پانچویں قسط : حقیقتِ نماز اور مقصدِ نماز :- مفتی کلیم رحمانی

 

مفتی کلیم رحمانی

پانچویں قسط
حقیقتِ نماز اور مقصدِ نماز

مفتی کلیم رحمانی
پوسد (مہاراشٹر) الہند
09850331536

حقیقت نماز اور مقصد نماز کی چوتھی قسط کے لیے کلک کریں

انسانی اور اسلامی زندگی کا ایک تقاضہ اجتماعیت ہے اس ضرورت اور تقاضہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے پنجوقتہ نمازوں سے جوڑ دیا، چنانچہ اللہ کا ارشاد ہے ۔ وَارْکَعُوْا مَعَ الرَّاکِعِیْنَ یعنی رکوع کرو،رکوع کرنے والوں کے ساتھ مطلب یہ کہ جماعت سے نماز پڑھو، اب نماز کی ادائیگی کے سلسلہ میں دو حکم عائد ہوگئے ایک نماز کو ادا کرنا اور دوسرے جماعت سے ادا کرنا ، مطلب یہ کہ بغیر عذر شرعی کے جماعت کے بغیر نماز ادا کرنا صحیح نہیں ہے-

نماز کے ساتھ جماعت کی شرط اس لئے عائد کی گئی ہے کہ انسانی اور اسلامی زندگی کے معاملات جماعت کے بغیر نہیں چلتے اور چونکہ نماز پورے دین کی ترجمان عبادت ہے اس لئے اس کے ساتھ جماعت کا نظم جوڑ دیا گیاہے جماعت کا مطلب یہ ہے کہ ایک امام ہو اور باقی مقتدی ہو، اسی طرح زندگی کے تمام معاملات میں ایک امیر ہو اور باقی مامور ہوں، یہاں تک کہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر سفر میں دو فرد ہوں تو ان میں ایک امیر ہو اور دوسرا مامور، اس سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ اسلام میں زندگی کے تمام شعبوں میں اجتماعیت کی کتنی اہمیت ہے، لیکن اس سلسلہ میں اہم بات یہ ہے کہ اسلام جتنا زور اجتماعیت پر دیتا ہے اس سے زیادہ اس بات پر دیتا ہے کہ یہ اجتماعیت اسلام کی بنیاد پر ہو، غیر اسلامی اجتماعیت کو اسلام اجتماعیت ہی تسلیم نہیں کرتا، بلکہ اسے سب سے بڑا فتنہ اور سب سے بڑا فساد قرار دیتا ہے چنانچہ تاریخ کے ہر دور میں غیر اسلامی اجتماعیت ہی سے دنیا میں فتنہ و فساد برپا ہوا ہے اور آج بھی دنیا میں غیر اسلامی اجتماعیت ہی سے فساد برپا ہے، چاہے وہ اقوام متحدہ کی صورت میں ہو ،چاہئے صیہونیت کی صور ت میں ہو ،چاہے جمہوریت کی صورت میں ہو، چاہے سیکولرازم کی صورت میں ہو، چاہے قومیت کی صورت میں ہو ، چاہے فسطائیت کی صورت میں ہو ، یا برادریت کی صورت میں ہو، اسلام میں صرف ایک ہی اجتماعیت مطلوب و محمود ہے جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی امارت میں قائم ہو، مطلب یہ کہ جس اجتماعیت میں اللہ اور اس کے رسولؐ کا حکم سب سے مقدم ہو، اور تاریخ سے یہ بات بھی واضح ہے کہ جب تک دنیا میں اس بنیاد پر اجتماعیت تھی دنیامیں امن و امان تھا، اور آج بھی دنیا میں امن و امان بھی اسی اجتماعیت کی بنیاد پر قائم کیا ہو سکتا ہے ،جس اجتماعیت کا امیر قوم کا سردار نہیں قوم کا خادم ہوتا ہے۔
یہاں بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اسلام نے جب جماعت کی نماز کے ذریعہ تمام مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنے کا پیغام دیا تو خود نمازیوں میں نماز کے طریقہ کی بنیاد پر اختلاف کیوں ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ نمازیوں کا یہ اختلاف کم علمی او ر ناقص علمی کی وجہ سے ہے اور پھر تنگ نظری اور تعصب نے اسے اور بڑھا چڑھا کر پیش کر دیا، ورنہ جہاں تک طریقہ نماز کا تعلق ہے تو وہ دور نبوی سے لے کر آج تک ایک ہی رہا ہے اور پوری امت مسلمہ آج بھی اسی طریقہ سے نماز ادا کر رہی ہے ، چاہے کوئی حنفی ہو، یا شافعی ہو یا مالکی ہو یا حنبلی ہو، یا اہل حدیث ہو، اور پھر امت میں نماز کی ادائیگی کے متعلق جو اختلاف پایا جاتا ہے وہ بنیادی نوعیت کا اختلاف نہیں ہے بلکہ وہ جزوی نوعیت کا اختلاف ہے اور یہ سب سنت رسولؐ اور سنت صحابہؓ سے ثابت ہے ،بلکہ اس اختلاف کو اختلاف کا نام دینا ہی صحیح نہیں ہے اسے عمل رسولؐ اور عمل صحابہؓ کی الگ الگ ہیتیں کہنا چاہئے اور اس پر خوش ہونا چاہئے کہ آنحضورﷺ اور صحابہؓ نے جن جن طریقوں سے نماز کی ہیں الحمد اللہ وہ تمام طریقے نہ صرف یہ کہ کتابوں میں محفوظ ہیں بلکہ امت کے عمل میں بھی محفوظ ہیں۔
آج امت میں نماز کی ادائیگی کے طریقہ کے متعلق جو اختلاف پایا جاتا ہے حالانکہ وہ جزوی نوعیت کا ہے لیکن یہ اختلاف اسلئے شدید ہو گیا ہے چونکہ امت میں نماز کے متعلق صرف نماز کی ادائیگی کی تحریک چل رہی ہے نماز کو زندگی میں اور معاشرہ میں قائم کرنے کی تحریک نہیں چل رہی ہے اور چل بھی رہی ہے تو بہت محدود پیمانہ پر ، ظاہر ہے نماز کے متعلق جب صرف پانچ فیصد حصہ پر عمل ہوگا اور پچانوے فیصد حصہ کو نظر انداز کر دیا جائیگا تو اس کا منفی رد عمل ہی سامنے آئیگا ، پانچوں وقت کی نمازوں کی ادائیگی میں دن و رات کے چوبیس(۲۴) گھنٹوں میں سے صرف ایک گھنٹہ صرف ہوتا ہے جس کا تناسب پانچ فیصد آتا ہے اور دن و رات کے بقیہ تئیس(۲۳) گھنٹے جن کا تناسب دن و رات کے وقت میں پچانوے فیصد آتا ہے یہ حصہ نماز کو قائم کرنے سے تعلق رکھتا ہے اور نماز کو قائم کرنے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے نماز کو قائم کرنے کا مطلب ہے نماز میں پڑھی جانے والی آیات قرآنی اور تکبیرات و تسبیحات کے پیغام کو اپنی زندگی میں علمی و عملی طور پر قائم کرنا ہے ، ساتھ ہی دوسروں کو بھی اس کی دعوت دینا ، جب مسلمانوں میں اقامت نماز کی تحریک چلے گی تو مسلمانوں میں ادائیگئی نماز کے متعلق جو جزوی اختلافات ہیں وہ خود بخود ختم ہو جائیں گے یا دب جائینگے اسلئے کہ یہ فطری بات ہے کہ جب ایک بڑی چیز سامنے آتی ہے تو چھوٹی چیز خود بخود ہٹ جاتی ہے یا لوگوں کی توجہ اس کی طرف سے ہٹ جاتی ہے اسی طرح مسلمانوں کے دوسرے اختلافات اور جھگڑوں کا معاملہ ہے جب سے مسلمانوں نے باطل سے اختلاف کرنا اور باطل سے جھگڑنا چھوڑ دیاتو مسلمان حق سے اختلاف کرنے میں اور آپس میں جھگڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس لئے مسلمان اگر یہ چاہتے ہیں کہ ان کے درمیان حق کی بنیاد پراتحاد ہو تو انہیں باطل سے اختلاف کرنا ہوگا اسی طرح اگر وہ چاہتے ہیں کہ ان کی آپس کی لڑائیاں ختم ہوں تو انہیں باطل سے لڑنا ہوگا، ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ مسلمان باطل سے اختلاف بھی نہ کرے اور باطل سے لڑائی بھی نہ کرے اور ان کے آپس کا اختلاف اور لڑائی ختم ہو جائے۔
چنانچہ پوری اسلامی تاریخ اس پر گواہ ہے کہ جب تک مسلمان باطل سے اختلاف کرتے رہیں اور باطل سے لڑتے رہیں تب تک وہ متحد رہیں اور آپسی لڑائی سے بچے رہیں اور جب بھی مسلمانوں نے باطل سے اختلاف کرنا اور باطل سے لڑنا چھوڑ دیا تو وہ آپسی اختلافات اور آپسی لڑائی میں مبتلا ہو گئے ، چاہے وہ ہم سے پہلے کی امت مسلمہ بنی اسرائیل کا دور ہو، یا پھر موجودہ امت مسلمہ بنی اسماعیل ؑ کا دور ہو، لیکن افسوس کی بات ہے کہ بہت سے مسلمان باطل کی حمایت کرکے اور باطل سے دوستی کرکے اپنے آپسی اختلافات اور آپسی دشمنی کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو نا ممکن ہے۔باطل کا لفظ ہر غیر اسلامی فکر و طرز عمل کو شامل ہے چاہے کوئی مسلمان کی حیثیت سے اختیار کرے، یا غیر مسلم کی حیثیت سے اختیار کرے، اسلئے بہت سے مسلمانوں کا یہ قومی اتحاد اور قومی اختلاف کا فارمولہ بھی مسلمانوں کو آپسی اختلافات اور آپسی لڑائی سے نجات دینے والا نہیں ہے کیونکہ مسلمانوں میں بے شمار افراد ہیں جو اسلامی فکر اور اسلامی طرز زندگی کے مخالف اور باطل کے حامی و آلہ کار بنے ہوئے ہیں ، اسی طرح غیر مسلموں میں بے شمارافراد اسلامی فکر اور اسلامی طرز زندگی کے حامی اور باطل کے مخالف ہیں، اگر مسلمان حق و باطل کی بنیاد پر معاشرہ میں تحریک چلائے تو جہاں کچھ مسلمان ان کے مخالف ہوں گے تو بہت سے غیر مسلم ان کے حامی ہوں گے۔قومی اتحاد کی ناکامی کو مسلمان ، پاکستان اور بنگلہ دیش کی موجودہ صورت حال سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں ۔ جس طرح مسلمانوں کے لئے ان کا قومی اتحاد ان کے لئے ناکامی اور نامرادی کا باعث ہے اسی طرح ان کا وطنی اتحاد بھی ان کے لئے ناکامی و نامرادی کا باعث ہے اور اس کو سمجھنے کے لئے ہندوستانی مسلمانوں کی موجودہ صورت حال سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے اس لئے کہ آزادی سے پہلے ہندوستان کے مسلمانوں کو وطنی اتحاد کے سبز باغ دکھا کر ہی مطمئن کیا گیا تھا اور بد قسمتی سے اس میں بہت سے علماء بھی پیش پیش تھے لیکن بہر حال جو چیز غلط ہوتی ہے وہ غلط ہی رہتی ہے اور اس کا انجام بھی غلط ہی ہوتا ہے کسی اچھے شخص کے قبول کر لینے سے وہ اچھی نہیں ہوتی، جس طرح کسی قوم میں اس قوم کے بہت سے دشمن ہوتے ہیں اسی طرح کسی وطن میں اس وطن کے بہت سے دشمن ہوتے ہیں، اور پھراگر اس وطنی اتحاد میں ایسی قوم شامل ہو جائے جس کو انصاف اور انسانیت ہی سے دشمنی ہے تو پھر اس وطن اور ملک کا خدا ہی حافظ ہے پھر ایسے وطن و ملک میں کسی کمزور اور مغلوب قوم کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے چنانچہ آزادی کے بعد سے اس ملک میں بہت سی کمزور اور مغلوب قوموں کی زندگیاں اجیرن بنی ہوئی ہیں اور ان میں سب سے زیادہ مسلمان قوم کی زندگی ہی اجیرن بنی ہوئی ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے ماضی کی غلطیوں سے سبق لیں اور قومی و وطنی اتحاد کے نعروں سے نکل کر انسانی و اسلامی اتحاد کا نعرہ بلند کریں اسی میں مسلمانوں کا بھلا ہے اور اسی میں پوری انسانیت کا بھلا ہے اوراس سلسلہ میں نماز کا پیغام بڑا موثر کردار ادا کر سکتا ہے بشر طیکہ مسلمان اس کو سمجھیں اور اپنی زندگی میں نافذ کریں نماز کے متعلق صرف ادائیگی نماز پر اکتفا کرنا اور صرف ادائیگی نماز کی دعوت دینا ایک طرح سے صرف پانچ فیصد بندگی رب کو اختیار کرنا اور صرف پانچ فیصد بندگی رب کی دعوت دینا ہے، اور پچانوے فیصد بند گئی رب کو چھوڑ دینا ہے کیونکہ اگر کوئی شخص زندگی بھر بھی پابندی کے ساتھ پانچوں نمازیں ا دا کرتا رہا تو اس نے گویا صرف زندگی کا پانچ فیصد حصہ بندگی میں گزرا،جب کہ ایک مسلمان کو پوری زندگی بندگئی رب میں گزارناضروری ہے، اور پیغام نماز میں اسی بندگئی رب کی دعوت ہے ۔
نمازمیں اللہ کے حکم کی بڑائی ارو دینی اتحاد کے ساتھ ساتھ پاکی صفائی اور ستر پوشی کی بھی تعلیم ہے چنانچہ نماز کی ادائیگی میں جو چودہ فرائض ہیں ان میں سے تین فرائض کا تعلق پاکی و صفائی سے ہے یعنی نماز کی جگہ کا پاک ہونا، نمازی کے جسم اور کپڑوں کا پاک ہونا ، جگہ جسم اور کپڑوں کی پاکی صفائی انسانی اور اسلامی تقاضوں میں سے ہے اور چونکہ نماز پورے انسان اور اسلام کی ترجمان عبادت ہے اسلئے پاکی صفائی نماز میں فرض قرار دی گئی ہے، اسی طرح انسانی اور اسلامی ایک تقاضہ بدن کو کپڑے سے ڈھانپنا بھی ہے تو یہ چیز بھی نماز میں فرض قرار دی گئی اسی طرح وقت کی پابندی بھی ایک انسانی و اسلامی زندگی کا تقاضہ ہے اس لئے پانچ نمازیں بھی وقت کے ساتھ فرض کی گئیں تاکہ انسانوں اور خصوصاً مسلمانوں میں کسی کام کے کرنے کے متعلق وقت کی قدر و قیمت کا احساس ہو سکے، انسانی فطرت اور اسلامی تقاضہ کے طور پر انسانی زندگی میں نظم و ضبط پیدا کرنے کے لئے کسی ایک سمت اور ایک رخ کی بڑی اہمیت ہے تو اللہ تعالیٰ نے نماز کی ادائیگی کے لئے خانہ کعبہ کی طرف رخ کو فرض قرار دیا اسی طرح انسانی اور اسلامی لحاظ سے کسی بھی کام کو صحیح طور سے انجام دینے کے لئے اس کام کی دل سے نیت ضروری ہے بغیر نیت و ارادہ کے کوئی بھی کام صحیح نہیں ہوتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے نماز کی ادائیگی کے لئے نیت کو فرض قرار دیا ،اور اس میں پیغام یہی ہے کہ بندگئی رب کا ہر کام دل کے ارادہ سے کیا جائے نماز کے یہ وہ ساتھ فرائض ہیں جن کا تعلق نماز کی شروعات سے پہلے کے عمل سے ہیں جن کو فقہ کی اصطلاح میں نماز کی شرائط کہا جاتا ہیں ،رہے وہ سات فرائض جن کا تعلق نماز کے اندرونی عمل سے ہیں اور جنہیں فقہ کی اصطلاح میں نماز کے ارکان کہا جاتا ہے ان کا پیغام بھی بہت اہم اور وسیع ہے ان میں سب سے پہلے تکبیر تحریمہ یعنی اَللّٰہُ اَکْبَرَ سے نماز شروع کرنا ہے۔ جس کے معنی اللہ سب بڑا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کا حکم سب سے بڑا ہے یہ تکبیر و ہ کلمہ ہے جو ہر نماز کی ہر ایک رکعت میں چھ مرتبہ دُہرایا جاتا ہے اس سے اس کلمہ کے پیغام کی اہمیت و عظمت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اس لحاظ سے دن بھر کی صرف پانچوں فرض نمازوں کی رکعتیں سترہ ہو جاتی ہیں اور ہر رکعت میں یہ تکبیر چھ مرتبہ کے حساب سے ایک سو دو مرتبہ ہو جاتی ہے تو جو نمازی صرف ایک دن میں حالت نماز میں اور وہ بھی مسجد میں اللہ کے حکم کو سب سے بڑا کہہ گا کیا ایسا شخص نماز کے بعد اللہ کے حکم سے کسی اور کے حکم کو بڑا سمجھے گا؟ اور اگر وہ پھر بھی نماز کے بعد کے عمل میں اللہ کے حکم کے علاوہ کسی اور کے حکم کو بڑا سمجھ رہا ہے تو کیا اس نے حالت نماز میں مسجد میں کھڑے ہو کر صرف ایک دن میں ایک سو دو (۱۰۲) مرتبہ جھوٹ نہیں بولا؟ نماز کا دوسرا رکن قیام ہے یعنی حالت نماز میں تقّدس و احترام کے ساتھ کھڑا ہونا مطلب یہ کہ اپنے آپ کو اللہ کے سامنے کھڑا ہوا سمجھنا، قیام کا پیغام یہ ہے کہ صرف حالت نماز ہی میں تقّدس و احترام کے ساتھ کھڑا ہونا جائز ہے، اللہ کے علاوہ کسی اور کے سامنے تقّدس و احترام کے ساتھ کھڑا ہونا جائز نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ خود آنحضورﷺ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ صحابہؓ آپؐ کے تقّد س و احترام میں کھڑے ہوں، اس سے معلوم ہوا کے تقّد س و احترام کے ساتھ کھڑا ہونا عبادت کا حصہ ہے اور عبادت صرف اللہ ہی کی جا سکتی ہے۔
اللہ کے علاوہ کسی اور کیلئے تقّد س و احترام میں کھڑا رہنا کھلا ہوا شرک ہے ،لیکن افسوس ہے کہ بہت سے مسلمان بہت سے مواقع پر اس شرک کے مرتکب ہوتے ہیں،جو پیغام نماز کے صریح طور پر خلاف ہے اسی طرح قیام کے علاوہ نماز میں تقّد س و احترام کے اظہار کے تین اور ارکان رکھے گئے ہیں، اور وہ ہیں رکوع ، سجدہ اور قعدہ ، مطلب یہ کہ تقّد س و احترام کے ساتھ سرکو جھکانا اللہ کے لئے خاص ہے اسی طرح تقّد س و احترام کے ساتھ سر کو زمین پر رکھنا بھی اللہ ہی کے لئے خاص ہے اور تقّد س و احترام کے ساتھ زمین پر بیٹھنا بھی اللہ ہی کے لئے خاص ہے، نماز کے مذکورہ چار ارکان سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ایک انسان کیلئے کسی کے سامنے تقّد س و احترام کے اظہار کیلئے چار ہی صورتیں ہو سکتی ہیں اور یہ چاروں ہی صورتیں نماز کا حصہ بنا کر یہ پیغام دید یا گیا کہ یہ عبادت میں داخل ہیں اور عبادت صرف اللہ ہی کی جاسکتی ہے ،لیکن یہ بھی افسوس کی بات ہے کہ بہت سے مسلمان تقّد س و احترام کے اظہار کے لئے اللہ کے علاوہ دوسروں کے سامنے بھی جھکتے ہیں اسی طرح دوسروں کے سامنے سجدہ بھی کرتے ہیں اور قعدہ بھی کرتے ہیں یعنی تقّد س و احترام کے اظہار کے لئے کسی کے سامنے بیٹھتے بھی ہیں جو کہ کھلا ہوا شرک ہے اور پیغام نماز کے خلاف بھی ہے ۔نماز کا ایک اہم رکن قرآت قرآن ہے اور یہ پوری نماز کی اصل روح ہے اور اس کا پیغام یہی ہے کہ نماز پڑھنے والے کا قرآن سے فکری اور عملی تعلق قائم رہے۔نماز کا آخری رکن اپنے ارادہ سے نماز کو ختم کرنا ہے مطلب یہ کہ یوں ہی نماز سے نہ نکل جائے بلکہ نیت و ارادہ کے ساتھ نکلے، اس رکن کا پیغام یہی ہے کہ کوئی بھی کام نیت و ارادہ کے ساتھ ہی ختم کیا جائے جس طرح نیت و ارادہ کے ساتھ ہی شروع کیا گیا تھا۔
جماعت کی نماز میں امام صاحب سے اگر کوئی بھول اور غلطی ہو جائے تو مقتدیوں کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ امام صاحب کی بھول اور غلطی کو یوں ہی برادشت نہ کرے بلکہ لقمہ دیکر اس کی اصلاح کرے، اور امام صاحب کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ مقتدیوں کے لقمہ کو قبول کرے، اگر امام صاحب کی بھول اور غلطی پر مقتدیوں نے لقمہ نہ دیا تو نما زکی خرابی کے وہ بھی ذمہ دار ہوں گے، اسی طرح امام اگر مقتدیوں کے لقمہ کو قبول نہ کرے تو وہ بھی نماز کی خرابی کا ذمہ دار قرار پائیگا ، اس سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ اسلام نے اجتماعیت کے سلسلہ میں امیر و مامور کو کیا تعلیم دی ہے وہ یہ کہ دینی جماعت کے امیر سے بھول اور غلطی ہو جائے تو مامورین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے امیر کی بھول اور غلطی پر امیر کو ٹوکے اور امیر کی ذمہ داری ہے کہ وہ مامورین کے ٹوکنے کو قبول کرے اور اپنی بھول اور غلطی کی اصلاح کر لے، اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ نہ اسلامی جماعت کا امیر آزاد و خود مختار ہوتا ہے کہ وہ جو چاہے حکم دے اور نہ اسلامی جماعت کے مامورین کے لئے جائز ہے کہ وہ امیر کی بھول اور غلطی پر خاموش رہیں۔لیکن افسوس ہے کہ آج دینی جماعتوں میں امیر و مامور کے متعلق یہ رجحان بہت کم ہو گیا ہے کہیں امیر آزاد و خود مختار بنے ہوئے ہیں اور کہیں مقتدی آزاد و خود مختار بنے ہوئے ہیں ،کہیں امیر اندھے بہرے بنے ہوئے ہیں اور کہیں مقتدی اندھے بہرے بنے ہوئے ہیں، جب کہ امیر کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں اپنی امارت کے فرائض انجام دے اور مامورین کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں امیر کی اتباع بھی کرے اور قرآن و حدیث کی روشنی میں امیر سے اختلاف بھی کرے، اور یہ سب اسلامی اجتماعیت کے لازمی تقاضے ہیں ،بہر حال ادائیگی نماز کے سلسلہ میں اما م کی بھول اور غلطی پر لقمہ دینے کا پیغام یہ ہے کہ زندگی میں اور معاشرہ میں نماز کو قائم کرنے کے متعلق امام و امیر سے بھول اور غلطی ہو جائے تو جماعت کے دوسرے افراداُنھیں ٹوکے یہی طریقہ حضرت ابوبکرؓ صدیق کی امارت کا تھا اور یہی طریقہ حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمانؓ غنی اور حضرت علیؓ کی امارت کا تھا، اور جب تک یہ طریقہ تھا ان کی امارت خلافت رشدہ کا حصہ تھی اور جب سے اسلامی اجتماعیت سے یہ طریقہ نکلا خلافت بادشاہت میں تبدیل ہوگئی۔
—-
مفتی کلیم رحمانی 09850331536
مسجد اقصیٰ روڑ، وسنت نگر ،پوسد445204 ضلع ایوت محل مہاراشٹر(الہند)