دوروزہ دوسری قومی اردوسائنس کانگریس کا کامیاب انعقاد – – انجمن فروغِ سائنس

کانگریس

 کانگریس

انجمن فروغِ سائنس(شاخ علی گڑھ) کے زیرِاہتمام

دو روزہ دوسری قومی اردو سائنس کانگریس کا کامیاب انعقاد

سرزمینِ سرسید،علی گڑھ پر انجمن فروغِ سائنس( شاخ علی گڑھ) کے زیرِ انصرام ’’دوسری قومی اردو سائنس کانگریس‘‘ کا انعقاد ۲۰ اور ۲۱؍فروری ۲۰۱۶ء کو کیا گیا۔ ملکِ عزیز میں اردو زبان میں سائنس نگاری کرنے والوں کا یہ منفرد اجتماع ہے۔ عوامی دلچسپی کے اردو سائنسی مضامین یعنی پاپولر سائنس لکھنے والے ملک کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں بستے ہیں اور ماہنامہ ’’سائنس‘‘ (دہلی) گذشتہ چوبیسبرسوں سے ان کاایک مشترکہ پلیٹ فارم بنا ہوا ہے۔ ماہنامہ سائنس (مدیر ڈاکٹر محمد اسلم پرویز) بھی انجمن فروغِ سائنس کا ترجمان مجلہ ہے جو بلاناغہ شائع ہو رہا ہے۔ گذشتہ برس انجمن فروغِ سائنس کے زیرِ اہتمام اوّلین قومی اردو سائنس کانگریس کا انعقاد دہلی کالج میں کیا گیا تھا۔

اس مرتبہ یہ سائنسی اجتماع علی گڑھ میں کیاگیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پالی ٹیکنک آڈیٹوریم میں اس کا افتتاحی اجلاس وائس چانسلر ریٹائرڈلیفٹننٹ جنرل ضمیرالدین شاہ کی زیرِصدارت منعقد کیا گیا۔ افتتاحی اجلاس میں NBRIکے سابق ڈائرکٹر اور اردو سائنٹفک سوسائٹی کے سکریٹری معروف سائنسداں پروفیسر اقتدار حسین فاروقی مہمانِ خصوصی اور مدیر ماہنامہ ’’سائنس‘‘ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز (وائس چانسلر MANUU) مہمانِ اعزازی کے طور پر مدعو تھے۔ اس افتتاحی اجلاس میں مہمانان کا تعارف ڈاکٹر عبدالمعز شمس اور استقبال پروفیسر ظفراحسن نے کیا۔ وائس چانسلر ضمیرالدین شاہ صاحب نے اپنے خطاب میں حاضرین سے کہا کہ آج کل مسلمانوں میں سائنسی رجحان اورمزاج نہیں پایا جاتا۔اسی سبب ہماری قوم کافی پچھڑی ہوئی ہے۔جب تک مسلمان سائنس سے خود کو مربوط نہیں کرتے تب تک حالات تبدیل نہیں ہوں گے۔ہمیں مجموعی طور پر سائنسی مزاج پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
اجلاس سے مخاطب ہوتے ہوئے اقتدار حسین فاروقی صاحب نے کہا کہ کسی زبان کے حوالے سے سائنس کانگریس کا انعقاد ازخود ایک کارنامہ ہے۔ہم نے کبھی دوسری زبان کے حوالے سے سائنس کانگریس منعقد ہوتے نہیں پائی۔مسلمانوں میں سائنس کا مزاج بنانے اور سائنسی و معاصر علوم سے دلچسپی پیدا کرنے کی ہر کوشش کی حوصلہ افزائی لازمی ہے۔اس قسم کی کانفرنسیں اس جانب بڑا مقصد پورا کرتی ہیں۔آپ نے کہا کہ جب تک مسلمان تسخیرِ نفس، تسخیرِ قلوب اور تسخیرِ دنیا کا رجحان نہیں پیدا کریں گے تب تک اسلام کا اصل پیغام پہنچا نہیں سکتے۔
ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے ماہنامہ سائنس کے اجرا و ارتقا کی داستان بیان کی اور ساتھ ہی انجمن فروغِ سائنس کے قیام کا مقصد بھی واضح کیا۔آپ نے ’’سائنس کیوں؟‘‘ کے عنوان سے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان میں علم طلب کرنے کی صلاحیت رکھی ہے لیکن شرط ہے اسے چاہنا۔ اس لیے جو قومیں علم حاصل کرنا چاہتی ہیں اور اس میں لگ جاتی ہیں وہی کامیاب ہوئی ہیں۔
ڈاکٹر عابد معز (حیدرآباد) نے سائنس نگاروں کا ایک تجزیہ پیش کیا جس میں ان کی عمر اور تعلیمی مراتب کا اجمالی شماریاتی جائزہ پیش کیا۔
اس اجلاس میں سووینر نیز اردو سائنس نگاروں کی ڈائرکٹری اور فہرستِ کتب کا اجرا بھی کیا گیا ۔ بعض سائنس نگاروں اور سائنس کے خدمت گاروں کو ’نشانِ امتیاز‘ کا اعزاز دیا گیا۔ اس پروگرام کے کنوینر اسعد فیصل فاروقی کے اظہارِ تشکر پر اس سیشن کا اختتام ہوا اور دوپہر سے مقالہ خوانی کے مختلف سیشن دو دنوں تک جاری رہے۔ یہ سیشن ریاضی ڈپارٹمنٹ کے علاوہ ابن سینا اکیڈمی (دودھ پور) میں جاری رہے۔ کل چھ اجلاس میں ملک کی مختلف ریاستوں اور شہروں سے آئے ہوئے پچاس سے زیادہ مقالہ نگار اور سیکڑوں مندوبین شریک ہوئے جن میں حیدرآباد، دہلی، رانچی، کشمیر، ناگپور، اکولہ، اورنگ آباد، بھیونڈی (مہاراشٹر)، کلکتہ، لکھنؤ، بھوپال، گڑگاؤں، جھریا،نوئیڈا وغیرہ سے تشریف لائے ہوئے تھے۔ سبھی مقالہ نگاروں نے مختلف موضوعات پر سیر حاصل مطالعات و نتائج کو جدید ٹکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے پیش کیا۔
اختتامی اجلاس ابن سینا اکیڈمی میں حکیم ظل الرحمٰن صاحب کی سربراہی میں منعقد کیا گیا اس اجلاس میں خواجہ اکرام صاحب نے مہمان کی حیثیت سے شرکت کرکے بڑی مسرت کااظہار کیا اور سائنس نگاری کی حوصلہ افزائی کی ضرورت پر زور دیا۔ خصوصاً ایسے پروگراموں کی مالی سرپرستی کرنے کی جانب توجہ دلائی۔ اختتامی اجلاس کی صدارت ریٹائرڈ پروفیسرراشد حیات نے فرمائی اور اس کے کنوینر ڈاکٹر خالد سیف اللہ صاحب تھے۔ کانگریس کے جملہ شرکا کی خدمت میں انجمن فروغِ سائنس کی جانب سے سند تفویض کی گئی۔ اس اجلاس میں شاہین نظر صاحب نے سالِ گذشتہ ہم سے بچھڑنے والے سائنس نگاروں کے لیے تعزیتی قرارداد پیش کی۔ سائنس کانگریس کے اختتام پر ایک قرارداد تیار کی گئی جسے ڈاکٹر ریحان انصاری (بھیونڈی) نے تمام حاضرین کی جانب سے پیش کیا۔
اس دو روزہ کانگریس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور شہر کی اہم شخصیات نے شرکت کی اور کانفرینس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان میں پروفیسر سید اقبال علی، ڈاکٹر سید ضیاء الرحمن، پروفیسر عبداللطیف، پروفیسر سید مسعود احمد، ڈاکٹر مرسلین نصیر، زیشان احمد، ڈاکٹر عبدالاحد، ڈاکٹر بلال ،احمد شمیم الزماں ، اور دیگر شخصیات شامل رہیں۔

One thought on “دوروزہ دوسری قومی اردوسائنس کانگریس کا کامیاب انعقاد – – انجمن فروغِ سائنس”

Comments are closed.