پروفیسر یوسف سرمست کی تنقید نگاری :- نظیر احمد گنائی

نظیر احمد گنائی

پروفیسر یوسف سرمست کی تنقید نگاری

نظیر احمد گنائی
ریسرچ اسکالر ،شعبہء اردو ،دہلی یونیورسٹی

پروفیسر یوسف سرمست بحیثیت محقق و ناقد سے اردو ادب میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان کی تحقیقی و تنقیدی تصانیف اردو ادب میں اعتبار حاصل کرچکی ہیں۔ خصوصاً تنقید نگاری میں انہوں نے ایک منفرد اور غیر معمولی انداز نقد اختیار کر کے اپنے مخصوص اسلوب اور زبان و بیان میں ادب پاروں کی تقسیم کی ہے۔

انہو ں نے شعر و ادب کو پڑھ کر قدیم وجدید کو نئے اردو پرانے تقاضوں کے تحت جانچا اور پرکھا اور اپنی تحقیقی و تنقیدی تصانیف میں اپنے نقطہ نظر کو عملی تنقید کے ذریعہ پیش بھی کیا ہے۔ ان کی تحقیقی و تنقیدی تصانیف میں ’’عرفانِ نظر‘‘، ’’ادب۔ نقد و حیات‘‘، ’’پریم چند کی ناول نگاری‘‘، ’’ادب کی ماہیئت، منصب اور تعریف‘‘، تحقیق و تنقید‘‘، ’’نظری اور عملی تنقید‘‘ ، ’’دکنی ادب کی مختصر تاریخ‘‘، ’’ادب کا نوبل انعام ادبی یا سیاسی اور دوسرے مضامین‘‘، ’’اردو افسانہ نگاری میں کرشن چندر کی انفرادیت‘‘ اور ’’بیسویں صدی میں اردو ناول‘‘ اردو ادب میں خاصی اہمیت کی حامل ہیں۔
پروفیسر یوسف سرمست کی ولادت ۲۸ /دسمبر ۱۹۳۶ء میں بشیر باغ حیدرآباد میں ہوئی۔ یوسف سرمست کا اصل نام یوسف شریف الدین ہے۔ یوسف سرمست نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ بعد میں مدرسہ پھر اسکول گئے۔ اس کے بعد سٹی کالج میں داخلہ لیا اور اچھے نمبرات سے انٹرمیڈیٹ اور ہائی اسکول کی تعلیم حاصل کی۔ پھر سٹی کالج سے بی ۔ اے پاس کیا۔ اس کے بعد عثمانیہ یونیورسٹی سے منسلک ہوئے۔ یہاں انہوں نے ایم۔اے اردو کی ڈگری امتیازی نمبرات سے حاصل کی۔ پھر اسی یونیورسٹی سے پی ایچ۔ ڈی کی سند بھی لی۔ اس طرح سے بحیثیت لکچرر وہ اسی شعبہ سے وابستہ ہوئے اور درس و تدریس میں مشغول رہے۔ لکچرر سے ترقی کرتے ہوئے پروفیسر ہوئے ہیں۔ بحیثیت استاد انہوں نے کئی طالب علموں کی بہترین رہنمائی کی۔ وہ نرم دل، محبی و مشفق استاد تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے طالب علموں کو محبت سے پڑھاتے تھے۔ بلکہ انہیں آگے بڑھنے کی تربیت بھی کرتے تھے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر میمونہ مسعود کہتی ہیں:
’’پروفیسر یوسف سرمست ایک نرم دل، خوش مزاج اور شریف النفس انسان ہیں۔ وہ نرم لہجے میں ہر وقت باتیں کرتے ہیں۔ وہ کلاس میں اکثر ہم لوگوں کو نصاب کے علاوہ نئی معلومات سے آگاہ کرتے تھے۔ انہوں نے ہمیشہ شاگردوں کی قدر کی ہے اور اپنے آگے چلانے کی راہیں بنائی ہیں۔‘‘
(حوالہ:شخصیت انٹرویو ،ڈاکٹر میمونہ مسعود،عثمانیہ یونیورسٹی آف حیدر آباد،تاریخ ۹ مئی ۲۰۱۷ء)
پروفیسر یوسف سرمست دور حاضر کے ایسے نقاد ہیں جنہوں نے دورانِ تحقیق ادب پاروں کو صحیح نگاہ سے دیکھ کر غیر جانبداری سے کام لیا ہے۔ وہ جب کسی مسئلے کو پیش کرتے ہیں تو وہ مسئلے کی تہہ تک جاکر اس کا حل بھی تلاش کرکے پیش کرتے ہیں۔ ادب میں زبان ایسی استعمال کی جاتی ہے جو بیک وقت کسی بات کو ظاہر بھی کرتی ہے اور چھپاتی بھی ہے۔ کیوں کہ زبان اور خاص طور پر ادبی زبان استعاراتی ہوتی ہے۔ ادبی زبان میں جذبات و احساسات کو متاثر کرنے کی صلاحیت اور قوت ہوتی ہے۔ اس لیے وہ ادب کی تفہیم کے لیے تاثراتی و جمالیاتی پہلوؤں کو ضروری خیال کرتے ہیں۔ تاکہ ادیب یا شاعر کے ادبی کیفیات تک رسائی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی یہی تاثرات ہوتے ہیں۔
اپنی نظری تنقید میں وہ ادب میں تخیل کی اہمیت کو بھی تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے مطابق انسان کی باطنی زندگی یعنی اس کے جذبات و احساسات کی پیش کشی کے لیے فن کار کو تخیل سے کام لینا پڑتا ہے۔ انہوں نے اپنی تنقید میں تحقیق اور تنقید کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا ہے۔ ان کے نزدیک تحقیق اور تنقید کا آپس میں گہرا رشتہ ہے۔ انہوں نے تحقیق و تنقید کی مختلف تعریفیں پیش کرتے ہوئے ان کے آپسی رشتے پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ یوسف سرمست جب ادب میں شدت تاثر کے اظہار کو ضروری خیال کرتے ہیں وہیں وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ ادب میں زندگی کی عکاسی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے ادب کے زندگی سے اٹوٹ رشتے پر بارہا زور دیا ہے۔ وہ ادب کے مطالعے میں اس بات کے بھی قائل نظر آتے ہیں کہ ادب میں ادیب کا عہد اور اس کے عہد کے معاشرتی، سیاسی و تہذیبی حالات کی عکاسی بھی ضروری ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ ادب کے مطالعے میں نفسیاتی تجزیے کو بھی ضروری خیال کرتے ہیں۔ نفسیاتی تجزیے سے مراد ان کے نزدیک تحلیل نفسی نہیں ہے بلکہ واقعات اور کرداروں کا ایسا بیان ہے جس سے نفسیاتی محرکات کی طرف ہمارا ذہن منتقل ہوتا ہے۔ ان تمام باتوں سے ان کے انداز نقد کا پتہ ملتا ہے یعنی وہ کسی ایک چیز پر اصرار نہیں کرتے بلکہ ادب کے مطالعے کے لیے جتنے پہلو ممکن ہوسکتے ہیں۔ ان کو استعمال کرنے پر زور دیتے ہیں۔
غرض نظریاتی تنقید میں وہ ادب کے جمالیاتی پہلوؤں کی تلاش و جستجو کے ساتھ ساتھ تاثرات کے شدت سے اظہار کو ضروری خیال کرتے ہیں۔ ساتھ ہی وہ مصنف کے عہد، اس کے نفی اثرات، اس کے عہد کے حالات اور ماحول کے علاوہ تہذیبی و اخلاقی قدروں پر بھی زور دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں انہوں نے نفسیاتی عوامل کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا ہے۔
یوسف سرمست کے یہاں عملی تنقید کے نمونے بھی ملتے ہیں۔ اصناف ادب پر عملی تنقید کی ہے۔ شعراء ادیبوں اور ادب کی مختلف تحریکوں پر بھی اظہار خیال کیا ہے۔ اس سلسلے میں ’’بیسویں صدی میں اردو ناول‘‘ ان کی اہم کتاب ہے۔ جو اردو ناول نگاری کی تاریخ کے سلسلے میں اہمیت رکھتی ہے لیکن صنف ناول کے بارے میں بھی جگہ جگہ اس میں اظہار خیال کیا گیا ہے۔ ناول کے تعلق سے پروفیسر یوسف سرمست کا یہ ماننا ہے کہ ناول مغرب سے برآمد کی ہوئی صنف نہیں ہے بلکہ ہندوستان کے مخصوص حالات کی بنا پر یہاں مروج ہوئی ہے۔ اس بات کو وہ یوں ظاہر کرتے ہیں ’’اگرچہ ناول کا لفظ اور اس کی ہیئت انگیزی ادب کے ذریعہ ہندوستان آئی لیکن اصل میں ہندوستان کے وہ مخصوص حالات تھے جنہوں نے یہاں کے ادیبوں کو ناول نگاری کی طرف راغب کیا۔‘‘
انہوں نے اس سلسلے میں تفصیل سے بحث کی ہے اور بتایا کہ حقیقت میں یہ ایک ضرورت تھی کہ کیوں کہانی ہر زمانہ کے ادب کی مقبول ترین صنف رہی ہے۔ اس مقبولیت کو پیش نظر رکھ کر ہندوستان کے ادیبوں نے زندگی کی حقیقتوں اور اپنے خیالات کو قصوں میں سمونا شروع کیا۔
اسی لیے ادبی پس منظر کے عنوان کے تحت نذیر احمد اور سرشار کی ناول نگاری کا بھی جائزہ لیا ہے۔ انیسویں صدی کے اہم ناول نگاروں میں پہلا نام نذیر احمد کا آتا ہے ویسے تو اردو کے اولین ناول نگار کے تئیں ہمیشہ اختلافات رائے ملتی ہے۔ بعضوں کے نزدیک نذیر احمد اولین ناول نگار ہیں بعض ناقدین سرشار کو اولیت دینے چاہتے ہیں لیکن یوسف سرمست نے اپنی کتاب ’’بیسویں صدی میں اردو ناول‘‘ میں دلیل کے ساتھ یہ ثابت کیا ہے کہ ’’مراۃ العروس‘‘ اردو کا پہلا ناول ہے اور نذیر احمد ہی اردو کے پہلے ناول نگار ہیں۔
انہوں نے ناول کی مختلف اقسام پر بھی روشنی ڈا لی ہے اور اردو ناولوں سے اس کی مثالیں پیش کرتے ہوئے ان پر بحث بھی کی ہے۔ ناول کے علاوہ انہوں نے صنف افسانہ پر بھی اظہار خیال کیا ہے۔ اس کے بعد انشائیہ کے حوالے سے انہوں نے بتایا ہے کہ انشائیہ کا اسلوب اگرچہ شگفتہ، سلیس، سادہ اور نرم و نازک8 ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود انشائیہ میں فلسفہ، حکمت اور سائنس جیسے موضوعات بھی زیر بحث آجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یوسف سرمست کی عملی تنقید میں شعراء اور ادیبوں پر بھی اظہار خیال ملتا ہے۔ شعراء میں ولیؔ ، میرؔ ، مصحفیؔ ، غالبؔ ، مومنؔ ، اقبالؔ ، فیضؔ اور مخدومؔ محی الدین کی شاعری پر اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے ان کی شاعری اور اسلوب کی انفرادیت پر خصوصی بحث کی ہے۔
پروفیسر یوسف سرمست نے کئی نثری اصناف ادب پر تنقیدی رائے پیش کی ہے جیسے ناول، افسانہ، انشائیہ، خاکہ، تبصرہ، خطوط اور مزاح نگاری وغیرہ وغیرہ۔ اس کے علاوہ شاعروں ادیبوں اور محققین و ناقدین کے خیالات پر بھی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ پروفیسر یوسف سرمست نے جن ادیبوں اور نقادوں پر تنقید کے نمونے پیش کیے ہیں۔ ان میں نذیر احمد، پریم چند، کرشن چندر، بیدی، قرۃ العین حیدر وغیرہ کے نام فکشن پر تنقید کے سلسلے میں ملیں گے اس کے علاوہ غیر نثری اصناف پر لکھنے والوں میں مولانا ابوالکلام آزاد، نیاز فتح پوری، مرزا غالب، مجتبیٰ حسین کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ محققین میں گارساں دتاسی کی تحقیقی خدمات پر اظہار خیال کیا ہے اور ان کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ ناقدین میں الطاف حسین حالی اور کلیم الدین احمد ہیں جن پر انہوں نے تنقید کی ہے۔ اس کے علاوہ اردو ادب کی تحریکوں پر بھی ان کے تنقیدی آرا ملتی ہیں۔
یوسف سرمست کی تنقید میں وضاحت و صراحت ہے وہ نظریاتی تنقید ہو یا عملی تنقید اپنے مطالعات میں اپنی آرا کو مدلل اور وضاحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ شارب ردولوی نے ایک انٹرویو میں ان کی تنقید نگاری پر اپنی رائے یوں دی ہے:
’’یوسف سرمست ایک اعلی پایہ نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ محقق کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔ وہ بات کو پوری وضاحت و صراحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ ’’بیسویں صدی میں اردو ناول‘‘ ان کی اہم کتاب ہے جس کے مطالعہ سے انداز ہوتا ہے کہ وہ ناول کے حوالے سے کافی مطالعہ رکھتے ہیں۔ میرے خیال میں وہ ترقی پسند تحریک کے عظیم نقادوں میں شمار ہوتے ہیں۔‘‘
(حوالہ:شخصیت انٹرویو،پروفسیر شارب ردولوی،دوران سیمینار حیدر آباد ،۹ فروری ۲۰۱۷ء)
شارب ردولوی کی اس رائے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ترقی پسند تحریک کے ناقدین میں اہمیت رکھتے ہیں لیکن ان کی تحریروں کے مطالعے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ ترقی پسند تحریک کے اچھے عناصر سے متاثر ہیں اور وہ ان کی انتہاپسندی کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پسند تحریک کے اعتدال پسند ناقدین میں ہم انہیں جگہ دے سکتے ہیں۔
ان کی تنقید کے مجموعی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ تنقید میں کسی ایک بات پر اصرار نہیں کرتے بلکہ تنقید کرتے وقت فن پارے کی خوبیوں اور خامیوں کا مطالعہ اعتدال سے کرتے ہیں۔ ان کی تنقید کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ صرف ایک نظریہ کی اہمیت کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ ادب کے مطالعے کے جتنے پہلو ہوسکتے ہیں ان کی طرف اشارے کرتے ہیں اور انہیں ادب کے مطالعے کے لیے ضروری خیال کرتے ہیں۔ وہ مغربی اثرات کو آنکھ بند کرکے قبول کرنے پر بھی اپنی ناراضگی جتاتے ہیں بلکہ وہ ادب میں مشرقی اقدار اور روایات کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان کی تنقید میں تاثراتی، جمالیاتی، تاریخی و سماجی اور تہذیبی پہلوؤں پر زور ملتا ہے۔ وضاحت و صراحت بھی ان کی تنقید کا خاص وصف ہے۔ غرض معروضی نقطہ نظر سے وہ ادب کے مطالعے پر زور دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تنقید آرا کی روشنی میں ہم انہیں اردو کے سائنٹفک ناقدین میں بجا طور پر جگہ دے سکتے ہیں۔
—–
Nazir Ahmad Ganai
E.mail:
Mob no:7889779687