عمر بن عبد العزیزؒ اور ائمّہ اربعہ کی قربانیاں :- مفتی کلیم رحمانی

مفتی کلیم رحمانی

اسلام کو سیاسی لحاظ سے غالب کرنے میں
عمر بن عبد العزیزؒ اور ائمّہ اربعہ کی قربانیاں

مفتی کلیم رحمانی
پوسد (مہاراشٹر) الہند
09850331536

دورِ صحابہ کے بعد اسلامی حکومت کے قیام وبقا کے لئے اتنے اللہ کے نیک بندوں نے جان کی قربانیاں دیں اور جیل کی صعوبتیں برداشت کی ،جن کے نام کے تذ کرہ کے لئے ہی ہزاروں صفحات کی سینکڑوں کتابیں نا کافی ہوں گی ہم یہاں صرف چند ناموں کا تذکرہ کر رہے ہیں جن کی شہادتوں اور صعوبتوں سے اسلامی نظام کی تاریخ روشن ہے،

انہی نیک ہستیوں میں سے عُمرِ ثانی حضرت عمر بن عبدالعزیز ہیں،جنہوں نے خلیفہ بننے کے بعد ناحق طریقوں سے لی ہوئی زمینات کی واپسی کا فرمان جاری کیا تو خود ان کے خاندان بنو امیّہ کے کچھ لوگ ان کے دشمن ہو گئے یہاں تک کہ انہیں دھوکہ سے زہر دیکر شہید کر دیا گیا،گویا کہ ان کی شہادت بھی اسلامی نظام کی اصلاح کے لئے ہوئی۔اسی طرح امام اعظم ابو حنیفہ ؒ نے خلافتِ عباسیہ کے ظلم کے خلاف آواز اٹھنے والی تحریک نفسِ ذکیہ اور ان کے بھائی ابراھیم کی مدد و حمایت کی تو عباسی خلیفہ منصور نے انہیں جیل میں ڈال دیا اور چند سال کے بعد جیل ہی میں انہیں زہر دے دیا چنانچہ امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کا انتقال قید خانہ ہی میں ہوا،ایک طرح سے انہیں جیل ہی میں شہید کیا گیا۔ ماخوذ سیرت ائمہ صفحہ ۵۸ ( مرتب رئیس احمد جعفری)۔یہ وہی ابو امام حنیفہ ہے جو چار فقہی سلسلہ کے سب سے بڑے فقیہ اور سب سے بڑے امام شمار ہوتے ہیں مسلک حنفی ان ہی کی طرف منسوب ہے اور آج بھی دنیا میں لاکھوں کروڑوں مسلمان ان کی فقہ اور مسلک کے ماننے والے ہیں لیکن افسوس ہے کہ بیشتر حنفیوں میں باطل نظام کے خلاف وہ نفرت نہیں پائی جاتی اور نہ حق کی حمایت کی وہ جرأت پائی جاتی ہے جو مام ابو حنیفہ ؒ میں تھی،بلکہ بہت سے حنفی مسلک کے ماننے والے نظام اسلامی کی مخالفت اور نظام باطل کی حمایت کے مرتکب بھی ہوتے ہیں۔اور کچھ حنفی علماء نے تو مسلک حنفی کے ماننے کے نام پر اپنے آپ کو صرف نماز،رزہ،زکوۃ ،حج کے مسائل تک ہی محدود کر لیا جبکہ امام ابو حنیفہ ؒ چاروں اماموں میں سب سے زیادہ قانون داں اور سیاستداں تھے اور اس حقیقت کا اعتراف سبھی کرتے ہیں آپ کو ماننے والے بھی اور آپ کو نہیں ماننے والے بھی،اس لحاظ سے میدانِ سیاست میں حنفی علماء اور عوام کی شناخت اسلامی سیاست کی حمایت ارغیر اسلامی سیاست کی مخالفت کی ہونی چاہئیے تھی ،لیکن بد قسمتی سے حنفی حضرات اپنی یہ شناخت نہیں بنا سکے ،شاید اس فرق کی ایک اہم وجہ یہ رہی ہو کہ امام ابو حنیفہ ؒ جس طرح دین اور انسانی زندگی کے تمام معاملات میں سب سے پہلے قرآن سے رجوع کرتے تھے،پھر حدیثِ رسول ؐ سے پھر عملِ صحابہؓ سے اس کے بعد اجتہاد اور قیاس سے کام لیتے تھے،اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن و حدیث اور عمل صحابہ میں دین اور زندگی کے کسی مسئلہ میں رہنمائی مل گئی تو اسے قبول کر لیتے تھے اس میں اجتہاد اور قیاس نہیں کرتے تھے ،لیکن عام حنفی علماء اور عوام امام ابو حنیفہ کی اس ترتیب کا لحاظ نہیں کر سکے اور انہوں نے دین اور زندگی کے ہر مسئلے میں سب سے پہلے فقہ حنفی اور مسلک حنفی کی کتابوں کی طرف رجوع کیا جن میں زیادہ تر امام ابو حنیفہ ؒ اور ان کے شاگردوں کے اجتہادات اور قیاسات ہیں،یقیناً انہوں نے اپنے اجتہادات اور قیاسات کے حق میں قرآن و حدیث اور عملِ صحابہؓ کی دلیلیں بھی دی ہیں،لیکن زمین و آسمان کا فرق ہے کسی اجتہاد اور قیاس کے ذریعہ قرآن و حدیث تک پہنچنے میں اور قرآن و حدیث کے ذریعہ کسی اجتہاد اور قیاس تک پہنچنے میں ،چنانچہ اس ترتیب کے اُلٹ جانے سے اتنا ہی عظیم فرق واقع ہو جاتا ہے جتنا کہ مکان کے بنانے کی ترتیب میں فرق واقع ہوتا ہے،مکان بنانے کی صحیح ترتیب یہ ہے کہ پہلے زمین پر ستون قائم کئے جائے اس کے بعد دیوار اور چھت قائم کیا جائے،اور اگر کوئی مکان بنانے کی اس ترتیب کو اُلٹ دیں اور پہلے چھت بنائے پھر دیوار بنائے پھر ستون بنائے تو ظاہر ہے اس ترتیب سے قیامت تک بھی کوئی مکان تعمیر نہیں ہو سکتا ،اسی طرح کسی بھی انسان کی زندگی میں اسلام کی تعمیر کے لئے سب سے پہلے قرآن کی تعلیم کی ضرورت ہے جو ستون کے درجہ میں ہے اس کے بعد حدیث کی تعلیم کی ضرورت ہے جو بطور دیوار اور چھت کے ہے اور اجتہاد اور قیاس کی ضرورت بطور کھڑکی اور دروازہ کی ہے۔حنفی مسلک کے پیرو کا روں سے متعلق یہ تبصرہ تمام حنفی علماء اور عوام کے متعلق نہیں کیا گیا بلکہ ایک عمومی جا ئزہ کے طور پر کیا گیاہے ،ورنہ جہاں تک خاص حنفی علماء اور عوام کی بات ہے تو آ ج بھی ان کے نزدیک قفہ حنفی یا مسلک حنفی کی دین میں چوتھے نمبر کی حیثیت ہے،یعنی پہلے قرآن ،پھر حدیثِ رسول،پھر عملِ صحابہؓ اس کے بعد امام ابو حنیفہ ؒ کی فقہ ،اسی طرح آج بھی بہت سے حنفی علماء اور رعوام عالمی سطح پر بڑ ی جرأت اوربے باکی کے ساتھ میدانِ سیاست میں حق کی حمایت کا جھنڈا لہرائے ہوئے ہیں،اور باطل نظام کی مخالفت میں پیش پیش ہیں ،خصوصیت کے ساتھ افغانستان کے طالبان جن کی اکثریت بلکہ پچانّوے فیصد تعداد حنفیوں پر مشتمل ہیں ۔ خود را قم کو بھی ایک معتدل حنفی ہونے کا شرف و فخر حاصل ہے۔اسلامی تاریخ میں جن روشن ستاروں کو حق کی حمایت اور حق گوئی کے نتیجہ میں حکمرانوں کے ظلم و ستم سے گذرنا پڑا ،ان ہی میں سے ایک امام مالکؒ بھی ہے جنھوں نے عباسی خلیفہ منصور کے مقابلہ میں نفس ذکیہ کے مستحقِ خلافت ہونے کا فتویٰ دیا تو لوگوں نے کہا ہم منصور کے حق میں بیعت لے چکے ہیں ،امام مالک ؒ نے کہا منصور نے جبراً بیعت لی ہے اور جو کام جبراً کرایا جائے اس کا اعتبار نہیں ہوتا،اور امام مالک ؒ نے یہ مسئلہ ایک حدیث سے استنباط کیا جس میں کہا گیا کہ اگر زبردستی کسی سے طلاق دلائی جائے تو وہ واقع نہ ہوگی ،چونکہ زبردستی دلائی گئی طلاق کے واقع نہ ہونے کے فتویٰ کی زد براہِ راست خلافت پر پڑ رہی تھی ،اس پر جعفر نے ان سے کہا کہ آئندہ آپ ا س طرح کا فتوی نہ دے تو امام مالک ؒ نے یہ بات ماننے سے انکار کردیا تو ،اس پر انہیں ستّر کوڑھے مارے گئے جس سے پوری پیٹھ لہو لہان ہو گئی اور دونوں ہاتھ مونڈھوں سے شَل ہو گئے اور اسی حال میں اونٹ پر بٹھا کر انہیں پورے مدینہ شہر میں گھمایا گیا ،چنانچہ اس حال میں بھی وہ کہتے جاتے کہ جو نہ جانتا ہو وہ جان لے کہ میں مالک بن انس ہوں اور فتویٰ دیتا ہوں کہ جبری طلا ق واقع نہیں ہوتی۔(ماخوذ سیرت ائمہ اربعہ صفحہ ۲۷۰)امام شافعی ؒ کے متعلق بھی مشہور ہے کہ فتان بن ابی سماح مالکی سے آپ کا مباحثہ ہوا جس میں وہ ہار گیا اور بد تہذیبی پر اُتر آیا اور معاملہ مصر کی عدالت تک پہنچا ،امیر مصرنے فتان کو سزا جاری کی جس پر وہ امام شافعی ؒ کا اور زیادہ دشمن ہو گیا ،چنانچہ ایک رات اندھیرے میں اس نے امام شافعی کے سر پر لوہے کا ایک گُرز مارا جس سے سر پھٹ گیا اور اسی صدمہ سے آپ کا انتقال ہو گیا (ماخوذ سیرت ائمہ صفحہ ۵۱۱) تاریخِ اسلام کے ان ہی ستاروں میں امام احمد بن حنبل ؒ ہے جنہوں نے حق گوئی کی پاداش میں وقت کے ظالم اقتدار کی ضربیں کھائی ہے،چنانچہ عباسی خلیفہ مامون کے دورِ حکومت میں یونان کے اثر سے دین کے بنیاد ی عقائد کے متعلق بے جا کلامی بحثیں شروع ہوئیں تو ان میں ایک بے جا بحث اور غلط بات یہ بھی تھی کہ قرآن مخلوق ہے اور یہ غلط بات حکو مت کی سرپرستی میں پھیلائی جا رہی تھی تو اس کے سدّ باب کے لئے امام احمد بن حنبل میدان میں آئے اور انھوں نے جرأت اور بیباکی کے ساتھ کہا کہ’ قرآن‘ اللہ کا کلام ہے،اللہ کی مخلوق نہیں اس پر حکومت آپ کی دشمن ہو گئی اور آ پ کو جیل میں ڈال دیا گیا اور طرح طرح کی ایذائیں پہونچائی گئی اتنے زیادہ آپ کو کوڑے مارے جاتے کہ آپ کا پورا جسم خون سے لہو لہان ہوجاتا اور آپ بے ہوش ہو جاتے ،لیکن یہی کہتے کہ’ قرآن‘ اللہ کا کلام ہے ،مخلوق نہیں۔(ماخوذ سیرت ائمہ صفحہ ۵۴۱)۔
یہ فقہ کے چاروں ائمہ پر حق گوئی اور حق کی حمایت میں آنے والی چند تکلیفوں کا تذ کرہ تھا،اور اس میں اہم بات یہ کہ یہ سب تکلیفیں مسلم حکمرانوں اور علماءِ سُو کی طرف سے پہنچائی گئیں اور وہ بھی حکومت کی سرپرسی میں اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ان ائمہ کے لئے حق گوئی اور حق کی حمایت کا کام کتنا مشکل تھا،کیونکہ کسی غیر مسلم اقتدار کی طرف سے تکلیف پہنچ رہی ہے تو اس بات کا امکان رہتا ہے کہ مسلم حکمراں یا مسلم عوام مدد کو آئیں گے ،لیکن اگر دین کی خاطر مسلمانوں کی طرف سے ہی تکلیف پہونچائی جا رہی ہوتو مسلمانوں کی طرف سے مد کا ملنا بہت مشکل ہوتا ہے ،صرف مدد کا ایک ہی دروازہ باقی رہتا ہے اور وہ اللہ کی مدد کا دروازہ ہے اور یہ مدد کافی بھی ہو جاتی ہے۔چنانچہ اسی کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان چاروں ائمہ کرام کی علمی کاوشوں کو ایسے دوام بخشا کہ صدیاں گزر جانے کے باوجود مسلمانوں کی اکثریت اُن کے علمی کارناموں سے جڑی ہوئی ہے۔