فلسطین : بولتے کیوں نہیں میرے حق میں؟ :- عظمت علی

عظمت علی

فلسطین
بولتے کیوں نہیں میرے حق میں؟

عظمت علی

70 برس کا عرصہ گزر چکا ہے اور فلسطین پر اب بھی وہی تشدد کی انتہا رواں ہے۔ اسرائیل اور اس کےاتحادیوں نے دنیا کے امن کو سبوتاژ کر دیا ہے۔ آج امن پسند کونسل اور تنظیمیں صرف مظلوم فلسطینیوں کی آہ و گریہ اور ان کی دردناک چیخیں سن رہی ہیں اورظالم کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر رہی ہیں.

لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ اسلامی ریاست اور مسلمان ان کی حمایت میں کھڑے ہیں۔ مسلمان ہی نہیں بلکہ ہر انصاف پسند ان کے ساتھ ہے ۔ ایسی اسلامی حکومت بھی ہے جس نے اسرائیل کو ملک ہی نہیں تسلیم کیا اور آج بھی اس کے مد مقابل کھڑی ہے۔ مسلمانوں کی حامی اور ان کی آواز پر لبیک کہنےکو آمادہ ہے۔
ظلم و ستم تو ایک عرصہ سے ہو رہا تھا مگر دوسری جنگ عظیم کے بعد ظلم و جور کے سلسلہ نے زور پکڑلیا اور ہنوز رواں دواں ہے۔ نا جائز قابض اسرائیلی ان پر طاقت آزما رہے اور نہتے فلسطینوں سے موت و حیات کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ بزدل ہیں وہ جو اپنے سے کمزور پر جنگ تھوپ دیں اور پھر ان کی موت کا جشن منائیں۔
موت ان کے آنکھوں تلے پھرتی ہے۔ موت ہر آن ان کے سر پر منڈلا رہی ہے ۔ ان کی زندگی کیسے بسر ہوتی ہے ۔ یہ فکر و خیال کی دنیا سے پرے ہے کہ اسے ضبط تحریر میں لایا جاسکے۔روزانہ نت نئے مظالم ایجاد کئے جارہے ہیں اور ان خالی ہاتھ فلسطینیوں پر آزمائے جا رہے ہیں۔ لاشوں پہ لاشیں اٹھ چکی ہیں ۔ پھر بھی ان کی دلیری میں کسر نہیں آئی ۔ لاکھوں جانیں قربان کردیں ۔ مگر اب تک قدم میں استحکام باقی ہے ۔ جب تک جسم میں لہو کی بوندیں ہیں دفاع حق میں کام آتی رہیں گی۔ کیوں کہ شہادت، سعادت ہے۔ ظلم کے خلاف ان کی کوشش جاری ہے۔ کوشش کرنا ہی مطلوب ہے۔ نتیجہ کا انتظام اللہ کے ہاتھوں ہے ۔
وقفہ وقفہ سے اسرائیلی غیر قانونی طور پر فلسطین میں گھستے چلے آئے ہیں ۔ لیکن جنگ عظیم دوم کے زمانہ میں بےتحاشا یہودی آ گھسے ہیں۔ ملک میں داخل ہونے کےبعد مالک کی زمین پر اقتدار جمانے کی غرض سے خفیہ طور مسلح تنظیمیں قائم کی ہیں۔ جس کے سہارے ظلم و استبداد کا سلسلہ شروع کردیا اور پھر فلسطینیوں کو بے دخل کر نا شروع کر دیا ہے.
1947ء میں برطانوی حکومت نے ایک منصوبہ کے تحت فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ میں پیش کردیا۔ ماہ نومبر 1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس سرزمین کو یہودیوں اور عربوں کے درمیان بانٹنے کا حکم جاری کر دیا۔ اس نے اپنی جیت اور ناجائز مقصد میں کامیابی کی خاطر مختلف سیاسی ہتھکنڈے استعمال کئے ۔ ڈرا دھمکا کر کےووٹ لیا۔ ارادہ یہ تھا کہ کسی بھی صورت اسرائیل کے حق میں فیصلہ ہو ۔ اور ہو نا بھی یہی تھا کیوں
میرا قاتل ہی میرا منصف ہے
کیا مرے حق میں فیصلہ دے گا
تو فیصلہ ان کے حق میں ہوا ۔ اگر چہ قانون کے خلاف ہوا۔۔۔!
۱۹۴۸میں ناجائز قبضہ کی بنیاد باقاعدہ طور پر رکھ دی گئی ۔ اسرائیل نے عرب کے ساتھ جنگ چھیڑدی ۔ جسے نکبہ کہتے ہیں ۔ ایک ملین سے زائد عرب کو ان کے ہی گھر سے بے دخل کردیا گیا۔ ۲۰،۰۰۰سے زائد فلسطینی اورہزاروں عرب فوج کو مارا گیا ۔ جبکہ اسرائیل کے قریبا ۴۰۰۰فوجی اور ۲۰۰۰ ہزار شہری مارے گئے۔
دوسرا فتنہ ۱۹۵۶۔۱۹۵۷ کے درمیان چھڑا۔ اس میں صرف ۲۳۱ اسرائیلی سپاہی جبکہ ،۱۶۵۰ مصری فوجیں اور بھی بہت ساری عوام کی موت ہوئی۔ ۱۹۷۳میں عرب اسرائیل کے درمیان ایک اور جنگ کا آغاز ہوا۔ اطلاعات کے مطابق ۷۷۶ اسرائیلی مارے گئے جبکہ عرب کی طرف سے ۱۵۰۰۰ مصری ۶۰۰۰ جردانی اور ۱۰۰۰شامی ماری گئے ۔ ساتھ ساتھ نصف ملین سے زائد فلسطینیوں کو گھر چھوڑنا پڑا ۔ ۱۹۷۸میں ۱۸ اسرائیلی اور ۱۲۰۰ لبنانی اور دیگر فلسطینی مارے گئے۔ اسرائیل نے ۱۹۹۶ میں بھی ۱۷۵عرب کو مارا ہے۔(اے ایف پی ،جولائی ۲۰۱۴اور ڈیلی صباح مڈ ایست ،۲ اگست ۲۰۱۴ )
AFP.com July 2014. Daily Sabah Mideast, August 2,2014
علاوہ ازایں ۲۰۰۶ ،۲۰۰۹ ،۲۰۱۲ اور دیگر برسوں میں بھی اسرائیل کی جارحیت جاری رہی ہے۔
۱۹۴۶میں سرزمین فلسطین پر ۹۴فیصد فلسطینی باشندے آبا دتھے ۔ لیکن فی الوقت آبادی کے محض ۱۵ فیصد حصہ پر فلسطینی آباد ہیں۔ موصولہ اطلاع کے مطابق ۵ ملین فلسطینی مہاجر کیمپ میں زندگی کاٹ رہے ہیں۔
Israel-Palestine: By the Numbers, By Garry Leech, August 8, 2014
برسوں سے چلتے اس مظالم کو دیکھ کر کون گریا کناں نہ ہوگا۔ کس کی آنکھیں اشکبار نہ ہوں گی۔ صرف ہمیں نہیں بلکہ ہر ذی شعور شخص ان کے اوپر ہونے مظالم پر ملال ہے۔ کیوں کہ مسئلہ مذہب و ملت اور قوم و ریاست کا نہیں بلکہ انسانیت کا ہے۔ ہر انسان جس کے دل میں احساس درد ہوگا وہ ان کے مظالم پر آنسو بہائے گا۔ ان کے غم میں شریک ہوگا۔ ان کے حمایت میں بولے گا۔ لکھے گا اور جو بن سکے گا وہ کرے گا۔
عالمی بااثر شخصیتیں بھی ان کے غم میں شریک نظر آتی ہیں۔
ہندوستان کے عظیم رہنما مہاتما گاندھی کا قول ہے :
“Palestine belongs to the Arabs in the same sense that England belongs to the English or France to the French. It is wrong and inhuman to impose the Jews on the Arabs.”
فلسطین کا تعلق عرب سے ہے بالکل اسی طرح جیسے انگلینڈ، انگلش اور فرانس،فرینچ سے ہے۔ یہ غلط اورغیر انسانی کام ہے کہ یہودی کو عرب سے جوڑدیا جائے۔
سائنس کی دنیا کا عظیم انسان آئین انسٹائن کہتا ہے :
“It would be my greatest sadness to see Zionists do to Palestinian Arabs much of what Nazis did to Jews.”
یہ میری (زندگی) کا سب بڑادکھ ہو گاکہ میں صہیونی (یہودی) سے اس سے زیادہ تکلیف دہ دکھ دیکھو جو نازیس نے یہودی کے ساتھ کیا تھا!
نیلسن منڈیلا کا کہنا ہے :
“We know too well that our freedom is incomplete without the freedom of the Palestinians.”
ہم بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ فلسطین کی آزادی کے بغیر ہماری آزادی نامکمل رہ جاتی ہے۔
اگر ہم ملک اور قوم و ملت کے بھید بھاو کی سطح سے بلند ہوکر دیکھیں تو ہمیں صاف طور پر نظر آئے گا کہ فلسطین کی حمایت ہم سب کا انسانی فریضہ ہے۔
70 برس ہو گیا ہے۔ ان پر مظالم ڈھائے جارہےہیں۔ بے شمار جانیں جاچکی ہیں۔ آزادی کی خواہش آج بھی ان کے دل میں جوش پیدا کررہی ہے۔ وہ آج بھی نہیں ہارے ہیں ۔ اگرچہ وہ خالی ہاتھ ہیں۔ آج بھی وہ ظلم کے خلاف اسی مردانہ وار کھڑے ہیں جیسے پچھلے برسوں استحکام کا مظاہرہ کیا تھا۔
کیوں نہ ہم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوجاتے۔۔۔!؟
حق کے ساتھ ۔ باطل کے مقابل ۔
آج فلسطینی مظلوم کا ایک ہی شکوہ ہے.
بولتے کیوں نہیں میرے حق میں
آبلے پڑ گئے زبان میں کیا