں غم رہا اور ہمیشہ مجھے کوستے رہے۔ انہیں قیمتی جوتے پہننے کا شوق ہوا۔ ہرن کے چمڑے کا جوتا خریدا۔ ایک جوتے پر ان کی لونا موپیڈ کا آئل گرا، معصومیت سے پوچھا کیا کریں‘ میں نے مشورہ دیا کہ یا تو اسی قسم کا ایک دھبہ دوسرے جوتے پر لگا لیا جائے یا پھر سینڈ پیپر سے دھبہ صاف کرلیا جائے۔ خرم صاحب نے اپنی گھڑی کی تباہی سے سبق نہیں لیا تھا‘ انہوں نے سینڈ پیپر خریدا اور پالش کرنے کے انداز میں آئل کے دھبے کو صاف کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد وہ کبھی جوتے کو اور کبھی مجھے دیکھنے لگے۔ کیوں کہ آئل کے دھبے کی جگہ ایک سوراخ نظر آرہا تھا۔ میں نے وہاں سے ہٹ جانے میں اپنی عافیت سمجھی ۔ انہوں نے اس کی شکایت ہمارے بہنوئی باقر معراج سے کی۔ ان کے قہقہے بلند ہوئے۔ خرم صاحب کو اور غصہ آگیا۔ کہنے لگے سالے بہنوئی دونوں ہی بدمعاش ہیں۔ معراج بھائی نے کہا اجی حضت آپ کو بھی عقل نہیں کیا۔ جوتے کو بھلا سینڈ پیپر سے کیسے صاف کرتے۔ آج بھی یہ باتیں یاد آتی ہیں تو ان کی معصومیت یا بھولا پن کا ذکر آتا ہے تو بے ساختہ ہنسی آتی ہے۔
1982ء میں رہنمائے دکن سے انہیں لونا موپیڈ دلائی گئی تھی۔ دہلی میں ایشین گیمس ہورہے تھے۔ روزانہ شام میں دہلی سے فلائٹ کے ذریعہ ایشین گیمس کی فوٹوز آتے۔ چوں کہ اسپورٹس کووریج میری ذمہ داری تھی۔ مجھے ہی بیگم پیٹ ایرپورٹ جانا ہوتا، اور وہاں سے یہ فوٹوز آصف نگر لے جانا ہوتا جہاں اس کی فلم بنتی وہاں سے انہیں افضل گنج لانا ہوتا۔ بس یا آٹو سے یہ ممکن نہ تھا۔ لطیف پاشا نے ایشین گیمس کے ختم ہونے تک مجھے لونا کے استعمال کی اجازت دی۔ یہ ایسی گاڑی تھی جس کا نہ تو رجسٹریشن ہوا تھا نہ ہی میرے پاس لائسنس تھا۔ ایک دن ٹریفک پولیس نے پکڑ لیا۔ ہم بھی جرنلسٹ ہونے کا بھرم رکھنے کے لئے نوجوانی کی جوش میں ٹریفک سی آئی (غالباً واجد صدیقی) سے بحث و تکرار کی۔ نتیجہ میں گاڑی ضبط کرلی گئی۔ جب ہم بغیر لونا کے رہنمائے دکن واپس ہوئے تو خرم صاحب کا غیض و غضب اگرچہ کہ واجبی تھا‘ مگر اُس وقت ہمارے لئے ناقابل برداشت تھا۔ ہم کام چھوڑ کر چلے گئے اور پورا اسٹاف خرم صاحب پر ٹوٹ پڑا۔ کیوں کہ ایشین گیمس کی خبریں ہم ہی بناتے تھے۔ اور اس وقت جو سب ایڈیٹرس ہمارے ساتھ کام کرتے تھے‘ انہیں اسپورٹس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اور پھر کم وقت میں کم و بیش آدھے صفحہ کی اسپورٹس خبریں بنانا آسان نہ تھا۔ ہم تو اپنے ساتھیوں کے ساتھ تفریح کے لئے چلے گئے۔ گھر لوٹے توخرم صاحب ہمارے بہنوئی کے ساتھ موجود تھے۔ ان کا غصہ ختم ہوچکا تھا بلکہ وہ ہمیں سمجھانے بجھانے لگے۔ دوسرے دن ہم پھر اپنے کام پر لگ گئے۔ ضبط کی گئی لونا کو واپس لینے کے لئے خرم صاحب کو عدالت جاکر چالان بھرنا پڑا۔
رہنماء کے اسٹاف کو بڑی تکلیف تھی کہ مینجمنٹ نے خرم صاحب کو لونا دلائی۔ ہر فرد کی کوشش ہوتی کہ وہ دفتر کے کام کا بہانہ کرکے ان کی لونا لے جائے۔ مگر خرم صاحب بھی حیدرآبادی زبان میں ’’بڑے دھارکاری‘‘ تھے۔ دفتر آتے تو بوتل میں پورا پٹرول نکال لیتے اور ساتھ ہی پلگ بھی۔ کوئی بے چارہ اگر ’’بڑے پاشاہ‘‘ سے اجازت لے بھی لیتا تو لونا کو اسٹارٹ کرتے کرتے تھک جاتا۔ اور پھر ان کے سامنے خرم صاحب آتے پلگ لگاتے، پٹرول ڈالتے اور گاڑی لے کر ہوا ہوجاتے۔ اور وہ بے چارہ جانے کتنی گالیاں دے کر رہ جاتا۔
ایک مرتبہ وہ پلگ نکالنا بھول گئے مگر پٹرول نکالنا نہیں۔ حسن فرخ صاحب کسی اہم کام سے سکریٹریٹ جانا چاہتے تھے۔ انہوں نے چپراسی سے آٹو منگوایا تو اسٹاف نے انہیں خرم صاحب کی گاڑی لے جانے کی ترغیب دی۔ حسن فرخ صاحب نے فوری خرم صاحب سے چابی لی‘ سینئر ساتھی تھے انکار نہ کرسکے‘ چابی دے دی۔ حسن فرخ صاحب نے لونا اسٹارٹ کی اور خرم صاحب کے چہرہ پر بڑی معنی خیز مسکراہٹ دوڑ گئی۔ پندرہ بیس منٹ بعد حسن فرخ صاحب پسینے میں شرابور لونا ڈھکیلتے ہوئے واپس ہوئے۔ خرم صاحب پر برہم ہوئے کہ ’’ارے یارو! گاڑی میں ایک قطرہ پٹرول نہیں‘‘۔ عثمان گنج سے گاڑی ڈھکیل کر لارہا ہوں اور تمہارے لونا کے پیڈل بھی کام نہیں کررہے ہیں‘ خرم صاحب نے الٹا اُن سے شکایت کی آپ واپس ہوتے ہوئے کم از کم کچھ تو پٹرول ڈلوالیتے۔
رہنمائے دکن کے دونوں مالکین لطیف پاشاہ اور وقار پاشاہ کی جوڑی بہت ہی مثالی اور قابل رشک تھی۔ دونوں ’’نرم گرم‘‘ کی پالیسی اختیار کرتے۔ جس دن لطیف پاشاہ ٹھنڈے ہوتے اُس دن وقار پاشاہ کا موڈ خراب ہوتا۔ اور جس دن لطیف پاشاہ غصے میں ہوتے اُس دن وقار پاشاہ بحال ہوتے۔ خرم صاحب کے معمولات میں دو میں سے کسی ایک بھائی کی ڈانٹ ڈپٹ سننا بھی شامل تھا۔ یہ اور بات ہے کہ یہ ڈانٹ ڈپٹ میں بھی اپنائیت ہوتی۔ رمضان کا مہینہ تھا‘ خرم صاحب دفتر میں داخل ہورہے تھے اور لطیف پاشاہ باہر نکل رہے تھے۔ جانے کیا بات ہوئی خرم صاحب کو دیکھتے ہی انہیں غصہ آگیا اور کہا ’’خرم! میں حج کو جارہا ہوں‘ واپس آکر تم کو برخواست کردوں گا ابھی کرنا چاہتا تھا مگر رمضان ہے اس لئے نہیں کررہا ہوں‘‘۔ لطیف پاشاہ کی حج سے واپسی کے بعد خرم صاحب ان کا سامنا کرنے سے بچتے تھے۔ جتنی دیر وہ دفتر میں ہوتے یہ سوشل ہوٹل میں بیٹھ جاتے۔ رہنمائے کے ملازم ستار جو اس وقت بہت کم عمر تھے‘ چائے کے لئے سوشل ہوٹل آتے تو خرم صاحب پوچھتے ارے میاں! بڑے صاحب گئے یا نہیں‘ جب لطیف پاشاہ گھر واپس ہوتے تب وہ دفتر جاتے۔ دہلی میں لطیف پاشاہ کے اچانک انتقال کا انہیں بڑا صدمہ تھا۔ اور شاید پہلی بار انہوں نے کسی کے جنازے میں شرکت کی تھی۔ لطیف پاشاہ مرحوم غائبانہ میں خرم صاحب کی تعریف ضرور کرتے۔
چندر سریواستو صاحب، غضنفر علی خاں صاحب، حبیب محسن صاحب، ضیاء الحق صاحب، افضل خان صاحب ہلال مرتضیٰ، عبدالقادر جیلانی مرحوم، تاج مہجور جیسے سینئر جید صحافی رہنمائے دکن سے وابستہ تھے۔ بعد میں خالد قادری، شجاعت علی شجیع، شوکت علی خاں، جمیل(حال مقیم امریکہ)، عزیز احمد، صاحبزادہ میر ولایت علی خاں، سعید صدیقی، محمد غالب اسٹاف میں شامل ہوئے۔ان میں سے اکثر کے ساتھ خرم صاحب کی دلچسپ نوک جھونک ہوا کرتی جس سے رہنمائے دکن کا ماحول خوشگوار ہوجاتا۔ غضنفر صاحب ماہ رمضان میں روزہ رہتے اور خرم صاحب ان سے پورا ایک مہینہ روزانہ چائے کے پیسے وصول کرتے۔ اکثر سینئر حضرات اپنا تمام غصہ خرم صاحب پر ہی نکالتے‘ جانے کیوں؟
عزیز صاحب اور خرم صاحب کی بھی نوک جھونک بڑی دلچسپ ہوا کرتی تھی۔ عزیز صاحب کے لئے اکثر دعوت نامے آتے جن میں مشاعروں اور کلچرل پروگرامس کے کارڈ بھی شامل رہتے۔ چوں کہ خرم صاحب اکثر ریشپسنReception پر بیٹھتے یہ دعوت نامے ان کے ہاتھ کو لگتے اور یہ اپنے ملنے والوں میں تقسیم کردیتے۔ دوسرے دن عزیز صاحب کا غصہ سہتے۔ دفتر میں اکثر دونوں ایک دوسرے کے روبرو ہوتے۔ عزیز صاحب اکثر سخت الفاظ استعمال کرتے جواب میں خرم صاحب کے چہرہ پر شرارت بھری مسکراہٹ ہوتی۔ عزیز احمد صاحب کی یہ اعلیٰ ظرفی ہے کہ کئی باتوں میں اختلافات کے باوجود جب بھی بُرا وقت آتا وہ سب کچھ بھلاکر مدد کے لئے پہنچ جاتے۔ خرم صاحب کا ایکسیڈنٹ ہوا تو سب سے پہلے عثمانیہ ہاسپٹل پہنچے اورڈاکٹرس سے ان کے علاج و معالجہ کے بارے میں بات کرتے۔ جب انتقال کی خبر سنی تب بھی وہ پرسہ دینے کے لئے گھر پہنچے۔ شیخ ابوبکر کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ تھا۔ دونوں میں اختلافات رہے مگر قبرستان میں خراج عقیدت کے لئے پہنچنے والوں میں ابوبکر صاحب بھی شامل تھے۔
رہنمائے دکن کے دوسرے اسٹاف میں قادری مرحوم، صادق حسین مرحوم(سرکولیشن)، قادر صاحب ، فضل صاحب(اکاؤنٹ سیکشن)، معین الدین مرحوم ، مجید خان (سرکولیشن سیکشن) سے بھی بڑی نوک جھونک ہوتی رہتی۔ البتہ وہ حیدر نواب سے کسی قدر ڈرتے تھے یا احترام کرتے تھے کیوں کہ یہ پاشاہ برادران کے قریب تھے۔ تاہم جب بھی موقع ملاحق کہنے سے پیچھے نہیں ہٹے۔
کتابت کا دور بڑا دلچسپ تھا۔ رہنمائے دکن میں جو کاتبین حضرات تھے ان کی غلطیاں پکڑنا خرم نفیس کا محبوب مشغلہ تھا۔ جس کی وجہ سے ان سب سے بحث و تکرار ہوتی مگر حدود آداب میں۔ مجھے یاد ہے افضل گنج میں معین کاتب، میر طیب علی خاں، ضمیر زاہد جعفر صاحب، فخرالدین صاحب، مشتاق، واجد مسعود، مظہر، مجید جونےئرامین الدین انصاری، مقبول احمد بیگ، عتیق کتابت کیا کرتے تھے۔ اور شنکر باغ میں بھی ان میں سے بیشتر کافی عرصہ تک بلکہ کمپیوٹر کیلی گرافی کے آغاز تک بھی موجود تھے اور جعفر صاحب تو اپنے انتقال کے کچھ عرصہ پہلے تک وابستہ رہے۔ ان سب سے خرم صاحب چھیڑ چھاڑ کرتے۔ کتابت کی غلطیوں سے نئے نئے لطیفے بناتے۔بڑا خوشگوار ماحول رہتا۔ لڑتے جھگڑتے مگر کسی کے دل میں کسی کیلئے کدورت نہ ہوتی۔
خرم صاحب کو تمباکو سے شدید نفرت تھی۔ سگریٹ پینے والے کے ہاتھ سے پانی بھی نہیں لیتے تاوقتیکہ وہ صابن سے اپنا ہاتھ نہ دھولیتے۔ ہم ظہیرآباد گئے ہوئے تھے۔ وہاں بڑا اچھا گروپ تھاجو ینگ رائٹرس اکیڈیمی سے وابستہ تھا۔ ینگ رائٹرس اکیڈیمی کے محرک خرم نفیس تھے اور اس کا صدر میں تھا۔ آندھراپردیش کے تقریباً اضلاع میں اس کی شاخیں قائم ہوئی تھیں۔ اب بھی بہت سارے ذہنوں میں اکیڈیمی کی یادیں تازہ ہیں۔ بہرحال ینگ رائٹرس اکیڈیمی ظہیرآباد کی دعوت پر میں اور خرم صاحب وہاں موجود تھے۔ چوبارہ کے سلطان (مرحوم) نے مجھ سے سرگوشی میں پوچھا ’’خرم صاحب سگریٹ پیتے کیا؟ ‘‘ یں نے کہا سگریٹ تو نہیں پیتے البتہ گنیش بیڑی بڑے شوق سے پیتے ہیں۔ سلطان صاحب نے گنیش بیڑی کا کٹہ بڑے ادب و احترام کے ساتھ خرم صاحب کو پیش کیا۔ خرم صاحب کو سمجھ میں نہیں آیا وہ کبھی مجھے تو کبھی سلطان صاحب کو دیکھتے۔ جب انہیں پتہ چلا کہ یہ میری شرارت ہے تو ان کا غصہ ہمارے قہقہوں میں دب کر رہ گیا۔
اپنے دور عروج میں خرم نفیس کے رابطہ اعلیٰ سیاسی قائدین‘ سرکاری افسروں اور پولیس عہدیداروں سے رہے۔ مگر مالی طور پر وہ فائدہ نہیں اٹھاسکے۔ انہیں ڈائریاں اکٹھا کرنے کاشوق تھا۔ ہر سال وہ ڈیڑھ دو سو ڈائری جمع کرتے اور اپنے قریب کے لوگوں میں تقسیم کرتے۔
خرم صاحب سب سے زیادہ اپنی والدہ کو چاہتے تھے جنہیں وہ ’’حورے‘‘ کہتے تھے۔ اپنی اولاد کے لئے اس خاتون نے شوہر کے ہوتے ہوئے بھی ایک بیوہ کی طرح زندگی گزاری اور اپنی ماں کی قربانیوں کا احساس کرتے ہوئے خرم نفیس اپنے والد کے لاکھ بلاوے کے باوجود امریکہ نہیں گئے۔ حورے کا انتقال ہوگیا۔ خرم نفیس نے اس غم کو پی لیا۔برسوں بعد وہ ایک حادثہ کا شکار ہوئے اور ان کے پیر میں فریکچر آیا۔ وہ آدتیہ ہاسپٹل میں شریک تھے۔ ہم عیادت کے لئے گئے تو کہا پرویز! تم آگئے، تو نئی زندگی مل گئی۔ اچھا دیکھو میری اس حالت کو دیکھ کر ہماری امی حورے بھی یہاں پر آگئیں۔ کچھ دیر کے لئے میں سوچ میں پڑگیا کہ خرم صاحب کے دماغ پر تو کوئی اثر نہیں ہوگیا۔ کیوں کہ حورے کے انتقال کو برسوں گزر گئے۔ خرم صاحب نے کہا دیکھو پرویز دیکھو وہ کونے کے بیڈ پر حورے ہیں نا۔ میں نے کونے کے بیڈ پر دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا۔ شاید کوئی حورے کی ہم شکل خاتون وہاں رہی ہوگی۔ فی الحال وہاں کوئی نہیں تھا۔ یہ بھی ہوسکتا تھا کہ ہاسپٹل میں بے بسی کے عالم میں انہیں اپنی ماں کی یاد ستارہی ہوگی اور تصور میں اپنی ماں کو دیکھتے رہے ہوں گے۔ وہ موقع اور وہ منظر کسی فلم کی طرح تھا۔
خرم صاحب کے ماموں یونانی حکیم تھے۔ بڑے زندہ دل ہر دل عزیز انسان کھل کر بات کرتے تھے۔ اکثر ہم سے پوچھتے کہ آخر خرم شادی کیوں نہیں کرتے؟ تم لوگ تو ساتھ رہتے ہو تم لوگ انہیں شادی کے لئے تیار کرو۔ہم مذاق میں کہتے اس کے لئے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ حکیم صاحب فوری کچھ نسخہ لکھ دیتے اور ہم تین چار دوست وہ دوائیں لے کر استعمال کرلیتے۔ ایک دن میں اور معراج صاحب اور کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے‘ خرم صاحب اپنی لونا پر پہنچے مجھے دیکھتے ہی آگ بگولہ ہوگئے۔ کہنے لگے‘ انسان کو اتنا بھی بدمعاش نہیں ہونا چاہئے۔ معراج بھائی نے پوچھا کیا ہوا خرم صاحب؟ کیا کیا پرویز نے؟ غصہ سے کہنے لگے اب آپ کو کیا بتاؤں معراج بھائی آپ کے سالے صاحب میرے نام پر ہمارے ماموں سے دوائیں لے رہے ہیں کتنی غلط بات ہے۔ معراج بھائی جواب کیا دیتے ہنس پڑے اور خرم صاحب کا غصہ اور بڑھ گیا۔
طلبہ اور نوجوانوں کا صفحہ سے میرے ساتھ ساتھ ڈاکٹر فضل احمد اور ڈاکٹر سراج الرحمن بھی اپنی صلاحیتوں کو نکھارتے رہے۔ ہم تینوں مشترکہ طور پر رہنمائے دکن میں سائنس کا صفحہ مرتب کرتے۔ آخر وقت تک بھی ڈاکٹر فضل احمد اور ڈاکٹر سراج الرحمن سے اچھے روابط رہے‘ حقیقت تو یہ ہے کہ فضل ہوں یا سراج یہ سب اپنے آپ کو خرم صاحب کا شاگرد تسلیم کرتے۔
۔۔۔۔۔ خرم صاحب کی جو صحافتی خدمات رہی ہیں‘ وہ اپنی جگہ مسلمہ ہیں۔ اس کے لئے انہیں کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ حیدرآباد کے گنے چنے سینئر ترین صحافیوں میں سے ایک تھے۔ ان کی زندگی میں ان کی خدمات کا اعتراف کیا جانا چاہئے تھا چاہے وہ حکومت کی جانب سے ہویا اردو اکیڈیمی کی جانب سے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ دونوں اداروں کی جانب سے یہ ایوارڈس پیش کئے جاتے ہیں ان میں زیادہ تر اخبارات کے نام پر اور شخصی پیروکاری کی بناء پر دےئے جاتے ہیں۔ رہنمائے دکن آج کے دور میں ہندوستان کا سب سے قدیم ترین اردو اخبار ہے۔ یہ سچ ہے کہ بعض اخبارات آگے نکل گئے مگر وقت اور حالات کی آندھیوں کے باوجود رہنمائے دکن اپنی جگہ ڈٹا ہوا ہے۔ اس سے وابستہ صحافیوں کو نظر انداز کیا جائے حکومت‘ اقلیتوں اور اردو سے متعلقہ اداروں کی تنگ نظری اور ناانصافی ہے۔ ان کی موت کے بعد اگر اظہار تعزیت بھی کیا جاتا ہے تو یہ محض دکھاوا اور ڈھکوسلا ہے۔ انسان کی صلاحیتوں اور ان کی خدمات کا اس کی زندگی میں اعتراف کیا جانا چاہئے۔ بعد از مرگ نہ تو الفاظ کام آتے ہیں اور نہ ایوارڈ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں‘ اس کی بنیاد رہنمائے دکن ہے اور رہمائے دکن میں داخل کروانے والے خرم نفیس ہیں۔قدم قدم پر انہوں نے ساتھ دیا۔ ہر نازک مرحلہ پر ہاتھ تھاما اور رہنمائی کی۔ بعض موقعوں پر شدید اختلافات کے باوجود ہمارا آپس میں رابطہ رہا۔ اسکولی اور کالج کے زمانے میں خرم صاحب چاہتے تھے کہ میری تمام توجہ تعلیم پر ہو۔ وہ میرے کالج یونین کے الیکشن میں حصہ لینے کے خلاف تھے۔ مگر جب میں الیکشن جیتا تو انہوں نے بعد میں بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا۔ اس دور میں ہماری جیب میں صرف آر ٹی سی بس کا اسٹوڈنٹس پاس ہوا کرتا تھا۔ اے ٹی ایم تو کیا بینک اکاؤنٹ تک نہ تھا۔ خرم صاحب ہمارے لئے اے ٹی ایم مشین کی طرح تھے۔ جب بھی ضرورت پڑی ہم نے ان سے کبھی مانگ لیا کبھی چھین لیا اور جب انہوں نے واپس طلب کیا تو ہنس کر ٹال دیا۔ ان کی فطرت سے میں جتنا واقف تھا شاید ہی کوئی آور رہا ہوگا۔ ان کا شکی مزاج عدم تحفظ کا احساس دراصل وہ حالات کا نتیجہ تھا جس سے وہ بچپن اور جوانی میں گذرتے رہے۔ غیر معمولی ذہین تھے۔ سینکڑوں فون نمبرس انہیں یاد تھے۔ اَن گنت اشعار ان کے حافظہ میں محفوظ تھے ڈاک ٹکٹس اور پی آئی بی کی تصاویر کے کلکشن کا شوق تھا انہوں نے مسز اندرا گاندھی کی ایک ہزار سے زائد تصاویر جمع کی تھیں۔ 1976ء میں جب ہم جوگی پیٹ میں نویں جماعت میں طالب علم تھے خرم صاحب ضلع پریشد ہائی اسکول جوگی پیٹ میں ان تصاویر کی نمائش کروائی تھی اور اس وقت کے وزیر لیبر ٹی انجیا سے اس کا افتتاح کروایا تھا۔
خرم صاحب کے ساتھ ایک دور کا خاتمہ ہوا۔ ان کے بارے میں بہت ساری بدگمانیاں، غلط فہمیاں ہونا ہی ہیں‘ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ واقعی ایک اچھے اور ہمدرد انسان تھے جنہیں رہنمائے دکن سے بے پناہ محبت تھی۔ انہوں نے مجھ جیسے جانے کتنے اُبھرتے قلم کاروں اور صحافیوں کی حوصلہ افزائی کی۔ اسٹائیل فوٹو سرویس کے بانی جناب محمد سعیدالدین کو رہنمائے دکن سے وابستہ کروایا۔ آج اسٹائیل فوٹو سرویس(محمد علیم الدین و محمد سلیم الدین) کی اپنی پہچان ہے۔ خود خرم صاحب کو بھی فوٹو گرافی کا شوق پیدا ہوا تھا اور وہ کیمرہ لے کر نکل پڑے مگر کچھ ہی دنوں میںیہ شوق ختم ہوگیا۔وہ انٹرنیٹ پر زیادہ وقت صرف کرنے لگے۔ سوشیل میڈیا سے لگاؤ ہوا۔ دنیا کے گوشے گوشے میں موجود اردو صحافیوں، ادبی انجمنوں کے عہدہ داروں سے روابط پیدا ہونے لگے۔ وہ بہت کچھ کرنا چاہتے تھے مگر صحت ان کا ساتھ نہیں دے پاتی۔
اپنے آخری ایکسیڈنٹ کے بعد وہ آٹو سے رہنمائے دکن آنے جانے لگے۔ وقار صاحب کی جانب سے آٹو کا کرایہ مقرر تھا۔ وہ خرم صاحب کو آفس آنے کے بجائے گھر میں آرام کرنے کے لئے کہتے مگر جس شخص کی زندگی کا بیشتر حصہ رہنمائے دکن کی چار دیواریوں میں گذر گیا اس کا دل بھلا اپنے گھر میں کیسے لگ سکتا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کے حالات خراب ہوتے گئے۔ یادداشت متاثر ہونے لگی۔ پھر وہ کبھی کبھار رہنماء آنے لگے۔اپنے حواس پر ا نہیں قا بو نہ رہا اور پھر وہ اپنے گھر تک محدود رہ گئے۔ جہاں سے اپنے آخری سفر کو روانہ ہوگئے۔ خرم نفیس کو شدت کے ساتھ یہ احساس تھا کہ ان کی صلاحیتوں، ان کی وفاداری اور قربانیوں کا کسی کو احساس نہیں!! اللہ رب العزت دنیا میں ان کی نیکیوں کو قبول کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کر۔ خدا بخشے۔ بڑی خوبیاں تھیں مرنے والے میں۔