اردو تنقید کا آغازوارتقا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ڈاکٹرمحمد ناظم علی

Nazim - تنقید
اردو تنقید کا آغازوارتقا

ڈاکٹرمحمد ناظم علی
موظف پرنسپل ڈگری کالج
نظام آباد ۔ تلنگانہ
موبائل : 09603018825

تنقید کی تعریف :۔ لفظ ’’ تنقید ‘‘ نقدسے مشتق ہے جس کے معنی جانچنا ‘ کھوج ‘ پر کھ‘ کھرے کھوٹے کی پہچان ‘ محاسن و معائب میں فرق کرنے کے ہیں۔ اصطلاح ادب میں کسی فن پارے یا تخلیق کی خوبیوں اور خامیوں کو بیان کرتے ہوئے ادب میں اُس کا مقام تعین کرنا تنقید کہلاتا ہے ۔ہرزمانے میں تنقید کی مختلف تعریفیں پیش کی گئی ہیں۔ کسی نے ادب کا مقصد مسرت و حظ پہنچانا بتایا۔ اور تنقید کا کام تخلیق میں مسرت کے پہلوؤں کو تلاش کرنا بتایا۔ کسی نے ادب کو تغیر حیات کا نام دیا۔ اور زندگی کے تغیر و تبدل کے زیر اثر ادب میں رونما ہونے والے مسائل اور تبدیلیوں کو دیکھنا تنقید کے لئے لازمی قرار دیا۔

دراصل کسی ادب پارے کی تخلیق کے ساتھ ہی تنقیدی عمل بھی شروع ہوجاتا ہے ۔ جب فنکار کے ذہن میں کسی فن پارے کی داغ بیل پڑتی ہے تو وہاں سے اُس کے ذہن میں تنقیدی عمل بھی شروع ہوجاتا ہے ۔ کوئی شاعر نظم یا غزل لکھنے کا ارادہ کرے تو اس کا تنقیدی شعور اُس کی رہنمائی کرتا ہے۔ اور وہ اشعار کو کانٹ چھانٹ کے اور اُس کے نوک پلک درست کرکے تسلی بخش انداز میں تخلیق کرتا ہے۔ غرض یہ کہ جب کوئی فن پارہ فنکار کے ذہن میں جنم لینے لگتا ہے تو یہیں سے تنقید اپنا کام شروع کردیتی ہے ۔ اور ایک لحاظ سے تخلیق سے پہلے تنقیدی عمل شروع ہوجاتا ہے ۔ بیشتر تخلیقات خوب سے خوب ترکی تلاش و جستجو کے بعد ہی وجود میں آتی ہیں۔ اسی خیال کو پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر شارب ردولوی لکھتے ہیں:’’ آج زندگی ہر وقت رواں دواں ہے۔ اس میں ہر لمحہ ایک نئے نظریے اور نئی فکر کا اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اس لئے ناقص اور بہتر کی تمیز کے لئے تنقید ضروری ہے ۔ تنقیدی شعور کے بغیر نہ تو اعلیٰ ادب کے تخلیق ہوسکتی ہے۔اور نہ فنی تخلیق کی قدروں کاتعین ممکن ہے۔ اس لئے اعلیٰ ادب کی پرکھ کے لئے تنقید لازمی ہے ‘‘ ۱؂
تخلیق کا مقصد ترسیل ہوتا ہے۔ فنکار چاہتا ہے کہ اُس کی تخلیق کو لوگ دیکھیں پڑھیں‘ سمجھیں ‘ تخلیق کو دیکھنے والے ناظرین اور پڑھنے والے قارئین کی ذہنی سطح کے مطابق اپنی اپنی تنقیدی نظر ہوتی ہے ۔ لوگوں کے پاس کسی فن پارے کی پسند یا نا پسند کے اپنے اپنے پیمانے ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں سے زیادہ تر لوگ اپنی پسند یا نا پسند کا سبب نہیں بتاسکتے۔ چنانچہ تنقید فن پارے اور اُس کے پڑھنے والے کے درمیان مستحکم رشتہ قائم کرتی ہے۔ یہ فن پارے کو جانچتی اور پرکھتی ہے۔ اس کی خوبیوں اور خرابیوں کا پتہ لگاتی ہے۔ اعلیٰ درجہ کی تنقید اچھے بُرے کا دو ٹوک فیصلہ نہیں کرتی۔ بلکہ فیصلہ کرنے میں قاری کی مدد کرتی ہے ایسا کرنے میں وہ اپنا راستہ لمبا کرلیتی ہے۔ کبھی وہ فن پارے کی صراحت کرتی ہے کبھی تشریح و ترجمانی اور کبھی تحلیل و تجزیے سے کام لیتی ہے۔ اس لئے تنقید کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ادب کے لئے اس طرح ضروری ہے جس طرح زندہ رہنے کے لئے سانس ۔ تنقید کسی تخلیق کے محاسن اور معائب کو اُجاگر کرتے ہوئے غیر جانبداری سے اُس کی قدر و قیمت کاتعین کرتی ہے ۔ تنقید کے لئے غیر جانبدرای اہم ہے۔ تاہم نقاد کسی نظریے کا حامل ہوسکتا ہے ۔ بغض و عناد سے پاک تنقید کے لئے ضروری ہے کہ اس میں خارجیت اور معروضیت ہو۔ ایک اچھے نقاد کے لئے ضروری ہے کہ وہ ادب کا وسیع مطالعہ کرے۔ فلسفہ ‘ جمالیات ‘ سائنس ‘ عمرانیات‘ معاشیات ‘ اقتصادیات‘ اور نفسیات جیسے علوم سے واقفیت رکھتا ہو۔ عالمی ادب کے قدیم و جدید رحجانات سے پوری طرح واقف ہو۔ نہ روایت کا پرستار ہو نہ اُس سے بیزار ۔ اس طرح کے نقاد کی تنقید اُس کی وسیع النظری کے سبب تخلیق کا درجہ حاصل کرلیتی ہے ایک نقاد کسی فن پارے کو دو پہلوؤں سے پرکھتا ہے ۔ ایک یہ کہ اس میں کیا پیش کیا گیا ہے اور دوسرے یہ کہ کس طرح پیش کیا گیا ہے ۔ اس کیا اور کیسے کے لئے تنقید کی اصطلاح میں دو نام مواد اور ہئیت کے استعمال ہوتے ہیں۔
اُردو میں تنقید کی روایت : ۔ ابتدائے آفرینش سے انسان میں تنقیدی شعور پایا جاتا تھا۔ ابتداء میں اس کے نقوش دھندلے تھے۔ جب انسانیات نے ترقی کی اور طرح طرح کے علوم سامنے آئے تو تنقید کی مختلف جہات سامنے آئیں۔ زمانہ گذرنے کے ساتھ ادب کی پرکھ کے انداز بھی بدلے۔ اُردو میں تنقید کے ابتدائی نقوش تذکروں میں ملتے ہیں۔ جس میں شاعر کے مختصر حالات زندگی اور نقاد کی پسند سے کلام کا انتخاب شامل کیا جاتا تھا۔ اُردو تنقید کی کسوٹی پر یہ تذکرے کھرے نہیں اُتر تے لیکن چونکہ یہ ہماری تنقید کے اولین نقش ہیں۔ اس لئے ادب میں ان کی اہمیت ہے۔ اُردو میں تذکرہ نگاری کے ابتدائی نقوش کے بارے میں پروفیسر اشرف رفیع لکھتی ہیں:
’’ ادب پارے کے ساتھ ہی تنقید بھی جنم لیتی ہے۔ مگر اس کے قواعد و ضوابط اور سانچے وجود میں آنے میں خاصا وقت لگ جاتا ہے ۔ ہمیں اپنے ادب میں تنقید کے ابتدائی نقوش دکنی کے ادبی دور ہی سے ملتے ہیں۔ اس دور میں تنقید کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ صرف حسن و قبح کی نشاندہی چند بندھے ٹکے لفظوں اور جملوں سے کی جاتی ہے۔ یہاں سے آگے بڑھے تو کچھ تنقیدی اشارے اُردو تذکروں میں ملتے ہیں ان تذکروں میں بھی حسن کلام اور طرز بیان پر زور دیا جاتا ہے‘‘ ۲؂
اُردو کے ابتدائی تذکروں کو مشاعروں کی واہ واہ سے تشبیہہ دیتے ہوئے حسین الحق لکھتے ہیں:
’’ اُردو کے ابتدائی تذکروں کی مثال مشاعروں کی ’’ واہ ‘ واہ‘‘ کی ہے۔ ان تذکروں میں تذکرہ نگار پر ذاتی پسند و نا پسند غالب ہے ۔ اور اس ذاتی پسند و نا پسند کے لئے بھی تذکرہ نگار ہمیشہ دلیل مہیا کرنے کا جھنجھٹ مول نہیں لیتا۔ زیادہ تر اُس کی گفتگو شاعر و فن کار مذکور کے اخلاق ‘ بزرگی اور علم کے بارے میں ہوتی ہے ۔ اور جتنے اشعار تذکرہ نگار کو یاد رہتے ہیں یا اُس کو دستیاب ہوتے ہیں اُنہیں وہ بلا جھجک درج دفتر کردیتا ہے ۔ نتیجۃً بعض شعراء کے پچاسوں اور سینکڑوں اشعار ملیں گے اور کچھ کے پانچ دس اور کچھ غریبوں کا معاملہ تو یہ ہے کہ صرف نام یا تخلص بیان کر کے تذکرہ نگار آگے بڑھ جاتا ہے ‘‘ ۳؂
دراصل شعرائے اُردو کے تذکرے جس عہد میں لکھے گئے تھے۔ اُس وقت وسائل محدود تھے۔ کتابوں کی اشاعت ‘ اُن کی ترتیب ‘ کتابوں کا حصول ‘ اُن کی موجودگی کا علم وغیرہ اُمور آج کے مقابلے نسبتاً کم ہی تھے۔ اس لئے اُس عہد میں تذکروں میں جو کچھ بھی تنقیدی شعور ملتا ہے۔ وہ اُس دور کے اعتبار سے قیمتی ہے ۔ آج کے عصری و سائل والے دور میں ترقی پسندی کی عینک لگاکر قدیم تذکروں کا مطالعہ کرنا ایک طرح کی ذیادتی ہے۔ اور اس قسم کی ذیادتی کلیم الدین احمد جیسے نقادوں نے کی ہے۔ اُردو تذکروں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کلیم الدین احمد لکھتے ہیں:
’’ یہ تنقید محض سطحی ہے ۔ اس کا تعلق زبان ‘ محاورہ اور عروض سے ہے۔ لیکن یہ شائد کہنے کی ضرورت نہیں کہ تنقید کی ماہیت اور اُس کے مقصد اور اُس کے صحیح اسلوب سے بھی تذکرہ نویس واقفیت نہ رکھتے تھے۔ ان تذکروں کی اہمیت تاریخی ہے۔ اور
دنیا ئے تنقید میں اُن کی اہمیت نہیں …….. اب ادبی دنیا اس قدر آگے بڑھ گئی ہے کہ ہمیں تذکروں سے کچھ سیکھنا نہیں ہے۔ جہاں تک تنقید کا معاملہ ہے۔ ان تذکروں کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ ‘‘ ۴؂
کلیم الدین احمد اُردو کے نقادوں میں اپنی شدت پسندی کے لئے مشہور ہیں۔ انہوں نے اُردو کے ہر چھوٹے بڑے نقاد پر کڑی تنقید کی ہے۔ اُردو تذکروں پر ان کی یہ بے جا تنقید اُن کے مزاج سے کچھ بعید نہیں ہے۔ تذکروں کے بارے میں مثبت انداز سے گفتگو کرتے ہوئے مولوی عبدالحق لکھتے ہیں:
’’ ہمارے شعراء کے تذکرے گویا جدید اُصول کے مطابق نہ لکھے گئے ہوں۔ تاہم اُن میں بہت سی کام کی باتیں مل جاتی ہیں۔ جو ایک محقق اور ادیب کی نظر میں جواہر ریزوں سے کم نہیں‘‘ ۵؂
تذکروں کے بارے میں مولوی عبدالحق نے حقائق پر مبنی بات کہی ہے ۔ تذکروں کی پرکھ کے معیار کے ضمن میں نورالحسن نقوی لکھتے ہیں:
’’ یہ حقیقت ہے کہ تذکروں سے جو تنقیدی معیار مرتب ہوتے ہیں اُن پر آج کے ادب کو پرکھنا ممکن نہیں۔ لیکن اس حقیقت سے بھی چشم پوشی نہیں کی جاسکتی کہ جدید پیمانے قدیم ادب کو جانچنے کے کام نہیں آسکتے۔ جو ادب جس زمانے میں تخلیق ہوا۔ اُسے اُسی زمانے کے اُصول اور اُسی عہد کی پسند نا پسند کی کسوٹی پر کسا جانا چاہیے‘‘ ۶؂
اُردو تذکروں کی اہمیت اس وجہہ سے بھی ہے کہ ان سے اُردو نقادوں کو جلا ملی۔ دراصل یہ تذکرے اُردو تنقید کے نقش اولین ہیں۔ جو بے عیب نہیں ہوسکتے۔ اُردو تذکروں کو اہم سرمایہ قرار دیتے ہوئے حنیف نقوی لکھتے ہیں:
’’ تذکرہ ہمارے سرمایہ ادب کا ایک گراں قدر حصّہ ہے۔ جسے نظر انداز کرکے نہ تو ہم اُردو شاعری کے مطالعے ہی میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اور نہ اپنے ادبی تنقید شعور کے آغاز ارتقاء کی تاریخ مرتب کرسکتے ہیں ہم نے اپنے قدیم شاعروں کو انہیں تذکروں کے ذریعہ جانا اور پہچانا ہے۔ یہی نہیں ہماری ناقدانہ بصیرت بھی انہی تذکروں کی فضاء میں پروان چڑھی ہے‘‘ ۷؂
اُردو کے اہم تذکرہ نگاروں میں میرؔ ‘ مصحفیؔ ‘ شیفتہؔ ‘ محمد حسین آزاد‘ مرزا علی لطف وغیرہ قابل ذکر ہیں:
۱۸۵۷ ؁ء کی جنگ آزادی نے ہندوستان کی سماجی و سیاسی زندگی میں بڑی تبدیلی لائی۔ اس کے اثرات اُردو پر پڑے۔ اور اُردو کی قدیم نثری اصناف داستان اور ناول کے مقابلے میں افسانہ نگاری کو فروغ ہوا۔ شاعری میں مثنوی اور قدیم طرز کی غزل گوئی کے مقابلے میں نظم نگاری کو فروغ ہوا۔ انگریزی ادب اور انگریزی تنقید کے مطالعے سے اُردو کیادیب بھی متاثر ہوئے ۔ اور مغربی تنقید کے اُصولوں پر اُردو میں جدید تنقید نگاری کا آغاز ہوا۔ الطاف حسین حالیؔ ‘ سرسید کی اصلاحی تحریک کے اہم رفیق تھے۔ جس میں شعر کی ماہیت ‘ شاعری کے اُصول اور اُردو کی شعری اصناف کی اصلاح کی بات کہی۔ حالیؔ کے یہ تنقیدی نظریات بہت مقبول ہوئے۔ اُن کے دیوان کا مقدمہ علحدہ کتاب کی شکل میں ’’ مقدمہ شعر و شاعری ‘‘ کے عنوان سے ۱۸۹۳ ؁ء میں شائع ہوا۔ ڈاکٹر عابد حسین حالیؔ کے مقدمے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ یہ مقدمہ اُن کے حسن ذوق‘ وسعت نظر اور جدت خیال کا آئینہ ہے ۔ جب کوئی غیر شاعر شعر کی تنقید پر قلم اُٹھاتا ہے تو عموماً منطقی بحثوں میں پڑکر اصل حقیقت کو نظرانداز کردیتا ہے۔مگر حالیؔ خود شاعر ہیں اس لئے انہوں نے اصولی مسائل کے ساتھ ساتھ فن کی باریکیوں کو بھی خوب سمجھا اور سمجھایا ہے۔ اُردو میں حالیؔ سے پہلے شعر کی تنقید کے معنیٰ صرف یہ سمجھے جاتے تھے کہ لفظوں اور ترکیبوں کو اساتذہ کے کلام کی کسوٹی پر کس کر دیکھ لیں۔ حالیؔ ہی نے پہلے پہل یہ بحث چھیڑی کہ شاعری کی روح کیا ہے۔ اور وہ شعر میں کیسے پیدا ہوتی ہے…….. ‘‘ ۸؂
لطاف حسین حالیؔ مقدمہ شعر و شاعری میں پیش کردہ اپنے تنقیدی خیالات کے سبب جدید اُردو تنقید نگاری کے بانی قرار پائے۔ حالیؔ نے تنقید کی جو راہ نکالی اس پر آگے چل کر اُردو تنقید نے طویل فاصلہ طئے کیا۔ حالیؔ کے بعد اُردو کے نقادوں کا ایک سلسلہ چل پڑا۔ جن میں اہم نام شبلیؔ ‘ عبدالحق ‘ نیاز فتح پوری‘ مجنوں گور کھپوری ‘ آل احمد سرور‘ احتشام حسین ‘ کلیم الدین احمد‘ محمد حسن عسکری ‘ خورشید الاسلام ‘ محمد حسن ‘ احسن فاروقی ‘ وزیر آغا ‘ قمر رئیس ‘ سلیم احمد ‘ مغنی تبسم ‘ سلیمان ‘ اطہر جاوید وغیرہ شامل ہیں‘ قاری اور نقاد کی پسند کے اعتبار سے جب تخلیق کو قبول یا رد کیا جانے لگاتو ادب میں تنقید کے دبستان وجود میں آئے۔ اور اُردو تنقید میں رومانی تنقید ‘ جمالیاتی تنقید ‘ سائنٹفک تنقید ‘ مارکسی تنقید ‘ تاثراتی تنقید ‘ نفسیاتی تنقید ‘ اور تقابلی تنقید جسیے شاخیں وجود میں آئیں۔ تنقید کے ابتدائی نظریے ‘ تعریف تشریح‘ توضیح اور تجزیے کی شکل میں ہیں۔ سائنٹفک تنقید ادیب اور فنکار کے تمام پہلوؤں سے بحث کرتی ہے۔ اور اُس کے ذریعہ تخلیق میں زمانے کے سماجی حالات اور خیالات کا عکس تلاش کیا جاتا ہے۔ جمالیاتی تنقید میں کسی بھی ادبی تخلیق کے مطالعے یا جائزے سے ذہن پر پڑنے والے تاثر کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اور تخلیق میں حظ‘ مسرت اور حُسن کے پہلو تلاش کئے جاتے ہیں۔ تاثراتی تنقید میں کسی بھی ادبی تخلیق کے مطالعے یا جائزے سے ذہن پر پڑنے والے تاثر کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ مارکسی تنقید میں ادب کا تعلق زندگی سے دیکھا جاتا ہے کہ اعلیٰ ادب وہی ہے جو اپنے عہد کی سچی تصویر پیش کرے اور انسانی مقاصد کی ترجمانی کرے۔ نفسیاتیتنقید میں فرد پر زور دیا جاتا ہے۔ اور تخلیق کار کی نفسیاتی الجھنوں اور تشنگیوں کو تلاش کیا جاتا ہے ۔ اس تنقید کا نظریہ ہے کہ انسان کی دبی ہوئی خواہشات ادب اور آرٹ کی شکل میں رونما ہوتی ہیں۔ تقابلی تنقید میں دو فن پاروں کا باہمی تقابل کیا جاتا ہے اور اُن میں یکساں خصوصیات تلاش کی جاتی ہیں۔ تنقید کا تعلق تحقیق اور تخلیق سے بھی ہے۔ تینوں میں فضیلت کا معاملہ زیر بحث رہتا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ تحقیق کے بغیر تنقید ممکن نہیں۔ اور تنقید کے لئے تخلیق ضروری ہے۔ اچھی تخلیق کے لئے سلجھے ہوئے تنقیدی شعور کی ضرورت ہے ۔
– – – – – – –
Article : Origin and Development of Urdu Criticism
Writer : Dr.Md.Nazim Ali