ڈاکٹر شیلا راج ۔ ایک تعارف :- ڈاکٹر عزیز سہیل

ڈاکٹرعزیز سہیل

ڈاکٹر شیلا راج ۔ ایک تعارف
یومِ پیدائش کے موقع پر

ڈاکٹر عزیز سہیل

ڈاکٹر شیلا راج حیدرآباد کے قدیم و ممتاز علمی و رئیس گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں ، راجہ نرسنگ راج عالی ؔ کی پوتی بہو اور راجہ گردھاری پرشاد باقیؔ کی پڑپوتی بہو اور رائے پرتھوی راج( ناظم زراعت )کی صاحبزادی تھیں، اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور تاریخ کے موضوع پر کئی کتابیں لکھیں،

ریاست حیدرآباد، اس کی تہذیب اور معاشرت ان کے تحقیقی مقالوں کا موضوع رہا ہے،حیدرآبادپر ڈاکٹر شیلا راج نے متعدد کتابیں اور کئی مضامین لکھے،جس کی بنا پر ڈاکٹر شیلا راج اردو کی ایک عظیم محققہ اور،قومی یکجہتی کی علمبردار کہلائیں،وہ حید رآباد میں پید ا ہوئیں، ان کے شوہر ڈاکٹر نارائن را ج کا تعلق راجہ گر دھاری پرشاد باقیؔ عرف بنسی راجہ کے خا ندان سے ہے ، وہ ڈاکٹر نا رائن راج کی ا ہلیہ ہیں، ا ن کا خاندان آصفجاہی دربار سے وابستہ تھا اور وہ اردو شعر و ادب کے خادم تھے،دکن میں اردواور فارسی ادب کو فروغ دینے میں اس خاندان کے افراد نے نمایاں کرداراداکیا ہے۔ڈاکٹر شیلا راج کا تعلق راجہ گردھاری پرشاد باقیؔ (عرف بنسی راجہ)کے خاندان سے تھا،یہ خاندان ایک صدی سے زائد عرصہ سے اردو ادب کی خدمت انجام دیتا آرہا ہے، اس کی مثال یہ ہے کہ خاندان کی پچھلی پانچ پشتوں نے نہ صرف اردو کی، خدمت کی بلکہ اردو زبان و ادب میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں اور تاحال آخر چھٹی پشت اردو ادب کے فروغ میں اپنا رول انجام دے رہی ہے۔
ڈاکٹر شیلاراج 9؍جنوری 1940ء ؁ کو حیدرآباد کے محلہ حسینی عالم میں پیداہوئیں والد کا نام راج پرتھوی راج تھا اور وہ کائستھ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کی ابتدائی تعلیم حیدرگوڑہ ہائی اسکول حیدر باغ، حیدرآباد میں ہوئی جہاں سے انہوں نے 1957ء ؁ میں میٹرک کاامتحان کامیاب کیا، ویمنس کالج کوٹھی سے 1958ء ؁ میں پی یو سی میں کامیابی حاصل کی۔ پی یو سی کی تکمیل کے بعد انہوں نے ویمنس ڈگری کالج کوٹھی ہی سے 1960ء ؁ میں گریجویشن کی تکمیل کی انہوں نے اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھتے ہوئے، 1963ء میں عثمانیہ یونیورسٹی سے اردو زبان میں ایم اے مکمل کیا اس کے بعد انہوں نے بیچلر آف ایجوکیشن اور ایم اے تاریخ بھی مکمل کیا Ph.D.کے لئے انہوں نے تاریخ کے مضمون کو منتخب کیا اور شریمتی ناتھی بائی دامودھر ٹھاکرسی ویمنس یونیورسٹی بمبئی 1977ء میں داخلہ حاصل کیا۔ جہاں ان کے مقالہ کا عنوان ’’ہسٹری آف دی سوشیل اکنامکس اینڈ کلچرل ڈیولپمنٹ ان حیدرآباد1869-1911ء‘‘ تھا انہوں نے Ph.D.کی تکمیل 1981ء ؁ میں کی۔ ڈاکٹر شیلاراج نے تدریسی خدمت بہ حیثیت اردو لیکچرار کے محبوبیہ جونیئر کالج عابڈس پر انجام دی ،17؍جولائی 2008ء ؁ کو ڈاکٹر شیلاراج کا انتقال ہوگیا۔ ہرسال17؍جولائی کو HEHدی نظامس ٹرسٹ حیدرآبادکی جانب سے ڈاکٹر شیلاراج میموریل لیکچر کا انعقادعمل میں لایاجارہا ہے ۔ڈاکٹر شیلا راج کی تصانیف:۔
(۱) ’’توشہ عاقبت‘‘1984ء راجہ گردھاری پرشادباقیؔ (بنسی راجہ )کی فارسی تصنیف کا اردو زبان میں ترجمہ ہے جو کہ سفر ناموں پر مشتمل ہے۔
(۲) ’’عہد وسطیٰ سے عہد حاضر تک حیدرآباد کی سماجی، معاشی و تہذیبی تاریخ 1869ء تا1911ء‘‘1987ء انگریزی زبان کی تصنیف جو کہ Ph.D کا تحقیقی مقالہ ہے۔
(۳)’’شاہی شادی‘‘ 1993 (راجہ گردھاری پرشاد باقیؔ بنسی راجہ) کی فارسی تصنیف کا اردوزبان میں ترجمہ ہے جو رپورتاژ کی شکل میں ہے (اس میں میر محبوب علی خاں نظام سادس کی ہمشیرہ کی شادی کی تفصیلات درج ہیں۔)
(۴) ’’ایک عہد کی کہانی ‘‘ 1996ء ؁ حیدرآباد نظاموں کے دور میں 1828ء ؁ تا1896ء ؁ انگریزی تصنیف جس میں راجہ گردھاری پرشاد باقیؔ (بنسی راجہ) کے عہد کے حیدرآباد کی سیاسی ، سماجی اور اقتصادی اور تہذیبی و معاشی حالات کا احاطہ کیاگیا ہے ۔
(۵) ’’مملکت آصفیہ ‘‘2002ء ؁ پاکستان سے شائع ہونے والی دستاویزی مواد پرمبنی اردو تصنیف کا انگریزی میں ترجمہ The Legacy of Nizamsکے عنوان سے انجام دیا۔
(۶) مجموعہ کلام’’دیوان محبوبؔ ‘‘ 2006ء راجہ محبوب راج محبوب کے مجموعہ کلام کو مرتب کیا۔
(۷) ’’شاہان آصفیہ کی رواداری اور ہندو مسلم روایات‘‘2007ء جو کہ ایک شہر آفاق تصنیف ہے جس کا حالیہ دنوں انگریزی زبان میں ترجمہ عمل میں آیا۔
(۸) مجموعہ کلام دیوان عالیؔ 2008ء راجہ نرسنگ راج عالی کے مجموعہ کلام کو مرتب کیا۔
ڈاکٹرشیلاراج کے تحقیقی مقالات اور مضامین کی فہرست طویل ہے ، جن کی تعداد تقریباً 40سے زائد ہوگی یہ مضامین اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں تحریر کی گئے ہیں ،جن میں دو مضامین غیر مطبوعہ اور باقی مضامین مختلف اخبارات و رسائل اور سمیناروں میں پیش کئے جاچکے ہیں۔
ڈاکٹر شیلاراج تاریخ کی ریسرچ اسکالرتھیں،انہوں نے مختلف سمیناروں میں اپنے مقالات پیش کئے ہیں ،جن کی تعداد تقریباً 22 ہے جو انگریزی میں لکھے گئے اور ساتھ ہی سمیناروں میں پڑھے بھی گئے، ان 22مقالوں میں انہوں نے اکثر مقالے آصف جاہی حکمرانوں ، حیدرآبادی تہذیب، حیدرآباد میں1908ء میں آئی طغیانی، آصف جاہوں کے عہد میں ہندو مسلم روایات، ریاست حیدرآباد میں تعلیم کی ترقی، آصف سابع کے عہد میں ترسیل کا فروغ، حیدرآبادمیں تعلیم کی ترقی،حیدرآباد ریاست کے دیہی عوام کی معاشی زندگی اور حیدرآباد ریاست میں ہندو مسلم یکجہتی وغیرہ شامل ہیں، جس کے مطالعہ سے واقفیت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر شیلاراج کا تعلق ریاست حیدرآبادکی کے دیہی عوام کی معاشی زندگی اور، حیدرآباد ریاست میں ہندو مسلم یکجہتی جیے موضوعات سے ہیں، ڈاکٹر شیلاراج کا تعلق ریاست حیدرآباد سے والہانہ تھا، انہوں نے اپنی تحقیق کے ذریعہ یہ بات ثابت کی کہ آصف جاہی حکمران ہندو اور مسلمانوں کو اپنی دو آنکھ تصور کرتے تھے، انہوں نے یہ بات لفظی طورپر نہیں لکھی ہے، بلکہ عملی طورپر پیش کیا ہے، آصف جاہ اول نے جو وصیت نامہ اپنے بعد والے جانشینوں کے لئے لکھا تھا، اس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ مذہبی رواداری کو ملحوظ رکھا جائے جس پر عمل کرتے ہوئے سب ہی حکمرانوں نے مذہبی رواداری کو برتا اور امن و امان کی فضاء کو ہمیشہ خوشگوار رکھا تھا۔ ڈاکٹر شیلا راج کی تحریروں سے آصف جاہی عہد کی زندگی کے شب و روز سے پردہ اٹھتا ہے اور ہمیں اس دور کے حالات پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ آج جس طرح دور آصفی کی تاریخ کو توڑمروڑ کر پیش کیا جارہا ہے، وہ غلط ہے اور حقائق کچھ اور ہی ہیں۔