طلاق ثلاثہ اور سماجیاتی نظریات :- ڈاکٹر محمد احتشام اختر

ڈاکٹر محمد احتشام اختر

طلاق ثلاثہ اور سماجیاتی نظریات

ڈاکٹر محمد احتشام اختر
گیسٹ فیکلٹی ‘ شعبۂ سماجیات،
مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی، حیدرآباد

آج پورے ہندوستانی سماج میں مسلمانوں کے اندر رائج طلاقِ ثلاثہ کو لے کر چاروں طرف ایک موضوع بحث چھڑا ہوا ہے۔ جس میں الگ الگ طبقے اور خیالات کے لوگوں کا الگ الگ نظریہ ہے۔ یہ نظریہ صرف مسلمانوں کے اندر ہی نہیں بلکہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی ایک ہی وقت میں تین طلاق کی روایت کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں۔ یہاں تک کہ حکومتِ ہند نے بھی اس میں مداخلت کی پرزور کوششیں شروع کردی ہے۔

ہندوستانی سماج میں ایک ہی وقت میں تین طلاق دینے کی روایت نئی نہیں ہے جو سب کو چونکا رہی ہے۔ یہ روایت بہت قدیم ہے۔ ایک ہی وقت میں تین طلاق کو اسلام پسند نہیں کرتا۔ تاہم اگر کوئی طلاق دیتا ہے تو طلاق ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی شخص لاٹھی مارتا ہے تو چوٹ لگے گی ہی۔ اسی طرح کوئی شخص ایک ہی وقت میں تین طلاق دے گا تو طلاق ہو ہی جائے گی اس میں کسی کو کسی طرح کا شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے یہ حق ہے۔ جو لوگ اسلامی تعلیمات میں یقین رکھتے ہیں وہ کبھی بھی ایک ہی وقت میں تین طلاق نہیں دیں گے۔ وہ اسلام کے بتائے ہوئے قاعدے اور قانون کے مطابق طلاق دیں گے اور جن کا یقین اسلامی تعلیمات پر کچّا ہوگا، ضعیف ہوگا وہ اس فعل میں چہ میگوئیاں کریں گے۔ مذکورہ دونوں باتیں سماج میں زندہ ہیں۔ انہیں ختم کرنا مشکل ہے۔ اس میں کسی کو کسی طرح کا اشکال نہیں ہونا چاہئے۔ کسی بھی طرح کے قوانین بنالئے جائیں عمل کرنے والوں کو کوئی روک نہیں سکتا۔ نہ کرے والوں کے لیے بہانے ہزار ہیں۔ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والوں کو آج تک کوئی نہیں روک سکا ہے، نہ روک سکے گا۔ البتہ ان میں فساد ضرور برپا کیا جاتا ہے۔ کسی قوم کے اندر فتنہ برپا کرنا ہو تو اس کے ضعیف الیقین لوگوں کو پہلے گمراہ کیا جاتا ہے پھر انہیں فتنہ برپا کرنے کے لیے ورغلایا جاتا ہے۔ چاہے مال دے کر ہو، عہدہ دے کر ہو یا کسی اور طرح کا دنیاوی لالچ دے کر ہو۔ جب فتنہ برپا ہوجاتا ہے اور سماج میں ایک بے چینی کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے تو دونوں فریق کی جانب سے پرزور مخالفت ہونے لگتی ہے۔ جلسے اور جلوس نکلنے لگتے ہیں تو آخر میں وہ سارا معاملہ حکومت کے پاس پہنچ جاتا ہے اور حکومت کو مجبور ہوکر مداخلت کرنا پڑتا ہے۔
لیکن موجودہ صورت حال ایسی نہیں ہے جس میں حکومت کو مداخلت کی ضرورت پڑے۔ ملک کے سماجی اور اقتصادی حالات پر غور کرنے سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اسلامی تعلیمات میں مداخلت کرکے ہندوستان میں اسلامی ضابطے اور قوانین کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتی ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کو اس پر مجبور کیا جائے کہ وہ حکومت کے بنائے ہوئے اسلام (Modern Islam) پر عمل پیرا ہوں اور اپنے قدیمی دین کو چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں اور ایک بناوٹی دین جسے Modern Islam کہا جاتا ہے اپنائیں۔

طلاق ثلاثہ اور تعلیمی بیداری:
موجودہ حکومتی مداخلت کی کوشش ہندوستانی تہذیب کے خلاف ہے۔ حکومت کے اس رویہ سے ہندوستانی مسلمانوں کو ایک بہت بڑا جھٹکا لگا ہے جس کی مسلم سماج کی ہر برادری اور تعلیم یافتہ مرد اور عورت نے کھل کر مخالفت کی ہے۔ ہندوستان کی تواریخ میں پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں پردہ نشیں عورتوں نے کھل کر ہر جگہ، ہر موڑ پر مخالفت کی ہے۔ چاہے وہ ٹیلی ویژن پروگرام ہو یا جلسہ جلوس کی شکل میں ہو۔ ہر موڑ پر حکومت کو جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ چاہے وہ عورتیں مسلم سماج کے کسی بھی برادری سے تعلق رکھتی ہوں۔ اس طرح مسلم خواتین کا کھلم کھلا مخالفت کرنا اور روڈ پر اُتر آنا اپنے آپ میں خود مختاری (Women Empowerment) کی ایک جھلک اور اسلام سے دلی محبت کا ثبوت دیتا ہے اور کسی طرح کا مداخلت اسلامی طور طریقہ میں گوارہ نہیں۔
اگر حکومت ایک وقت میں تین طلاق کو لے کر بہت زیادہ سنجیدہ اور فکر مند ہے تو اسے چاہئے کہ وہ پہلے اس کے وجوہات کو ڈھونڈے۔ پھر اسے دور کرنے کی کوشش کرے تاکہ اسلامی تعلیمات میں کسی طرح کی مداخلت نہ ہوسکے۔ ایک وقت میں تین طلاق کے عمل پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کی واحد یک ہی وجہ ہے اور وہ ہے مسلمانوں میں تعلیم کی کمی۔ کوئی سمجھدار اور پڑھا لکھا اور اسلامی تعلیم سے واقف آدمی کبھی بھی ایسا جاہلانہ قدم نہیں اٹھا سکتا۔ اگر طلاق دینے کی نوبت آئی ہے تو وہ صحیح اسلامی قوانین کے مطابق طلاق دے گا جس میں صلح، صفائی اور رُجوع کے مواقع ہوتے ہیں۔ اور دونوں خاندان کے اندر دوریاں بڑھنے کے امکانات کم ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کے اندر سے ایک وقت میں تین طلاق کی روایت کو صرف اور صرف تعلیمی بیداری ہی ختم کرسکتی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کی کوئی طاقت اور کوشش اس کو ختم نہیں کرسکتی۔ زور زبردستی کرنے سے دوریاں بڑھیں گی اور تکرار ہوگا نیز جانیں بھی جائیں گی، لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجائیں گے، ایک دوسرے کو دیکھنا نہیں چاہیں گے، سماج کا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ ایک اچھا اور خوبصورت سماج دیکھنے کو نہیں ملے گا بلکہ دلوں میں ایک دوسرے کے لیے محبت کے بجائے نفرتیں پیدا ہوجائیں گی ، ترقی رُک جائے گی، سماجی نظام بگڑ جائے گا۔
اگر ماضی کی رپورٹ کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ مسلمانوں میں تعلیم کی بے حد کمی ہے۔ موجودہ مسلم درسگاہیں مسلمانوں کی تعلیم کو آگے بڑھانے کے لیے ناکافی ہیں۔ ریاستی اور ملکی سطح پر مسلم مسلازمین کی کمی ہے۔ ملک کے اندر بہت سارے تعلیمی ادارے ہیں جن میں مسلم ملازمین اور اساتذہ نہیں ہیں۔ بہت بڑی یونیورسٹی کی تعداد ہے جہاں 2-4 مسلم اساتذہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ دوسری طرف اگر ہم موجودہ وظیفہ پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ مسلم طلبہ اور طالبات کی ضرورت کے لحاظ سے بہت ہی کم ہے۔ اگر مسلمانوں کی مالی حالت پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان اپنی روزی روٹی کو لے کر اس قدر پریشان ہیں کہ اسے زندگی کے دوسرے اہم پہلو پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ تعلیم کے لیے بچوں کو اسکول بھیجنے میں روزی روٹی کا نقصان نظر آتا ہے۔ بچے کو بکری چرانے اور مرغی پالنے میں مشغول رکھنے میں مالی ترقی نظر آتی ہے۔ اگر دیہی سماج کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ بہت بڑی تعداد بچوں کی ہے جو بکریوں کو چراتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اگر وہ بکری نہ چرائیں تو ماں باپ انہیں ڈانٹیں گے۔ اسکول نہ جائے تو اُوف بھی نہ کہیں گے کہ بیٹا اسکول کیوں نہیں گئے تھے۔ ان کی نظر میں بکریاں چرانا اہمیت رکھتا ہے، اسکول جانا نہیں۔ ایسے پسماندہ طبقے اور سماج میں ایک ہی وقت میں تین طلاق عمل میں ہے تو اس میں اسلامی تعلیمات کا کوئی قصور نہیں ہے۔ اس میں کسی کو تعجب بھی نہیں ہونا چاہئے۔ اگر اس میں کوئی چہ میگوئیاں کرتا ہے تو اس کی یہ جاہلانہ حرکت ہے، عقلمندی کا ثبوت نہیں ہے۔
موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت کو چاہئے کہ مسلمانوں کے اندر تعلیمی بیداری پیدا کرے۔ تعلیمی بیداری ہی اس عمل کو ختم کرسکتی ہے۔ اور دنیا کی کوئی طاقت اور کوشش اس کو ختم نہیں کرسکتی۔ مسلمانوں کے لیے مسلم تعلیمی ادارے (Muslim Minority Educational Institutes) کھولے جائیں جہاں ہر طرح کی تعلیم دی جائے۔ دینی اور دنیوی دونوں طرح کی تعلیم کا نظم ہوں، ہر کورس میں سماجی تعلیم، انسانیت سے متعلق ایک Paper (پرچہ) ضرور ہونا چاہئے۔ مثال کے طور پر (UPTU) Uttar Pradesh Technical University جس کا نام بدل کر اب (APJAKTU) APJ Abdul Kalam Technical University ہے میں Human Values and Professional Ethics کا پرچہ (Paper) پڑھایا جاتا ہے جو ہر طالب علم کو پڑھنا لازمی ہے، چاہے کسی بھی Branch سے تعلق رکھتا ہو۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مسلم طالب علم کے لیے اسلامیات کا پڑھنا اور ہندو طالب علم کو Hindu Religious Studies کا پڑھنا پہلے سال میں لازمی ہے۔ اس طرح کا پرچہ ہر کورس میں پڑھایا جانا چاہئے جس میں انسانیت سے ہمدردی، بڑوں کی عزت، ماں باپ، بھائی بہن کی قدر، رشتہ داروں کے حقوق، پڑوسیوں کے حقوق شامل ہوں۔ عصری تعلیمات کے ساتھ ساتھ اوپر دی گئی تعلیمات کو بھی پڑھانا چاہئے۔ بغیر ان تعلیمات کے ایک اچھا سماج نہیں ہوسکتا۔ جب ان تعلیمات پر مضبوطی کے ساتھ عمل ہوگا تو ایک اچھا خوبصورت سماج دیکھنے کو ملے گا، آپس میں محبتیں دیکھنے کو ملیں گی، لوگ ایک دوسرے کے خوشی اور غم میں شرکت کریں گے، دوسرے کے غم کو اپنا غم سمجھیں گے، دُکھ درد میں ایک دوسرے کے کام آئیں گے جو ایک اچھے سماج کی نشانی اور پہچان ہے۔
اگر حکومتِ ہند واقعی مسلمانوں کے اندر رائج ایک ہی وقت میں تین طلاق کو لے کر فکر مند ہے تو اسے چاہئے کہ اوپر دیئے گئے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے ہر ریاست (State) میں ’’سینٹرل یونیورسٹی فار مسلم مائناریٹی‘‘ (Central University for Muslim Minority) کھولے جہاں عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی دی جائے۔ یہ بہت کار آمد اور جامع راستہ ہے مسلمانوں کو تعلیم کی طرف لانے اور تعلیمی بیداری پیدا کرنے کا۔ مذکورہ تعلیمی ادارہ میں کم سے کم داخلہ فیس ہو تاکہ ایک غریب طالب علم داخلہ لینا چاہے تو لے سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ وظیفے میں بھی اضافہ کیا جائے جو ایک طالب علم کی ضرورت ہے جو طالب علم کو آگے پڑھنے کے لیے ہمت اور مدد دیتا ہے۔ ہوسٹل میں غریب اور دور سے آکر پڑھنے والے طالب علم کو پہلے جگہ دی جائے۔ غریب طالب علم کا کھانا مفت (Free) ہونا چاہئے۔ اگر حکومت اوپر دی گئی صلاح (Suggestions) پر غور کرلے اور عمل میں لے آئے تو بغیر کسی آواز اور شور شرابے کے ایک ہی وقت میں تین طلاق کی روایت پورے ہندوستان سے ختم ہوجائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں مسلم معاشرہ سے اور بھی بہت ساری خرابیاں ختم ہوجائیں گی۔ مسلم سماج کی ترقی ملک کی ترقی ہے، کسی ایک طبقہ کو چھوڑ کر ملک ترقی نہیں کرسکتا اور کبھی بھی ترقی یافتہ ملک نہیں کہلا سکتا۔

Written by:
Dr. Md Ehtesham Akhtar
Guest Faculty, Dept. of Sociology,
Maulana Azad National Urdu University,
Gachibowli, Hyderabad – 500032
Email:
Mob. – 9311718473

↓