ڈاکٹر اسلم فاروقی


تین طلاق معاملہ
شریعت ‘قانون اور ہماری ذمہ داریاں

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

مسلمانوں کے شرعی معاملات میں دخل دیتے ہوئے حکومت نے 28ڈسمبر کو تین طلاق معاملے میں خاطیوں کو سزا دلوانے کے تعلق سے بل کو یکطرفہ طور پر منظور کرادیا۔ پارلیمنٹ میں اس بل کو لے کر جو کچھ تقاریر ہوئی ہیں ان سے مستقبل میں ہندوستان کے مسلمانوں کے تعلق سے ہماری سیاسی جماعتوں کے رویے کی پول کھل گئی ہے فرد واحد جناب اسد الدین صاحب رکن پارلیمنٹ حیدرآباد ایک مرد آہن کی طرح اس بل کی مخالفت میں ڈٹے رہے اور جس طرح انہوں نے ساری پارلیمنٹ کو اپنے مدلل بیانات سے متزلزل کردیا-

ہندوستان کی تاریخ شائد ہی اس کی نظیر پیش کرسکے۔ حکومت تو اس بل کو لانے کے لئے بے چین تھی لیکن کانگریس کی دوغلی پالیسی نے واضح کردیا کہ مسلمانوں کی شریعت کے تحفظ یا ان کی شرعی حدود میں غیر ضروری مداخلت روکنے میں کانگریس کچھ ساتھ دینے والی نہیں ہے۔ اس سے زیادہ افسوسناک امر ان 23 مسلم اراکین پارلیمنٹ کے رویے کا ہے جو یا تو اس دن پارلیمنٹ سے غائب تھے یا پارٹی کی پالیسی کے دباؤ میں آکر اس بل کی مخالفت نہیں کرسکے۔ رکن پارلیمنٹ مولانا اسرارالحق قاسمی سے جب پارلیمنٹ میں ان کی غیر حاضری کی وجہہ دریافت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ وہ بل کی مخالفت کرتے ہیں لیکن ان کی پارٹی نے انہیں آگے بڑھنے نہیں دیا۔ اس جواب کے بجائے ان کا رد عمل تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ وہ اخلاقی طور پرپارٹی کو اپنا استعفیٰ پیش کردیتے۔ ایم جے اکبر نے حکومت کی آواز میں آواز ملائی اور کہا کہ اب مسلم خواتین پر سے تین طلاق کی ٹنگی تلوار ٹل گئی ہے اور مسلم خواتین کو راحت ملے گی۔ ان حالات میں لوک سبھا سے اب یہ بل راجیہ سبھا کو جائے گا جہاں بی جے پی کی عددی طاقت کم ہے لیکن کانگریس کے لوک سبھا کے رویے کو دیکھتے ہوئے وہاں بھی اس بل کی مخالفت کے امکانات کم نظر آتے ہیں ۔ اور اب یہ بل قانون بنتا نظر آرہا ہے۔ ان حالات میں ہندوستان کے مسلمانوں کے سامنے انفرادی طور پر تین طلاق کا معاملہ شریعت بہ مقابلہ ملکی قانون اور ان کے رویے کا ہے۔ موجودہ ہندوستان کے حالات میں حکومت اقتدار کے ساتھ میڈیا کو اپنے ہاتھ میں لے کر ملک کے سنگین مسائل جیسے گرتی معیشت کی ساکھ کو بچانے‘ملک کے بینکنگ نظام کی خامیوں کو دور کرنے‘تعلیم ‘صحت ‘روزگار اور دیگر ترقی کے امور سے اور خاص طور سے مسلمانوں پر ہورہے قاتلانہ حملوں کو روکنے میں ناکامی سے عوامی توجہ ہٹانے کی خاطر تین طلاق جیسے بل کو اہمیت دے رہی ہے۔اور وہ اس میں کامیاب بھی ہے۔ ایک ٹوٹے ہار سے گرتے موتی کے دانوں کی طرح ملک کے مسلمانوں پر حالات لائے جارہے ہیں اور میڈیا میں انہیں اہم کوریج دیتے ہوئے مسلمانوں کو مسلسل مایوس کیا جارہا ہے ان میں خوف و حراست کا عالم پیدا کیا جارہا ہے ان حالات میں یہ تین طلاق والا بل بھی ہے۔ جناب اسد الدین اویسی ملک کی پارلیمنٹ اور میڈیا میں مسلمانوں کے واحد ترجمان بن کر ابھر رہے ہیں۔ مسلم پرسنل لا بورڈ مسلمانوں کے تمام طبقات کو اس بل کی مخالفت میں اپنا ہم نوا بنانے میں ناکام رہا ہے۔ مسلمان مسلکی اختلافات کا شکار ہو کر حکومت کے سامنے بکھرے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ کچھ بکاؤ خواتین کو بل کی کامیابی پر مٹھائیاں بانٹتے اور آپس میں گلے ملتے دکھا کر یہ واضح کیا جارہا ہے کہ واقعی موجودہ حکومت ملک میں تین طلاق سے متاثرہ خواتین کو راحت دلانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ کہا گیا کہ برقعے میں موجود اکثر خواتین غیر مسلم تھیں اور کسی میڈیا ہاؤز میں ان سے کلمہ پڑھنے کا مطالبہ کیا گیا تو وہ کلمہ نہیں پڑھ سکیں۔ اس سارے معاملے میں ہمیں اپنے احتساب کی ضرورت ہے۔ پہلے یہ دیکھا جائے کہ اس معاملے کو حکومت اور میڈیا کے ذریعے ہندوستان کے مسلمانوں او ر غیر مسلمین کو واضح طور پر سمجھانے میں مسلمان ‘مسلم پرسنل لا بورڈ اور خود ہمارے میڈیا پر پیش ہونے والے ترجمان کیوں ناکام رہے ہیں۔ میڈیا میں جب یہ بار بار کہا جارہا ہے کہ مسلمانوں میں طلاق یا بہ یک وقت تین طلاق دینے کا عمل انتہائی نا پسندیدہ ہے اور اس کا فیصد دیگر اقوام کے مقابلے میں بہت کم ہے تو اس بات کو میڈیا اور پارلیمنٹ کے ذریعے اس طرح اجاگر کرنا تھا کہ دیگر اقوام کے اعداد شمار پیش کرتے ہوئے حکومت اور مسلم خواتین کی ہمدرد میڈیا سے پوچھا جائے کہ لاکھوں غیر مسلم خواتین مطلقہ ہیں ان کی باز آباد کاری کے لئے آپ کونسا قانون لانا چاہتے یا آپ کی حکمت عملی کیا ہے۔ مسلمان ملک میں کم ہیں اور ان میں طلاق کا فیصد بھی کم ہے تو کیوں ان کی ہمدردی میں سارا ملک اکھٹا ہوگیا ہے۔ ان خواتین سے اصل ہمدردی تو یہ ہوتی کہ حکومت یا فلاحی ادارے ان کی مدد کے لئے آگے آتے۔ جب کہ دیگر اقوام میں مطلقہ اور بے یار و مددگار خواتین کا فیصد بچوں کی شادی کا فیصد مسلمانوں سے کہیں زیادہ ہے۔ مخالفین کو جب تک ان کی کمزوریوں کے ساتھ نہ گھیرا جائے مخالف آپ کو کمزور کرتا رہے گا۔ معاملے کی نوعیت پر سوال نہیں اٹھایا گیا ۔ جب حکومت بہ یک وقت تین طلاق یافتہ خواتین کی ہمدردی میں قانون سازی کرنے کے لئے تیار ہے تو حکومت کے دیگر مسائل پر رویے پر سوالات اٹھائے جاتے کہ افروزل ‘اخلاق ‘پہلو خان اور حافظ جنید کی اموات پر خاطیوں کے خلاف قانون سازی کیوں نہیں کی جاتی ۔کیا اس ملک میں ایک مطلقہ خاتون کی باز آبادکاری اہم ہے یا مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت۔ کانگریس کو بھی اس طرح کے مسائل پر غیرت دلائی جاتی۔ پرسنل لا بورڈ نے حکومت سے اس معاملے میں مشاورت کی بات کی تھی لیکن عملی اقدام کرنے تک دیر ہوگئی۔ اب حالات یہ ہیں کہ مسلمانوں میں شادی بیاہ اور ان کی طلاق یا جائیداد کے معاملات کو لے کر مسلکی اختلافات اس قدر زیادہ ہوگئے ہیں کہ میڈیا پر حاوی ہوکر یہ لوگ شریعت کو ہی غلط قرار دے رہے ہیں۔ ان حالات میں مسلم پرسنل لا بورڈ اور ملک کے سر برآوردہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مسالک کے اختلافات کو آپس میں حل کریں اور ہندوستانی مسلمانوں کی ملکی سطح پر شبیہہ کو بگاڑنے کا سودا نہ کرنے کی ترغیب دیں۔ تین طلاق معاملے پر اہل حدیث اور شیعہ برادری نے ہمیشہ سے مسلم پرسنل لا کے موقف کی مخالفت کی ہے۔ جب کہ حنفی مسلک ہو کہ دیگر مسالک ایک نشست میں تین طلاق کو انتہائی نا پسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے لیکن وجوب طلاق پر اختلافات کے سبب یہ عائلی مسئلہ حکومت کی دہلیز تک چلاگیا۔ دیگر ممالک کی نظیر دے کر حکومت نے اپنے پہلو کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ عوامی طبقات میں مسلمانوں میں شعور بیدار کرایا جائے۔ کم پڑھے لکھے لوگوں‘مذہب بیزار اور مذہبی تعلیمات سے دور یا مذہب کو اہمیت نا دینے والے مسلمانوں کو علاقائی سطح پر یہ تعلیم دلائی جائے کہ بہ یک وقت تین طلاق دینا شریعت کی رو سے انتہائی نا پسندیدہ عمل ہے۔ شادی کے ساتھ طلاق کی سہولت اس لئے رکھی گئی ہے شادی ایک آپسی معاہدہ ہے اور اس معاہدے کی تکمیل میں اگر فریقین نہیں چاہتے کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کرسکیں گے تو علٰحیدگی کے شرعی طریقے کو اختیار کریں۔ بات بات پر طلاق دینے والون اور غربت یا چھوٹے چھوٹے موٹے جھگڑوں کی بنیاد پر اپنے بسے بسائے خاندان کو صرف تین بول بول کر اپنی زندگی اور مذہب کو رسوا کرنے والوں کو ایک طرف سماجی طور پر تعلیم و تعلم سے سدھارا جائے تو دوسرے طرف ان کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔مساجد میں ائمہ کرام جمعہ کے خطبوں میں مسلمانوں کے مسائل اور ان کے حل پر گفتگو کریں۔ ہر مسجد کی سطح پر شرعی پنچائت ہو جہان اس طرح کے مسائل کو رجوع کرنے کی ترغیب دلائی جائے۔حکومت نے قانون بنادیا تو کیا ہوگا مسلمان یہ عہد کریں کہ اس پر عمل آوری کے مواقع نہیں دیں گے۔ اگر کوئی بہ یک وقت تین طلاق دے گا ہی نہیں تو اس کالے قانون پر عمل کیوں کر ہوگا۔ اس کے لئے مسلمانوں کو شریعت پر پابندی لازمی ہے۔ ہم اپنی شریعت سے کھلواڑ کرتے رہیں گے تو اللہ ظالم حکمرانوں کے طور ہر ہم پر اس طرح کے حالات لائے گا۔ تین طلاق معاملے میں تین سال کی سزا اور شوہر کو نان و نفقے کے لئے پابند کرنے والی باتیں جس طرح سامنے آرہی ہیں اس پر کس طرح عمل ہوگا یہ بھی دیکھنے کی بات ہوگی۔ جب متاثرہ خاتون اپنے شوہر کے خلاف شکائت کرے گی تو اسے ثبوت پیش کرنا ہوگا کہ اس کے شوہر نے فون واٹس اپ مسینجر یا راست کس طرح ایک مرتبہ میں تین طلاق دی ہے۔ جب شوہر کو گرفتار کرکے تین سال کے لئے جیل میں ڈال دیا جائے گا تو اسے گزارے کی رقم کون دے گا جب کہ شوہر تو جیل میں سزا کاٹ رہا ہوگا۔ حکومت نے کہا کہ ایک وقت میں تین طلاق نہیں ہوتی۔ شریعت کی رو سے بہت سے مسالک میں تین طلاق کے وجوب کا مانا گیا ہے جب حکومت نہ کہے تو مطلقہ عورت کیسے اپنے شوہر کے ساتھ جڑی رہے گی ۔کیا مسلم خواتین شریعت کو بالائے طاق رکھ کر حکومت کے قانون کی رو سے شادی شدہ برقرار رہ پائیں گی۔ جب کہ تین ماہ بعد تو شرعی سہولت سے شوہر کسی حال میں بھی طلاق کا حق رکھے گا۔ ان حالات میں میڈیا یا حکومت کی سازشوں کا شکار ہوئے بغیر مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لئے حکومت پر تکیہ کرنے کے بجائے آپسی اتحاد کو اہمیت دیں۔میڈیا کے اثرات قبول نہ کریں اپنی میڈیا تشکیل دیں اور شہری اور دیہی سطح پر مسلم پرسنل بورڈ کمیٹیوں شرعی پنچایتوں ائمہ کرام علمائے کرام اور مفتیان کرام سے موجودہ حالات کی درست تصویر مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے رہیں۔ تعلیمی اداروں میں مسلم اساتذہ اپنے طلباء کے سامنے شریعت کے بنیادی اصولوں کو پیش کرتے رہیں۔ حالات حاضرہ سے خود بھی باخبر رہیں اور طلباء کو بھی باخبر رکھیں۔خواتین کی تنظیمیں خواتین میں مذہبی و شعور بیداری اجتماعات کے ذریعے دین کو عام کرتی رہیں۔ شریعت اپنی جگہ ہے۔ حالات کے اعتبار سے ملکی قوانین بنتے رہیں گے۔ پہلے سے کتنے قوانین ہیں اور ان پر عمل آوری کی صورتحال کیا ہے یہ بھی ہمارے سامنے ہے۔ اس لئے میڈیا کے بنائے گئے مایوسی کے حالات کا شکار نہ ہوں۔ جو قوم دوسروں کے دنیاوی و اخروی مسائل کے حل کے لئے اٹھائی گئی ہے وہ اپنے معاملات کے حل میں کیسے کمزور سمجھی جائے گی۔ اس لئے تین طلاق کے اس قانون پر ماہرین اپنے طور پر حکومت یا سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کے کام کرتے رہیں۔ عام مسلمان اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہیں۔ اسوہ نبی ﷺ پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوجائیں۔ جو مسلمان میڈیا پر بات کر رہے ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے فطری قوانین کو عام کرتے رہیں ملک میں جب بھی عصمت ریزی کے واقعات پیش ہوتے ہیں غیر مسلمین بھی سخت سزاؤں کا مطالبہ کرتے ہیں ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پردے کی اہمیت اسلامی قوانین کے فطرت سے قریب ہونے اور مسلمانون میں عصمت ریزی اور دیگر جرائم کے کم ہونے کا چرچا کرتے رہیں ۔ ابنائے وطن کے سامنے اسلامی تعلیمات جو کہ صد فیصد فطرت سے قریب ہیں ان کو پیش کریں۔ مسلم تنظیمیں غیر مسلموں کے سامنے دعوت دین کا فریضہ انجام دیں۔ ملک میں جو انارکی پھیلی ہوئی ہے اسے اجاگر کرتے رہیں۔ سیاست دان حکومت کو ترقی کے اصل مسائل پر کام کرنے کے لئے زور ڈالتے رہیں۔ مسلمان تین طلاق کے موضوع پر مذاق نہ بنیں اس کے لئے ان عوامل پر سختی سے نپٹا جائے جہان اس طرح کے واقعات رونما ہورہے ہیں خاص طور سے دولت کے حصول کے ساتھ کنٹریکٹ شادیوں کا خاتمہ ہو ۔بوڑھے عرب شہریوں سے کم سن مسلم لڑکیوں کی شادیوں کو روکا جائے۔ ان قاضیوں سے قضائت چھین لی جائے جو اس طرح کے کاروبار میں ملوث ہیں کہ کنٹریکٹ شادیاں کرا رہے ہیں طلاق دلارہے ہیں یا حلالہ کے نام پر گندے کام کروارہے ہیں۔ اوربوڑھے عربوں سے شادیوں کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔واقعی میں اگر غربت کی وجہہ سے کچھ خواتین مسائل کا شکار ہوئی ہوں تو ان کی نشاندہی کی جائے اور ملی سطح پر ان کی باز آباد کاری کی جائے۔ بارہا تلقین کے باوجود مسلمانوں میں ایسی مثالیں پیش ہورہی ہیں کہ واٹس اپ پر یا فون مسیج یا کاغذات بھیج کر طلاق دے دی جارہی ہے ۔ افہام و تفہیم کی نوبت ہی نہیں آرہی ہے۔اس طرح شادی کا غلط استعمال کرنے والوں کی سماجی سطح پر رہبری کی جائے۔ شادی بیاہ کا معاملہ ہو یا زندگی کا کوئی اور معاملہ واضح رہے کہ مسلمان اسی وقت پر غالب رہیں گے جب وہ اپنے دین پر جمے رہیں گے۔ اس لئے زندگی کے ہر معاملے میں شریعت پر پابندی اور دعوت دین اور اعلائے کلمۃ اللہ کے فریضہ کی انجام دہی لازمی ہے۔ ایک ایسے دور میں جب کہ ہندوستان میں ان کے جمہوری حق ووٹ کی اہمیت ختم ہوگئی ہے کہ ان کے کسی بھی پارٹی کو ووٹ دینے کی اہمیت ختم ہوگئی ہے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی تعلیم‘تجارت اور حالات کے سامنے مثبت سو چ اور عمل اور اتحاد سے ہی اپنی شناخت قائم رکھ پائیں گے۔

متعلقہ موضوعات