خوشی کا راز :- پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

خوشی کا راز

پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
ای میل:

رات کاآخری پہر ‘تین بجے کا وقت لیکن میرا کمرہ ابھی بھی ملا قاتیوں سے بھرا ہوا تھا ‘لا ہور اور ملک کے دور دراز علاقوں سے آئے ہو ئے لوگ اپنی اپنی باری پر ملاقات کر رہے تھے ‘میں دوپہر دو بجے سے مسلسل لوگوں سے مل رہا تھا ‘اب میرے ساتھ والی کر سی پر ایک پریشان حال نوجوان اپنی والدہ کے ساتھ آکر بیٹھ گیا ۔

میں نے حسبِ معمول شفیق نظروں سے اُس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا کہ میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں تو نوجوان نے اداس بے زار مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھا او ر پھیکے لہجے میں بولا سر مجھے آپ سے کو ئی کام نہیں ہے اور نہ ہی میں آپ سے مدد لینے یا آپ سے ملاقات کر نے آیا ہوں اور نہ ہی میں روحانیت پر یقین رکھتا ہوں‘ میری ماں آپ سے ملنے آئی تھی میں اُن کو واپس لینے آیا ہوں ‘ رش کی وجہ سے میری ماں کی با ری لیٹ ہو گئی جس کی وجہ سے میں پچھلے کئی گھنٹوں سے انتظار کی سولی پر لٹکا رہا ۔ انتظارکے ان بو جھل لمحات میں ایک چیز میں نے نو ٹ کی جو مجھے آپ کے پاس لے آئی کہ مختلف مزاجوں کے لو گ آپ سے ملتے رہے کو ئی جلد بازی میں تھا تو کوئی غصے میں ‘افراتفری کے عالم میں ہر کو ئی اپنی مرضی کر نا چاہ رہا تھا لیکن آپ شفیق برتاؤ لہجے اور مسکراہٹ سے سب سے ملتے رہے نہ تو آپ نے نا گواری کا اظہار کیا اور نہ ہی غصے سے پھٹنا شروع کیا ‘ مجھے شدید حیرت کا جھٹکا اُس وقت لگا جب مجھے پتہ چلا کہ آپ یہ سارا کام فی سبیل اللہ کرتے ہیں کسی سے ایک پیسہ بھی نہیں لیتے نہ ہدیہ نہ پڑھائی کا خرچہ ‘ میں نے آپ کے بارے میں جو معلومات اکٹھی کیں وہ میرے لیے حیران کن ہیں کہ ما دیت پر ستی کے اِس دور میں آپ اپنا وقت لوگوں پر مفت کیوں خر چ کر رہے ہیں ‘آپ کے شفیق مثبت روئیے نے مجھے متا ثر کیا ‘آپ کے چہرے پر جو اطمینان آسودگی باطنی مسرت مجھے نظر آئی اِس نے مجھے متاثر کیا ‘سر میں ایک دولت مند گھرانے کا واحد چشم و چراغ ہوں دنیا جہاں کی دولت نعمتیں مجھے بچپن سے دستیاب ہیں لیکن سب کچھ ہونے کے باوجود میں خو شی سے محروم ہوں ‘ خو شی کی تلاش میں میں نے دنیا خوب گھوم لی ‘ لڑکیوں سے دوستی ‘مہنگی گاڑیاں ‘خوبصورت گھر ‘مہنگی گھڑیاں ‘ خوبصورت مہنگے کپڑے ‘ شراب جوا ‘ ہر برائی سے گزرا ہوں لیکن مجھے خو شی کا ایک قطرہ بھی نہیں ملا کیاآپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ حقیقی خو شی کو پا نے کا اصل راز کیاہے میں اُس کا درد دکھ سمجھ گیا تھا اُسے کہا کہ میں تمہیں خو شی کا راز بتاؤں گا تم کل صبح میرے آفس آکر مُجھ سے ملو اُس نے گہری نظروں سے میری طرف دیکھا اور بو لا آپ واقعی مجھے خو شی کا راز بتائیں گے ‘کیا میں بھی خو شی پا سکوں گا ‘ کیا میرے با طن میں سلگتے جھلستے ریگستانوں کو نخلستان ملے گا ‘ کیامیرے اندر سکون اُترے گا ‘ کیا میں اپنے اندر تھور اوربنجر پن سے نجات پا سکوں گا ‘ کیامیری آنکھوں اورچہرے پر جو قبرستانوں کی ویرانی سے اُس میں خو شی کے رنگ کھلیں گے ‘میں نے اُسے حوصلہ دیاتو وہ امید بھری نظروں سے میری طرف دیکھتا ہوا چلا گیا اگلے دن میرے جا نے سے پہلے ہی دفتر کی گراونڈ میں بے قراری بے چینی سے چہل قدمی کر رہاتھا مجھے دیکھتے ہی تیزی سے میری طرف پلٹا اور بو لا سر میں ساری رات سو نہیں سکا ‘میں جس خو شی کی خاطر در بدر بھٹکا ہوں دنیا جہاں کے گناہوں سے گزرا ہوں اُس کو پانے کاراز آپ مجھے بتائیں گے میں اُس کے ساتھ ہی بینچ پر بیٹھ گیاوہ اشتیاق بھری نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا اُس کے چہرے کے تاثرات اور جسمانی حرکات سے اُس کے باطنی اضطراب کا اظہا ر ہورہا تھا ‘اُس کے چہرے پر زندگی سے بھر پور تا ثرات نہیں تھے بلکہ مردوں سی ویرانی اُس کے چہرے کا مستقل حصہ بن چکی تھی میں نے دھیرے سے اُس کا ہا تھ پکڑا اُس کی آنکھوں میں دیکھا اور بولا خالق کائنات کا پہلے دن سے ایک اصول رہا ہے وہ یہ کہ آپ جو کاشت کرو گے وہی کاٹو گے ‘جو لوگوں میں بانٹوں گے وہی واپس تمہیں ملے گا ‘ دنیا میں آنے والا ہر شخص چاہتا ہے کہ اُس کی زندگی آسان ہو جا ئے اُس کی زندگی میں خوشیوں کے گلاب مہکیں تو اِ س کا آسان اورسادہ اصول یہ ہے کہ آپ دوسروں کی زندگی میں آسانیاں خو شیاں بانٹنی شروع کر دیں ‘ قدرت آپ کے خالی دامن کو خوشیوں اور آسانیوں سے بھرنا شروع کر دے گی ‘نوجوان تنقیدی نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا بولا سر ہم زکوۃ دیتے ہیں ‘صدقہ خیرات کرتے ہیں‘ ہسپتالوں میں لنگر دیتے ہیں ‘ نوکروں کے بچوں کو پڑھاتے ہیں ‘ میں مسکرایا اور بولا یہ کا م تو سارے دولت مند کر تے ہیں اگر آپ نہ کر و تو رازق اللہ تعالی کسی اور سے یہ کام کروالے گا ‘ یہ اصل خو شی یا آسانی بانٹنا نہیں ہے بلکہ خو شی کا راز کسی دوسرے کا دکھ درد محسوس کر نا اور پھر اُس درد کو کم کرنے کی کوشش کرنا ہے ‘ مثلا کسی زندگی سے بے زار مایوس انسان کا غم ہلکا کر نے کے لیے اُس کی ڈپریشن سے بھرپور گفتگو تم نے دھیان اور خو شدلی سے سنی ہے ‘ کسی یتیم بچے کو یا بیوہ کو ڈھونڈ کرشرمندہ کئے بغیر خو شی دی ہے ‘اُس کا غم بانٹا ہے اُس کے درد کو اپنا درد سمجھا ہے کبھی اپنی کار میں کسی راہگیر کو لفٹ دی ہے ‘ غصے میںآتش فشاں کی طرح پھٹتے ہو ئے انسا ن کی دھیمے لہجے اور برداشت سے بات سنی ہے اگر تم کسی کے گھر داماد یا بہنوئی ہو تو خو د کو اعلیٰ نسل کا نمائندہ نہیں سمجھا ‘کیا سسرالیوں کو اپنی عزت پر کبھی مجبور نہیں کیا کہ میں داماد ہوں میں بہنوئی ہوں اپنے مالی چوکیدار کو اوئے کی بجا ئے کبھی بیٹا بھائی چاچا کہہ کر بلا یا ہے ‘سبزی والے کو ذلیل کئے بغیر سبزی لی ہے ‘محلے کے غریب لوگوں کو اعلی لوگوں کی طرح عزت دی ہے ‘ اُن سے گرم جو شی سے ملے ہو ہسپتال میں اپنے مریض کے ساتھ لیٹے ہوئے اجنبی مریض کی بیمار پر سی کی ہے اُسے حو صلہ دیا ہے اُس میں زندگی کی امید کی کرن جگائی ہے کیا کبھی ماں باپ کی ڈانٹ صبر سے سنی ہے ‘ ماں کی پہلی آواز پر جواب دیا ہے ماں باپ کو حقارت سے دیکھنے سے باز آئے ہو ‘ بات بات پر ماں باپ کو طعنے دینے سے باز آئے ہو ۔ بیوی کی غلطی پر اُسے سب کے سامنے ڈانٹنے سے باز آئے ‘ بہن بھائیوں کی ضرورت اُن کے کہنے سے پہلے پو ری کر تے ہو ‘ کپڑے استری نہ ہوئے ہوں تو کبھی خود کپڑے استری کئے ہیں تم نے معاشرے میں مثبت کردار ادا کیا ہے ‘کیا تم نے بے غرض دوستی کسی سے کبھی کی ہے ‘کیا تم نے مخلوق خدا کی خدمت بغیر غرض کے کی ہے ‘آج تک تم کتنے لوگوں کی زندگی میں بہار بن کر آئے ہو ‘کتنی خو شیاں آسانیاں بانٹی ہیں جب تم دوسروں میں خو شیاں نہیں بانٹتے ہو تو تم خود بھی خو شیوں کے حقدار نہیں ہو ۔ خو شیاں انہی کے قدم چومتی ہیں جو لوگو ں کے چہروں پر خوشیوں کے رنگ بکھیرتے ہیں کیا تم سخاوت چھپ کرکرتے ہیں کسی کی مدد حقارت سے دیکھے بغیر کر تے ہو، کسی کی مدد کر نے کے بعد اُسے جتائے بغیر رہتے ہو ‘اُسے بار بار طعنے دینے سے باز آتے ہو ۔ جب تک تم اپنی ذات میں خو شیاں نہیں بھر و گے اُس وقت تک تم خوشی کوانجوائے نہیں کر سکو گے اگر تم چاہتے ہو تمہارا وجود زندگی خو شیوں سے مہکے تو دوسروں کی زندگی میں خو شیوں کی خو شبو بھرو ‘ میری با تیں غور سے سننے کے بعد وہ اٹھا اور چلا گیا رمضان کے آخری عشرے میں مجھے اُس کا فون آیا سر میں خوشی کے ذائقے سے ہمکنار ہوگیا ہوں ‘میں خوشی کا راز پا گیاہوں میں نے رمضان میں تلاش کر کے ایسے لوگوں کو ڈھونڈا جو حقیقی ضرورت مند تھے اُن کے لیے راشن کپڑوں کا انتظام کیا ‘عید کے کپڑوں کا انتظام کیا اپنے چھوٹے ملازمین کے مسائل سنے ‘ان کو حل کیا ‘ان کی باتیں سنیں ‘جیسے میں یہ کام کر تا گیا میرا ڈپریشن ختم ہوتا گیا ‘ مجھے لگا میرے اندر سے ہی خو شی کے چشمے پھوٹ رہے ہیں میں خو شی کا راز پا گیا ہوں یہ سچ ہے کہ خو شی کا راز صرف یہ ہے کہ آپ خو شی لوگوں میں بانٹیں آپ جتنی خوشی آسانی لوگوں میں بانٹیں گے وہ ڈبل مقدار میں واپس آکر آپ کی زندگی کو خوشیوں کا گلزار بنا دے گی ۔ جو لوگوں کے لیے با عث تکلیف ہو تا ہے وہ خود تکلیف میں رہتا ہے اور جو لوگوں کے لئے با عث مسرت ہوتا ہے وہ خو د بھی خو شیوں میں غوطے لگا تا ہے ۔