مولانا ظفر علی خاں کی شاعری میں سیاسی شعور :- اظہار احمد گلزار

ڈاکٹر اظہار احمد گلزار

مولانا ظفر علی خاں کی شاعری میں سیاسی شعور

اظہار احمد گلزار

بیسویں صدی کے آغاز میں روس و جاپان نے جنوبی ایشیا کی سیاست پر گہرے نفسیاتی اثرات چھوڑے ۔ جاپانیوں کی حب الوطنی اور ایثار و قربانی سے متاثر ہو کر مولانا ظفر علی خان نے اس موضوع پر ایک ادبی ڈرامہ لکھا جو ان کے سیاسی شعور کی پختگی اور ان کے نظریات و عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔

اس کے بعد ہی شملہ وفد کے فوراً بعد دسمبر ۱۹۰۶ء میں جنوبی ایشیاکے مسلمانوں کی سیاسی تنظیم مسلم لیگ کے قیام کے موقع پر ظفر علی خان اور ان کے نوجوان ساتھیوں کا ’’بوڑھی قیادت‘‘کے شانہ بشانہ اس قومی اجتماع میں شریک ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ نوجوان بزرگ سیاستدانوں نواب محسن الملک،نواب وقارالملک اور نواب سلیم اللہ وغیرہ کی قیادت میں سر سید مرحوم کی قائم کردہ روش کو چھوڑ کر سیاست کے میدان میں آمادہ عمل ہونے کے لیے پر تول رہے تھے۔ تاہم ابھی انھیں موقع کا انتظار تھا۔بنگال اور پنجاب کی سیاسی بے چینی ہوا کا رُخ بتا رہی تھی ۔ نواب محسن الملک کی وفات کے بعد نواب وقار الملک علی گڑھ کالج کی باگ ڈور سنبھال چکے تھے جو مرحوم کی جمالی طبیعت کے مقابلے میں جلالی طبیعت کے مالک تھے۔لیکن یہ دو چار سال بھی نوجوانوں کے سیاسی مشاہدے و مطالعے ہی میں گزرے۔نظم ’’لالہ و نا فرمان‘‘ میں مولانا ظفر علی خان اپنے دل کی بات ان لفظوں میں لکھتے ہی:
کس طرح یہ دیس رہ سکتا ہے غیروں کا غلام
ہر زباں پر جاری آزادی کی جب رٹ ہو گئی
قید سے جس دن رہا ہوں گے اسیران فرنگ
دیکھ لینا تم کہ صلح اپنوں میں جھٹ پٹ ہو گئی (۱)
’’دکن ریویو‘‘ کا عالم اسلام نمبر مولانا ظفر علی خان اور ان کے رفقا کی سیاسی بصیرت کے اس رُخ کی نشان دہی کرتا ہے جس میں ملکی سیاست کے علاوہ خارجی سیاست ،خصوصاًاسلامی ممالک سے ذہنی رابطے اور اتحاد کی ضرورت کا احساس آگے بڑھتا ہے ۔۱۹۰۹ء میں حیدر آباد سے نکالے جانے کے بعد ملازمت کی زنجیریں بھی ٹوٹ جاتی ہیں اور آزاد فضا میں سوچنے اور آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے تو سیاست اور صحافت دونوں راہیں ظفر علی خان کے سامنے تھیں اور دوونوں میں گہرا ربط تھا۔ ان کے ساتھی اور حیدرآبادی سر پرست عزیز مرزا بھی مسلم لیگ کے سیکرٹری بن کر عملی سیاست کے میدان میں آ جاتے ہیں مگر ان کی عمر وفا نہیں کرتی۔’’جرنیل ڈائر کی یاد میں‘‘ کا یہ شعر دیکھیں:
کھلا جب قتل کی تفتیش کا دفتر ولایت میں
بغل میں لائے بستہ داب کر گاندھی ضمائر کا(۲)
نظم ’’احرار‘‘میں مولانا ظفر علی خان کہتے ہیں کہ قصر آزادی کے لیے انسان کی اتنی محنت ہے کہ چونہ کی جگہ انسان کا لہوشامل ہے تب جا کہ آزادی کی دلہن کا گھونگھٹ دیکھنا نصیب ہوا ہے۔
ہڈیاں جن کی ہیں چُو نہ تو لہو ہے گارا
قصر آزادی کشمیر کے معمار ہوئے (۳)
’’ ظفر علی خان ’’زمیندار‘‘ کی ادارت کے ساتھ لاہور کے سیاسی و ثقافتی مرکز میں آ کر میدان سیاست میں ہنگامہ آرا ہوتے ہیں اور یہ زمانہ ۱۹۱۱ء کا ہے۔جن جنوبی ایشیا کے مسلمان دو بڑے سیاسی حادثوں سے دو چار ہوئے۔ ان میں ایک حادثہ تو خارجی تھا اور دوسرا داخلی۔خارجی واقعہ طرابلس الغرب (موجودہ لیبیا) پر اطالیہ کا جارحانہ حملہ تھا جس کے ساتھ ہی چند ماہ میں ریاست ہائے بلقان کی متحدہ یورش ترکی پر شروع ہو گئی۔پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار اپنی کتاب ’’ مولانا ظفر علی خان حیات۔خدمات و آثار‘‘ میں مولانا ظفر علی خان کے سیاسی نظریات کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’داخلی واقعہ شاہی دربار دہلی کے موقع پر بنگال کی ’’حتمی‘‘ تقسیم کی تنسیخ کا غیر متوقع اعلان تھا۔ان دونوں واقعات نے مسلمانوں کی سیاست کو از حد متاثر کیا اور اس عمل میں ’’زمیندار‘‘ اور مولانا ظفر علی خان لکا کردار مرکزی تھا۔‘‘ (۴)
’’نشاۃ الثانیہ‘‘ کی اس نظم میں مولانا ظفر علی خان تخت اور تختہ کی بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
جو تخت پہ تھے تختہ ہے الٹا ہوا ان کا
جو تھے سپر انداز چڑھی ان کی کماں دیکھ
اے نالہ مظلوم کی تاثیر کے منکر
آتش زدہ یورپ سے جو اٹھتا ہے دھواں دیکھ (۵)
مولانا ظفر علی خان کی ایسی سیاسی خدمت اور سیاسی نظریات کا ذکر کریں گے جس کے بارے میں بہت کم سوچا اور لکھا گیا۔عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھتے ہی جمہور میں سیاسی شعور پیدا کرنے کے لیے یہ مولانا ظفر علی خان کا انقلابی اقدام تھا۔اس کے دو ذریعے تھے۔ایک تو اخبار تھا اور دوسرا پبلک جلسے تھے۔ان دونوں ذریعوں نے مل کر سیاست کو خواص کے محدود حلقے سے نکال کر خاص و عام سب کے لیے وسیع دائرے میں پھیلا دیا۔’’حزب العمال‘‘ کے یہ اشعار ملاحظہ کریں:
اس انقلاب سے مری آنکھوں کے سامنے
جتنے بھی تھے حقائق مستور آ گئے
یہ فرقہ جدید بھی انگریز ہی تو ہے
خون رگِ بریدہ چنگیز ہی تو ہے (۶)
جب انڈین نیشنل کانگرس۱۸۸۵ء میں معرض وجود میں آئی تھی تو یہ سیاسی جماعت جدید تعلیم یافتہ گریجوایٹوں ،وکیلوں اور بیرسٹروں کا ایک کلب تھی جو اپنے انگریز سرپرستوں اور ہمدردوں کی رہنمائی میں برطانوی حکومت سے آئینی حدود کے اندر مراعات کے لیے گزرشات پیش کرتی تھی۔اس کا عوام سے کوئی رابطہ یا تعلق نہیں تھا۔اس کے ممبروں کی تعداد بھی چند سو سے زیادہ نہ ہوگی اور جو ہونہار مقرر اس مجلس مباحثہ میں اپنے جوہر دکھاتا تھا،استعماری حکومت اس کی قیمت لگا دیتی تھی اور وہ ’’صاحب‘‘ کلب سے اٹھ کر کسی سرکاری مسند پر بیٹھ جاتا تھا۔اکبر الہ آبادی نے ایسے ہی سیاسی لیڈروں کے بارے میں یہ کہا تھا:
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہی حکام کے ساتھ
رنج لیڈر کو بہت ہے مگر آرام کے ساتھ (۷)
مولانا ظفر علی خان’’اصلیت‘‘ میں جج، کچہری اور انصاف کے میں بڑی واضح بات کہتے ہیں:
جج بھی ہیں ،ان کی کچہری بھی ہے اور اس کے قریب
بے زبانوں کے لیے انصاف کا مدفن بھی ہے
تا کہ لَے دب جائے اس کی نالہ مظلوم کی
پاس ہی گرجا بھی ہے ،گھنٹہ بھی ہے ،ٹن ٹن بھی ہے (۸)
۱۹۰۶ء میں مسلم لیگ قائم ہوئی تو کانگرس کی طرح یہ جماعت بھی سر آغا خان کی سرپرستی اور کچھ انگریز ہمدردوں کے تعاون سے اونچے متوسط تعلیم یافتہ طبقے تک محدود تھی۔یہ بات بھی قابل فہم ہے کہ آئینی اصلاحات کا عمل آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا اور رائے دہندگی کا معیار بھی اونچا اور محدود تھا اس لیے سیاسی لیڈروں اور جماعتوں کو عوام الناس سے واسطہ کم ہی پڑتا تھامگر ملک میں جدید تعلیم کے پھیلنے اور حالات کے بہاؤکے ساتھ سیاسی شعور کے وسعت پذیر ہونے کے امکانات بھی واضح ہو رہے تھے۔عین اسی زمانے میں مولانا ظفر علی خان پنجاب کے سیاسی مطلع نمودار ہوئے اور بطور صحافی اور سیاسی رہنما ان کی آواز لاہور سے بلند ہو کر دور دور تک پہنچنے لگی۔’’سر زمینِ بے آئین اور اسیرانِ فرنگ‘‘کے یہ تین اشعار دیکھیں :
جو نہ دے ان کو ضمانت قید کاٹے تین سال
کیوں نہ ہو تثلیت ہی ٹھہرا جو ایمان فرنگ
پاؤں میں بیڑی گلے میں تختی اور ہاتھوں میں داغ
اُمت مرحوم پر کیا کیا ہین احسان فرنگ
لاٹ صاحب نے بھی گر سرجان میفی کی طرح
عدل کے چہرے پہ ڈالا پردۂ آن فرنگ (۹)
زمیندار‘‘ پہلے صرف زمینداروں اور کاشتکاروں کی فلاح بہبود کا عَلم بردار تھا ،ظفر علی خان نے ان مقاصد کے علاوہ اس کا رُخ سیاست کی طرف موڑ دیا اور ساتھ ہی جلسوں میں عوام کا یہ پروگرام بنایا۔طرابلس کی جنگ کے آغاز کے ساتھ ’’زمیندار‘‘روزنامہ ہوا۔رو جلسوں کا یہ پروگرام بھی روزانہ ہی ہو گیا۔پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار مولانا ظفر علی خان کے سیاسی نظریات کے بارے میں آگے چل کر لکھتے ہیں:
’’صبح کو زمیندار نکلتا اور اس کے ساتھ ہی یہ اعلان بھی ہو جاتا کہ دو بجے بعد از دوپہر مولانا ظفر علی خان باغ بیرونی موچی دروازہ میں حالاتِ حاضرہ پر خطاب فرمائیں گے۔اہل لاہور کے لیے یہ بالکل ایک نئی بات تھی۔ لاہور ہی نہیں بل کہ قریبی شہروں اور قصبوں (امرتسر،بٹالہ،گوجرانوالہ،قصور،اور شیخوپورہ)تک سے لوگ جلسوں میں آنے لگے اور پھر یہ سلسلہ یہاں تک بڑھا کہ دور نزدیک شہروں میں مولانا ظفر علی خان کو خطاب کے لیے بلایا جانے لگا۔‘‘(۱۰)
مولانا ظفر علی خان’’نظم کار زارِ طرابلس‘‘ میں ایمان کی حرارت یوں بیان کرتے ہیں:
چڑھ اے ایمان اس چوٹی پہ جس پر کفر قابض ہے
بڑھ اے اسلام اور شوکت دکھا اپنی زمانے کو
ابھی تک گونجتی ہے کان میں آواز خالدؓ کی
سنیں گے ہم نشیں سے ہم اسی اگلے فسانے کی
مسلماں لاکھ بودے ہوں مگر نامِ محمد ﷺ پر
خوشی سے اب بھی حاضر ہیں وہ اپنے سر کٹانے کو(۱۱)
جنگ کوئی بچو ں کا کھیل نہیں ہے یہاں خاک اور خون ہونا پڑتا ہے تب جا کر انصاف کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔انصاف کوئی سستی چیز نہیں جو بازار میں سستے داموں مل جائے۔ مولانا ظفر علی خان نظم ’’جنگ طرابلس ۱۹۱۲ء ‘‘ میں اپناجذبات کا اظہار یوں کرتے ہیں:
کھیل بچوں کا جسے سمجھا تھا اٹلی نے وہ جنگ
کر رہی ہے قافیہ اس کے جواں مردوں کا تنگ
خاک بن کر اُڑ گئی روما کے دل کی آرزو
خون ہو کر بہ گئی پاپا کے پہلو کی امنگ
جھونک دی اٹلی نے چشمِ روشنِ ایماں میں خاک
چڑھ گیا آئینہ انصاف پر یورپ میں زنگ
آہ ! اے انصاف ہم ڈھونڈیں کہاں جا کر تجھے
سینٹ پطرس برگ جب مضطرب اور لندن ہو چنگ (۱۲)
اس طرح مولانا ظفر علی خان نے سیاسی افکار و خیالات کو عوام تک پہنچانے کے لیے اپنے اخبار کے علاوہ خطاب کو بھی ذریعہ بنا کر سیاست کو خواص کی مجلسوں سے نکال کر عوام کے دروازوں تک پہنچا دیا۔گلی کوچوں ،چوکوں ،بازاروں اور تھڑوں پر بیٹھ کر سیاسی مسائل پر لوگ بات چیت کرنے لگے۔’’آصف جاہ ہفتم کی یاد میں ‘‘ کی نظم کے یہ دو شعر دیکھیں:
بدل چکا ہے بدلتا ہے اور بدلے گا
بہت سے رنگ یہ چرخِ ستیزہ کار ابھی
اگرچہ جنگ ہے انگریز جی چراتے ہیں
نہیں ہے صلح کا لیکن کچھ اعتبار ابھی(۱۳)
مولانا ظفر علی خان کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انھوں نے سیاست کو برکت علی اسلامیہ ہال،بریڈ لا ہال،کلبوں اور منبر محراب سے نکال کر باغ بیرونی موچی دروازہ میں پہنچا دیا اور اس کو ایک ایسی روایت بنا دیا کہ علامہ اقبال ؒ اور دوسرے اکابر بھی یہاں آنے میں کوئی عار محسوس نہ کرنے لگے اور پھریہ روایت تحریک خلافت نے تو اتنی آگے بڑھائی کہ موچی دروازہ اور سیاست لازم و ملزوم ہو گئے۔’’چوریاں‘‘نظم میں مولانا ظفر علی خان بہت خوبصورت منظر نامہ پیش کرتے ہیں:
جس کے لیے آئے وہ کفن ہاتھ نہ آیا
بیٹھے ہوئے کھائیں گے جنیوا میں یہ غم چور (۱۴)
’’زمیندار‘‘ مولانا ظفر علی خان کا مدرسہ صحافت تھا تو یہ سیاسی مجلسیں اس زمانے کا ’’شعبہ علوم سیاسیات‘‘ کہی جا سکتی ہیں جہاں نوجوان کارکن سیاسی امور مسائل کی تربیت حاصل کر ے قومی خدمت اور جدو جہدآزادی کے میدان میں آتے تھے ۔ اس زمانے میں سیاست کوئی پیشہ نہیں تھی ،ذریعہ معاش نہیں تھی بل کہ خدمت اور عبادت کا درجہ رکھتی تھی اور اس کام کے لیے وہی لوگ آگے آتے تھے جو ایثار پیشہ و قربانی کا جذبہ رکھتے تھے۔جنوبی ایشیا کے جس شہر اور قصبے میں مولانا ظفر علی خان جاتے تھے ان کا رابطہ نوجوان اور ایثار پیشہ کارکنوں سے بڑا گہرا ہوتا تھا۔یہ ایک حقیقت ہے کہ مولانا ظفر علی خان تحریکوں کی عمارت دنوں میں اٹھا لیتے تھے۔ڈاکٹرغلام حسین ذوالفقار ’’ ادیب و شاعر ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’جنوبی ایشیا میں مولانا ظفر علی خان کا یہ کارنامہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے کہ وہ سیاست کو خواص کے ایوانوں سے نکال کر عوام کے دروازوں تک لے آئے اور سیاسی جماعتوں کے استحکام اور سیاسی تحریکوں میں جوش و جذبہ پیدا کرنے کے لیے مخلص کارکنوں کو تیار کیا جس سے سیاسی عمل میں ترقی ہوئی ۔یہ وہ ابتدا تھی جس نے تحریک خلافت اور ترک موالات میں عمومیت حاصل کر لی اور بعد میں تحریک پاکستان میں بھی یہ مسالہ بہت کام آیا۔جبھی تو قائد اعظم محمد علی جناح کو یہ کہنا پڑا تھا کہ مجھے پنجاب میں ایک دو ظفر علی خاندے دو ،پھر مسلمانوں کو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔‘‘ (۱۵)
صحافت اور سیاست دونوں مولانا ظفر علی خان کے لیے ذریعہ معاش نہیں تھے بل کہ ذریعہ خدمت تھے ۔ان دونوں صورتوں میں انھیں ضبطی و قرقی اور قید و بند کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا۔ اگر یہ ایثار و قربانی بھی سیاسی خدمات میں شمار ہو سکتی ہے تو خدمات کے یہ کئی تمغے مولانا ظفر علی خان کے سینے پر آویزاں ملیں گے۔’’سنٹرل جیل لاہور‘‘۲۵ دسمبر ۱۹۳۰ء کی یہ نظم ملاحظہ کریں:
کبھی کولھو کی مشقت، کبھی چکی کا عذاب
جس کے ہاتھوں میں بچاروں کے پڑے چھالے ہیں
گوشت اور خون کے پرزے ہیں جو انگریزوں نے
قیصریت کی مشینوں کے لیے ڈھالے ہیں
قید گورے بھی ہیں چوری میں مگر ان کے لیے
جیل سرکار نے گلزار بنا ڈالے ہیں (۱۶)
بارہ تیرہ سال کی قید و نظر بندی کا زمانہ عمرِ عزیز کا ایک بڑا حصہ ہے۔اخبار کی ضمانتوں اور مطبع کی ضبطیوں کو اگر شمار کیا جائے تو یہ رقوم اس زمانے کی قدرِ زر کے لحاظ سے ڈیڑھ لاکھ روپے کے قریب ہو گی۔ان قربانیوں کا صلہ تو رب العزت کی زات ہی دے سکتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار مولانا ظفر علی خان کے سیاسی نظریات کے بارے میں مزید لکھتے ہیں:
’’ظفر علی خان اور ان کے ساتھیوں کو اسلام کی تہذیبی عظمت کا احساس تاریخی ورثے میں ملا تھا اس لیے ان کی سیاسی جدو جہدمیں مشرق و مگرب دونوں کی صحت مند قدروں کا امتزاج تھا۔بعض سطح بین لوگ ظفر علی خان اور ان کے نوجوان ساتھیوں کو ہنگامی اور ’’ایجی ٹیشنل‘‘سیات کے بانی مبانی ورار دیتے ہیں۔‘‘ (۱۷)
مولانا ظفر علی خان جوش و خروش کے موقع پر جذبات کو ابھارنے کے لیے اپنی تقریروں میں اور خصوصاً نظموں اور شعروں میں وہ شعلہ فشانی بھی کیا کرتے تھے۔صورِ اسرافیل بھی پھونکتے تھے تا کہ مردہ تنوں میں جان پیدا ہو سکے۔شاعری میں یہ کام اقبال ؒ نے لیا اور ظفر علی خان نے بھی لیا۔فرق صرف یہ تھااقبال اپنے مزاج کے مطابق فکر کی حد تک رہے ،ظفر علی خان فکر سے آگے بڑھ کر عمل کے میدان میں بھی آ گئے۔سیاسی لحاظ سے فکرو عمل کے سلسلوں کو ملا کر ظفر علی خان نے قیدو بند کی قربانیاں بھی دیں اور اپنی شخصیت اور ذات کی قربانی بھی دی۔
دستوری مراحل اور آزادی کی جدو جہد کئی طرح کے حالات سے گزری اور ظفر علی خان کو بھی کبھی حالات سے سمجھوتہ کر کے اور کبھی حالات سے نبرد آزما ہو کرسیاسی جدو جہد میں حصہ لینا پڑا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران نظر بندی کے ایام میں انھوں نے حالات سے یہ مفاہمت کی کہ سیاسی امور سے عارضی طور پر دست کش ہو کر ادبی و معاشرتی مسائل کو اپنا موجوع بنایا ،بعض موقعہ پرستوں نے حکومت کے اشارے یا اپنے مصالح کے تحت شور مچا دیا کہ ظفر علی خان نے حکومت سے معافی مانگ کر سیاست سے توبہ کر لی۔محض ہنگامہ آرائی اور آتش نوائی کی تراکیب استعمال کر کے ان حریت پسند رہنماؤں کی سیاسی خدمات پر پانی پھیر دینا چاہیے۔ظفرعلی خان خاص طور پر اس سطحیت اور بے انصافی کا ہدف بنتے رہے۔پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار لکھتے ہیں:
’’اب ایک اہم مسئلہ رہا ،کانگرس میں ظفر علی خان کے کردار کا جس پر بعض حضرات کو انگشت نمائی کا موقع مل سکتا ہے۔راقم الحروف گزشتہ سال جب اس تالیف کا منصوبہ بنا رہا تھا تو ایک مخلص دوست نے آذردہ ہو کر بطور انتباہ کہا کہ ’’ اس میں تو پھر کانگرس کا ذکر بھی آئے گا۔میں نے جواب دیا کہ ضرور آئے گا مگر ہمیں کانگرس سے اتنا الر جک ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟ آخر کانگرس میں جان تو مسلمانوں کی قربانیوں نے ہی ڈالی تھی۔اس پر وہ برافروختہ ہو کر بولے ’’ یہ نیشنلسٹ مسلمانوں کا موقف ہوا۔‘‘ میں نے کہا ہوا کرے،میں تو تاریخ اور ادب کا طالب علم ہوں۔ واقعات کو معروضی طور پر ہی دیکھوں گا ۔‘‘(۱۸)
اس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ ظفر علی خان کی سیاسی خدمات پر کانگرس کے حوالے سے کچھ لکھنا کتنا نازک اور مشکل کام ہے مگر اس کے بغیر چارا بھی تو نہیں۔ظفر علی خان ایک پُر جوش مسلمان تھے مگر وہ متعصب ہرگز نہیں تھے۔رواداری ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ان کا کردار بھی اس امر کی گواہی دیتا ہے اور ان کی وہ نظمیں بھی اس پر شاہد ہیں جو ہندوؤں کے مذہبی رہنماؤں پر انھوں نے لکھی ہیں۔مولانا ظفر علی خان جب سیاسی میدان عمل میں آئے تو نہ وہ کانگرس کے رکن تھے اور نہ ہی مسلم لیگ میں شامل تھے۔ان کی زیادہ تر توجہ بیرونی اسلامی ممالک کے رو بہ انحطاط احوال پر تھی تا ہم ملک حالات کو بھی وہ ایک مبصر کے طور پر دیکھ رہے تھے اور پنجاب کے عوام کو سیاسی بیداری کا پیغام دے رہے تھے۔تحریک خلافت کے آغاز اور پنجاب کے سانحات کے حوالے سے ظفر علی خان ،علی بردران نظر بندی سے آزاد ہو کر سیاست کے میدان میں نکلے تو گاندھی جی بھی اس وقت ہندو مسلم اتحاد کے عَلم بردار بن کر سامنے آ چکے تھے۔مولانا ظفر علی خان ’’نظم دو سائے‘‘ میں غلامی اور آزادی کو یوں بیان کرتے ہیں:
کہاں تک اس کے آگے بند باندھو گے غلامی کا
روانی رُک نہیں سکتی ہے آزادی کے قلزم کی (۱۹)
خلافت کمیٹی کے دھڑوں میں بٹ جانے کے بعد ان کا دائرہ کار زیادہ تر پنجاب تک محدود ہو گیا تھا۔جہاں خلافت کمیٹی نے مجلس احرار کی صورت اختیار کر لی۔پنجاب کے مسائل کے علاوہ کل ہند مسائل کے سلسلے میں ظفر علی خان کا رابطہ علامہ اقبال ؒ سے بھی ہوا۔ سیاسی انتشار کے اس مرحلے سے نکلنے کی تدا بیر سوچی جا رہی تھیں۔انڈیا ایکٹ ۱۹۳۵ء سر پر آ چکا تھا۔اسلامیان ہند سخت کشمکش اور آزمائش سے دوچار تھے ،یہی وہ مرحلہ ہے جب مسٹر محمد علی جناح نے واپس وطن پہنچ کر مسلم لیگ کی قیادت سنبھالی۔
ظفر علی خان سے بھی مسٹر محمد علی جناح کا رابطہ ہو گیا تھا جو کانگرس کی ہندو مہا سبھائی ذہنیت اور ان کی دوغلی سیاست سے بیزار ہو کر کانگرس سے الگ ہو چکے تھے۔آخر ظفر علی خان اپنے ہزاروں کارکنوں سمیت مسلم لیگ کے جھنڈے تلے آ گئے۔مولانا ظفر علی خان اپنی نظم ’’مسلمانانِ ہند کا سیاسی زاویۂ نگاہ ۱۹۱۲ء میں ‘‘ کس بے باکی سے کہتے ہیں:
آئی ہے اٹلی کی شامت موت ہے سر پر سوار
اس لیے کھولے ہوئے اپنا دہانِ آز ہے
عشق لندن دل میں سودا سر میں استنبول کا
ہم مسلمانوں کی ہستی کا یہ اصلی راز ہے (۲۰)
مولانا ظفر علی کان ’’شہیدانِ حریت کی یاد میں‘‘ اپنے دل کی بات کو یوں کہتے ہیں:
پھول پھل لانے کو ہے اُگتے ہی آزادی کا بیج
کل وہی استادہ ہو گا آج جو افتادہ ہے (۲۱)
تحریک پاکستان میں ظفر علی خان کی خدمات بے مثال ہیں۔ انھوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کی بات کو سچ ثابت کر دکھایا اور مسلم لیگ کے لیے اس عزم و ہمت سے شبانہ روز کام کیا کہ قرار داد لاہور کے پیش ہونے تک حقیقتاً جنوبی ایشیا کے مسلم عوام کی واحد نمائندہ جماعت بن چکی تھی۔پروفیسر ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار مولانا ظفر علی خان کی تحریک پاکستان کی خدمات کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’بزرگ رہنما مولانا شوکت علی ۱۹۳۸ء میں رحلت فرما گئے تو ضبط کے پیکر مسٹر محمد علی جناح بھی پھوٹ پھوٹ کر روئے ۔اب خلافت کے عظیم رہنماؤں میں تنہا ظفر علی خان تھے جو خیبر سے راس کماری تک دیوانہ وار مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کے لیے قریے قریے میں پہنچ کر مسلمانوں کو منظم کر رہے تھے۔‘‘ (۲۲)
جب جوان تیار ہو کر میدان جنگ میں آتے ہیں وہ کسی قربانی سے نہیں گھبراتے کیوں کہ سرمایہ داری کا غرور توڑ کر وہ تخت اور تختہ ،مار دو یا مر جاؤتبھی کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔حقیقی انقلاب تو یہی ہوتا ہے۔ مولانا ظفر علی خان اپنی نظم ’’تخت یا تختہ‘‘ میں انقلاب کی بات کرتے ہیں:
سر بکف میداں میں آ پہنچے جوانانِ وطن
جن کی قربانی پہ ہے دارومدارِ انقلاب
خاک میں مل جائے گا سرمایہ داری کا غرور
گر یہی ہے گردشِ لیل ونہارِ انقلاب
وقت آ پہنچا کہ یا مر جاؤ یا آزاد ہو
تخت یا تختہ ہے حکمِ تاجدارِ انقلاب(۲۳)
ظفر علی خان برطانوی استعمار کے خلاف سینہ سپر ہوئے اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے چالیس سال تک انھوں نے زبان و قلم سے جہاد آزادی کا عَلم بلند کیے رکھا۔برطانوی استعمار کے کارپردازوں کے لیے ظفر علی خان ایک بہت بڑا چیلنج بن گئے تھے کیوں کہ انھوں نے ان کے عسکری گڑھاور رنگروٹوں کی منڈی پنجاب کو اپنی تگ و تاز کا مرکز بنا کر قومی سیاست کا آغاز کیا اور حریتِ فکر و عمل کے بیج اس کشتِ ویراں میں بو دیئے۔مولانا ظفر علی خان نظم ’’ہندوستان کے مسلمان کا گناہ ‘‘ میں کہتے ہیں:
میری خطا یہ ہے کہ نہ کیوں میں نے کر دیا
سنگِ وفا سے شیشۂ ایماں کو پاش پاش
میرا گناہ یہ ہے کہ کیوں میں نے کر دیا
رازِ غلامی صدو پنجاہ سالہ فاش (۲۴)
انگریز حکمران اس جسارت کو کبھی برداشت نہیں کر سکتے تھے اس لیے ظفر علی خان کو استعماری حکومت کے جبرو استعداد کا ہدف بننا پڑا مگر انھوں نے ظلم ستم کے سامنے کبھی سر نہیں جھکایا۔
——
حوالہ جات
۱۔ ظفر علی خان:’’بہارستان‘‘(مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ،لاہور،۲۰۱۰ء)ص۵۵۴
۲۔ ایضاً،ص۴۹۳
۳۔ ایضاً،ص۵۵۹
۴۔ ڈاکٹرغلام حسین ذوالفقار:’’مولانا ظفر علی خان حیات۔خدمات و آثار‘‘(سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور،۲۰۱۱ء) ص۳۳۹
۵۔ ظفر علی خان:’’حبسیات‘‘(مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ،لاہور،۲۰۱۰ء)ص۳۴
۶۔ ایضاً،ص ۱۰۴
۷۔ اکبر الہ آبادی:’’لسان العصر‘‘(کلیات،مطبع اسرار آباد،۱۹۴۰ء)ص ۲۰۰
۸۔ ظفر علی خان:’’حبسیات‘‘ص ۱۱۴
۹۔ ایضاً،ص ۱۰۶
۱۰۔ ڈاکٹرغلام حسین ذوالفقار:’’مولانا ظفر علی خان حیات۔خدمات و آثار‘‘ص ۳۴۰
۱۱۔ ظفر علی خان:’’بہارستان‘‘ص۱۶۶
۱۲۔ ایضاً،ص۱۷۰
۱۳۔ ظفر علی خان:’’حبسیات‘‘ص ۴۷
۱۴۔ ظفر علی خان:’’چمنستان،مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ،لاہور،۲۰۱۰ء،ص۵۶
۱۵۔ ڈاکٹرغلام حسین ذوالفقار:’’ظفر علی خان ،ادیب شاعر‘‘ ص۱۰۴۔۱۰۵
۱۶۔ ظفر علی خان:’’حبسیات‘‘ص ۱۳۳
۱۷۔ ڈاکٹرغلام حسین ذوالفقار:’’مولانا ظفر علی خان حیات۔خدمات و آثار‘‘ص۳۴۳
۱۸۔ ایضاً،ص ۳۴۶
۱۹۔ ظفر علی خان:’’بہارستان‘‘ص۲۸۶
۲۰۔ ایضاً،ص۲۶۷
۲۱۔ ایضاً،ص۲۸۳
۲۲۔ ڈاکٹرغلام حسین ذوالفقار:’’مولانا ظفر علی خان حیات۔خدمات و آثار‘‘ص ۳۴۹
۲۳۔ ظفر علی خان:’’بہارستان‘‘ص۲۸۰
۲۴۔ ایضاً،ص۲۷۲