نادر اسلوبی : منفرد لب ولہجہ کا شاعر :- ڈاکٹر مسعود جعفری

نادر اسلوبی

نادر اسلوبی : منفرد لب ولہجہ کا شاعر
پس مرگ اشکوں کانذرانہ

ڈاکٹر مسعود جعفری

یکم اکٹوبر 2018 کی آدھی رات گہری تاریک تر او ر آنسو وں میں ڈوبی ہوئی بھی تھی۔یہ رات المناک تھی۔ اس نے شہر ورنگل کے روشن چراغ سخن کو گل کر دیا تھا۔اس نے اردو دنیا سے نادر اسلوبی کو چھین لیا تھا۔شب تیرہ و تاریک کے دیڑھ بجے کے آس پاس وہ بے مثال شاعر اپنی سانسوں سے جدا ہو گیا تھا۔ دبی دبی سسکیوں سے سنا ٹے میں ارتعاش کی لہریں ابھر جا تی تھیں۔ پرور دگار عالم ان کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے۔آمین

یہ بیتے ہوئے باون یا ترپن برس والی بات ہے۔نادر اسلوبی حیدرآ باد فرخندہ باد سے بغرض تجارت ورنگل کے علاقے ہنمکنڈے میں تشریف لائے۔ انہوں نے چو راستے پر شیواجی ہوٹل کے روبرو اپنی جوتے کی دکان لگائی۔ خوبصورت آرٹ کا نمونہ کاکتیاوں کے تعمیر کردہ ہزار ستون کے دیول کے عقب کے محلہ میں ایک بزرگ کی مزار کے قرب میں واقع کو یلی کے گھر میں کرایے سے رہنے لگے۔لوگ کہا کرتے ہیں کہ بعض افراد کی ترقی و عروج میں کوئی ان کا گاڈ فادر ہوتا ہے۔نادر اسلوبی کے ارتقا اور فروغ میں ان کی والدہ ماجدہ کا ہاتھ رہا۔انہیں گاڈ مدر کہا جاسکتا ہے۔
وہ اپنی ماں کی آنکھوں کے تارا تھے۔وہ ان کے اکلوتے فر زند ارجمند تھے۔ایسے میں غیر معمولی انسیت کا کا ہونا فطری بات ہے۔وہ اپنی والدہ کے نور نظر و لخت جگر تھے۔ وہ نیک سیرت خاتون تھیں۔
نادر اسلوبی جوتوں کے تاجر سے زیادہ خوابوں کے سوداگر تھے۔ان کے سپنو ں کی کہکشا ں ان کی شا عری کے کینوس پر جھلکتی ہے۔نادر اسلوبی کے وجود سے شہر کی ادبی فضا میں شاعری کے سر و سمن کھل اٹھے ۔ان کی شاپ شاعروں کی آماجگاہ بن گئی تھی۔با الفاظ دیگر وہ مشاعرہ گاہ میں تبدیل ہو گئی تھی۔کوئی شاعر بھی کہیں کسی مقام سے ورنگل میں وارد ہو تا تو وہ سیدھے اسلوبی سے ملنے ان کی دکان چلا آتا
تھا۔ساغر نلگنڈوی ،شمیم حیدرآ بادی ،گلی ،پاگل کے علاوہ ورنگل کے کم و بیش تمام ادیب و شاعر ان کے پاس بیٹھتے تھے۔شاپنگ تو دوسرے لوگ کرتے ۔شاعر اپنی غزلیں تحت یا ترنم سے سنانے لگتے۔ایک سما بندھ جاتا تھا۔ور نگل کے ممتاز مصنفو ں اورشاعروں میں رحمت کو ثر ،عصمت مظفری ، اقبال شیدائی،تاج مضطر ،مسعود محشر ، خواجہ بیخود ،کبیر آ فاقی ، بہادر علی، صابر شمسی ۔ یہ لوگ نادر اسلوبی کی شخصیت کے گرویدہ تھے۔ اہل قرطاس و قلم کی انجمن آرائی سے شعر و ادب کے ایوان میں تابانی تھی۔وہ دور وہ عہد ورنگل کی ادبی تاریخ کا ایک زریں باب رہا۔آج میں پیچھے مڑ کے دیکھتا ہوں تو مجھے فردوس بریں کے کھو جانے کا دکھ ہو تا ہے ۔ اسے انگریزی میں Paradise Lost کہا جاتا ہے۔جان ملٹن کی نظموں کا انتخاب۔ا ب ورنگل میں ویسی ادبی بہاریں کہاں؟اقبال شیدائی اور اقبال درد گاہے گاہے ادبی محافل کا انعقاد کرتے ہیں۔شاعروں کو یکجاکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کی کاوشیں قابل قدر ہیں۔
نادر اسلوبی پہلے صایب رزاقی کے نام سے لکھتے تھے۔رزاقی لفظ کا ماخذ حیدرآ باد کے استاد شاعر طالب رزاقی میں موجزن تھا۔اس ز مانے میں اسلوبی طالب صاحب سے اپنی شاعری پر اصلاح لیتے تھے۔ استاد کے نام کی مناسبت سے انہوں نے اپنے اصل اسم کے آگے رزاقی لکھنا شروع کیا۔کچھ عرصہ بعد وہ نادر اسلوبی ہو گئے۔یہ نام کی تبدیلی کیسے ہوئی۔اس کے بارے میں میں نے کبھی ان سے دریافت نہیں کیا۔ایک کلیدی بات یہ ہے کہ نام کی تبدیلی نام تک سمٹی نہیں رہی۔ان کی شاعری کی لفظیات اور ڈکشن مکمل طور پر بدل گیا۔ان کی غزل میں تازہ کاری ، جدت طرازی آگئی۔انہوں نے اپنے روایتی کلام کو نئی شاعری کے سانچے میں ڈھال دیا۔ وہ نئے شاعروں کی صف میں کھڑے ہو گئے۔
نادر اسلوبی جگر مرادآ بادی کی طرح زیادہ پڑھے لکھے نہیں تھے۔انہوں نے زندگی کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ان کی ہستی تجربات کی دہکتی بھٹی میں تپ کر کندن بن گئی تھی۔ان کے مشا ہدات
عمیق تھے۔ان میں سماجی شعور گہرا تھا۔ان میں دیدہ وری تھی۔وہ مردم شناس تھے۔مزا ج آشنا
تھے۔ان سب چیزوں سے بڑھ کر وہ انسان دوست تھے۔دوسروں کے مشکل وقت میں ان کی مدد کرنا وہ اپنا انسانی فرض سمجھتے تھے۔ وہ مجلسی آدمی تھے۔خلوت کدے سے زیادہ وہ جلوت کدے کو پسند کرتے تھے۔ان کے ہونٹوں پر تبسم کی قوس قزح ہمیشہ بکھری رہتی تھی۔اداسی یا یاسیت سے ان کا دور سے بھی تعلق نہیں تھا۔ وہ ادبی محفلوں کے عندلیب خوش نوا تھے۔انہوں نے نصف صدی سے زیادہ عرصہ تک د نیائے شعر و سخن کو اپنی جودت فکر سے تابناک بنائے رکھا۔وہ ذود گوپوئٹ تھے۔ ایک دن میں کئی غزلیں صفحہ قر طاس پر جلوہ گر ہوتی تھیں۔اس بات کے شاہد ان کے کئی شعری مجموعے ہیں۔ ہندوستان کے تمام ادبی رسائل میں ان کا کلام شایع ہوتا تھا۔ہر جریدے میں نادر اسلوبی دکھائی دیتے تھے۔ ان کی غزلیں کیا ہیں سلاست و روانی کا روا ں دواں دریا ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ ہم اپنے آپ سے باتیں کر رہے ہیں۔ان کے اشعار میں معنی آفرینی کے گہر بھی تھے اورشعریت کی چاشنی اور کوملتا ۔ ان کی شاعری مین جما لیات کا پرتو ملتا ہے۔ حسن جان جاناں کی چاندنی۔ مہر و وفا کے ستارے چمکتے نظر آتے ہیں ۔ اظہار کی بے ساختگی سے لگتا ہے کہ جھیل میں کنول کھل گئے ہیں۔ ان کا عہد و پیماں اول و آخر شاعری سے تھا۔ وہ اسے ہر موسم ہر رت میں نبھاتے رہے۔ کبھی پتوار اور کبھی بنا چپووں کے شاعری کی ناو کھیتے رہے۔ وہ بستر علالت سے بھی شعر کہتے رہے ۔ زندگی کے آخری لمحہ تک شعری تخلیق کا سلسلہ رکا نہیں۔خدائے ذولجلال نے انہیں اعجاز فکر سخن سے نوازا تھا۔مالک نے انہیں بنی نوع انسان کی سلامتی کے لئے دعا گو رہنے کے لئے پیدا کیا تھا۔اس مبارک فریضہ کو وہ پورا کرتے رہے۔
بہت سے شاعر معاشی پریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ زندگی کا ہر پل ان کے لئے ایک عذاب بن جاتا ہے۔وہ قنوطیت پسند ہو جاتے ہیں۔اس کی کلاسکی مثال میر تقی میر ، فانی بدایونی ہیں۔وہ زندگی سے ہار چکے تھے۔ان کی زندگی اور شاعری حرما ں نصیبی کا دریا بن گئی تھی ۔نادر اسلوبی نے اپنے جہد مسلسل سے نا مسا عد حالات پر قابو پالیا تھا۔ان کی حیات متمول ہو گئی تھی۔و ہ صاحب جائداد شاعر ہو گئے
تھے۔ان کے لڑکے مشرق وسطی میں کام کرنے لگے تھے۔وہ کار کے ساتھ شوفر بھی رکھنے لگے تھے۔ ادبی نشستوں اور مشاعروں میں شیروانی چوڑی دار پاجامے میں ملبوس رہتے تھے۔ وہ محرم کے مسا لموں میں سیاہ رنگ کی شیروانی زیب تن فرماتے تھے۔اسلوبی نہایت مہذب اور وضع دار انسان تھے۔اخلاقی قدروں کے نقیب تھے۔خدائے سخن میر تقی نے ایسے ہی اعلی صفات بشر کے لئے کہا تھا۔
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
نادر اسلوبی کے متعلق میرے تاثرات ادھورے رہ جا ئیں گے اگر میں ان کے شعری مجموعوں کا ذکر نہ کروں۔
نوک قلم ،حرف دل،ثروت دل ، لمحہ مسرت ، آج کی شام آپ کے نام ،تہنیت کے پھول جیسے شعری مجموعوں کے علاوہ ایک نعتیہ مجموعہ ثواب میں دا خل چھپ کر منظر عام پر آ چکا ہے۔
نادر اسلوبی نے اردو کی بقا اور اس کے مستقبل کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیا تھا۔ ان کی متاع حیات ان کی شاعری تھی۔انہوں نے اردو کے چراغ کو تیز و تند ہواوں میں جلائے رکھا۔ان پر اردو کائنات ہمیشہ ناز کر تی رہے گی۔اردو سے وہ صرف زبانی ہمدردی نہیں کرتے تھے۔وہ ہر جریدے کے سالانہ خریدار رہے۔ان کے کا شانے پر دنیا جہان کے پرچے رسالے آتے تھے۔کوئی شاعر دوست ان سے ملنے جاتا تو وہ اسے چائے پلاتے اور اسے جاتے ہوئے دس بارہ رسالے پڑھنے کے لئے دیا کر تے تھے۔ وہ علم و ادب کی روشنی تقسیم کرتے تھے۔وہ علمی معاملوں میں بخل سے کام نہیں لیتے تھے۔ان کا دل کشادہ تھا۔وہ اپنے پرائے میں تمیز نہیں کر تے تھے۔ دنیا اب ایسے فراخ دل انسانوں سے خالی ہوتی جارہی ہے۔تہذیبی قدریں عنقا ہوتی جارہی ہیں۔کیسے خود غرضی کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکا جائے۔نادراسلوبی کی زندگی ہی سے ہمیں صبح نو کی نوید ملتی ہے۔
——-

ڈاکٹر مسعود جعفری