افسانہ – خوفِ ارواح :- محمد علیم اسماعیل

محمد علیم اسماعیل

افسانہ : خوفِ ارواح

محمد علیم اسماعیل

اسے یاد ہے۔ وہ رات بہت بھاری ہو گئی تھی،جب وہ شہر سے اپنے گاؤں جا رہا تھا۔ رات کے گیارہ بج گئے تھے اور وہ پیدل چل رہا تھا ۔ چاروں طرف سیاہ تاریکی چھائی ہوئی تھی ۔ اندھیرے میں جب وہ وہاں سے گزر رہا تھا نجانے کیسی کیسی آوازیں اس کے کانوں میں پارہ بھر رہی تھیں ۔

اُن آوازوں کو وہ سننا تو نہیں چاہتا تھا پر کان اسی پر لگے ہوئے تھے ۔خود کی آوازِ پا صاف سنائی دے رہی تھی جو اسے کھٹک رہی تھی نا گوار معلوم ہو رہی تھی ۔ دل کی دھڑکنیں ریل کے انجن کی طرح دھک دھک کر رہی تھیں ۔ اس جانب وہ دیکھنا تو نہیں چاہتا تھا لیکن ناچاہتے ہوئے بھی نظریں ترچھی ہو رہی تھیں ۔ پیپل کا وہ قدیم درخت اور اس کی شاخوں سے لٹکی ہوئی لاشوں کا تصور اسے اپنی جانب کھینچ رہا تھا ۔ وہ تیز قدموں سے چل رہا تھا لیکن قدم کہیں کے کہیں پڑ رہے تھے۔ وہ بجلی کی رفتار سے گزر جانا چاہتا تھا پر قدم ساتھ نہیں دے رہے تھے ۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کوئی اس کے قدموں پر چل رہا ہو ۔اس وقت وہ تمام کہانیاں جو اس نے اس پیپل کے درخت کے متعلق سن رکھی تھیں ذہن میں تازہ ہو گئی تھیں ۔
وہ بھُلا نہیں پا رہا تھا ۔ اُن تمام واقعات کو جو ذہن پر نقش جاوداں ہو گئے تھے ۔اس وقت اسے رامو والا واقعہ یاد آگیا تھا۔جو اس کے ذہن پر ایک فلم کی طرح چل رہا تھا۔واقعہ کچھ اس طرح تھا کہ ایک دفعہ آدھی رات کے وقت گاؤں کا ایک شخص راموٍ ،پسینے میں شرابور ،ہانپتا کانپتا ،جس کی آنکھیں جھپکنا ہی بھول گئی تھیں،بھاگتے دوڑتے گاؤں میں آیا تھا ۔خوف و دہشت سے اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے تھے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی حالت ایسے خراب ہوئی جیسے حالت نزع میں ہو ۔گاؤں والوں نے اسی وقت دواخانے میں ایڈمٹ کیا ۔ لاکھ علاج کے باوجود وہ اچھا نہ ہوسکا ۔ گھبراہٹ سے اس کا منہ ایسا کھلا کے پھر بند نہ ہوا ۔لوگ کہتے تھے کہ اس نے مرتے مرتے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں اپنی باتیں بتائی کہ پیپل کے درخت کے پاس اس نے بغیر سر کا آدمی دیکھا ،جو اس کا پیچھا کر رہا تھا ۔یہ سن کر ہر کسی کے چہرے پر موت تانڈو کرنے لگی ۔ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے اس کی موت ہوئی ۔
وہ ابھی راستے میں ہی تھا ،گھر نہیں پہنچا تھا۔رات کے بارہ بجنے میں کچھ وقت باقی تھا ۔ وہ دعا گو تھا کہ جلد سے جلد گھر پہنچ جائے لیکن راستہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔ وہ طویل النظر میں مبتلا تونہیں تھا پھر بھی سوائے اس درخت کے تمام چیزیں دھندلی نظر آرہی تھیں ۔
چلتے چلتے پھر اسے اپنی ماں کی کہی ہوئی ایک بات یاد آگئی تھی ۔ ماں نے اس سے کہا تھا ’’حادثات میں جن کی موت ہوجاتی ہیں اور جو لوگ خود کشی کرلیتے ہیں کہتے ہیں کہ انکی ارواح اس پیپل کے درخت کے اردگرد بھٹکتی رہتی ہیں ۔‘‘وہ جب بھی روحوں کی کہانی سنتا تھا اس کی روح کانپ جاتی تھی۔ بچپن سے ہی اسے بھوتوں سے بہت ڈر لگتا تھا ۔ رامو کا واقعہ،ماں کی کہی ہوئی باتیں اور بہت سے واقعات اس کے خیالات میں گردش کرتے ہوئے چلے آئے تھے۔ جس کی وجہ سے اس کے خوف میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔
وہ آگے بڑھتا جا رہا تھاپھر ایسا لگا کہ کوئی اس کا تعاقب کر رہا ہو جس سے بچنے کے لیے وہ دوڑنے لگا تھا۔سینے میں ایک چبھن ہو رہی تھی ۔دم اکھڑ رہا تھا،الجھ رہا تھا، الٹ رہا تھا۔پھر وہ ایک جگہ دم بخود کھڑا ہو گیا۔تب ایسا لگا جیسے پلک جھپکتے ہی کوئی قوت اسے اپنے حلقہ آغوش میں لے لے گی ۔اپنی سانسوں کو اوپر کھینچتے ہوئے وہ لمبی لمبی سانسیں لینے لگا ۔پھر ساکت و صامت حالت کو توڑتے ہوئے تیزی سے سرپٹ دوڑا کہ گھر کی چوکھٹ پر ہی جا کر دم لیا ۔ گھر پر جب بھی رات میں پیپل کے درخت کا ذکر ہوتا وہ سبھی کے درمیان بیٹھ جاتا تھا ۔اس کا گاؤں ایک چھوٹاسا دیہات تھا۔ جہاں سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ایک بڑا شہر تھا ۔دن میں ایک دفعہ ایک بس آتی ۔ گاؤں میں چند بنیادی ضروریات کی چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں ملتا ۔دیگر اشیاء خرید نے کے لیے شہر ہی جانا پڑتا اور زیادہ تر لوگ پیدل ہی سفر کرتے ۔ گاؤں اور شہر کے درمیانی راستے میں ایک بہت پرانے پیپل کے درخت کے پاس رات بارہ بجے کے وقت راہ پر خطر ہو جاتی ۔اس وقت اس درخت کے پاس سے گزرنا خطرِ عظیم سے کھیلنے اور موت کو دعوت دینے کے برابر تھا ۔ اور کئی درد ناک واقعات بھی ہو چکے تھے ۔ آس پاس کے گاؤں اور قریب کے شہروں میں بھی یہ دہشت زدگی پھیلی ہوئی تھی ۔ اس جگہ کو لوگ موت کا دہانہ بھی کہتے تھے جہاں دل دہلا دینے والی موت رقص کرتی ہوئی نظر آتی تھی ۔
پھر ایک دن برداشت نہ ہونے والی جب وہ دلخراش خبر آئی تب وہ گھر میں ہی تھا۔ایک ہلچل سی مچ گئی تھی۔ کوئی بتا نہیں رہا تھا کہ آخر ہوا کیا ہے۔، ہر کسی سے پوچھنے پر بھی کوئی معقول جواب نہیں مل رہا تھا۔پھر اسے کچھ اندازہ ہو گیا ۔تب ہی وہ دل تھام کر اٹھا اور جب وہ خبر سنی تو دل پکڑ کر بیٹھ گیا۔آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔منہ سے ایک آہ نکلی اور خاموشی چھا گئی۔ آنکھوں سے آنسوؤں کاایک قطرہ نہیں گرا ۔سب لوگ سوچتے تھے کہ وہ روئے اور خوب روئے ۔بار بار اسے سواتی کی لاش کے پاس لے جاتے اور کہتے دیکھ تیری پیاری بہن ،تیری سواتی اب اس دنیا میں نہیں رہی ، وہ مر گئی ہے۔ لیکن وہ خاموش اور آنکھیں خشک ۔۔۔۔۔۔ جب سواتی کو آغوشِ لحد کے سپرد کیا گیا اور قبر نے اپنی گود میں لے لیا تب اس کی آنکھوں سے ایک سیلاب پھوٹ پڑا ۔ گھر کے سبھی افراد پر ایک قہر ٹوٹ پڑا ۔برداشت نہ ہونے والی حقیقت سے ٹکرا کر ماں کا کلیجا پاش پاش ہو گیا۔ ابّا پر بد حواسی طاری ہو گئی ۔ وہ درودیوار پر دیکھنے لگے اور اسی سے ہی بات کرنے لگے تھے۔
سواتی شہر میں موجود کالج سے گاؤں آرہی تھی اور سڑک حادثے میں اس کی موت ہو گئی ۔وہ بھول نہیں سکا تھا زندگی کے وہ حسین لمحات جب وہ اور اس کی پیاری بہن سواتی ساتھ ساتھ ہنستے ، کھیلتے ، بھاگتے ،دوڑتے اور تھک جاتے تھے ۔ جب وہ اسکول جانے لگا تو اپنے کمرہء جماعت کی بجائے سواتی کے ساتھ اسی کے کمرہء جماعت میں بیٹھ جایا کرتا تھا ۔ سواتی کا ساتھ اور اس کی ہر بات رہ رہ کر اسے یاد آتی ۔
سواتی کی موت کے بعد خواب شیریں کے لیے وہ ترس گیا تھا۔ کروٹوں میں راتیں کٹ جاتی تھیں ۔ وہ خواب گراں کا مزہ چکھنا چاہتا تھا۔ پھرایک روز بڑی مشکل سے اسے نیند آئی اور سواتی خواب میں آ گئی ۔ وہ مشکل میں تھی ۔ کچھ کہنا چاہتی تھی اور دوسرے ہی پل خواب پریشاں سے وہ جاگ گیا ۔پھر کئی کروٹیں بدلیں پر نیند آنکھوں سے دور تھی۔ بے چینی کے سبب طبعیت میں بل پڑ رہے تھے۔ نظریں گھڑی کی طرف گئیں۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ اچانک ذہن کچھ سوچنے لگا۔ آدھی رات کا وقت اور دور دور تک پھیلا سناٹا چیخ چیخ کر کچھ کہہ رہا تھا ۔ وہ اپنے کمرے میں کچھ ڈرا سہما ہوا کھڑکیاں دروازے بند کر کے سونے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ۔وہ فرش پر لیٹا ہوا تھا اور اچانک اس کا دھیان پنکھے کی آواز کی جانب مڑ گیا۔ اب وہ پنکھے کو تکے جارہا تھا۔ پنکھے کی چرررر چرررر کی آوازیں تو روز آتی تھیں لیکن اب تک اس آواز پر اس کا دھیان نہیں گیا تھا ۔ اب وہ آواز خوف پیدا کر رہی تھی ۔ شاید پنکھے کا بیرنگ خراب ہو گیا تھا ۔وہ چررررر۔۔۔۔ چررررر کی آوازیں ڈراونی آوازوں میں تبدیل ہو رہی تھیں ۔ اس نے گھڑی کی طرف دیکھا، بارہ بجنے میں کچھ تیس منٹ باقی تھے ۔ بستر سے اٹھ کھڑا ہوا ، شرٹ پہنا، جوتے پہنے اور گھر کا دروازہ کھول کر باہر کی جانب جھانکا تو دو کُتّے رو رہے تھے اور کہیں دور سے گھنگروؤں کی آوازیں آرہی تھیں ۔ نجانے اس وقت ذہن میں کیا بات سمائی کہ وہ گھر سے باہر نکل پڑا۔ کچھ وقت ساکت و جامد کھڑے رہنے کے بعد دھیرے دھیرے پیپل کے درخت کی طرف بڑھنے لگا ۔ اس وقت قدموں میں ڈگمگاہٹ نہیں تھی اور ناہی دل کسی بات کا ڈر محسوس کر رہا تھا ۔ آہستہ آہستہ درخت کی جانب قدمزن ہوا ۔ قدموں میں پہلے جیسی لڑکھڑاہٹ بھی نہیں تھی اور وہ خودبخود اٹھ رہے تھے ۔چلتے چلتے وہ رک گیا ۔ درخت اب اس کے سامنے تھا ۔۔۔۔۔ کچھ وقت خاموش کھڑے رہنے کے بعد وہ چیخ پڑا ۔ پھر رات بھر اس پیپل کے درخت کے گرد گھومتا، اس کی شاخوں کو ہلا ہلاکر چیخ چیخ کر اپنی فریاد سناتا اور اسے بلاتا رہا ۔ رات یوں ہی گزر گئی لیکن اس کی مراد پوری نہ ہو سکی اور ایک سر توڑ کوشش و ریاض شاقہ کو کامیابی نہ مل سکی ۔
صبح وہاں سے گزرنے والے لوگ اسے گھر لائے ۔ دیکھتے ہی ماں زاروقطار رونے لگی اور روتے روتے کہہ رہی تھی ’’سُنیل ۔۔۔۔بیٹا تو جانتا ہے نا اس پیپل کے درخت پر روحوں کا بسیرا ہے۔تجھے توبھوتوں سے بہت ڈر لگتا ہے بیٹا۔۔۔۔ پھر تو وہاں کیوں گیا تھا ۔‘‘وہ دیوار پر ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا اور ماں سے کہا ’’بھوتوں کا ڈر میرے اندر سے ختم ہو گیا ماں ۔۔۔۔ جن ارواح سے میں خوف کھاتا تھا وہ خوف اب مجھ میں نہیں رہا ماں۔۔۔۔مجھے سواتی سے ملنا ہے ماں۔‘‘
———-

Moh. Aleem Ismail
(Assist.Teacher Edu.Dept.Pri.)
Behind Police station
At,Post,Taluka-Nandura
(M.H) PIN- 443404

جواب دیجئے