ایک پارسی دوشیزہ کو دیکھ کر :- نیاز فتح پوری کا پہلا افسانہ

نیاز فتح ہوری

پہلا افسانہ
ایک پارسی دوشیزہ کو دیکھ کر

نیاز فتح پوری

نوٹ : یہ نیاز فتح پوری کا پہلا افسانہ جو رومانیت سے بھر پور ہے جسے ڈاکٹر منور فاطمہ افضل نے کمپوز کرکے بھیجا ہے۔

سیر کرنے والی ‘ عالم نور کی شاہزادی ‘ ایک نور پاش اہتزاز کے ساتھ شفاف ‘ خراماں ‘ پیکرِ آتش ‘ اک بے خبر ‘ مصروف تماشہ روشنی کی پتلی ‘ ایک تبسم تفریح ‘ خندۂ ضیاء سے مخروج گلابی رنگ میں ڈوبی ہوئی ‘ برق متحرک ‘ مجھ میں اپنے اشارۂ مُبپم سے اک انجذاب مضطر پیدا کر رہی ہے ‘ اور میں ہوں کہ اُس قوتِ مجہول کی طرف کھنچا جا رہا ہوں ۔

روشنی کی تیز کرنیں ‘ مجھے اک مؤدب فاصلے پر رکے ہوئے تڑپ رہی ہیں ‘ تڑپا رہی ہیں ‘ آہ‘ وہ برق پاش نگاہیں ‘ وہ حیات سوز نظریں ‘ میرے دل , جگر سے پار ہو کر گزر رہی ہیں ‘ اور میں ان کو سمیٹ کے ‘ اپنی حریص آتشِ عشق سے ملا کے ‘ اپنی متحیر ‘ طامع ‘ کشادہ آنکھوں میں اُس شعلۂ معطر کی پرستش کر رہا ہوں ۔
آہ ‘ یہ نزہت بار زندگی ‘ یہ مصفا ترکیبِ عناصر ‘ یہ شاداب حسنِ رواں ‘ میرے وجود کو ‘ میری روحِ لرزاں کو مسحور کر رہا ہے ‘ اپنی آنکھوں لے خندۂ سیال سے ‘ اپنے بالوں کے بوے شکستگی سے ‘ اپنی شانِ بے خبری سے ‘ اپنے خرام وقار سے ‘ اپنی کان کے متبسم آویزوں سے ‘ اپنی بلوری کلائیوں سے ‘ اپنی گوری گردن سے میری روح ٹوٹ ٹوٹ کے ‘ پاش پاش ہو کے اپنے نقأ کشش سے مِل رہی ہے ‘ جس کو شعلۂ نظر جلا ڈالتا ہے ‘ اور یہ خاک ہو ہو کے اُس کے نازک قدموں کے نیچے پِس پِس کر فنا ہو رہی ہے ‘ اے نقرئ آواز والی دوشیزہ ‘ اے ہر سانس کے ساتھ سینہ کو ابھار کے دماغ سے قوتِ احساس چھین لینے والی تصویرِ خراماں ‘ اے شانوں پر چھوٹی ہوئی زلفوں کے پر لگا کے اُڑنے والی پری ‘ اے کالی پتلی والی ‘ لانبی پلکوں والی نازک کمر والی لڑکی ‘ ٹھہر‘ ٹھہر‘ میں بھی تیرے ساتھ تیرے سُبک خرام وجود کے ساتھ ‘ تیرے یاسمینی شباب کے ساتھ چلتا ہوں ‘ تو چلتی چلتی کھڑی ہو کے نغمہ نہ سُن ‘تو خود ایک شعر ہے ‘ ذی حیات ‘ موسیقی ہے خراماں ‘ تو مجھے دیکھ کے ایسی نہ بن کہ گویا مجھے نہیں دیکھتی ‘میری روحِ بے آرزو ‘ اک آرزوے بے روح ہے ‘ جس کو سوائے مٹ جانے ‘ خاک ہو جانے کے اور کچھ نہیں آتا ‘ اپنا وجود کا صدقہ ‘ نزہت ‘ اپنی ہستی کا صدقۂ نزاکت اک زخم کاری اور لگائے جا – – – اُفوہ – – – ‘ خدا کرے ‘ تیری شگفتگی قائم رہے ‘ تو خوش رہے ‘ تجھ کو یہ سحر آگینی مبارک رہے ‘ مجھ ایسے ‘ مجھ ایسی مجروح روح والے ‘ لاکھوں روز تیرے اِس حُسنِ دشوار پر قرباں ہوتے رہیں ۔