اردوکا داستانوی ادب:ہندوستانی اساطیراورتہذیب وثقافت-از۔احمد علی جوہر

احمد علی جوہر

اردو کا داستانوی ادب ہندوستانی اساطیر اور تہذیب وثقافت کے حوالہ سے

احمد علی جوہر
ریسرچ اسکالر
ہندوستانی زبانوں کا مرکز، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی۔

اردو میں داستانوی ادب کا سرمایہ خاصا وقیع ہے۔ ادبی اعتبار سے اُردو زبان کو ثروت مند بنانے میں داستانوں کا بڑا اہم رول رہا ہے۔ اردو میں داستانیں دو طرح کی ہیں۔ منظوم اور نثری۔ کہا جاتا ہے کہ اردو میں داستانوں کا نقطۂ آغاز منظوم داستانیں ہیں۔ ان میں خاص طور سے کدم راؤ پدم راؤ یا غواصی کی سیف الملوک، بدیع الجمال، طوطی نامہ، مینا ستونتی اور چندالورک کی کہانی وغیرہ ہے۔ اردو میں نثری داستان کا آغاز مُلّاوجہیؔ کی ’سب رس‘ سے ہوتا ہے۔ ’سب رس‘ سے لے کر ’باغ وبہار‘ تک کثرت سے داستانیں لکھی گئیں۔ یہ داستانیں اردو ادب کی آبرو ہونے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی تہذیب وثقافت کے دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر سیدہ جعفر اردو داستانوں کی اہمّیت وافادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتی ہیں:

’’ہماری داستانیں ادب کا ایک ضروری جزو ہیں۔ یہ ہماری تمدنی، معاشی، سیاسی، ادبی اور مجلسی زندگی اور ہمارے تہذیبی ورثے کا قیمتی خزانہ ہیں۔ ان میں ماضی کے بہت سے نقوش محفوظ ہیں۔ قدیم ہندوستانی زندگی کے لا زوال مرقعے، ہمارے قدیم تصورات، جذبات واحساسات، ہمارے معتقدات، ہمارے توہمات، ہمارے رسم ورواج اور ہماری ساری ثقافتی زندگی کا عکس ان داستانوں میں موجود ہے۔ ’’بوستان خیال‘‘، ’’باغ وبہار‘‘، اور ’’فسانۂ عجائب‘‘ ہندوستان کی تہذیب یہاں کی مجلسی زندگی کے گوناگوں پہلوؤں اور کلچر کی رنگارنگ دلکشیوں کی آئینہ دار ہیں۔ زمانہ جیسے جیسے آگے بڑھتا جائے گا داستانوں کی قدر بھی بڑھتی جائے گی، وہ ہماری متاع عزیز اور ہماری سنہری یادوں کے سرمائے کی حیثیت سے باقی رہیں گی۔‘‘
داستانوں کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہے کہ اس میں انسانوں کے ساتھ فوق الفطری مخلوق، جن، پری، ساحر اور طلسم کار بھی نظر آتے ہیں، مگر یہاں ہمیں اس پہلو پر بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ جس عہد میں داستانیں تصنیف ہوئیں، اس عہد میں بلاشبہ یہ غیر فطری مخلوق یا اس کا وجود انسانی اعتقاد کا حصّہ تھی اور یہ مخلوق انسانی دنیا کے معاملات میں دخیل تھی۔ ظاہر ہے داستان ہو یا کوئی بھی ادبی تخلیق، وہ اپنے عہد کے معتقدات، توہمات اور تہذیبی وسماجی اثرات سے الگ نہیں ہو سکتی، چاہے وہ کتنی ہی خیال آرائی اور ناقابلِ یقین قصوں اور بعیداز قیاس واقعات پر مبنی کیوں نہ ہو، اس میں اپنے عہد کی تہذیبی وسماجی جھلکیاں ملنی لازمی ہیں۔ اس لئے اردوداستانیں جنوں، پریوں، دیو، عفریت اور جادو ٹونے کے ناقابل یقین قصوں پر مبنی ہونے کے باوجودجہاں ایک طرف اپنے عہد کی سماجی وتہذیبی قدروں کے مطالعے کا موقع فراہم کرتی ہیں تو دوسری طرف خود اس عہد کی تہذیبی تاریخ بن جاتی ہیں۔
داستانوں میں جہاں متعلقہ عہد کا ادبی ماحول ومزاج اور شعور پایا جاتا ہے، وہیں متعلقہ زمانہ کی نیرنگیاں بھی مختلف شکلوں میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ لکھنؤ کی تہذیبی تاریخ کبھی مکمل نہیں ہوسکتی تھی اور نہ کسی کو پتہ چلتا کہ انیسویں صدی کا تہذیبی لکھنؤ کیا تھا، اگر سرور کا ’فسانۂ عجائب‘ اور ’طلسمِ ہوشربا‘ جیسی داستانوں کے دفاتر موجود نہ ہوتے۔
لکھنؤ اور لکھنوی تہذیب ومعاشرت کی عکّاسی کرنے والی کئی داستانیں وجود میں آئیں مگر ’طلسمِ ہوشربا‘ اور ’داستانِ امیر حمزہ‘ کو بایں اعتبار زیادہ اہمّیت حاصل ہوئی کہ اس میں انیسویں صدی کے آخری دور کا لکھنؤ چلتا پھرتا اور سانس لیتا دکھائی دیتا ہے۔ ڈاکٹر گیان چند جین لکھتے ہیں:
’’داستانِ امیر حمزہ کا لکھنوی ترجمہ تو لکھنؤ کی تہذیب کی قاموس ہے۔‘‘
رؤف رومی نے لکھا ہے کہ:
’’اگر داستانِ امیر حمزہ میں سے ساحری اور عیاری نکال لیجیے تو باقی لکھنؤ کی معاشرت ہی بچے گی‘‘
داستانِ امیر حمزہ کی ایک کہانی کے یہ حصے ملاحظہ کریں اور دیکھیں کہ یہ کس حد تک ہماری تہذیب سے قریب ہیں۔
’’پیر نے استفسار کیا مجھے کیوں بلایا ہے۔ شہنشاہ نے کہا کہ انگشتریِ جمشید میں نے منگانا چاہاہے چنانچہ وہ مجھے منگا دیجیے۔ تمنائے دل پوری کیجیے۔ پیر نے کہا کہ اس خیالِ محال سے باز آ۔ شہنشاہ نے کہا بغیر انگشتری کے یہاں خاتمہ ہے نقشِ طلسم باطل ہوتا ہے۔ نام مٹتاہے، سلطنت جو زیرنگیں ہے حلقۂ اطاعتِ غیر میں جاتی ہے۔ پیر نے کہا تجھ سے تکلیف گوارہ نہ ہوگی۔ انگوٹھی سے ہاتھ اٹھا۔ شاہ نے کہا سر کٹ جائے مگر سرِدست انگشتری ہاتھ آئے۔ پیر نے کچھ پڑھ کر سمت فلک پھونکا۔ ایک پُتلا چھری اور جام لیے پیدا ہوا۔ چھری شاہ کو دی جام سامنے رکھا۔ پیر نے کہا سات بوٹیاں اپنے جسم کی کاٹ کر اس جام میں ڈال دے…… شاہ نے فوراََ بوٹیاں کاٹ کر جام میں ڈال دیں کہ یاقوتِ احمر بن گئیں۔ پیر نے ایک آہ کی منہ سے ایک شعلہ نکلا کہ جل کر وہ راکھ ہوگیا۔ شاہ نے وہی راکھ اپنے زخموں پر لگائی کہ زخم اچھے ہوگئے۔ پیر زندہ جدھر سے آیا تھاادھر ہی چلاگیا کہا کہ پیالے میں خون بھرا ہے پونچھ کر زخم پر لگا لے کہ اچھے ہوجائیں اور یاقوت کے ٹکڑوں کی سُمرن بناکر حیرت کے حوالے کی کہ جائے اور انگوٹھی لے آئے۔ افراسیاب نے ایسا ہی کیا اور سُمرن حیرت کے حوالے کی وہ لے کر روانہ ہوئی اور اسی طرح راہ طے کرکے حجرۂ طلائی پہنچی کندن پتلی منتظر کھڑی تھی اس نے کہا میں اصلی بھینٹ لائی ہوں حجرہ کھول دے اس نے حجرے کے پاس آکر سجدہ کیا اور کنجی ازاربند سے اپنے کھول کر قفل میں لگائی اس وقت اس نازک بدن کا اونچے ہوکر ایک ہاتھ سے قفل تھامنا اور دوسرے سے کنجی لگانا ہزار بناؤ دکھاتا تھا۔ وہ پتلی پتلی انگلیاں، چوڑی ہتھیلی کا رنگ برنگ شہاب وہ دونوں پائینچے چھوٹ پاؤں پر آجانا قفل کھولنے میں منہ کا بن جانا بالوں کا رُخ پر آنا۔ سر ہلا کر بالوں کو ہٹانا آخر بمقتضائے ’’کھولا کنجی سے چور خانہ ۔ صدا تراقے کی ہوئی قفل کھل گیا‘‘۔ یہ پائینچے اٹھاتی کنجی وقفل لیے پیچھے ہٹی اور حیرت سلام کرتی ہوئی داخلِ حجرہ ہوئی …. ملکہ نے پردے کے روبرو سجدہ کیا۔ ایک پاؤں سے کھڑی ہوئی۔ ہزارہا گھنٹے اور ناقوس ازخود بجنے لگے اور پردہ آپ سے آپ اٹھ گیا۔ تخت پر پتھر کا پتلا کہ ہم شکل جمشید تھا نظر آیا۔ ملکہ نے پھر اس کو سجدہ کیا، پتلے نے صدادی کہ اے شہزادیء طلسم کیا چاہتی ہے۔ حیرت نے عرض کیا انگوٹھی یہ کہہ کر سوبکریاں موہنی بھوگ وغیرہ پیش کیا۔ پتلا ان سب کاایک نوالہ کر گیا اور ہاتھ اپنا بڑھایا کہ انگوٹھی اتار لے۔ حیرت نے جب انگلی پر ہاتھ ڈالا کہ انگوٹھی اتاروں، انگلی آگ کی طرح جلتی تھی ہاتھ ملکہ کا جل گیا اف کرکے ہاتھ کھینچ لیا۔ پتلے نے کہا اول وہ یاقوت کی کنٹھی جو بوٹیوں کی جسمِ شاہ طلسم کے بنی ہے ہاتھ میں پہنا دے پھر انگوٹھی اتار لے ملکہ نے کنٹھی پہلے پہنا دی پھر انگوٹھی اتارلی یکایک ہزارہا گھنٹے اور ناقوس بجے پردہ تخت کے سامنے پڑگیا…. ۔‘
اس اقتباس میں جو منظرکشی ہے اور انسانی عمل اور احساس کی جو حسین مرقع کشی کی گئی ہے وہ اپنا جواب نہیں رکھتی۔ زبان کی سلاست، اودھ کی بامحاورہ زبان، پیر حلِ مشکل کے لیے دعا۔ سمرن پہننا، ازاربند میں کنجی باندھنا، پائینچوں کا ہاتھ سے چھوٹ کر پاؤں پر آجانا، کنٹھی پہننا، گھنٹوں اور ناقوس کا بجنے لگنا، سو بکریاں اور موہن بھوگ وغیرہ نذر کرنا اودھ کے ہندو مسلم کلچر کے امتزاج کی خوبصورت تصویرہے۔
داستانِ امیر حمزہ میں بہت سی ساحرائیں اور جادوگرنیاں ہیں جن سے طرح طرح کے کام لئے گئے ہیں۔ ان ساحراؤں میں لکھنؤ کی معاشرت اور بیگمات اودھ کی تہذیب جھلکتی نظر آتی ہے۔ شاید داستان کے اس قدر مقبول ہونے میں اُس معاشرت کی جھلکیوں کا بھی ایک حصّہ ہے جو نفسیاتی طور پر ان سے قربت کا احساس پیدا کرتا ہے۔
کسی بھی ملک اور کسی بھی عہد کی تہذیب ومعاشرت کی تشکیل میں مختلف چیزوں کا حصّہ ہوتا ہے۔ کہیں لباس وسامانِ آرائش تہذیبی قدروں کی نمائندگی کرتے ہیں کہیں رہن سہن، آداب نشست وبرخاست، میلے ٹھیلے، کھانے اورپکوان، زبان روزمرہ ومحاورے، رسم ورواج، موسم، پھل اور پھول، غرض بے شمار چیزیں ہیں جو کسی عہد کی تہذیب ومعاشرت کا حوالہ بنتی ہیں۔ اردو داستانوں میں بڑے دلکش انداز میں یہ حوالے ہمارے سامنے آتے ہیں۔ دیکھیے درج ذیل اقتباسات میں انیسویں صدی کے ہندوستان کی تہذیب ومعاشرت کے مختلف رُخوں اور پہلوؤں کی عکّاسی کس طرح کی گئی ہے۔
’’بازار میں سڑک پر خوانچے والے پھرتے ہیں، دال موٹھ، حلوا سوہن اور کچالو اور دہی بڑے اور گول گپّے مصالحہ دار بیچتے تھے، قلمیں بالوں کی کنپٹی پاس نکلتی تھیں، کان میں سینکیں گھڑسی تھیں پتّے اس میں بھرے تھے اور ہر سمت صدا لگاتے پھرتے تھے۔‘‘
’’کہیں طوائفیں بناؤ کیے آشناؤں کو ساتھ لیے بیٹھی ہیں، کلیجی کے کباب بھن رہے ہیں، کہیں ایک رنڈی پر دو عاشق ہیں، اس پر قصہ ہوا ہے۔ کہیں لونڈے پر جھگڑا ہوا ہے، تلوار چلی ہے دوڑ گئی ہے۔ لاگیں لگ رہی ہیں۔ نٹ تماشا کر رہے ہیں۔ نٹنیاں ناچ رہی ہیں۔ جھولے پڑے ہیں۔ ساتوں ہوتے ہیں، درختوں کے نیچے دریاں بچھی ہیں۔ شریف لوگ بیٹھے ہیں۔ ایک سمت افیونی بیٹھے ہیں۔ افیون گھلتی ہے گنے چھلتے ہیں ، حقے توے کے بھرے رکھے ہیں۔‘‘
ان اقتباسات میں تہذیب ومعاشرت کے مختلف رُخ مختلف حوالوں سے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ تہذیب وثقافت کی یہ دلکش صورت ، اتنے خوبصورت انداز میں کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ہمیں اگر انیسویں صدی کی دلّی کے گلی کوچوں کی سیر کرنی ہو تو ’باغ وبہار‘ کا مطالعہ ضروری ہوجاتا ہے۔ اس میں دلّی کے طرزِ معاشرت، عمرانی میلانات، اندازِ تکلم، لب ولہجے اور آدابِ مجلس کے بڑے دلکش نمونے موجود ہیں۔ اس کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم انیسویں صدی کی دلّی میں داخل ہوجاتے ہیں اور اس کا حصّہ بن جاتے ہیں۔
اردو داستانوں کی ایک امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کسی خاص گروپ اور طبقہ پر زور دینے کی بجائے، اس مشترکہ اور ملواں تہذیب وثقافت کی عکّاسی کی گئی ہے جو ہندوستان کی نمائندہ تہذیب وثقافت ہے۔ اردو داستانوں میں جہاں بادشاہوں، شہزادوں، شہزادیوں اور وزیروں کی طرزِ معاشرت اور ان کے ذوق وشوق کا پتہ چلتا ہے، وہیں عام اور معمولی آدمی بھی مختلف صورتوں میں ہمارے سامنے آتے ہیں جس سے ان کی زندگی، صبح وشام، ان کے طورطریقوں اور عادات واطوار سے ہمیں واقفیت حاصل ہوتی ہے۔ بظاہر تو اردو داستانوں میں جن، دیو، عفریت اور پریوں کے فرضی اور ناقابلِ یقین قصّے بیان کئے گئے ہیں مگر دراصل ان کے پردے میں ہندوستانی سماج، افراد کے جذبات واحساسات اور ہندوستانی تہذیب وثقافت کو بیان کیا گیا ہے۔ اردو داستانوں میں ہندوستانی مشترکہ ثقافت جیتی جاگتی، زندہ وتوانا صورتوں میں نظر آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں اگر انیسویں صدی کے لکھؤ اور دلّی کی مخلوط تہذیب وثقافت کا مشاہدہ کرنا ہو تو اردو داستانوں کا سہارا لینا ضروری ہوجاتا ہے۔ ان داستانوں میں ہندوستانی تہذیب وثقافت کے ان مٹ نقوش موجود ہیں۔ اس پہلو پر ڈاکٹر سیدہ جعفر نے بڑی خوبصورتی سے روشنی ڈالی ہے۔ وہ رقمطراز ہیں:
’’ ہندوستان کی ثقافتی زندگی کے بہت سے اہم پہلو داستانوں میں سمٹ آئے ہیں۔ یہاں کا رہن سہن، عمارتیں، باغات، ضیافتیں، یہاں کے مخصوص کھانے، پوشاکیں، زیورات اور عمرانی زندگی کے بہت سے اہم مادی عناصر کا ذکر ان داستانوں میں محفوظ ہے۔ اگرچہ اکثر داستانوں کا پس منظر غیرملکی ہے لیکن دراصل ان میں ہندوستان کی روح جاری وساری نظر آتی ہے۔‘‘
ڈاکٹر گیان چند جین کے بقول اردو داستانیں:
’’تہذیب کا ایک اژرنگ ہیں۔ یہ اُس تہذیب کے روشن اور چمکتے ہوئے نقوش ہیں جو آج کے دور میں بھی بہت کچھ سکھاتی ہیں۔ وہ تہذیب جس کے پس منظر میں اس کے ماضی کی وراثت بھی، حال کی لطافت تھی اور مستقبل کی طرف خوشگوار، صحت مند اور روشن اشارے تھے۔ غرض، داستان ماضی کے ورثے کی بیش بہا متاع ہے اردو ادب کی تاریخ اسے نظروں سے کبھی نہیں اتار سکتی۔‘‘
اردو داستانوں میں ہندوستانی اساطیر کی بھی بے شمار جھلکیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اسطورہ (Myth) ماضی کی پراسرار خاموشیوں اور سناٹوں میں جھانکنے کا عمل ہے۔ اساطیر محض کہانی نہیں ہے بلکہ یہ بتاتی ہے کہ ہم کیسے زندگی کرتے ہیں اور اتنا ہی نہیں اساطیر ہمیں زندگی کرنے کا روحانی وسیلہ بھی فراہم کرتی ہے۔
اردو داستانوں میں اساطیر کا استعمال مختلف صورتوں میں ہوا ہے۔ کہیں یہ کردار، مکالموں اور کہاوتوں کی شکل میں نظر آتا ہے اور کہیں کسی خاص پس منظر اور کسی تناظر میں اس کا استعمال کیا گیا ہے۔ داستانوں میں اساطیری کرداروں اوراساطیرکے استعمال کے ذریعے جہاں ہندوستانی تہذیب ومعاشرت کے مزاج کے مختلف رُخوں کو اُبھارا گیا ہے، وہیں اس کے ذریعے زندگی کی گہری بصیرت عطا کی گئی ہے۔ اساطیر کے فنکارانہ استعمال سے داستانوں میں مزید دلکشی پیدا ہوگئی ہے۔ اردو داستانوں میں جس طرح اساطیر ہمارے سامنے آتے ہیں اور اس میں ہندوستانی تہذیب ومعاشرت کی عکّاسی جس خوبصورت انداز میں کی گئی ہے، اس کو دیکھتے ہوئے ہمیں یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ یہ داستانیں آج بھی ہندوستانی اساطیر اور تہذیب وثقافت کے خوبصورت دستاویز اور اہم حوالے کی حیثیت رکھتی ہیں۔

AHMAD ALI JAUHER
ROOM NO: 236-E, BRAHMAPUTRA HOSTEL
JNU, NEW DELHI.110067.
Mob: 9968347899