تاریخِ رسالہ دلگداز :- محمد قمر سلیم

محمد قمر سلیم

تاریخِ رسالہ دلگداز

محمد قمر سلیم
9322645061

رسائل کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ رسائل اپنے دور کی تہذیب، تمدن ، معاشرتی حالات، معیشت کی نوعیت، طرز حکومت ، ثقافتی اور تہذیبی لین دین، حرف و تجارت یعنی زندگی کے ہر شعبے کی عکاسی کرتے ہیں۔ رسائل اپنے زمانے کی تاریخ کو متعین کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں ۔ہر دور میں نہ جانے کتنے رسائل نکلے۔

کچھ نے تو راستے میں ہی دم توڑ دیا۔ کچھ منزل پر پہنچتے پہنچتے رہ گئے اور کچھ نے منزل پر پہنچ کر ہی دم لیا جہاں سے ان کی شہرت اور اہمیت کو مٹا پانا نا ممکن ہو گیا۔ عبدالحلیم شرر نے بھی متعدد رسالے نکالے لیکن صرف دلگداز کو چھوڑ کر کوئی بھی رسالہ شہرت کی بلندیوں تک نہیں پہنچ سکا۔جو شہرت دلگداز کو نصیب ہوئی وہ شاید ہی کسی رسالے کو نصیب ہوئی ہو۔شررکے بارے میں اگر یہ کہا جائے توغلط نہ ہوگا کہ شرر دلگداز رسالے میں لکھنے کے علاوہ اگر کچھ نہ لکھتے تب بھی ان کا نام اردو دنیا میں فخر کے ساتھ لیا جاتا۔ اس میں شک نہیں ہے کہ دلگداز ایک ایسا رسالہ ہے جو شرر کی پوری زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر ہمیں شرر کے حالاتِ زندگی ، شخصیت ، طرزِ تحریر، اندازِ فکر ، تصانیف اور اس وقت کے ہندوستان کے حالات کا جائزہ لینا ہو تو صرف دلگداز کا مطالعہ ہی کافی ہے۔
دلگداز کا پہلا شمارہ جنوری ۱۸۸۷ میں منظرِ عام پر آیا۔ دلگداز سے پہلے شرر ۱۸۸۱ میں ایک ہفت روزہ ’’ محشر‘‘ اپنے دوست عبدالباسط کے نام سے شائع کر چکے تھے۔ اس وقت وہ ’’اودھ اخبار ‘‘ میں ملازم تھے۔ چند وجوہات کی بنا پر انھوں نے ملازمت ترک کردی تھی۔وہ ذریعہِ معاش کی تلاش میں تھے کہ منشی نثارحسین ایڈیٹر’’ پیامِ یار‘‘ کے کہنے پر ایک معاشرتی ناول ’دلچسپ‘ لکھا جو کافی مقبول ہوا۔ منشی نثار حسین کے توسط سے شرر کی ملاقات بشیر الدین سے ہوئی جو ’’ البشیر ‘‘ کے مالک و ایڈیٹر تھے۔انھوں نے شرر کو ایک ادبی رسالہ نکالنے کا مشورہ دیا۔رسالہ پیامِ یار میں دلگداز اکا اشتہار نکالا گیا۔ بشیر الدین ، منشی نثار حسین اور شرر کی محنت وکاوشوں سے دلگداز منظرِعام پر آیا۔۱۸۸۷ کا دلگداز مضامین پر مشتمل تھا۔اپنی اشاعت کے پہلے سال میں ہی رسالے نے کافی مقبولیت حاصل کر لی تھی۔ اس کی شہرت کے نتیجے میں ہی اگلے سال یعنی ۱۸۸۸میں تاریخی ناولوں کے لیے دلگداز میں سولہ صفحات کا اضافہ کیا گیا۔دلگداز کا پہلا ناول’’ ملک العزیزورجنا ‘‘ تھا۔
دلگداز کی مقبولیت کی وجہ سے شرر نے دلگداز پریس قائم کیا۔ ہر سال دلگداز کے صفحات پر کم سے کم ایک ناول مکمل ہو جاتا تھا۔ ذریعہ معاش اور شرر کے بار بار سفرِ حیدرآباد سے دلگداز کی اشاعت پر اثر پڑا ۔دلگداز چار سال تک بنا کسی رکاوٹ کے نکلتا رہا۔ اشاعت کے پانچویں سال مالی پریشانیوں کی باعث دلگداز کو بند کرنا پڑا۔ شرر ملازمت کے سلسلے میں حیدر آباد گئے جس کی وجہ سے ڈیڑھ سال تک دلگداز کی اشاعت بند رہی۔ جنوری ۱۸۹۳ میں دلگداز کی اشاعت دوبارہ شروع ہوئی لیکن ستمبر ۱۸۹۳کا شمارہ شائع ہونے کے بعد سفرِ انگلستاں کی وجہ سے اشاعت پھر بند ہوگئی۔ تقریباً تین سال پانچ مہینے تک دلگداز بند رہا۔ سفرِ انگلستان کے بعد دلگداز مارچ ۱۸۹۷میں پھر شروع ہوا۔ ابھی اشاعت کو ایک سال بھی نہیں ہوا تھاکہ اس میں ایک مضمون ’ سکینہ بنت حسین ‘ کی اشاعت پر احتجاج ہوا جس کی وجہ سے دلگداز بند ہو گیا۔ تقریباً ایک سال دس مہینوں بعد جنوری ۱۹۰۰میں رسالہ پھر شائع ہوا۔ جنوری ۱۹۰۱میں رسالے کے صفحات میں اضافہ کیا گیا۔ اس میں تاریخ کے لیے سولہ صفحات کا اضافہ کیا گیا۔ایک بار پھر سفرِحیدرآباد اور سیاسی حالات کی وجہ سے دلگداز کی اشاعت بند ہوگئی۔ تقریباً تین سال تک اشاعت بند رہی۔ اس کے بعد جون ۱۹۰۴سے پھر اشاعت شروع ہوئی جس کا سلسلہ جون ۱۹۰۷ تک چلتا رہا۔ اشاعت کے شروع سالوں کے بعد پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ دلگداز لگاتار تین سال تک نکلتا رہا۔ اس سے پہلے رسالہ ساڑھے چار سال تک متواتر نکلتا رہا۔ فروری ۱۹۰۶ میں آٹھ صفحات سوانح کے لیے بڑھائے گئے اس طرح یہ رسالہ ساڑھے تین جز یعنی ۵۶ صفحات کا ہوگیا۔ شرر کی بیماری اور خاندانی پریشانیوں کی بنا پر جولائی ۱۹۰۷ سے جون ۱۹۰۸ تک تقریباً ایک سال تک دلگداز بند رہا۔ ۱۹۰۸ میں چند مہینوں کی اشاعت کے بعدصرف چھ شمارے نکلنے کے بعد دلگد ازایک بار پھر بندہوگیا۔ ۱۹۰۹ میں ایک سال دلگداز کی اشاعت بند رہی۔ ۱۹۱۰ سے د لگداز کی اشاعت پھر شروع ہو گئی اور اس بار دلگداز نے جو اپنا سفرطے کیا تو پیچھے مڑ کر نہیں دیکھالیکن اس وقت تک دلگداز کے پڑھنے والوں کی تعداد میں کمی آگئی تھی۔دلگداز کے مقابلے دوسرے ادبی رسالے اپنا اثر جما چکے تھے جس میں حسرت موہانی کا ’’اردوئے معلیٰ‘‘ ، دیا نرائن نگم کا’’ زمانہ ‘‘ ، شیخ عبدالقادر کا ’’مخزن ‘‘، نیاز فتحپوری کا ’’نگار‘‘ اور سید سلیمان ندوی کا ’’معارف‘‘ اہمیت کے حامل ہیں
دلگداز دسمبر ۱۹۲۶ تک شرر کی ادار ت میں شائع ہوتا رہا۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بڑے بیٹے محمد صدیق حسن نے اورنگ آباد سے دلگداز۱۹۳۴ تک جاری رکھا۔ بعد کے شماروں میں بھی شرر کے لکھے ہوئے مضامین ہیں۔ انتقال کے بعدان کی لکھی ہوئی آپ بیتی ’’من آنم کہ من دانم‘‘ شائع ہوئی۔ دلگداز ۱۸۸۷ سے ۱۹۳۴ تک نکلتا رہا۔اس طرح دلگداز تقریباً۴۸ سال تک نکلا۔میری تیار کردہ فائل کے مطابق شرر کی ادارت میں دلگداز ۲۸ سال دو ماہ تک نکلتا رہا اور گیارہ سال گیارہ ماہ تک اشاعت بند رہی جبکہ بند ہونے کی یہ مدت مختلف اوقات میں ہے۔ اس طرح شرر کے انتقال تک دلگداز کو چالیس سال ہوچکے تھے۔ دلگداز آٹھ سال تک ان کے بیٹے کی ادارت میں شائع ہوتا رہا۔اس میں بھی تقریباً ڈیڑھ سال دلگداز کی اشاعت بند رہی۔
دلگداز نے اپنے لمبے سفر میں بہت قیمتی سرمایہ اردو دنیا کو دیا ۔ تاریخی ناولوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہوا۔ دلچسپ مضامین ، سوانح عمریاں ، تاریخیں وغیرہ منظرِعام پر آئیں۔ دلگداز کے صفحات پر جو ناول نظر آئے ان میں ملک ا لعزیز ورجنا ، حسن انجلینا، منصور موہنا، یوسف و نجمہ، فلورا فلورنڈا، شوقین ملکہ، قیس و لبنیٰ، فلپانا، زوالِ بغداد، ایام عرب، خوفناک محبت وغیرہ اہم ہیں۔ تاریخ میں تاریخ صلیبیہ، تاریخ سندھ، تاریخ صقلیہ اہم ہیں۔سوانح میں آغائی صاحب، حسن بن صباح، سکینہ بنت حسن اہم ہیں۔قسط وار مضامین جو دلگداز کے صفحات پر رونما ہوئے ہیں ان میں دارالخلافت قرطبہ، سلطان محمد ثانی، اور قسطنطنیہ کی فتح ، بلینک ورس اور فری ورس، مثنوی گلزارِ نسیم، قوم کرد، مذہب دوں مہ، قدیم غیر مسلم سیّاحان ، بیت المقدس، یورپ کے بانکے نائٹ ٹمپلر،تہمتن پہلوان سلف، حاجی ریاض الدین، نیکی کا بدلہ بدی، ترکان آل عثمان ، حسن کا کرشمہ سازیاں، ہندوستان میں مشرقی تمدن کا آخری نمونہ( یہ مضامین کتابی شکل میں چھپے اورجس کا نام ’’ گزشتۂ لکھنؤ رکھا گیا) ، ابو دلامہ اور ہمارا سفر پالن پور (سفر نامہ) اہم ہیں۔
دلگداز میں شرر نے دو سے پانچ صفحات تک کتابوں پر تبصروں کے لیے مخصوص کر دیے تھے۔ انھوں نے اپنے وقت کی تقریباً تمام اہم کتابوں اور رسالوں پر تبصرے شائع کیے۔ان کتابوں اور رسالوں میں المامون ، ادیب (رسالہ)، رسالتہ الہند، ست امرت پرواہ، سائنس اور اسلام ، مخزن (رسالہ)، حیاتِ جاوید، خاتون (رسالہ)، آثارالصناوید، زمانہ (رسالہ)، اردوئے معلی (رسالہ)، فرائض انسانی، افسر الغات، سوانح مولانا روم، تاریخ کلکتہ، مفتاح القرآن، سوز وطن، ریویو خاتونان ہند(رسالہ)، مسدس حالی، آصف الغات، جلستان مع سنبلستان، مسلم ریویو (انگریزی رسالہ)، تہذیب الاخلاق(رسالہ)، الانتقاد، حزب الاعظم، خمخانہ سرور، نقاد (رسالہ)، انتخابِ توحید، تاریخ اودھ، مقالات سرسید، قواعد اردو، زبان دانی،غدر شکوہ، تاریخ جواہر، العلم، دریائے لطافت، مثنوی مولانائے روم، عائشہ صدیقہ(رسالہ)، نیلی چھتری، رسالہ حیات اردو، ارض القرآن، انتخاب کلام میر، گلزار قادری،(رسالہ)،سیرۃ النبی، سراج القواعداور قواعدالصبیان (رسالہ) اہم ہیں۔
دلگداز کے صفحات پر تبصروں کے علاوہ کچھ اہم واقعات و خیالات اور خبروں کے لیے بھی دو سے پانچ صفھات مخصوص رہتے تھے۔اس میں ملک اور بیرون ملک میں ہونے والے اہم سیاسی واقعات پر تبصرے اور خبریں ہوتی تھیں۔ اس کالم میں شرر نے بہت سے سیاسی اور ادبی معاملات پر اپنی رایوں اور خیالات سے نوازا۔اس کالم کے تحت پہلی ڈاک کی تازہ خبریں، پچھلی ڈاک کی اسلامی خبریں، چند مختصر خیالات، مختلف واقعات اور رائیں جیسے عنوانات ہوتے تھے۔دلگداز کے صفحات پر شرر نے قارئین دلگداز سے مختلف امور پر اور خاص طور سے دلگداز کے بارے میں پر زور اپیلیں شائع کیں۔دلگداز میں مختلف طرح کے اشتہارات ہوتے تھے۔مہذب بک کی کتابوں کے اشتہارات زیادہ تعداد میں ہوتے تھے۔کتابوں اور رسالوں کے اشتہارات کے علاوہ ادویات، سامانِ آرائش، ڈرامہ کمپنی،ڈسپینسری وغیرہ کے بھی اشتہارات ہوتے تھے۔ دلگداز کا ٹائٹل پیج سادہ ہوتا تھا۔ دلگداز قومی پریس لکھنؤ اور دلگداز پریس میں چھپتا تھا۔ دلگداز حیدر آباد اور اورنگ آباد سے بھی شائع ہوا ہے۔
ہزاروں الجھنوں اور مشکلات کے با وجود رسالہ ایک لمبے عرصے تک نکلتا رہا جو با ذاتِ خود ایک بڑا کارنامہ تھا۔ اشاعت کے تقریباً ۸۵ سال بعد بھی رسالہ ’’ دلگداز‘‘ زندہ و جاوید ہے۔دلگداز میں ادبی اصناف پر بہت مفید ، اہم اور بیش بہاقیمتی مضامین شائع ہوئے جن سے محقق آج بھی استفادہ کرتے ہیں اور دلگداز آنے والے دور میں بھی مشعلِ راہ بنا رہے گا۔

رسالہ ’’دلگداز ‘‘کی اہم تاریخیں
۱۸۸۷ء سے ۱۸۹۱ء *کل ۵۳ شمارے شائع ہوئے۔
جنوری ۱۸۸۷ء اجرا *لکھنؤ سے اشاعت، صفحات ایک جز
یعنی سولہ صفحات ۔ ڈیمائی سائز۔
جنوری ۱۸۸۸ء ناول کی شروعات *ایک جز کا اضافہ یعنی کل ۳۲ صفحات،
سولہ صفحات پر تاریخی ناول۔
۱۸۸۸ء *دلگداز پریس کا قیام۔
۱۸۸۹ء *روانگی حیدرآباد۔
مئی ۱۸۹۱ء اشاعت بند *بہ سلسلۂ ملازمت حیدرآباد جانے کی
وجہ سے مئی ۱۸۹۱ء سے دسمبر ۱۸۹۲ء تک
اشاعت بند رہی، کل بیس ماہ تک اشاعت
بند رہی۔
۱۸۹۳ء *کل ۹ شمارے شائع ہوئے۔
جنوری ۱۸۹۳ء لکھنؤ سے اشاعت *قیام حیدر آباد میں ہی جِلد ۵کے تحت
اس سال نو شمارے شائع کیے۔ کل ملا کر
جِلد ۵ میں ۱۳رسالے شائع ہوئے۔
اکتوبر ۱۸۹۳ء اشاعت بند *سفرِانگلستان کی وجہ سے اشاعت بند
ہو گئی۔ اکتوبر ۱۸۹۳ء سے فروری ۱۸۹۷ء
تک اشاعت بند رہی ۔ کل ۴۱ ماہ تک
اشاعت بند رہی۔
۱۸۹۷ء سے ۱۸۹۸ء *کل ۱۲ شمارے شائع ہوئے۔
مارچ ۱۸۹۷ء حیدرآباد سے اشاعت *انگلستان سے واپسی پر حیدرآباد سے
اشاعت شروع کی۔
مارچ ۱۸۹۸ء اشاعت بند *حضرت سکینہ بنت حسین کی سوانح عمری کے شائع ہونے پر ہوئے اعتراض کی وجہ سے
’دلگداز‘ کی اشاعت بند ہو گئی۔ اس کی تین قسطیں چھپ چکی تھیں۔ شرر حیدرآباد میں تقریباًایک سال تک رہے، دسمبر ۱۸۹۹ء تک اشاعت رہی۔کل ملا کر ۲۲ ماہ تک اشاعت بند رہی۔
۱۹۰۰ء سے ۱۹۰۱ء *کل ۱۷ شمارے شائع ہوئے۔
جنوری ۱۹۰۰ء لکھنؤ سے اشاعت *اشاعت شروع کرنے کے بعد ۱۸۹۸ء
کی نا مکمل جلد پوری کی جس میں حضرت سکینہ بنت حسین کی عمری کی باقی قسطیں شائع کیں۔
جنوری ۱۹۰۱ء صفحات میں اضافہ *تاریخ کے لیے ۱۶ صفحات بڑھائے گئے،اس طرح رسالہ تین جز یعنی ۴۸ صفحات کاہو
گیا۔
جون ۱۹۰۱ء اشاعت بند *حیدرآباد روانگی کی وجہ سے اشاعت بند ہوگئی ۔جون ۱۹۰۱ء سے مئی ۱۹۰۴ء تک اشاعت بندرہی، کل ۳۶ ماہ تک اشاعت بند رہی۔
۱۹۰۴ء سے۱۹۰۷ء *کل ۳۷ شمارے شائع ہوئے۔
جون ۱۹۰۴ء لکھنؤ سے اشاعت *۱۹۰۱ء کی نا تمام جِلد پوری کی۔
فروری ۱۹۰۴ء صفحات کا اضافہ *سوانح عمری کے لیے آٹھ صفحات کا اضافہ کیا گیا۔ رسالہ ساڑھے تین جز یعنی ۵۶ صفحات کا ہوگیا۔
جولائی ۱۹۰۷ء اشاعت بند*بیماری اور خاندانی صدمات کی وجہ سے اشاعت بندہو گئی۔جولائی ۱۹۰۷ء سے جون ۱۹۰۸ء تک اشاعت بند رہی۔
۱۹۰۸ء *کل ۶ شمارے شائع ہوئے۔
جون ۱۹۰۸ء حیدرّباد سے اشاعت *جون ۱۹۰۷ء کی نا تمام جِلد مکمل کی۔
جنوری ۱۹۰۱ء اشاعت بند *جنوری ۱۹۰۹ء سے دسمبر ۱۹۰۹ء تک اشاعت بند رہی، کل ۱۲ ماہ تک اشاعت بند رہی۔
۱۹۱۰ء سے ۱۹۲۶ء *کل ۲۰۴ شمارے شائع ہوئے۔
جنوری ۱۹۱۰ء لکھنؤ سے اشاعت
۱۹۱۲ء شرر کو صدمہ *چھوٹے بیٹے محمد فاروق کا انتقال۔
۱۹۱۴ء *اشاعت میں بد نظمی۔
اپریل ۱۹۱۵ء سب ایڈیٹر *ان کے بڑے بیٹے مولوی محمد صدیق
جنھوں نے سب ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کیا۔
دسمبر ۱۹۲۶ء *شرر کی ادارت میں آخری رسالہ شائع ہوا۔
۲۴ دسمبر ۱۹۲۶ء *شرر کا انتقال۔
شرر کی ادارت میں کل ملا کر ۲۸ سال ۲ماہ تک اشاعت ہوئی اور ۱۱سال ۱۱ ماہ تک اشاعت بند رہی۔
——
حواشی:اشاریہ دلگداز: محمد قمر سلیم، ۲۰۰۳ء
——
محمد قمر سلیم
ایسوسی ایٹ پروفیسر
انجمنِ اسلام اکبر پیر بھائی کالج آف ایجوکیشن Flat No. 3, Atmashanti CHS,
واشی ، نوی ممبئی Plot No. 33, Sector-3, Vashi
موبائل۔Navi Mumbai-400703. 09322645061

جواب دیجئے

۲ thoughts on “تاریخِ رسالہ دلگداز :- محمد قمر سلیم”